October 31st, 2026 (1448جمادى الأولى19)

نظریے سے خالی قوم منزل سے محروم ہو جاتی ہے، تعلیمی میدان میں افراد نہیں، نسلوں کی تعمیر کا ہدف لے کر آگے بڑھیں: ڈاکٹر حمیرا طارق

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ تعلیمی میدان میں ہمیں ایک جمع ایک نہیں بلکہ گیارہ سو بن کر کام کرنا ہے۔ ہمارے پاس افراد بھی ہیں، وسائل بھی ہیں اور کام کرنے کے ذرائع بھی، لیکن اصل ضرورت اس نظریے اور مقصد کو زندہ کرنے کی ہے جو ہماری تمام تر جدوجہد کی بنیاد ہے۔ جس قوم کے پاس واضح نظریہ اور نصب العین نہ ہو، وہ اپنی منزل کا تعین بھی نہیں کر سکتی۔ ہمیں تعلیمی میدان میں محض افراد کی تعداد بڑھانے کے بجائے ایسی نسل تیار کرنے کا ہدف سامنے رکھنا ہوگا جو اپنے نظریے، کردار اور مقصدِ حیات سے آگاہ ہو۔
وسطی پنجاب کے شعبہ تعلیم کے ذمہ داران کے اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسلامی نظریۂ حیات کو نئے انداز میں زندہ کیا اور فکری رہنمائی فراہم کی۔ آج ہم سب اسی نظریے کے امین اور اس کے فروغ کے ذمہ دار ہیں۔ افسوس کہ تعلیم جیسے بنیادی اور فیصلہ کن میدان میں ہمارے وسائل اور صلاحیتوں کے مقابلے میں ہماری عملی کاوشیں ابھی بہت کم ہیں۔ ہمیں اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی پر نئے سرے سے توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی و فکری بگاڑ کا مستقل حل تعلیمی نظام اور اساتذہ کی فکری تربیت سے جڑا ہوا ہے۔ استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں بلکہ نئی نسل کے ذہن، کردار اور شخصیت کی تشکیل کرنے والا اہم ترین فرد ہے۔ اگر ہم اساتذہ تک اسلامی نظریۂ حیات، اخلاقی اقدار اور مقصدِ زندگی کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کے اثرات پوری نسل تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص ورکنگ وومن اپنی پیشہ ورانہ شناخت، سماجی روابط اور عملی تجربات کی بنیاد پر اس میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو منظم انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
شعبہ تعلیم کی نگران عفت سجاد نے نے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں تعلیمی اداروں، اساتذہ، ورکنگ وومن اور نئی نسل تک رسائی کو خصوصی اہمیت دیں۔ ہماری کوشش کسی ایک فرد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ایک فرد تک پہنچنا دراصل اس کے ذریعے سینکڑوں اور ہزاروں افراد، ان کے خاندانوں اور آئندہ نسلوں تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر رابطے کو ایک بڑے فکری اور تربیتی مقصد سے جوڑا جائے۔انہوں  نے کہا کہ شعبہ تعلیم کے ذمہ داران اپنی صلاحیتوں کو یکجا کریں، نئے افراد کو ساتھ ملائیں، دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور انفرادی کوششوں کو اجتماعی قوت میں تبدیل کریں۔ ہمیں وقتی سرگرمیوں کے بجائے دور رس نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا تعلیمی و تربیتی نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو معاشرے کی فکری سمت درست کرنے اور اسلامی اقدار کے مطابق نسلِ نو کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔اجلاس میں نگران شعبہ تعلیم عفت سجاد اور ان کی نائب نصرت طارق بھی موجود تھیں