August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

اردوان پر بھاری ذمہ داری

 

اداریہ

ترکی میں تاریخی ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، صدر رجب طیب اردوان کو اس کے نتیجے میں نہ صرف وسیع اختیارات مل گئے ہیں بلکہ وہ 2029ء تک اقتدار میں رہ سکیں گے۔ نومبر2017ء کے انتخابات کے بعد وزیراعظم کا عہدہ ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد صدر اردوان مملکت اور سربراہ حکومت بھی جائیں گے۔ کہنے کو تو برطانیہ کے بریگزٹ کی طرح یہ بھی ایک ریفرنڈم ہے جس کے نظام کے حق میں کچھ بھی کہاں جائے ایک ووٹ بھی زیادہ ہو تو نتیجہ ایسا ہوتا ہے کہ جو اکثریت کا فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم برطانیہ اور ترکی میں فرق ہے۔ برطانیہ کے عوام نے بھی کم و بیش اتنے ہی فرق سے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا اور برطانیہ سے ایک آواز نہیں اٹھی کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ جب کہ ترکی میں حزب اختلاف نے 60فیصد ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی اور برطانیہ کے فرق کو بتانے کی اہمیت ہے کہ مغرب کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہے یا الگ ہوجائے۔ وہ ایسے بھی ایک ہی پرچم تلے ہیں۔ ایک ہی خیال کے حامی ہیں۔ اصل مسئلہ ترکی کا ہے کہ ایک ایسے صدر کو وسیع اختیار مل گئے ہیں جو پورے یورپ اور امریکا کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے درجہ بہ درجہ اقدامات کے نتیجے میں ترکی کی سیاست میں فوج کی آئینی مداخلت کا جواز اور راستہ بند ہوا، اسلام اور اسلام پسندوں کے خلاف جو غیر قانونی رکاوٹیں اور قوانین تھے ان کو ختم کیا گیا اور سب سے بڑھ کر امت مسلمہ کی جانب سے ایک توانا آواز دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ اردوان نے اپنے بیان میں سب سے پہلے جس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ یہ ہے کہ یورپی یونین سے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔ اردوان کے لیے یہ بڑی اہم کامیابی ہے انہیں ترکی کی ترقی کے لیے جو اقدامات کرنے تھی ان میں بہت سی رکاوٹیں بھی تھیں اس کے علاوہ دو ایوانی نظام کی رکاوٹیں بھی تھیں۔ لیکن اس کامیابی کے باوجود اردوان کے لیے سب کچھ اچھا نہیں ہے، ترکی میں گولن تحریک کے بہت وسیع اثرات اب بھی موجود ہیں حالاں کہ حکومت نے گولن تحریک کے خلاف بڑے پیمانے کاروائیاں کی ہیں لیکن اس کے بہت سے ونگ اب بھی چھپے بیٹھے ہیں ۔ یوں بھی اردوان کی کامیابی مغرب سے آسانی سے ہضم نہیں ہوگی اور وہ کوئی نہ کوئی شرارت ضرور کرے گا۔ اس سے قبل انتخابات میں کامیابی پر بھی ہنگامے کرائے گئے تھے لیکن اردوان اور ان کی ٹیم نے خوبصورتی سے اس پر قابو پایا تھا۔ سب سے اہم بات سیاست میں فوج کے عمل دخل کو ختم کرنا اور گزشتہ برس کی فوجی بغاوت کو کچلنا ایسے اقدامات تھے انہوں نے مغرب کی ہمت بھی پست کردی۔ بہرحال جہاں اردوان کو یہ کامیابی ملی ہے وہیں یہ ان کے لیے اور ترکی کے لیے ایک آزمائش بھی ہے۔ اتنی قوت کے ساتھ حکمرانی ملنا اچھے اچھوں کے دماغ کو فرش سے عرش پر لے جانے والا عمل ہے۔ اگر اردوان اپنے ربّ کی رہنمائی میں یہ اختیارات استعمال کریں گے اور ترک عوام اور اُمت کی فلاح کے اقدامات کریں گے تو یقیناً دنیا و آخرت کی فلاح ان کے مقدر میں لکھی جائے گی لیکن ان اختیارات کا استعمال غلط ہو یا اس قوت کے ہاتھ میں آنے کے بعد کسی قسم کے غرور و تکبر کا شائبہ بھی ملا تو جس طرح دنیا کے بڑے بڑے طاقتور لوگوں کا انجام تاریخ کا حصہ ہے اسی طرح ایسے عمل کا انجام بھی یہی ہوسکتا ہے۔ ایک اور بات جس کو میڈیا کا ایک طبقہ اچھالنے کی کوشش کررہا ہے وہ یہ ہے کہ اردوان کو مغرب میں دوسرے سلطان سلیمان قانونی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس سے مغرب خوفزدہ تھا۔ ایسا ممکن ہے کیوں کہ مغرب کسی کی بھی خوبیوں کو اسی طرح خوف و دہشت میں تبدیل کرکے اپنے ہی لوگوں کے لیے چیلنج بنا کر پیش کرتا ہے اسلام کو دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب قرار دے کرجو تجزیے مغرب میں پھیلاتے جارہے ہیں۔ ان کا مقصد اسلام کی تعریف نہیں بلکہ مغربی عوام کو اسلام کا خوف دلا کر اس سے بچنے کی ترغیب دی جارہی ہے، اسی طرح اردوان کے ان اختیارات اور کامیابی کو بھی مغرب میں ہوا بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اب وہ زمانہ نہیں کہ سلطان نے فوجیں روانہ کیں اور وہ فتح کے جھنڈے گاڑتے ہوئے یورپ پہنچ گئیں۔ ساری جنگ اقتصادی میدان میں لڑی جائے گی۔ اردوان نے اس میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ترک عوام اور اردوان کو یہ کامیابی مبارک ، اللہ انہیں ہر آزمائش سے کامیابی سے نکلنے کا حوصلہ اور راستہ عطا فرمائے۔