August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

عالمی یومِ خواتین

 

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ معاشرے کے حسن ، وقار، تنظیم اوراستحکام کا راز عورت کی پر خلوص قربانیوں اور لازوال جدو جہد میں پوشیدہ ہے مگر یہ بھی تاریخ عالم کی تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں عورت کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیاگیا جس کی وہ مستحق تھی ۔کبھی اُسے گناہ کی جڑ،کبھی مرد کے پاؤں کی جوتی اور کبھی بازاروں میں فروخت ہونے والی جنس بے مایہ سمجھا گیا۔ اُسے ہر خطے میں مظلوم ، مجبور اورمحروم رکھا گیا ۔اُسے کوئی سماجی ، معاشی اورسیاسی حقوق حاصل نہ تھے ۔ایسے میں زندہ درگور ہوتی ہوئی عورت کے لئے محسن نسواںنبی رحمت ایک ایسا نظام لے کر آئے جس میں اُسے انسانیت کے شرف سے نوازا گیا۔ قرآن کا اعلان نہایت صاف اور واضح ہے کہ حقوق کے اعتبار سے مرد اور عورت کا درجہ ایک ہے۔ جس طرح مرد کے حقوق عورت پر ہیں ٹھیک اسی طرح عورت کے حقوق مرد پر ہیں۔

وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ

(النساء4 :34)

’’عورت کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے‘‘۔

قرآن مجید نے اس آیت کی صورت میں انسان کی معاشرتی زندگی کے سب سے بڑے انقلاب کا اعلان کیا۔ ان چار الفاظ نے عورت کو وہ سب کچھ دے دیا ہے جو اس کا حق ہے لیکن اسے کبھی ملا نہیں تھا۔ ان لفظوں نے اسے محرومی اور شقاوت کی خاک سے اٹھایا اور عزت و مساوات کے تخت پر بیٹھا دیا۔

پھر اس اسلوب بیان کی جامعیت پر غور کیجیے کہ زندگی و معاشرت کی کون سی بات ہے جو ان چار الفاظ میں بھی آ گئی؟ اور کون سا رخنہ ہے جو بند نہیں کر دیا گیا؟

البتہ آگے چل کر یہ بات بھی کہی گئی کہ باوجود حقوق کی برابری کے ایک خاص درجہ مرد کے لیے ہے۔ اس خاص درجہ سے مقصود کون سا درجہ ہے۔ اس کا جواب ہمیں سورۃ النساء (۴:۲۴) میں ملتا ہے۔

اس میں فرمایا گیا کہ مرد عورتوں کے قوام ہیں اس لیے اللہ نے ان میں بعض کو بعض پر فضلیت دی اور اس لیے کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں۔ یعنی خاندانی زندگی کا نظام قائم نہیں رہ سکتا اگرمرد اس کا قوام، یعنی بندوبست کرنے والا نہ ہو۔

قرآن کہتا ہے کہ خاندانی زندگی کا نظام اس طرح چلے کہ شوہر کی حیثیت قوام کی ہو۔ بس اتنا ہی امتیاز ہے جو مرد کو عورت کے مقابلے میں حاصل ہے۔ بشرطیکہ اس انتظامی ذمہ داری کو جو سرا سر ایک بوجھ ہے، وجہ امتیاز تسلیم کر لیا جائے۔

اب یہ بالکل واضح ہے کہ اس امتیاز سے مرد کو کوئی پیدائشی امتیاز حاصل نہیں ہو جاتا، یہ محض خاندانی نظام کا ایک خاص ڈھنگ ہے جس نے یہ جگہ اسے دلادی۔ فرض کریں کہ متمدن انسانوں کا خاندانی نظام اس طرح چلنے لگتا ہے کہ انتظام معیشت کی باگ دوڑ مرد کی جگہ عوت کے ہاتھ ہوتی تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں یہ امتیاز مرد کے بجائے عورت کے حصے میں آتا۔ ان تمام تصریحات سے معلوم ہوا کہ جہاں تک صنفی درجہ اور حقوق کا تعلق ہے قرآن کے نزدیک دونوں صنفیں برابر

ہیں، البتہ گھریلو نظم و نسق اور معیشت کی فراہمی کا کام، نظام معاشرت نے مردوں کے سر ڈال دیا ہے۔ اسی کو وہ ایک خاص درجہ سے تعبیر کرتا ہے۔ اصلاً یہ ایک طرح کا باہمی تقسیم عمل ہے کہ مرد کماتا ہے اور عورت خرچ کرتی ہے۔ مرد انتظام کرتا ہے اور عورت اس کو عملی جامہ پہناتی ہے۔ اور پھر وہی عورت جب سال بعد ماں بن جاتی ہے تو اپنے بچے کے لیے وہ اپنے باپ سے تین درجہ فوقیت حاصل کر لیتی ہے یہ خاندانی نظام کا توازن ہے جس میں شوہر بیوی کا قوام ہے اور ماں باپ سے زیادہ حقوق رکھتی ہے۔

دوسری جانب مغربی دنیا نظر آتی ہے جہاں آج بھی عورت اپنے حقوق کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔ یہاں 8 مارچ کا دن عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے عالمی یوم خواتین کی تاریخ ایک صدی قدیم ہے۔

8 مارچ 1907ء کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں لباس سازی کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں کارکن خواتین نے مردوں کے مساوی حقوق اور بہتر حالات کار کے لیے زبردست مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ دس گھنٹے محنت کے عوض معقول تنخوا ہیں دی جائیں ۔ ان کے اس احتجاج پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس واقعہ کے ایک برس بعد 8 مارچ 1908ء کو نیویارک ہی میں سوئی سازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ووٹ کے حق اور بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے پر بھی حکومتی مشینری نے پولیس کے ذریعے تشدد کیا۔ گھڑ سوار پولیس نے سینکڑوں خواتین کو لاٹھیوں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ خواتین کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر دور تک گھسیٹا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ بہت سی خواتین کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر جمہوریت اور حقوق کے لیے جدوجہد کی تاریخ میں انقلاب فرانس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی یہ انقلاب اہم ہے۔ 1789ء میں انقلاب

فرانس کے دوران پیرس کی خواتین نے آزادی اور برابری کے مطالبات کا نعرہ لگاتے ہوئے ورسل تک مارچ کیا۔ مارچ 1857ء میں امریکہ میں خواتین نے حالات کار کی بہتری کے لیے احتجاج کیا۔ 1866ء میں ورکرز کی پہلی عالمی کانگریس میں مطالبہ کیا گیا کہ خواتین کو پروفیشنل شعبوں میں ترقی کے مواقع دیئے جائیں۔ اس کانگریس میں اس روایتی رجحان کے خلاف آواز بلند کی گئی کہ عورت کا مقام صرف گھر ہے۔ 19جولائی 1889ء میں کلارازیٹ کن (Clara Zetikin) نے دوسری عالمی کانفرنس پیرس میں ماؤں اور بچوں کے تحفظات کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کو قومی ادارے میں شمولیت کے لیے اہم قرار دیا۔ 1899ء میں نیدر لینڈ میں خواتین کا ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ اس سال انیسویں صدی ختم ہو رہی تھی۔ انیسویں صدی نہ صرف جنگوں کی صدی رہی بلکہ اس صدی کے آغاز ہی سے جنگ کے آثار پیدا ہو رہے تھے۔ اس موقع پر خواتین نے جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ 8 مارچ 1907ء اور 8مارچ 1908ء کو نیویارک میں خواتین کا احتجاج قابل دید تھا۔ 1909ء میں یہ طے پایا کہ ہر سال فروری کے آخری اتوار کو خواتین کا عالمی دن منایا جائے۔ 1910ء میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ انٹرنیشنل کے اجلاس میں 17 ممالک سے تعلق رکھنے والی سو خواتین نے شرکت کی، جس میں طے پایا کہ خواتین کے عالمی دن کو پوری دنیا میں منایا جائے لیکن اس کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی۔ 1911ء میں کوپن ہیگن کے اجلاس کے مطابق 19مارچ کو آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی، سوئٹرزلینڈ میں خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا گیا، تقریباً دس لاکھ مردوں اور خواتین نے جلوس نکالے، جن میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ملازمتوں میں ان کے خلاف امتیازی سلوک کی بھی مذمت کی گئی۔ایک ہفتے بعد یعنی 25مارچ 1911ء کو نیو یارک میں ہونے والی آتشزدگی میں 140کارکن لڑکیوں کی موت واقع ہوئی۔ اس واقعہ نے امریکہ میں مزدوروں کے لیے کی جانے والی قانون سازی پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ 1913-14ء کو

خواتین کا عالمی دن منایا گیا لیکن اس زمانے میں پہلی جنگ عظیم کے بادل گہرے ہو چکے تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں ایک جانب جرمنی اور سلطنت عثمانیہ ترکی، مسلمانوں کی آخری خلافت تھی تو دوسری جانب باقی ممالک تھے۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل دنیا میں اشتراکیت کے نظریات تیزی سے پھیل رہے تھے خصوصاً روس اور مشرقی یورپ میں کارل مارکس کے اشتراکی نظریات کو بہت تقویت ملی تھی اس زمانے میں روس میں شاہی خاندان کی حکومت تھی۔ فروری 1917ء میں جنگ عظیم اول کے اختتام سے ایک ڈیڑھ برس قبل تک روس کے 20لاکھ افراد نے روس میں اپنے حقوق کے لیے بھر پور احتجاج کیا جس پر وہاں کے سیاست دانوں نے اعتراضات کیے کہ یہ وقت خواتین کے احتجاج کے یے موزوں نہیں لیکن احتجاج زوروں پر رہا۔چنانچہ حکومت نے 23 فروری کو ووٹ کا حق تسلیم کر لیا۔ یہ خواتین کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے لیکن اس کے پس منظر میں اشتراکیوں کی قوت تھی۔ 17اکتوبر 1917ء کو لینن کی سربراہی میں روس میں اشتراکی انقلاب آگیا اور روس جنگ عظیم اول کے اتحادیوں سے باہر آگیا۔

انقلاب فرانس کے بعد یہ جدید دنیا کا دوسرا انقلاب تھا جو نظریاتی بنیادوں پر مزدوروں اور کسانوں کی قوت سے رونما ہوا تھا، جس نے روس میں زار شاہی سمیت سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے برپا کیا گیا تھا مگر وہ اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔ انقلاب فرانس کے بعد سے لے کر1917ء تک خواتین کے حقوق کے حوالے سے جتنی بھی بڑی تحریکیں چلیں یا جدوجہد ہوئی، ان میں بھی اشتراکی نظریات رکھنے والوں کا کردار اہم تھا۔

جنگ عظیم اول نے روس کے اکثر خاندانوں کو تباہ کرکے رکھ دیا تھا۔ سابق دور میں خواتین کی حالت کوئی اچھی نہیں تھی۔ شادی کے بعد عورت کی جائیداد اور روپیہ پیسہ، شوہر کی تحویل میں رہتا تھا۔ روسی زبان میں ایک ضرب المثل ہے، جس کے مطابق فرصت کے وقت روسی کسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا کہ وہ اپنی بیوی کو زودکوب کرتا رہتا ہے لیکن روس کی اشتراکی حکومت نے

خواتین کے لیے قانونی اصلاحات کیں جس میں خواتین کے لیے کام کا دورانیہ سات گھنٹے کر دیا گیا۔ خواتین کے لیے سالانہ تعطیلات، پنشن، آرام گاہوں. ہسپتالوں کا قیام، 14برس سے کم عمر لڑکیوں سے کام لینے کی ممانعت، سولہ برس تک کی عمر کے دوران تربیت کے طور پر چار گھنٹے روزانہ کام لینا اور سولہ سے اٹھارہ سال تک کی لڑکیوں کے لیے چھ گھنٹے روزانہ کام کے قوانین نافذالعمل ہوئے۔ عورتوں اور ماؤں کی حفاظت کے لیے بھی قوانین بنائے گئے، جن کے تحت کیمیاوی یا دوسری خطرناک صنعتوں یا زیادہ سخت کام کرنے والے مقامات پر لڑکے لڑکیوں کے کام کی ممانعت۔ زیادہ تھکا دینے والے کاموں سے خواتین کو چھوٹ دی گئی۔ زچگی کی صورت میں تنخواہ کے ساتھ چار ماہ کی چھٹی، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو تین ماہ کی چھٹی، حاملہ خواتین سے زیادہ بھاری کام لینے کی ممانعت، مرضی کے بغیر تبادلے کی ممانعت، شیر خوار بچوں کی ماؤں کو ہر ساڑھے تین گھنٹے بعد دودھ پلانے کی کم از کم آدھے گھنٹے کی چھٹی دی گئی۔

روسی معاشرہ میں مخلوط معاشرے کی خرابیوں سے بچنے کے لیے لینن نے 1920ء میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’آئندہ نسلوں کا خیال مجھے بہت پریشان رکھتا ہے، وہ انقلاب کا ایک جزو ہیں۔ اگر سرمایہ دار سوسائٹی کی خرابیاں انقلابی دنیا میں شروع ہوں گی، جس طرح بعض پودے اپنے آپ پیدا ہو جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان برائیوں کے خلاف بروقت کارروائی ہو۔

کہا جاتا ہے کہ لینن کے زمانے میں پارٹی کے اندر ایک گروہ عورتوں اور مردوں کے تعلقات بغیر کسی روک ٹوک جاری رکھنے کا حامی تھا اور دوسرا گروہ روایتی پاک بازی کا حامی تھا جو مرد اور عورت کے مصافحہ تک کے خلاف تھا۔ لینن نے فحاشی کے خاتمے اور عصمت فروشی کے رجحانات کے خاتمے پر زور دیا۔ بعد ازاں اس کا خاتمہ کیا اور فاحشہ عورتوں کے لیے حکم جاری کیا کہ پارٹی کا کوئی ممبر کسی فاحشہ عورت سے تعلق رکھتا ہو تو پارٹی سے خارج کر دیا جائے گا۔

پہلی جنگ عظیم میں کروڑوں انسانی جانوں کی ہلاکت کے بعد دنیا کو جنگوں سے نجات دلانے

کے لیے لیگ آف نیشنز قائم ہوئی لیکن نو آبادیاتی دور میں بڑی قوتوں کی کش مکش اور مالی مفادات کی وجہ سے عالمی فورم سے خواتین کے حقوق کے لیے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کئے گئے۔ اس طرح لیگ آف نیشنز ناکام ہوئی۔ 1939 ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی جو 1945ء تک جاری رہی۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر روایتی سیاسی نو آبادیاتی نظام ٹوٹنے لگا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ قائم تو ہو گیا، جس میں انسانی حقوق کے لیے عالمی سطح پر آوازیں بلند ہوئیں۔ خواتین اور بچوں کے حقوق پر توجہ دی جانے لگی۔ چین نے آزادی کے چند برس بعد ہی 1957ء میں خواتین کے عالمی دن کو منانے کا اعلان کیا، حالانکہ اس وقت چین نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل نہیں کی تھی۔

1977ء میں اقوام متحدہ نے قرار داد پاس کرکے خواتین کے عالمی دن کو منانے کا اعلان کیا۔ اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت کام ہو چکا تھا، البتہ یہ ضرور تھا کہ ترقی پذیر ملکوں میں خواتین کے حقوق اور جمہوری قوتوں کے حوالے سے جدوجہد جاری رہی۔

زوال کے اس دور میں کہ جب زمانہ اسلام کی برکات سے مستفید نہیں ہو رہا اورمسلمان عورت تہذیبوں کی کش مکش میں ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف جدید تہذیب آندھی اور طوفان کی طرح اُس سے نسوانیت کا غرور، حیا کا چلن ، عورت پن اور ممتا سب کچھ چھین لینے کے درپے ہے تو دوسر ی طرف جاہلی رسوم ور واج اُسے وہ بنیادی حقوق بھی نہیں دے پار ہے جو عورت کا حق ہے اور جن غلط رسوم و رواج کی زنجیروں سے حضور نے اُسے نجات عطا کی تھی۔ اسی لیے موجودہ دور عورت کے لیے بے چینی اضطراب اور پریشانی لے کر آرہا ہے ۔انسانی زندگی کے بارے میں ہر پل رویے تبدیل ہوتے چلے جارہے ہیں ۔صدیوں پرانا خاندان کا مستحکم ادارہ اوراُس میں عورت کا مقام کمزور ہوتا چلا جارہا ہے۔ بچے اپنی ماؤں سے وقت نہ ملنے کے سبب عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں خاندان کی تباہی کے منفی اثرات نسل نو پر مربت ہو رہے ہیں۔

عورت کو آزادی ، مساوات اورترقی کے نام پر دھوکہ دے کر اوران خوشنما نعروں کی آڑ میں محبت اورحفاظت کے حصاروں سے باہر دھکیل کر تنہائی کے عذابوں اورمعاش کے گرد ابوں میں مبتلا کیا جارہا ہے ۔

بین الاقوامی سطح پر حقوقِ نسواں کے لئے کی جانے والی کوششوں اور ان کے اثرات پر بحث کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اِس کے اثرات صرف مغربی عورتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ مشرقی اور مسلمان عورت بھی اس کی زد میں آچکی ہے۔ اِس تبدیلی اور چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لِئے ایک مسلمان عورت کا کردار کیا ہونا چاہیے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب پانے کی کوشش ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

عورت کے عالمی دن کے موقع پر ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان زیر نظر کتابچہ پیش کر رہا ہے کتابچہ معروف دینی سکالر ثریا بتول علوی کے مضمون ’’خواتین کا عالمی دن‘‘ اور ایک تحقیقی رپورٹ ’’عورت پر خاندان کی تباہی کے اثرات‘‘ جو کہ میں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کے لیے تیار کی تھی، پر مبنی ہے۔ عورت کی ترقی کا راز خاندان کے استحکام اوراُس کے ساتھ وابستگی میں پنہاں ہے۔مغرب اس راز کو اپنے خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جانے کے بعد جان گیا ہے۔ہمیں اس سے پہلے ہی اس کا ادراک کرلینا چاہیے ۔