December 12th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

عورت کی حیثیت اوراَدھورا معاشرہ

 

عابدہ فرحین
معاشرے کی تعمیر و ترقی میں عورت کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں نسل نوکی تعمیر اسی کے ہاتھوں ہوئی ہےاور ہو سکتی ہے۔ ’ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ‘ کے تصور نےعورت کی حیثیت اور کردار کو مزید مستند بنایا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی عورت کی معاشرے میں صرف بحیثیت ماں اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے معاشرے اورتہذیب میں خاندانوں اور نسلوں کے بننے اور بگڑنے میں ایک عورت بحیثیت بہن، بیٹی، ساس، بہو اوردیگر تمام رشتوں میں بہت اہم کردار کی حامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کردار کے ساتھ اس معاشرے نے کیا کیا؟ اوراس کردار کی تشنگی کو دُور کرنے کا راستہ کیا ہے؟
عورت کا یہ استحقاق دنیا بھرمیں متاثررہا ہے اورآج بھی ہے۔ بیداری کی تمام تحریکوں کے باوجود بھی عورت زیرعتاب ہی چلی آئی ہے اوراس کےحالات تبدیل نہیں ہوسکے۔
پاکستان کے دیہی علاقوں پر اگر نظر دوڑائیں تو جنوبی پنجاب کے بعض دیہات میں ’ونی‘ کی رسم اب بھی جاری ہے۔ اس رسم میں کسی بھی جرم چوری، ڈاکا، اغوا، رہزنی، قتل اور پسند کی شادی سمیت ہر قسم کے تنازعات، دشمنی اوررنجشوں میں راضی نامہ کرتے ہوئے پنچایت یا جرگہ کے تحت ملزم فریق کی لڑکیوں کو مدعی فریق کے مردوں کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے۔ ایسی خواتین مدعی فریق کی غلام بن کر رہتی ہیں،جب کہ ان میں سے کچھ کو پھرسے صلح بدل رشتہ، یعنی ’ونی‘ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ’ونی‘ کی صورت میں ملنے والی خواتین کو قتل اورفروخت بھی کر دیا جاتا ہے۔

وجوہ کاجائزہ            
ان جاہلانہ رسم و رواج پر مبنی واقعات کی چند بڑی وجوہ ہیں، مثلاً یہ کہ: جہاں پورے کا پورا نظام ظلم اور ناانصافی پر مبنی ہو تو وہاں کسی کو انصاف کیوں کر مل سکتاہے؟ جہاں عورت ہی کیا  سب کے سب ظلم کی چکّی میں پس رہے ہوں، وڈیروں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا سکہ چلتا ہو، جہاں عمررسیدہ لوگ پنشن کی تھوڑی سی رقم کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پرمجبورہوں، جہاں بچے تعلیم، صحت اورخوراک جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں، جہاں میرٹ پر ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کے لیے راستہ نہ ملتا ہو، جہاں تعلیم و روزگار کے مواقع دولت، رشوت اور سفارش کی بنیاد پر حاصل کرنا آسان ہو، تو وہاں کسی ایک طبقے (عورت) کو انصاف کیسے مل سکتا ہے؟

تبدیلی کیوں نہیں آرہی؟
۱- سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک بڑی تعداد میں این جی اوز، افراد، اداروں اور تنظیموں نے عورت کی فلاح وبہبود کے لیے کام کیا ہو،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں بہتری نہ آئے۔ دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کام کرتے ہوئے جو غلطی کی جارہی ہے، وہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ریاضی یا فزکس کا کوئی سوال حل کرتے ہوئے شروع میں کلیہ غلط استعمال کرلیں تو لاکھ کوشش کے باوجود ہم سوال ٹھیک نہیں حل کر سکتے، جب تک کہ ہم درست کلیہ نہیں لگائیں گےاوراس کے مطابق حل نہیں نکالیں گے۔ جو لوگ اس وقت میدانِ عمل میں اس جدوجہد میں کوشاں ہیں اور حقوق نسواں کے حوالے سے کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں،ان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ رک کر اس بات پر ضرورغور کریں کہ جس معاشرے میں ہم کام کررہے ہیں، وہاں یہ ’کلیہ‘ چلنے والا نہیں ہے جو ان میں سے اکثرنے لگایا ہوا ہے۔
لہٰذا، انھیں رُک کر سوچنا چاہیے کہ منزل کو پانے کے لیے جوراستہ چُنا گیا ہے، وہ منزل کوجاتا ہی نہیں۔ مسئلے کا حل عورت کو یہ باور کرانا نہیں کہ: ’’تمھارے ساتھ مردوں کی جانب سے زیادتی ہورہی ہے، اس لیے تمھیں مرد کے خلاف ڈٹ جاناچاہیے‘‘۔ نیزمیڈیا کا دن رات یہ باور کراناکہ: ’’مردوں کے اس معا شرے میں عورت کو کس طرح مردوں کو مات دینی ہے اوراس کی بہتری کی راہ میں اگر کوئی حائل ہے تو وہ صرف مرد ہے‘‘۔یقین جانیں یہ مسئلے کا حل نہیں۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر مسائل اس طرح نہیں حل ہو سکتے کہ مرد و عورت آپس میں ٹکراتے رہیں اور جو غالب آجائے وہ فاتح ہو۔
۲- جو لوگ عورت کے استحصال کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ان کی اکثریت، اسلام کے عورت کو عطا کردہ ضابطۂ کار کا حقیقی علم وادراک ہی نہیں رکھتی، یا پھر اسلام کے خلاف اس   ڈس انفارمیشن سے متاثر ہے جو جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ معاشرے میں ہے وہ چودہ سو سال پرانی تعلیمات ہیں جن پر علما نے کبھی اجتہادنہیں کیا، وغیرہ وغیرہ۔
 ۳ - جو اس کا علم اور ادراک رکھتے ہیں ان کی اکثریت نہ جانے کیوں اس موضوع کو اپنا موضوع نہیں بناتی؟ اور کام کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتے؟ وہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت نہیں لاپاتے کہ ہمارے پاس کتنی بڑی دولت غیرمترقبہ ہے جس کے بعد ہماری سوسائٹی کو اوربالخصوص طبقۂ نسواں کو کسی اورچیز کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ اس معاملے میں رہی سہی کسران پیشہ ورمذہبی چہروں نے پوری کر دی، جو اسلام کو صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں، اور اپنی زبان اورعمل سے دنیا کے سامنے اسلام کا کچھ ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں کہ اسلام تو شاید عورت کو قید کر کے رکھنا چاہتا ہے اوراسے دوسرے اورتیسرے درجے کا انسان قرار دیتا ہے۔

سدھار کا واحد راستہ
٭ اسلام عورت کو جتنے اورجیسے حقوق دیتا ہے، اور آج سے نہیں بلکہ چودہ سوسال پہلے دے چکا ہے، اس کی ایک جھلک بھی حقوق نسواں کےعلَم بردار ٹھیک سے دیکھ لیں تو حیرت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس حوالے سے جو ہدایات اسلام دیتا ہے، اس کے برعکس دنیا کے سارے قانون دان، دانش وَرعورتوں کے محسن اور ہمدردان بھی مل کرکوئی قانون اورکوئی چارٹر بنانا چاہیں تو وہ اس سے بہتر نہیں ہو سکتا، جو آج سے چودہ سوسال پہلے اسلام اس کے بارے میں دے چکا ہے۔اسلام نے پستیوں میں گری اورکچلی ہوئی عورت کو اٹھا کرعملاً ایک اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے۔
٭ عورت کو بحیثیت بیٹی رحمت کہا گیا۔ اس کی پرورش میں برابری کا حکم دیا۔ بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے یکساں ہدایت اور اس پر عمل کرنے پرجنت کی بشارت دی گئی ہے۔ بالکل یہی احکامات بہنوں کے حوالے سے بھی ہیں۔ بحیثیت ماں عورت کو باپ کے ایک درجے کے مقابلے میں تین درجے دیے گئے ہیں اورماں کے پیروں تلے جنت رکھی گئی ہے۔
٭  نکاح میں عورت کی رضامندی کو لازم قراردیا گیا ہےاورخلع بھی عورت کی مرضی سے واقع ہوسکتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میرے والد نے میری مرضی کے بغیراپنے بھتیجے سے میری شادی کردی ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تمھیں پورا اختیار ہے، چاہے اس نکاح کو باقی رکھو، چاہے ختم کردو۔ یہ سن کر لڑکی نے کہا: یارسولؐ اللہ!  میرے ماں باپ نے جوکچھ کیا ہے وہ مجھے خوش دلی کے ساتھ منظور ہے ۔میں تو صرف لڑکیوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ ان کے ماں باپ اس معاملے میں آزادوخودمختار نہیں ہیں۔
٭ بعض تہذیبوں میں بیوہ عورت کے بارے میں تحقیر آمیزتصورات رائج ہیں، بالخصوص ہندو معاشرت میں۔ اسلام بیوہ کے لیے نہ صرف اجراورجنت کی بشارت دیتا ہے بلکہ اس کے ساتھ حُسن سلوک کرنے والے کے لیے بیش بہا اجر ہے۔ وہ اس کے باپ بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو قانوناً اس کی کفالت اور سرپرستی کا سختی سے پابند کرتا ہے، اور جس کا کوئی عزیز نہ ہو، اس کا ذمہ ریاست پرعائد کرتا ہے۔ بیوہ کا اس کی مرضی سے نہ صرف جلد نکاح کی ہدایت دیتا ہے بلکہ اس سے نکاح کواجروثواب کا باعث کہا ہے۔ خود رسولؐ اللہ نے حضرت عائشہؓ کے علاوہ باقی تمام شادیاں بیوہ عورتوں سے ہی کی تھیں(ہمارے ہاں بیوگان کی شادی کے مسئلے کا ذمہ دار برہمنی کلچر ہے)۔
٭ معاشی طور پر بھی اسلام عورت کو بہت مستحکم بناتا ہے اوروراثت میں اس کوحصہ اپنے والدین کی طرف سے بھی ملتا ہے اورشوہرکی طرف سے بھی اور اس ترکے کی وہ بلاشرکت غیرے مالک ہوتی ہے۔ جو کچھ اس کے پاس ہے یا وہ اپنی کوشش سے حاصل کرتی ہے، دولت، جائیداد، یا کوئی اور اثاثہ وہ سب کچھ بلا شرکت غیرے اس کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس کا نان نفقہ، یعنی خوراک، لباس، علاج معالجہ، مکان اوراگراستطاعت ہو تو خادم کا انتظام کرکے دینا شوہر کی ذمہ داری اورعورت کا حق ٹھیرا۔عورت خواہ کتنی ہی مال دار ہو تب بھی مرد پر اس کا یہ حق ساقط نہیں ہوتا۔ عورت کو ملکیت کا حق اس حد تک دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کے مال سے بوقت ضرورت اس کی اجازت کے بغیرلے سکتی ہے،جب کہ بیوی کے مال پر شوہر اس قسم کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ اگر وہ اپنے پیسے سے کوئی کاروبار کرنا چاہے تو وہ بھی کر سکتی ہے۔ اگر مرد اپنا پیسہ اپنی بیوی اور اپنے گھر والوں پہ خرچ کرتا ہے تو اس پر بہت سے اجر کی بشارت کے باوجود یہ اس کا فرض ہے۔اور اگر ایسا عورت کرے تو اجرکی بشارت کے باوجود وہ احسان شمارہو گااوراگر نہ کرنا چاہے تو نہ کرے ، جب کہ مرد کو یہ رعایت نہیں۔
٭ شادی کے وقت مہر کی ادائیگی شوہر پرفرض کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی مرد نے کسی عورت سے تھوڑے یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اوراس کے دل میں مہرادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے، تو اس نے اس عورت کو دھوکا دیا اور پھروہ مہر ادا کیے بغیرمرگیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں حاضر ہو گا کہ وہ زنا کا مجرم ہو گا۔ (الترغیب والترہیب)
٭ حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں کسی حکمت عملی کے تحت مہرکی رقم کی حد مقرر کرنا چاہی تھی، لیکن ایک عورت نے جا کر سوال اٹھایا کہ جس چیز کی اجازت اللہ اوراس کے رسولؐ نے ہمیں دی ہے، آپ کیسے اس پر پابندی لگا سکتے ہیں؟ اس پر حضرت عمرؓ نے یہ رائے واپس لے لی۔
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے: ’’تم میں سے اچھا وہ ہے جو گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو‘‘۔کوئی یہاں صرف تصورہی کرے اُس معاشرے کا کہ جہاں نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع اور مرد کی اچھائی کا سرٹیفکیٹ اس کا اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو نا ہو، تواس سے بہتر ماڈل نہ صرف اس سوسائٹی کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اورکیا ہو سکتا ہے!
اسلام اتنی اَن گنت مراعات دے کرعورت کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی شکرگزاراورفرماںبردارہواوراس کے پیچھے اس کے گھرکی نگران ـہو۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’نیک بیویاںشوہر کی اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت ونگرانی میں ان کے حقوق اورامانتوں کی حفاظت کرتی ہیں‘‘(النساء۴:۴۳) ۔اورصرف ایک بنیادی کام اس کو سونپا ہے کہ وہ انسانیت سازی، یعنی انسانی تخلیق اورتعمیراورنسلِ نوکی آبیاری کا کام کرے اور اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے، نیز اسلام کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے وہ ترقی کی ہرسیڑھی پرقدم رکھ سکتی ہے۔ اسلام اس کو کسی طرح کے حصول تعلیم و تربیت (بلکہ حصول علم کوتوعین فرض کہا ہے)، ملازمت، کاروبار،سفر، مہم جوئی، حتیٰ کہ بنائو سنگھارتک کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالتا۔

عملی تدابیر:
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جانا چاہیے :
٭ اصولاً تو سب سے بڑی ذمہ داری بھی انھی کے کندھوں پر آتی ہے، جو اسلام کا ٹھیک اورتفصیلی علم رکھتے ہیں۔ان کو ہی یہ سوچنا ہو گا کہ آج کی عورت اورآج کے معاشرے کو اس نعمت غیرمترقبہ سے کیسے روشناس کرایا جائے۔ یہ ہمارے معاشرے کی کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمارے پاس اتنی بڑی نعمت موجودہے اورہم للچائی ہوئی نظروں سے دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
٭کوئی بھی اصلاح جو ہم کرنا چاہتے ہیں وہ کسی ایک جز کولےکر نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہےکہ مجموعی اصلاح کی بات ہو۔ کیونکہ تمام اجزا ایک دوسرے پر اپنے اثرات رکھتے ہیں۔ اس لیے صرف عورت کی تعلیم اور اس کے استحکام کی بات کر کے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ دراصل مرد وعورت دونوں کی تعلیم و تربیت اورمعاشرتی شعور کی بات ہونی چاہیے۔  معاشرے، گھر اور خاندان کا یونٹ تو دراصل مرد و عورت دونوں سے بنتا ہے۔ اگر مرد تعلیم یافتہ اور باشعور نہیں ہو گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عورت کے حقوق اور اس کو احترام دے سکے۔مردوں کی جہالت کے باعث ہی تو عورت پہ ظلم ہوتا ہے۔
٭اکثر دیہات میں جہالت اورغربت اوراس کے نتیجے میں جو اخلاقی گراوٹ پیدا ہو رہی ہے، اس کا کوئی عام سی تعلیم اور شعور رکھنے والا فرد تصور بھی کر لے تو جھرجھری آنے لگتی ہے۔ ہمارے ہاں این جی اوز کی بڑی تعداد تعلیم، طب، معاش، قانون اوراستحکام خاندان جیسے میدانوں میں کام کررہی ہے۔ کرپشن کی بیماری جس طرح ہمارے خون میں سرایت کر گئی ہے، اس کے زیراثر بہت سی این جی اوزکا مطمح نظر بھی فلاحی کاموں کے نام پر فنڈز بٹورنا ہو گا۔ لیکن انھی میں سے کچھ ایسی این جی اوز ،تنظیمیں اورادارے بھی ہیں جو حقیقی معنوں میں خیر خواہی کے جذبے سے کام کررہے ہیں اورکرنا چاہتے ہیں۔
٭ خاص طور سے وہ این جی اوز، جو CEDAW،بیجنگ ایجنڈا اور UNOچارٹر جیسےعنوانات کو لے کر میدان میں اتری ہیں، اور عورت کی آزادی اور ترقی کی بات کر رہی ہیں۔ ان کویہ سمجھنا ہوگا کہ یہاں اس انداز سے یہ کام نہ صرف ممکن نہیں بلکہ نتیجہ خیزبھی نہیں ہے۔ خود ان کے ذمہ داران کواپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اُتار کر یہ بات جاننے کی کوشش کرنی ہو گی کہ اسلام کاعورت کو دیا ہوا مقام اورحقوق ان کے پاس موجود چارٹرسے بہتر ہیں کہ نہیں؟ اگر وہ یہ جانے بغیر اپنے کام کا تسلسل اسی طرح جاری رکھیں گے تو اس طرح ان کوشاید چند رول ماڈل تو مل جائیں، جن کو پیش کرکے وہ دنیا کے سامنے اپنے کام کا غلغلہ دکھا سکیں اوران چند کرداروں کو میڈیا اوربین الاقوامی فورمزپر پیش کرکے یہ ثابت کرسکیں کہ یہ پاکستان کی بیٹی ہےاوراس طرح وہ کوئی خاص ایجنڈا یا خاص مقصد پورا کر سکیں، لیکن اس طرح کوئی حقیقی تبدیلی اور نچلی سطح سے تبدیلی نہیں آنے والی۔
٭ وہ لوگ جوبلا تعصب اس معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں ان کو ایک میز پر بیٹھ کر حل سوچنا ہو گااور یہ دیکھنا ہو گا کہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے کیا کیا جا سکتا ہے۔
٭یہاں علما کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف زبانی طور پرعوام کے سامنےعورت کےکردار کی اہمیت اوراس کے مقام و حقوق کو واضح کریں، بلکہ عورت اوراسلام کے حوالے سے جو غلط فہمی پائی جاتی ہے، اس کو دُور کریں۔
٭ دین کی دعوت کا کام کرنےاوردین کےذریعے معاشرے کی اصلاح کا داعیہ رکھنے والے افراد، گروہوں، تنظیموں اور اداروں کو چاہیے کہ عورت کے حوالے سے دیے گئے اسلام کے احکامات کا معاشرے میں ادراک کرائیں کجا یہ کہ معذرت خواہانہ رویہ رکھیں یا صرف ردعمل تک محدود رہیں، بلکہ اپنے کاموں کے عنوانات میں ایک بنیادی عنوان اس کو بنائیں۔
٭ اصلاحی اوراسلامی تنظیمیں،ادارے اورگروہ سب سے پہلے خود کو بحیثیت رول ماڈل پیش کریں۔ دینی احکامات پرعمل کی کوشش کا داعیہ رکھنے والے اس بات کو اپنے گھروں، خاندانوں اوراپنے ممبران اورملازمین کے لیے بھی اس معیارکو لازم کریں کہ ان کی نجی زندگیوں میں مہر، وراثت اور کفالت وغیرہ جیسے حقوق نہ تلف کیئے جائیں۔ بالخصوص وہ اسلامی تنظیمیں اورادارے جو اپنے ممبران کو حلال ذریعۂ معاش وغیرہ کا پابندکرتے ہیں تووہ اس بات کا پابند بھی کرسکتے ہیں تاکہ دنیا کورول ماڈل پیش کیے جاسکیں۔
٭ دیکھا گیا ہے کہ اصلاحی اورسیاسی تنظیمیں، رفاحی اور خدمتی ادارے وغیرہ جو بھی اس معاشرے میں بہتری وبھلائی کا کوئی کام کرنے نکلتے ہیں تو وہ سر دھڑ کی بازی لگا ڈالتے ہیں۔ معیارکے بجاے مقدار کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور اپنے تئیں اس بڑھوتری کو ہی کامیابی کا معیارسمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ حکومت کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔اس لیے انھیں حکومت کی تبدیلی یا حکومت چلانے والوں کو قائل کرنے کا راستہ اختیارکرناچاہیےاورتنظیمی سطح پرآپس میں تعاون کرنا چاہیے۔
٭ کسی دینی اور دنیاوی تعلیمی اداروں میں مطالعہ صنفیات (جنڈر اسٹڈیز) کی نوعیت کا کوئی نصاب شامل ہونا چاہیے، تاکہ کوئی ٹریننگ اور کوئی تعلیم ایسی دی جا سکے جو ایک مرد کو اچھا مرد اورایک عورت کو اچھی عورت بنا سکے۔
٭ہمارے نظامِ تعلیم سے تربیت کے فقدان کو دو طرح ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے:
۱- ایک قلیل مدّتی کورس میں طلبہ و طالبات کوموجودہ نصاب کے ساتھ مختصردورانیے کے کورسزکروائے جائیں، جو تربیت کی اس ضرورت کو پوراکریں اوران کورسزکوڈگری کے حصول سے مشروط کیا جائے۔ اور فی الوقت جو ادارے کسی بھی طرح کاتعلیم کا کام کررہے ہیں، مثلاً اسکول، کالج یونی ورسٹیاں اورمدارس وغیرہ کے لیے یہ کورس ان کے طلبہ و طالبات کے لیے لازمی کیے جائیں۔
۲- دوم: طویل مدّتی کورس جس میں نظام تعلیم کا جائزہ لے کراس میں تربیت، اخلاقیات اوراقدار کو شامل کیا جائے۔ معاشرے کے مؤثر افراد اوراداروں کو طے کرنا ہوگا کہ یہ کام آیا حکومت خود کرے گی، یا اس پہ دبائو کے ذریعے کروایا جائے گا، یا سول سوسائٹی اور پبلک سیکٹر خود کریں گے، یا دونوں مل کے کریں گے۔
پاکستانی عورت کو بالخصوص یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ ملک جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جس کا دستور کہتا ہے کہ ’’چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور پاکستان کی جمہورکوجو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے‘‘۔وہاں عورت کو اپنے حقوق، اپنے مقام، اپنی آزادی اورمعاشی مضبوطی کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اوراس کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ دراصل اس جدوجہد کی ضرورت ہے کہ جو طاقت اور بلند مقام ایک عورت کو خالق کائنات نے اورکائنات کے سب سے بڑے بادشاہ نے عطا کر دیا ہے اس کو غصب کرنے کا حق دنیا کے چھوٹے چھوٹے خداؤں سے واپس لیا جائے۔