August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ قرآن وحدیث کی روشنی میں

 

تحریر: حشمت اﷲ صدیقی

اسلام دین فطرت انسانی کا مظہر ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے اور سب انسان اولاد آدم ہیں اس لحاظ سے اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں اللہ کے نزدیک دونوں ہی اس کی مخلوق ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ترجمہ)اے لوگو!اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسکی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیااور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں(النساء 1-4)

اسلام میں عمل اور اجر میں مرد وعورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کردیا گیا کہ (ترجمہ) ’’مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور (دونوں)اللہ سے اس کا فضل مانگو‘‘(سورۃ النساء32)مزید فرمایا (ترجمہ) اور جو کوئی نیک عمل کرے گا،وہ مرد ہو یا عورت بشرط وہ مومن ہوتو ایسے لوگ جنت میں داخل ہونگے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی‘‘ (النساء 124) قرآن پاک کے علاوہ کئی احادیث رسولؐ میں بھی عورتوں کے حقوق، فرائض اور ان کی معاشرے میں اہمیت کا ذکر موجود ہے خاتم النبین حضرت محمد ؐ نے ایک حدیث میں عورت کے وجود کو دنیا میں محبوب قرار دیا آپ ؐ نے فرمایا کہ’’ مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے‘‘(الحدیث)’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو‘‘(الحدیث)دیگر فرمایا ’’جس شخص نے 3لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے‘‘ (ابوداؤد) الفرض قرآن وحدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکامات الغرض موجود ہیں جس سے اسلام میں عورت کے مقام ،اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت وپستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا جبکہ اسلام سے پہلے دیگر مذاہب میں عورت کو ذلت، رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ہندو مت میں خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھا یعنی اسے بھی زندہ جلادیا جاتا تھا جبکہ عرب معاشرے میں اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ درگورکردیا جاتا تھا قرآن پاک میں اس بہیمانہ ظلم کا ذکر موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ترجمہ)جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی تواس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے گھلنے لگتا ہے اس بُری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چُھپا چُھپا پھرتا ہے سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبادے آہ ! کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں‘‘(سورۃ الخل58)حضرت عمرؓ فاروق اس دور جاہلیت کے معاشرے میں گواہی دیتے ہیں کہ ’’قسم بخدا ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنی ہدایت نازل کی اور ان کے لیے جو کچھ حصہ مقرر کرنا تھا مقرر کیا‘‘(صحیح مسلم شریف)اسلام نے اُس ذلت اور رسوائی سے عورت کو نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ زندہ درگور کرنے والوں کو آگاہ کیا کہ اس جرم کا ضرور ان سے سوال ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’(ترجمہ)جب کہ زندہ درگور لڑکی کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ کس گناہ میں وہ ماری گئی‘‘(سورۃ التکویر9-8)اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق، فرائض ودیگر مسائل کے لیے سورۃ النساء میں تفصیلی احکامات دیے ہیں جس میں نکاح،طلاق، خلع، وراثت ودیگر صنفی مسائل میں رہنمائی کی گئی ہے عورت کی عزت عصمت کی حفاظت کے لیے حجاب(پردہ)کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی واخلاقی اقدار برقراررہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کہا گیا ہے کہ (ترجمہ)’’مومن عورتوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھینوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘(سورۃ النور)پردے کا مقصد عورت کو معاشرتی وخاندانی نظام سے الگ رکھنا نہیں بلکہ عورت سورۃ النور میں بیان کردہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ خاندانی، معاشرتی نظام واجتماعیت میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے ہمارا دین اس ضمن میں کسی انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دیتا حضور اکرمؐ نے فرمایا’’دین آسان ہے لوگو کے لیے آسانی پیدا کرو لوگوکو مشکلات میں مت ڈالو‘‘(صحیح بخاری)مغرب میں آزادی نسواں ومساوات مرد وزن کے نعرے کے تحت عورتوں کے حقوق کی جو تحریک ہے اس میں حقوق وفرائض سے زیادہ اسلام کے قوانین وتعلیمات کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے پردہ، طلاق، تعدادازواج ،عورت کی گواہی اور وراثت میں نصف حصہ اور ہر سطح پر مساوی آزادی کا مطالبہ کرکے یہ پروپگنڈا کیا جاتا ہے کہ پردہ عورت کو قید کرنے کے مترادف ہے اور 4 شادیاں ووراثت وگواہی میں نصف حصے سے عورت کے حقوق متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح عورتوں کا استیصال ہورہا ہے جبکہ اسلام پر محض یہ الزام ہے اسلامی تعلیمات میں اس ضمن میں جو ہدایات ہیں وہ انصاف وتوازن برقرار رکھنے اور معاشرے میں اخلاقی اقدار وخاندانی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہیں بعض قوانین ناگزیر صورت میں استثنائی ہیں جو ہنگامی ووقتی پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ہیں ان تمام قوانین میں اسلام نے ہر صورت میں انصاف وتوازن کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے عورتوں کے مسائل سے متعلق کوئی بھی قانون ہو اس کی تشریح وتعبیر میں ہمیشہ انصاف وتوازن ومعاشرتی مفاد مقدم ہوگا لہٰذا اگر تعصب کو بالائے طاق رکھ کر اسلام میں دیے گئے عورتوں کے حقوق وفرائض کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بظاہرامتیازی نظر آنے والے قوانین امتیازی نہیں بلکہ خود عورت کی عزت وعصمت کے محافظ اور معاشرے میں اخلاقی وخاندانی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں ہمارے ملک میں جو کہ اسلام کے نفاذ کے لیے وجود میں آیایہاں بھی عورتوں پر تشدد اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کئی قوانین تشکیل دیے گئے ہیں ان میں عائلی قوانین 1961ء کے بعض قوانین جوکہ قرآن وسنت کے مطابق ہیں ان سے عورتوں کے حقوق کو تحفظ ہوا ہے اور اب حال ہی میں عورتوں پر مظالم اور ان کے حقوق غضب کرنے سے متعلق اسمبلی وسینیٹ نے ترمیمی بل منظور کرلیا ہے۔