October 24th, 2017 (1439صفر3)

عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے واقعات اور شرمین عبید

 

محمد انور

دنیا بھر میں ’’انٹر نیشنل وومن ڈے‘‘ ہر سال آٹھ مارچ کو منایا جاتا ہے اور منایا جاتا رہے گا۔ لیکن نیویارک میں 7 اپریل کو ہونے والی ’’وومن ان دی ورلڈ سمِٹ‘‘ نے مجھے وومن ڈے کی یاد دلادی۔ یہ دن اگرچہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے 1908 سے منایا جا رہا ہے۔ اس کا آغاز بھی امریکا کے شہر نیویارک سے ہوا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد اور ان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا تدارک تھا۔ اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغرب میں عورتوں کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ لیکن مغرب پرست اذہان نے ایک سازش کے تحت پاکستان سمیت مسلم ممالک کو بدنام کرنے کے لیے عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو صرف اسلامی ملکوں بلکہ صرف پاکستان تک محدود کردیا ہے۔ تاکہ یہ تاثر ختم ہوسکے کہ امریکا سمیت دیگر غیر مسلم ملکوں میں عورتوں کو مسائل درپیش نہیں ہیں۔ عورتوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ صرف اسلامی ممالک ہی میں ہوا کرتا ہے۔
نیو یارک میں ہونے والی اس کانفرنس کا ایک سیش پاکستان کی غیرت (Pakistan Honor) کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ جس میں امریکی چینل این بی سی کی سینئر صحافی سنتھیا میکفیڈن شرمین عبید کا انٹرویو کریں گی۔ یہ شرمین وہیں ہیں جنہوں نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں عورتوں کے ساتھ رونما ہونے والے ایک آدھ واقعے کو لیکر فلمیں بنائی ہیں اور آسکرایوارڈ حاصل کیا ہے۔ شرمین چوں کہ غیر ملکی آقاؤں کی بھی چہیتی ہیں اس لیے ہمارے حکمران جو غیر ملکیوں کے اشارے پر بہت کچھ کردیا کرتے ہیں، شرمین عبید کو بھی اپنے مفادات کے لیے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی مگر امریکا میں مقبول فلم ساز اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے رواں سال ’وومن ان دی ورلڈ سمِٹ‘ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ 98فی صد آبادی شرمین کے نام اور ان کے کاموں سے ناواقف ہے، دو فی صد جو انہیں جانتے ہیں وہ بھی انہیں ایک غیر معروف فلم ساز کی حیثیت سے ہی پہنچانتے ہوں گے۔ شرمین عبید چنائے اس سے قبل تین مرتبہ ’’وومن ان دی ورلڈ سمِٹ‘‘ میں شرکت کرچکی ہیں۔ اب وہ چوتھی مرتبہ بھی پاکستان کی نمائندگی کررہی ہیں۔
شرمین عبید کا اس سیشن کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’’میں نیویارک میں، اپنے حقوق کے لیے لڑنے والی خواتین کی کہانیوں پربات کروں گی، وہ خواتین جو دوسروں کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتی ہیں جیسے پولیس میں بھرتی ہونے والی خواتین ان پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ خواتین کو خود اپنے آپ کو بااختیار بنانے کی کوشش کرنی ہوگی‘‘۔
عام تاثر یہ ہے کہ شرمین کی فلمیں اور گفتگو پاکستان کا وقار بلند کرنے کے بجائے اس کی ساکھ کو مجروع کرنے اور ملک کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے حوالے سے ہی ہوتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی اکثریتی آبادی کو ایسی خواتین سے کوئی غرض نہیں ہوتی جو خود آزادی کے ساتھ صرف اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ شرمین پاکستان میں عورتوں کو حاصل حقوق، یہاں کی عورتوں میں پائے جانے والے اطمینان تحفظ پر کبھی فلم نہیں بنائیں گی اور نہ ہی انہوں نے بنائی ہے۔ جس سے ملک کا وقار دنیا بھر میں بلند ہو۔ اس سمٹ میں بھی وہ امریکا میں بیٹھ کر ان پاکستانی عورتوں کے حوالے سے ہی بات کریں گی جو ظلم و زیادتی کے باوجود حالات سے مقابلہ کررہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح ملک کو مزید بدنام کیا جاسکے۔ کیوں کہ ملک کی عزت اور وقار بڑھانا ان کی ترجیحات کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ یہی نہیں میری نظر میں وہ آسکرایوارڈ حاصل کرنے کے باوجود ایک اچھی فلم ساز یا ہدایت کار بھی نہیں ہیں کیوں کہ انہوں نے کبھی بھی امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے ہر طرح کے ظلم و ستم پر کبھی نہ تو اپنے کیمرے کو استعمال کیا اور نہ ہی اس جانب توجہ دی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انہیں یقین ہے کہ اگر وہ ایسی فلمیں بنائیں گی تو کوئی انہیں آسکرایوارڈ تو کیا امریکا میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دے گا۔ عورتوں کے خلاف ظلم پر آواز اٹھانے کا دعویٰ کرنے والی شرمین عبید کو اپنے ہی ملک کی ان کی ہم عمر ڈاکٹر عافیہ پر ہونے والے ظلم بھی دکھائی نہیں دیتے۔ کیوں کہ امریکا نے ڈاکٹر عافیہ کو 82سال قید کی سزا دے کر اپنے کردارکو سب کے سامنے واضح کردیا ہے کہ اس کا عورت کی قدر اور اس کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو تاریخ کی طویل قید کی سزا دیے جانے سے لگنے والے داغ کو دھونے کے لیے امریکا اگرچہ بہادری کے پرسرار کردار ملالہ اور اس کے گھر والوں کو نوازکر اور شرمین عبید کو ایوارڈ دیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کا بڑا حامی ہے۔ مگر جب تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جیل میں رہیں گی اس وقت تک امریکا یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ وہ عورتوں کے حقوق کا حامی ہے۔
آج دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت ظلم و زیادتی کا شکار ہے۔ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے بیش تر غیر مسلم ممالک میں 15 تا 44 سال کی عورتوں و لڑکیوں کو جنسی اور گھریلو تشدد کا سامنا ہے۔ ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات میں کل عورتوں کی تعداد کا نصف اپنے موجودہ یا سابق شوہر یا قریبی رشتے داروں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، اسرائیل، ساؤتھ افریقا اور امریکا میں چالیس تا ستر فی صد عورتیں اپنے والدین یا سرپرستوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوکر قتل ہوجاتی ہیں۔ ان رپورٹ کے مطابق غیر مسلم آبادی والے ملکوں میں گزشتہ دس سال کے دوران ہر چھ روز بعد سیکڑوں عورتیں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کردی گئیں ہیں۔ صرف روانڈا میں 1994کے دوران ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ عورتیں جنسی زیادتی کا شکار ہوئی ہیں۔ جب کہ 1990 کے شروع میں 20 ہزار تا 50ہزار عورتیں بوسنیا میں اسی ظلم کا شکار ہوچکی ہیں۔ یورپین یونین کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا، نارتھ امریکا اور آسٹریلیا میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ ان تمام رپورٹوں کے باوجود شرمین عبید چنائے جیسی پاکستانی عورتوں کو صرف پاکستان اور دیگر اسلامی ملک میں عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے واقعات نظر آتے ہیں۔
کیا شرمین امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں ہونے والے کسی واقعے پر فلم تیار کرسکتی ہیں؟ کیا وہ ڈاکٹر عافیہ کی قید پر فلم نہیں بناسکتی؟؟ اس سوال کا جواب آج نہیں تو کل شرمین اور ان جیسے فلم سازوں کو دینا ہوگا۔