November 22nd, 2017 (1439ربيع الأول3)

او آئی سی مطالبے نہیں اقدام کرے

 

اداریہ

اسلامی تعاون کونسل او آئی سی نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرائیں۔ تنظیم نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اپنے اجلاس کے دوران برما کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی اداروں کے نام خطوط ارسال کیے ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں ادارے مظالم بند کرائیں۔ اسی طرح یہ بتایا گیا ہے کہ راکھائن میں سیکورٹی فورسز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔ کچھ بھی محفوظ نہیں ہے انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ میانمر کی حکومت عالمی ادارے کو تحقیقات کی اجازت دے۔ اجلاس میں روہنگیا مسلمانوں کو برما کی شہریت دینے اور ان کی وطن واپسی کی کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔۔۔ اور بس ۔ ہوگیا کام اوآئی سی کا ،ذمے داری نبھادی، یعنی آواز تو اٹھادی۔

خود او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یہ کہہ رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔کچھ بھی محفوظ نہیں تو پھر یہ راننگ کمنٹری یا رواں تبصرہ کیوں کیا جارہا ہے ۔جس طرح یورپی یونین اور اقوام متحدہ ہیں اسی طرح کا ادارہ او آئی سی ہے بلکہ او آئی سی یورپی یونین کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ارکان پر مشتمل ہے۔ یورپی یونین میں 28ممالک ہیں جبکہ او آئی سی میں اس کے دو گنا ارکان ہیں لیکن پھر بھی او آئی سی یورپی یونین سے مطالبہ کررہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کا کردار عالمی مسائل میں کیا رہا ہے۔ جب بوسنیا میں مسلمانوں پر اسی طرح کے مظالم کیے جارہے تھے تو بقیہ یورپ صرف مذمت یا تشویش کا اظہار کررہا تھا۔ آج وہی کام اسلامی ممالک کررہے ہیں۔ 57اسلامی ممالک میں صرف مالدیپ ایک ملک ہے جس نے کسی قدر جرأت کا مظاہرہ کیا اور برما سے تعلقات منقطع کرلیے ۔کیا 57ممالک یہ کام نہیں کرسکتے۔ یورپی یونین سے مطالبہ کرنا تو بالکل بے جا ہے۔ اور اقوام متحدہ جس کے علم میں ہر بات ہے اس کے سامنے تبصرہ کرنا بھی بے کار بات ہے۔

یہ اقوام متحدہ افغانستان، عراق، شام اور کسی اور مسلمان ملک میں امریکی فوجیں اتارنے کی اجازت دینے میں کوئی تاخیر نہیں کرتی۔ اور امریکی افواج اس اجازت سے قبل ہی اتر جاتی ہیں۔ الزام صرف یہ ہوتا ہے کہ امریکا کو کسی مسلمان ملک یا حکمران کے بارے میں شبہات ہوتے ہیں کہ وہاں کوئی دہشت گردی یا وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار ہیں۔ اقوام متحدہ اس کی اجازت موثر بہ ماضی دیتی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین اور تحقیقاتی مشن کو بھیجنے کی اجازت برما سے مانگی جارہی ہے جبکہ خود اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ میانمر حکومت مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مطالبہ اپنی جگہ لیکن پاکستانی عوام اور امت مسلمہ کی خواہش ہے کہ او آئی سی خود کوئی کردار ادا کرے۔ اگر اقوام متحدہ کی طرح فوج نہیں اتاری جاسکتی تو برما کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا فیصلہ تو کیا جاسکتا ہے۔ 57ممالک بھی تنہا نہیں ہیں بلکہ وہ یورپی ممالک کو بھی اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ اگر بہت کم تجارت بھی ہوتی ہے تو یہ ادائیگیاں روک کر برما کو دباؤ میں لاسکتے ہیں۔ اگر یورپی یونین سے موازنہ کیا جائے تو او آئی سی کے رکن ممالک میں ایٹمی قوت بھی ہے اور معاشی قوت بھی۔

ترکی جیسی معاشی اور فوجی قوت بھی۔ ایران جیسے جنگجو بھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ ممالک مل کر برما کی حکومت کو لگام نہیں دے سکتے۔ بار بار یہ سوال سامنے آرہا ہے کہ 34ملکی افواج کس کے لیے بنائی گئی ہیں ضروری تو نہیں ہے کہ اسے کسی کے خلاف حملے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اسلامی ممالک اسے امن فورس کے طور پربھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک اتنے قتل عام کے باوجود وہاں معائنے کے لیے برمی حکومت کی اجازت ضروری ہے اس کے نزدیک انسانیت سے زیادہ سرحد کا احترام ضروری ہے تو پھر اسلامی افواج کو حرکت میں آنا چاہیے۔ محض مذمت، مطالبے اور احتجاج سے کچھ نہیں ہوگا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تمام اسلامی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ برما کی حکومت قتل عام کرے، ملک بدر کرے، بے یارو مددگار کیمپوں میں بھیج دے۔ یہ مسلم ممالک کپڑے، دوائیں اور خوراک لے کر پہنچ جائیں گے۔ یہ تو دہشت گردوں کے حوصلے بلند کرنے والا کام ہے۔ حکومتوں کا یہ کام نہیں ہوتا۔ الخدمت، آئی ایچ ایچ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں کرہی رہی ہیں۔ حکومتوں کے کرنے کے کام وہی ہوتے ہیں جو مالدیپ نے کیے ہیں۔ جب تک امت مسلمہ ایک امت بن کر اقدام نہیں کرے گی برما جیسے واقعات ہوتے رہیں گے