April 23rd, 2018 (1439شعبان7)

افغانستان کا المیہ 

 

تحریر: عارف بہار


افغانستان میں وقفے وقفے سے تشدد کے بڑے واقعات رونما ہورہے ہیں جن میں اکثر عام آدمی ہی مارے جاتے ہیں۔ تین روز میں پے در پے دو خوفناک خود کش حملے افغانستان کی بگڑتی ہوئے صورت حال کے عکاس ہیں۔ افغانستان میں خوں ریزی اور بدامنی کے یہ سلسلے چنداں نئے نہیں۔ یہ ملک کئی عشروں سے گریٹ گیم کا شکار ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس جنگ زدہ ملک کو مدبر اور قد آور قیادت میسر نہیں آسکی۔ تخت کابل پر براجمان قیادت ہو یا اس تخت کے گرد رقص کناں معاون کردار سب اپنی ذاتی مصلحتوں اور مفادات کے اسیر ہیں۔ ان کی ذاتی دولت کے انبار اور ڈھیر دبئی سے امریکا اور برطانیہ تک بڑھتے جا رہے ہیں مگر ان کی سوچ میں وسعت پیدا نہیں ہو رہی۔ ان میں اکثریت اپنے ملک میں امریکا کے پروجیکٹ مینیجر کا کردار ادا کررہے ہیں۔ منشیات کی سرپرستی ان میں اکثر کا محبوب مشغلہ ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر بھی نہیں کہ ان کا ملک ہمہ جہتی گریٹ گیم کا شکار ہے۔
امریکا کوسوں دور سے یوں بے سبب ان سنگلاخ چٹانوں کے ملک میں آکر نہیں بیٹھا۔ امریکا کے طویل المیعاد مقاصد ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں دنیا کی ایک اُبھرتی ہوئی طاقت عوامی جمہوریہ چین اور حیاتِ نو کی متلاشی سپر طاقت روس بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں ستر برس سے متحارب ایٹمی طاقتیں بھارت اور پاکستان بھی اپنے اختلافات کی دہکتی آگ کے ساتھ موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب بھی حالات کو اپنے ڈھب پر چلانے کی خواہش دلوں میں پال کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یوں افغانستان کی حالت خوفناک بھنور میں گھری ہوئی کشتی جیسی ہے۔ اس کشتی کو کوئی ماہر ملاح ہی حالات کے تھپیڑوں سے نکال کر باہر لاسکتا ہے۔ نسلی، لسانی اور مسلکی اختلافات کا شکار افغان قیادت ان اختلافات سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ لے دے کر افغانستان میں ہر کارروائی کا آسان اور سادہ الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے۔ افغان حکمران توتا مینا کی کہانی سنا کر امریکا، اتحادیوں اور افغان فورسز کو تمام ذمے داریوں سے بری قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ افغانستان میں امن قائم کرنا بھی راحیل شریف اور جنرل باجوہ کی ذمے داری ہے۔ اگر واقعی یہ ذمے داری پاکستان کی ہے تو پھر امریکی فوج اور اتحادی اور افغان حکومت سترہ برس سے افغانستان میں کس مرض کی دوا ہیں۔
بھارت جسے سترہ برس پہلے امریکا اور اتحادی فوج نے افغانستان کے تاراج وجود پر منعقدہ تقریب کا دولھا بنا دیا تھا وہاں سوائے فساد برپا کرنے کے اور کیا کر رہا ہے؟۔ افغانستان میں طالبان کا اخونزادہ گروپ ہو یا سراج الدین حقانی کا نیٹ ورک دونوں افغان ہیں اور ان کا اصل مرکز افغان سرزمین ہے۔ ان کے تنازعات کا تعلق افغانستان کے معاملات سے ہے۔ وہ کابل حکومت کو اور کابل حکومت ان کے وجود کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ امریکا اس اختلافی صورت حال میں درمیانی راستے پر یقین نہیں رکھتا۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ طالبان کو اس قدر ادھ موا کر دیا جائے کہ وہ مفاہمت کے نام پر خود سپردگی پر آمادہ ہوجائیں۔ یہ ایک دلکش اور خوب صورت تصور تو ہے مگر سترہ برس کے زمینی حقائق اس سے قطعی برعکس ہیں۔
طالبان کے حملے کی صلاحیت ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے خطے کی بہت سی طاقتوں کے لیے اپنی اپنی تزویراتی گہرائی تلاش کرنے کا سنہری ماحول بنتا ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک گلبدین حکمت یار بھی زیر زمین رہ کر مزاحمت کی حمایت کر رہے تھے۔ وہ اچانک بالائے زمین آئے اور افغانستان میں سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا۔ کابل میں دھوم دھڑکے سے داخل ہو کر ہائی سیکورٹی زون میں آباد ہوگئے۔ پاکستان نے گلبدین حکمت یار کو اس مفاہمت سے روکنے کی کوشش نہیں کی اگر طالبان بھی افغان حکمرانوں کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہیں تو پاکستان انہیں کیوں کر روک سکتا ہے۔ طالبان غیر ملکی افواج کے انخلا تک کوئی مفاہمت کرنے سے انکاری ہیں۔ امریکا افغانستان سے انخلا کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان بھارت کا رول قبول کرنے کو تیار نہیں اور بھارت افغانستان کو پاکستان کی مشکیں کسنے کے لیے استعمال کرنے کے ارادوں کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ افغان حکمران پاکستان پر الزام تراشی کرنے اور امریکا کی ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے غیر ملکی افواج کے انخلا کا راستہ تلاش کرتے ہوئے علاقائی حل کا ساتھ دیں۔
افغانستان میں امن کی افغانستان کے بعد کسی اور ملک کو ضرورت ہے وہ صرف پاکستان ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان کو افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک اور پر تشدد ملک قرار دیا جاتا رہا۔ پاکستان نے تنہا اپنے بل بوتے پر دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے امن خیرات میں حاصل نہیں کیا۔ جانے کیوں افغانستان میں قیام امن کی تمام توقعات اور خواب پاکستان سے وابستہ کر دیے گئے ہیں۔ افغانستان کی فوج سے زیادہ اس ملک کی سول سوسائٹی، میڈیا اور سمجھ بوجھ رکھنے والی شخصیات کی ذمے داری ہے کہ وہ امریکا اور بھارت کی سوچ سے چھٹکارہ حاصل کرکے آزاد سوچ کو اپنا کر اپنے ملک میں امن کا پھریرا لہرا کر میدان میں آئیں۔ افغان عوام ایک دباؤ اور ایک لہر اُٹھا کر حالات کے دھاروں کا رخ موڑ سکتے ہیں۔