September 17th, 2019 (1441محرم18)

اصحاب کہف ۔ ۔ ۔ حصہ دوم

 

بادشاہ نے جب دیکھاکہ نوجوان خدا کی تعریفیں کیے جارہے ہیں تو زور سے چلایا کہ بکواس بند کرو اور غصے سے کانپنے لگا۔ اس نے نوجوانوں سے کہا کہ میں تمہارے باپ دادا کی عزت کرتا ہوں ورنہ تمہیں ابھی اور اسی جگہ قتل کردیتا، تمہیں سوچنے کا موقع دیتاہوں اگر تم اپنے ارادوں سے باز نہیں آئے تو گردن اڑا دوں گا اور اگر بتوں کو مان لیا تو دربار میں جگہ دوں گا۔ یہ مسلمان نوجوان بادشاہ کے دربار سے نکل کر سیدھے اپنے عبادت خانے میں آئے اور سب نے مل کر مشورہ کیا کہ ہم شہر سے دور کسی پہاڑکے غار میں چل کر رہتے ہیں۔ وہاں اللہ کی عبادت کریں گے اور جب تک اس ظالم بادشاہ کی حکومت ختم نہیں ہوجاتی ہم اسی جگہ رہیں گے۔ رات کوجب سب لوگ سو گئے اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا تو یہ نوجوان خاموشی کے ساتھ اٹھے ، اپنا سامان باندھ کر کندھے پر رکھا اور شہر سے پہاڑکی طرف چل دیے ۔ ان میں سے ایک نے ایک کتا پال رکھا تھا ، وہ کتا بھی ان کے ساتھ چل دیا، چلتے چلتے دوسرے دن دوپہر کو یہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچے وہاں ایک غار تھا ،ان نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں سے اس غار کو صاف کیا اور غار میں بیٹھ کر سستا نے لگے۔ طویل فاصلہ پیدل چلنے کی وجہ سے یہ بہت تھک چکے تھے۔ کمرسیدھی کرنے کے لیے لیٹ گئے ، ان کا کتاغار کے دہانے پر بیٹھ کر پہرہ دینے دینے لگا ۔ تھکن اور رات بھر پیدل چلنے کی وجہ سے انہیں نیند آنے لگی اور ایک ایک کرکے سب سوگئے ، کتا یونہی پہرہ دیتا رہا۔
بچوں ! آپ کو حیرت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی نیند سلایا کہ وہ غار کے اندر تین سو سال تک سوتے رہے۔ نہ انہیں بھوک لگی اور نہ بیمار ہوئے ، تین سو سال کے بعد سب ایک ایک کرکے اٹھ گئے ، ایک دوسرے سے پوچھنے لگے بڑی گہری نیند تھی ، ہم کتنی دیر تک سوتے رہے ، دوسرے نے جواب دیا ، آج ہم سارا دن سوئے ، آج شاید دوسرا دن نکل آیا ہے ، ایک ساتھی کہنے لگا ، دو دن ہوگئے ہمیں سوتے ہوئے اب بہت بھوک لگ رہی ہے ، انہوں نے کہا ہم میں سے ایک آدمی جا کر بازارسے کھانا لے آئے۔ ان میں سے ایک نوجوان کچھ پیسے لے کر کھانے کا سامان لینے شہر کی طرف جانے لگا سب نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا کہ کسی کو ہمارے بارے میں مت بتانا ورنہ ظالم بادشاہ گرفتار کرکے قتل کردے گا۔ جب سب نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا تو وہ شہر چلا گیا ۔ اس نے دیکھاکہ شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے اور اونچی اونچی عمارتیں، سڑکیں ، گلیاں سب کچھ تبدیل ہوگیا ہے یہاں تک کہ ملک میں چلنے والا سکہ بھی بدل گیا ، جب وہ کھانے کی ایک دکان پر گیا اور ظالم بادشاہ کے زمانے کاسکہ پیش کیا تو دکاندار حیران رہ گیا اور کہنے لگا یہ تو بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا سکہ ہے تمہیں کہاں سے ملا ، چند اور لوگ بھی جمع ہوگئے اور کہنے لگے اس نوجوان کو قدیم خزانہ مل گیا ہے جس میں سے یہ سکہ نکال لایا ہے ،نوجوان حیران و پریشان لوگوں کو سمجھانے لگاکہ میرے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا سکہ ہے لیکن لوگوں نے اسے گرفتار کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کردیا۔ اس نئے بادشاہ کانام بیدوسس تھا ، یہ بہت نیک دل اور ایماندار بادشاہ تھا ، جب اسے یہ سکہ دکھایا گیا تو اس نے وزیر سے مشورہ کیا، وزیر نے بتایاکہ تین سو سال قبل جب دقیانوس بادشاہ حکمران تھا ، یہ سکہ تب تک چلتا تھا۔ بادشاہ نے نوجوان سے نام پوچھا تو نے سب کچھ سچ سچ بتادیا کہ وہ چند ساتھی اپنا ایمان بچانے کی غرض سے فرار ہوگئے تھے۔
بادشاہ ساری کہانی سن کر حیرت زدہ رہ گیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو تین صدیوں تک سلائے رکھا، اس عرصے میں کئی بادشاہ تبدیل ہوگئے تھے ،نوجوان نے بادشاہ سلامت سے اجازت لی اور اپنے ساتھیوں سے ملنے گیا ، ساتھیوں سے مل کر اس نے سارا حیرت انگیز واقعہ سنایا اور بتایاکہ بادشاہ بھی مسلمان ہے ، ابھی وہ اپنے ساتھیوں کو یہ باتیں بتا ہی رہاتھا کہ بادشاہ خود اپنے حفاظتی عملے کے ساتھ غار تک پہنچ گیا۔ سب ساتھیوں نے بادشاہ کا استقبال کیا۔ کچھ دیر بادشاہ ساتھ رہ کر رخصت ہوگیا۔
یہ سب اتھی غار کے اندر چلے گئے اور اللہ کے حکم سے سب کے سب انتقال کر گئے۔ سب لوگ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ تین سو سال تک بغیر کھائے پیے انہیں سلا کر دوبارہ اٹھا سکتا ہے تو مرنے کے بعد بھی اپنے بندوں کو قیامت کے دن زندہ کردے گا اور اب تک جتنے بھی جاندار مرے ہیں سب کو اٹھا کر اللہ اپنے سامنے پیش کرے گا اور نیکی اور بدی کا فیصلہ کرے گا