September 19th, 2019 (1441محرم19)

اصحاب الاخدود

 

شمس الرحمٰن
امام نسائی، امام احمد، امام ترمذی اور امام مسلم رحمہم اللہ نے اپنی صحیح روایات میں صہیب رومی رضی اللہ تعالی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:
’’ذونوس نامی بادشاہ نے ایک جادوگر رکھا تھا، بادشاہ جس کو چاہتا جادو کے زور سے اپنے دشمنوں کو مار دیتا اور یوں زونوس بادشاہ کی دہشت عوام میں اور پڑوسی ممالک میں تیزی سے پھیل گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ بادشاہ کا جادوگر بوڑھا ہوا اور اس نے بادشاہ کو کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ڈر یوں ہی عوام میں رہے اور آپ کی بادشاہت برقرار رہے تو مجھے ایک ہوشیار اور قابل شاگرد دیا جائے کہ میں اس کو جادو سکھا سکوں۔
بادشاہ نے ایک لڑکا جس کا نام عبداللہ بن تامر تھا اس کو بطور شاگرد جادوگر کو دیا۔
عبداللہ بن تامر روز صبح سویرے جادوگر کے پاس جاتا اور اس سے جادو سیکھتا۔ ان وقتوں میں عیسائیت ایک سچا مذہب تھا۔ وہاں ایک راھب روز اللہ کی عبادت کرتا تھا۔ اور لوگوں کو بھی اللہ اور رسول کی تعلیمات دیتا تھا۔ عبداللہ بن تامر اس کے بیان سے کافی متاثر ہوا۔ راہب نے عبداللہ بن تامر کو دین حق کی تعلیم شروع کی جس کی وجہ سے وہ ایمان لے آیا۔ عبداللہ بن تامر راھب کی وجہ سے جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تھا جس کی وجہ سے جادوگر نے بادشاہ کو شکایت کی۔ بادشاہ زونوس نے تنبیہ کی کہ آئندہ اگر ایسا کیا تو انجام کے ذمے دار خود ہونگے۔
ایک دن عبداللہ بن تامر جادوگر کے پاس جلدی جلدی جا رہا تھا کہ اس کا راستہ 2 شیروں نے روکا۔ عبداللہ بن تامر نے سوچا کیوں نہ آج راھب کا اور جادوگر کا دین آزمائے۔
اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:
’’اے اللہ! اگر راھب کا دین سچا ہے تو اس پتھر سے اس شیر کو ہلاک کردیں،‘‘ اس نے جیسے ہی پتھر مارا شیر اسی وقت ڈھیر ہوا۔ لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو سب نے کہا کہ یہ لڑکا بھت بڑا جادوگر بن گیا ہے۔ بادشاہ کا ایک قریبی جاننے والا تھا جس کی نظر کام نھیں کرتی تھی۔ عبداللہ بن تامر نے اس کے لیے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس کردی۔
خبر بادشاہ کو پہنچی اور اس نے راھب اور عبداللہ بن تامر کو بلالیا کہ میرے علاوہ بھی کیا تم لوگوں کا کوئی رب ہے؟ جس پر راھب نے کہا کہ کائنات کا صرف ایک ہی رب اللہ ہے۔ جو سب چیزوں پر قادر ہے۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ عبداللہ بن تامر کے سامنے راھب کو آری کے واروں سے کاٹ کر ٹکڑے کیے جائیں۔ اور حکم کی تعمیل کی گئی، لیکن عبداللہ بن تامر نے دین عیسائیت نھیں چھوڑا۔۔
بادشاہ نے کہا کہ اس کو ایک بلند پہاڑ پر لے جاؤ اور اس کو وہاں سے دھکا دے کر نیچے گراو دو۔
چنانچہ یہ لوگ عبداللہ کو لے گئے اور وھاں سے دھکا دینا چاہا۔ تو عبداللہ نے اللہ تبارک و تعالٰی سے دعا کی کہ اللہ جیسے تو چاہے مجھے ان سے نجات دے۔
اسی وقت پہاڑ پر زلزلہ آیا اور عبداللہ بن تامر کے علاوہ سب کے سب پہاڑ سے نیچے گرکر مردار ہوئے۔ عبداللہ بن تامر بادشاہ کے دربار میں خود واپس آیا۔ اور کہا کہ اللہ نے ان کے شر سے میری حفاظت کی اور ان سب کو ہلاک کردیا۔
ذونوس اتنا طیش میں آیا کہ اس نے اسی وقت حکم دیا کہ اس کو اٹھا کر سمندر کے بیچ میں پھینک آؤ۔
کشتیوں کا سفر شروع ہوا اور جیسے ہی کشتیاں سمندر کے گہرے پانیوں میں پہنچیں۔ اسی وقت ایک طوفان آیا جس نے سب کو غرق کیا۔ اور عبداللہ بن تامر کے علاوہ سب مردار ہوئے۔
عبداللہ بن تامر کو اللہ واپس اپنے گھر اور شہر لایا جس کی خبر ذونوس کو ہوئی۔ اس نے عبداللہ تامر کو بلا کر کہا کہ یہ کیا ماجرہ ہے، میں تم کو قتل کرنا چاہتا ھوں اور تم ہر بار بچ جاتے ہو؟
عبداللہ نے کہا اگر تم کو میرا قتل ہی مقصود ہے تو سارے ملک کے عوام کو جمع کرو۔ پھر مجھے ایک اونچی جگہ پر باندھو۔ اور تیر مارنے سے پہلے ’’بسم اللہ رب ھذہ الغلام‘‘ پڑھو پھر تیر مارو تب میں مرجاؤں گا۔ نہیں تو ایسے تو مجھے قیامت تک نھیں مارسکتا۔
بادشاہ نے بھی یہی کیا۔
تیر سیدھا عبداللہ بن تامر کی کنپٹی میں لگا۔ اور عبداللہ’’آج میں اپنے رب کے نام پر شھید ہوا‘‘ کہہ کر مرگیا۔
میدان میں لاکھوں لوگ جمع تھے جن کو عبداللہ بن تامر کی زندگی کا پہلے ہی پتا تھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی سب اللہ پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو جادوگر نے کہا کہ پہلے صرف ایک لڑکا تھا اب تو تمام ملک اللہ کی وحداینت پر یقین کررہا ہے تو ایساکر خندقیں کھود اور لوگوں کو اس میں جلا کر راکھ کر۔
تاریح نے لکھا ہے کہ اس وقت 20000 افراد نے اللہ کے نام پر آگ میں جلنا قبول کیا تھا۔ یہاں تک کہ ایک عورت جس کی گود میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا پہلے اس کے بچے کو آگ میں ڈالا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم اللہ پر یقین رکھتی ہو؟
تو اس نے خود آگ میں چھلانگ لگا دی کہ میں اللہ پر یقین رکھتی ہوں۔ مؤرخین اور حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالی عنہ لکھتے ھیں کہ اللہ نے ان پر آگ سرد کی تھی اور ان کے جسموں سے روح پہلے ہی قبض کی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں جب کسی ضرورت کی بنا پر ایک قبر کھول دی گئی تو قبر کے اندر عبداللہ بن تامر اپنی کنپٹی پر ھاتھ رکھے بیٹھے ھوئے تھے، کسی شخص نے ان کے کان سے ھاتھ ھٹایا تو دوبارہ خون جاری ھوا اور جب ھاتھ اپنی جگہ پر رکھا تو خون بند ہوا، ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر ’’اللہ ربی‘‘ کندہ تھا۔ حاکمِ یمن نے یہ حالت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھ دی۔ تو عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کو لکھا کہ انھیں انگوٹھی سمیت بالکل اسی حالت میں دفن کیا جائے۔