August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

تحریک آزادی فلسطین نئے خدشات کی لپیٹ میں

 

مرکز اطلاعات فلسطین
امریکی ذرائع ابلاغ کے جائزوں اور تمام  تر توقعات کے برعکس امریکا میں ری پبلکن پارٹی کے اسرائیل نواز امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے دنیا کے سپر پاور کے صدر منتخب ہوئے اور اب وہ اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا چکے ہیں۔ متعصب اور متنازع بیانات کے باعث منفی شہرت کا حامل شخص امریکا کا 45واں صدر منتخب ہوا ہے۔ امریکا میں ہونے والے تمام صدارتی انتخابات ماضی میں بھی عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں مگر پہلی بار ایک سخت گیر، نسل پرست، یہود نواز، مسلمان، دشمن اور خواتین کے سخت مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے مکین بن چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی میدان میں جیت نے جہاں امریکا کے اعتدال پسند حلقے کو رُلایا وہیں پوری دنیا کو سوائے چند ایک ممالک یا قوتوں کے ایک نئی تشویش میں ڈال دیا ہے۔ امریکا کا کوئی بھی صدر یا دوسرا عہد یدار اسرائیل کا حامی ہی رہا ہے مگر جس غیر مشروط اور دو ٹوک حمایت کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے وہ اپنے جلوس میں کئی خطرات اور خدشات کو سموئے ہوئے ہے۔
دنیا ٹرمپ کے نئے عہدے کو مخصوص جغرافیائی اور سیاسی حالت کے تناظر میں دیکھ رہی ہے مگر فلسطین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کو مسئلہ فلسطین کے لیے ایک نیا خطرہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم آغاز سے اختتام تک صہیونی ریاست کی حماقت سے لبریز رہی۔ حتیٰ کہ انہوں نے کئی مواقع پر اسرائیل کو مظلوم قرار دینے کے ساتھ دھمکی دی تھی کہ وہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو اسرائیل کا دارلحکومت تل ابیب کے بجائے فلسطین کے اہم ترین اسلامی مرکز مقبوضہ بیت المقدس منتقل کریں گے اور القدس ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ زمام کار تازہ تازہ اپنے ہاتھوں میں لی ہے مگر مبصرین اور سیاسی ماہرین ان کے مسئلہ فلسطین اور عرب ممالک کے حوالے سے پالیسیوں پر تبصرے کررہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے ٹرمپ محض ’بھڑک باز‘ ہیں۔ عملاََ وہ امریکا کی خارجہ پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکیں گے۔
معمولی تبدیلی
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو عالمی مسائل میں الجھانے میں زیادہ مائل نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں میں امریکا کی مداخلت بھاری مالی وسائل کا تقاضا کرتی ہے اور امریکا کی موجودہ معیثت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ امریکا کی غیرملکوں میں مداخلت کو محدود کریں گے۔ مگر فلسطین کے معاملے میں ان کا طرز عمل مختلف ہوسکتا ہے۔
فلسطین تجزیہ نگار ڈاکٹر پروفیسر عبدالستار قاسم کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اندازہ ہے کہ دنیا بھر کے مسائل کو اپنے مسائل قرار دے کر ان کے حل کے لیے امریکی وسائل کو جھونکنا عقل مندی نہیں۔
فلسطینی دانشور اور صحافی حسام الدجنی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جیت بلاشبہ مسئلہ فلسطین کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی مذہب کے گرد گھومتی ہے
ڈاکٹر قاسم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں رہا ہے۔ بلکہ ان کے ایجنڈے میں صرف اسرائیلی مفادات کی بات کی جارہی ہے۔ ٹرمپ فلسطینوں اور اسرائیلیوں کو اپنے مسائل امریکا سے دور رہتے ہوئے خود ہی حل کرنے کے لیے چھوڑدیا ہے۔ یوں ٹرمپ نے عرب اور مسلمان ملکوں کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اسرائیل پر دباؤ نہیں ڈالیں گے۔
مستقل پالیسی
پروفیسر عبدالستار قاسم کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اسرائیل کو سرزنش کرنے کے بجائے صہیونی ریاست کی فوجی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یوں صہیونی ریاست فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لیے مطلق آزاد ہوجائے گی اور امریکا کی طرف سے اب تک اسرائیل پر یہودی آباد کاری کے حوالے سے دباؤ بھی ختم ہوجائے گا۔
دوسری جانب فلسطینی تجزیہ نگار الدجبی کا کہنا ہے کہ امریکی سیاست کی خارجہ پالیسی کو مسئلہ فلسطین، عرب اور اسلامی ممالک کافی حد تک متاثر کرتے ہیں۔ نیز امریکا میں فیصلے فرد واحد کے نہیں بلکہ اداروں کے ہوتے ہیں اور اداروں کی پالیسی طے شدہ اور مستقل ہے۔
ڈاکٹر عبدالستار قاسم نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ٹرمپ چونکہ دوسرے ملکوں میں جنگوں کو طول دینے کا حامی نہیں ہے۔ اس لیے دنیا کہ دوسرے خطوں کے لیے امریکی امدادی بجٹ بھی کم ہوجائے گا۔ جس کے بعد ممکن ہے کہ دوسرے ممالک کی امداد کا بوجھ خلیجی ممالک پر پڑے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں خارجہ پالیسی کو زیادہ تبدیل نہیں کرسکیں گے۔ بعض مسائل کے درمیانے حل کے لیے بھی ٹرمپ کوشش کرسکتے ہیں مگر یہ ان کے ساتھ کام کرنے والی لابی پر منحصر ہوگا۔
اسرائیل کے معاملے میں دونلڈ ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے۔ وہ فلسطینیوں کو اسرائیل کی آنکھ سے دیکھتے اور آزادی کے لیے جدوجہد کو دہشت گردی قرار دینے میں بلا تامل اپنی آرا ظاہرکرچکے ہیں۔
فلسطینی تجزیہ الدجبی کا کہنا ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی طے شدہ اصولوں پر قائم ہے۔ امریکا اپنے ریاستی مفادات کے گرد خارجہ پالیسی کے خدوخال متین کرتا ہے۔ امریکا کے فیصلہ ساز اداروں پر یہودی لابی کا چونکہ گہرا اثر رسوخ ہے۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ لامحالہ صہیونی ریاست کے مفادات کے لیے تمام حدود کو پھلانگ سکتے ہیں۔
سفارت خانے کی منتقلی
فلسطینی تجزیہ نگار حسام الدجبی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ اگر وہ ایسا کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو انہیں عرب ممالک اور عالمی سطح پر اس کے سخت رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ڈاکٹر قاسم کا کہنا ہے ٹرمپ کی طرف سے المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا دعویٰ اپنی جگہ مگر اس پر عمل کرنا اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ اس وقت پورا عرب خطہ جن مسائل کا شکار ہے وہ کسی ایسی مہم جوئی کی امریکا کو بھی اجازت نہیں دے سکتا۔
خیال رہے کہ امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دینے کے ساتھ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دورالحکومت بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے پاس بیان پر یہودیوں لابی نے بغلیں بجائی تھیں مگرعرب ممالک، فلسطین اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہردوڑ گئی تھی۔