December 13th, 2017 (1439ربيع الأول24)

ام المومنین حضرت عائشہؓ

 

افشاں نوید

لفظ ’’ماں‘‘ کتنا رس گھول دیتا ہے کانوں میں۔۔۔ احساسات کی ایک دنیا میں لے جاتا ہے یہ لفظ ہمیں۔ اس لفظ کی تشریح کی اجسکتی ہے نہ لغت اس کے معنی بیان کرنے پر قادر ہے۔انسان تو پھر اشرف المخلوقات ہے، زبان و بیان اور احساسات کے اظہار پر قدرت رکھتا ہے۔ اس لفظ کے معنوی تفہیم جاننا چاہیں تو ذرا چڑیا کے گھونسلے سے انڈا تو اٹھا کر دیکھ لیجیے، یا بلی نے چار بچوں کے بیک وقت جنم دیا ہو، ان میں سے ایک بچہ چھپا کر دیکھ لیں۔ بس یہی ممتا ہے جو خون میں رچی بسی بھی پوتی ہے اور بن الفاظ کے بھی بولتی ہے اور بے ھسوں پر بھی احساس بن کر چھا جاتی ہے۔ کمال یہ ہے کہ یہ ممتا ہر ماں کو قدرت کی طرف سے یکساں تناسب میں عطا ہوتی ہے۔

ہم مائیں۔۔۔ بڑی حسسا ہوتی ہیں اپنے حقوق کے لیے۔ ہونا بھی چاہیے، اس لیے کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں اپنے ھق کے بعد والدین کا حق بتایا ہے۔ والدین میں بھی ’’ماں ‘‘ کا حق والد پر مقدم بتایا ہے۔ ماں کا حق کیوں مقدم ہے باپ پر؟ جنہوں نے ماؤں کی رحمت و شفقت سے ھصہ پایا ہے وہ اس کو خوب بیان کرسکتے ہیں، اور جن کی ماؤں کی یہ شفقت اور پیار بوجوہ نہیں مل سکا وہ ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جن کو یہ سب نصیب ہوا۔ محرومی کا وہ احساس زندگی بھر ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔

کیا کہا جاتا ہے سماج میں اُسے جو اپنی ماں کا ناشکرا ہو، اس کو نظرا انداز کرتا ہو، پلٹ کر ماں کی خبر نہ لیتا ہو۔۔۔ یہ گیا گزرا معاشرہ بھی ڈھیروں نا صح رکھتا ہے ایسے بدنصیب کے لیے۔۔۔ قدم قدم پر لوگ اسے احساس دلاتے ہیں کہ ماں بے بے نیازی کی بڑی سزا ہے۔۔۔ ماؤں کے حق میں تو قرآن خود زبان بن جاتا ہے کہ اگر تم خود الفاظ نہیں پاتے تو قرآن نے بہترین الفاظ کا انتخاب کرکے دے دیا کہ ’’رب الرحمھما کما ربینی صغیرا‘‘ کہ مجھے تو نہیں یاد کہ میرے بچپن میں ماں نے کیا کیا وار دیا مجھ پر، مگر مولو تُو تو جانتا ہے، لہٰذا اس وقت کو روک لے، ان کے حق میں ٹھیرا لے جب میں بچہ تھا اور میری ماں جوان، اور ماں نے مجھے جوان کرتے کرتے خود بڑھاپے کی چادر اوڑھ لی۔ اس کو رحمتوں کے اسی دور میں لے جا جب یہ انگلی پکڑ کر مجھے چلنا سکھاتی تھی، اس کا مہربان وجود حصار تھا میرا۔ اب تُو اپنا حصار اسی طرح اس پر قائم رکھ۔

ماں تو دارِفانی سے کوچ کر جائے تب بھی ماں رہتی ہے، اولاد چھوڑ کر جاتی ہے صدقہٓ جاریہ کے طور پر۔ماں کی دعائیں ساری زندگی اولاد کے اوپر سائے کی طرح رہتی ہیں۔۔۔کوئی ماں نہیں چاہتی کہ اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اُس کی اولاد اس کی نصیحتوں کو یاد نہ رکھے۔ اس کی دی ہوئی تعلیم کے خلاف عمل کرے۔ دنیا میں کچھ ایسا کرے جس سے اس کی ممتا پر حرف آجائے۔ ماں کا اکرام تو اللہ نے بلند کیا، اس کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر۔

محبت،اطاعت اور اکرام۔۔۔ اگر اکرام غالب ہوجائے اور اطاعت خفیف سی رہ اجئے تو کیا کیجیے اس اکرام کا؟ بحیثیتِ مجموعی ہم غلو کا شکار ہیں یہاں۔ مثلاََ امہات المومنین۔۔۔ ہم کس قدر ادب سے لفظ ادا کرتے ہیں۔مائیں بھی وہ جو اُمت کی مائیں ہیں، جنہیں قرآن نے یہ اعزاز دیا ہے، جو دنیا کی تمام ماؤں سے زیادہ قابلِ احترام ہیں، قابلِ اکرام ہیں۔ اپنی ماؤں کو ہم محسوس کرتے ہیں، کیا اُمت کی ان عظیم ماؤں کو ہم نے محسوس کیا کبھی؟

ہماری عظیم مائیں کوئی تخیلاتی وجود نہ تھے۔ محض ادب و احترام کا استعارہ یوں نہ تھیں نبی پاک کے حرم میں داخل تھیں۔بلکہ اس عظیم اعزاز کے علاوہ ان کی اپنی اتنی غیر معمولی شخصیتیں تھیں کہ تاریخ عالم مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم ادب کرتے ہیں، اکرام کرتے ہیں۔ اسی لئے ہر مسلمان خاندان میں، چاہے وہ عرب میں ہو یا عجم میں، آپ کو بیٹیوں کے عائشہ، فاطمہ، امِ عمارہ، صفیہ،حفصہ وغیرہ ضرور ملیں گے۔ اہل بیت اور صحا بیات رسول سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ مگر کیا عائشہ اور فاطمہ نام رکھنے والی مائیں اپنی بچیوں کو کبھی عظیم شخصیات کی سیرت کے بارے میں بتاتی ہیں! عائشہ یا فاطمہ نامی بچی کوئی غلط کام کرے تو ماں کے کہنے کو یہ الفاظ ہی کافی ہوں کہ تم نے جو کچھ کیا وہ ان عظیم ہستیوں کے ناموں کی تکریم کے خلاف تھا۔اتنے پیارے نام اہل بیت سے لے کر تمہیں اسی لئے دیے تھے کہ تمہاری ذات میں کوئی تو جھلک نظر آئے ان ہستیوں کی۔۔۔۔۔اور جن کے یہ عظیم نام ہوں ان کو کود بھی ادراک ہوکہ یہ اسلامی تاریخ کے کتنے عظیم نام ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ خود ہمارے گھروں میں کتنا تذکرہ ہوتا ہے، میڈیا کتنا ہائی لائٹ کرتا ہے ان کی عظیم شخصیات کو؟ ہماری درسی کتب مین کتنا پڑھایا جاتا ہے۔ اور کیا پڑھایا جاتا ہے اس حوالے سے؟ ان شخصیات کے حوالے سے چند روایات انتہائی خشک انداز میں درج کی جاتی ہیں ، ان کا تذکرہ اخبارات و رسائل کے مذہبی صفحات پر ہوتا ہے جس کو لوگ عموماً نہیں پڑھتے۔ ان کے یوم وصال یا یوم پیدائش پر کوئی ٹی وی پروگرام ہوتا ہے تو وہ اتنا کشک ہوتا ہے کہ بس تعظیم و تکریم کے سوا کبھی سامنے نہیں آیا ان کی شخصیتوں میں ایسا کیا تھا کہ قرآن نے ان کو امت کی مائیں کہا۔

تحقیق کرنے والے بھی تحقیق کریں کہ ہمارے اور امت کی عظیم ماؤں کے درمیان جو حجابات ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ امہات المؤمنین اور بنات رسول کے علاوہ خود صحابیاتؓ میں بھی ایسی عظیم ہستیاں ہیں جن کے ساتھ انصاف کیا جاتا تو دفتر کے دفتر ان کے عظیم کاموں پر تیار ہوتے۔ مثلاً حضرت ام عمارہؓ کے تذکرے کو لے لیں جو اسماء الرجال میں درج ہے ، بس اتنا ہی ہے کہ

[[نام نسیمہ ہے، انصار میں سے ہیں، بیت عقبہ میں شامل ہوئیں، فلاں فلاں غزوات میں شامل ہوئیں، ایک غزوہ میں تلوار اور نیزے کے بارہ زخم لگے۔ ایک غزوہ میں ہاتھ ضائع ہو گیا۔ کچھ حدیثوں کی راوی ہیں۔ عین پر ضمہ اور میم پر غیر مشدد ہے‘‘۔ عموماً ازواج مطہرات کا احوال کچھ اس طرح درسی کتب اور اخبارات کے مضامین یا تاریخی کتابوں میں پڑھنے کو ملتا ہے۔

وومن امپاورمنٹ اور جینڈر ایشوز پر بات کرنے والوں کے لئے یہاں کوئی سبق نہیں ، اور کیا بات اتنی ہے بیان کرنے کے لئے جو احساسات سے اتنی ہی ماورا ہے۔ تصویر تو کریں میدانِ جنگ کا، ماں تسبیح لے کر گھر کے کسی گوشے میں بیٹھی دعا مین مصروف نہیں ہے ، میدانِ جنگ میں دشمنوں کے نرغے میں تلوار سونتے کھڑی ہے، بیٹے دشمنوں کے نیزے کی زد میں ہے، خود سے زیادہ ماں کی جان کی پرواہ ہوگی۔ لمحہ لمحہ کا خوف کہ اگلا لاشہ جو گرا اگر میری ماں کا ہوا تو؟اگلا تن جو سر سے جدا ہوا ماں کا ہوا تو؟ ماں کو کاری وار لگ گیاتو؟ اور وار بیٹے کو لگا ہے، گہرا زخم لگا، تیروں ، تلواروں کے بیچ ماں کی طرف پلٹتا ہے’’ ماں زخم گہرا ہے۔۔۔۔۔‘‘ ماں میدان جنگ میں مرہم پٹی کرتی ہے اور کہتی ہے ’’بیٹا جب تک جان میں جان ہے جاؤ اور مقابلہ کرو۔’’ماں کو زخم پر زخم آتے ہیں، معرکہ شدید ہے۔اصحاب رسول جیسے شجاع اور جانباز بھی کچھ دیر کو ادھر ادھر ہو گئے۔ تاریخ قربان ان الفاظوں کے جو اللہ کے نبی کی زبان سے ادا ہوئے’’احد میں، میں جس سمت دیکھتا مجھے عمارہ ہی عمارہ نظر آتی۔

قریش کا نامی گعرامی شہسوار جس کی تلوار سے حضور کی دو کڑیاں رخسار مبارک میں کھپ گئیں۔ آپ ہی تھی کہ شیرنی کی سی تیزی سے اس پر حملہ آور ہوئیں، خود گہرا زخم کھایا۔ ایک غزوہ میں بارہ گہرے زخم لگے اس عظیم خاتون کو ، اور زخموں کے جواب کاصلہ کیا مانگتی تھیں اللہ کے نبی بس یہ دعا فرما دیا کریں کہ عمارہ کو جنت میں آپ کا ساتھ نصیب ہو جائے۔‘‘

مسلمہ بن کذاب نے اپنے بیتے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیاشہادت حق کی پاداش میں۔سنا تو شکر ادا کیا۔ بھر اسی لشکر میں شامل ہو گئیں جو مسیلمہ کی سر کوبی کے لئے روانہ ہوا۔ ام عمارہ دشمن اسلام کا میدان جنگ مین تعاقب کرتی ہیں، اچھے اچھوں کے جہاں قد م اکھڑ جائیں، زخم پر زخم کھاتی ، برچھی سے راستہ بناتی، اپنے ہدف تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔۔یہ کیا؟اس کوشش میں کلائی کٹ گئی مگر ہتھیار نہ ڈالے۔ ایسی جانباز خواتین عالمی تاریخ میں کتنی ہیں؟

زندہ قومیں اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیں۔اپنی نسلوں کو یہ عظمتیں منتقل کرتی ہیں ۔ تاریخ بنانے والوں نے عظیم الشان تاریخ بنائی مگر بعد والے اپنا حق ادا نہ کر سکے ۔ یہ تو فلمون،ڈرامون اور ناولون کے موضوعات ہیں جو ہامری آرکائیوز کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان پر تو آج بھی پی ایچ ڈی کر مقالے لکھے جانے چاہیءں۔ ہماری عظیم ماں سیدہ عائشہؓ جو قرآن کی مفسرہ ہیں۔محدثہ ہیں،فقیہ ہیں،مجتہدہ ہیں، مفتی ہیں، ادیبہ ہین مقررہ ہیں، مدبرہ ہیں، بہترین خاتون خانہ ہیں، انکی سیرت کا ہر پہلو اتنا روشن، اتنا واضغ ، اتنا عظیم الشان ہے کہ ہر پہلو پر تحقیقی مقالے شائع ہوتے۔ عورتوں کی خودمختاری کی بات کرنے والے ان کے کردار کی عظمت دیکھین تو کودمختاری کی تفہیم ان پر عیاں ہو کہ بلند اور عظیم الشان مقام دیتا ہے اسلا م عورت کو ۔ قرآن نے’’ امت کی مائیں‘‘ کہہ کے جو مقام عطا کیا تھا، ہم نے اس کی اہمیت کو محسوس تک نہ کیا۔امت پر ان کے جو احسانات ہیں ہمیں ان کو جاننے کی بھی فرصت نہیں ۔ ان کی سیرت پر جو کتابین اٹھائیں ، کتابون کا ایک حصہ اس بحث کی نظر ہو جات ہے کہ نکاح کے وقت ان کی عمر کیا تھی؟ علماء نے اپنی دلیلوں ایک بڑا حصہ اس پر لگا دیا اور ایک دوسرے کے دلائل کو کمزور کرنے میں عمریں لگا دیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے نانی اماں مرحومہ بڑی محبت سے ذکر کرتیں حضرت عائشہؓ کے بچپن اور ان کے کارناموں کا۔پھر ایک سوال پر گفتگو ختم کر دیتیں کہ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نکاح کے وقت ان کی عمر کیا تھی۔۔۔۔ کوئی کہتا ہے کہ رخصتی ہوئی تو نو برس کی تھیں ، کوئی کہتا ہے سولہ برس کی تھیں۔ یہ تحقیق کے عنوانات ضرور ہیں مگر ان معلومات سے کسی مسلمان کے علم یا عمل پر کوئی فرق پر سکتا ہےَ؟ کیا یہ جاننا ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ نکاح کے وقت ان کی عمر مبارک کیا تھی؟ یا یہ کہ ان کے امت پر جو احسانات ہیں ان کی قدر دانی کیسے کی جائے؟ دین کا علم ھضرت عائشہؓ کے بغیر نا مکمل ہے، کیونکہ آپ خود فرما گئے کہ’’دین کا ایک حصہ اس گوری عورت سے سیکھو‘‘ اور آپ کی وفات کے بعد نصف صدی کا لمحہ لمحہ جس طرح انہوں نے گزارا اور امت کا قرض چکا گئیں اس عظیم زندگی کے ایک ایک دن کی داستان لکھے جانے کے قابل ہے۔ مگر جب اس عظیم ماں کی سوانح پڑھیں تو لکھنے والوں کے قلم مدافعانہ ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے ایک عدالت ہے۔ کٹہرے مین انہون نے محسنہ امت کو کھڑا کیا ہوا ہے۔ ایک طرف مدعیان ہیں، ایک طرف گواہ۔ وکیل صفائی کوئی ہے اور وکیل استغا ثہ کوئی۔ حالانکہ اس کے مثبت پہلو بھی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اور افراد ہوں یا قوم ۔۔۔۔ تاریخ امم میں کون سازشوں کا شکار نہیں ہوا!حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کے خطوط پڑھیں تو وہ حد درجہ ایک دوسرے کے ادب و اھترام سے آگاہ تھے اور بعد از جنگ بھی اس عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا گیا، مگر امہ کی بس نصیبی کہ وہ آج بھی اس پر فرقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ کچھ حقائق پت ایک گروہ کی جارحانہ اور ایک کی مدافعانہ روش۔۔۔ اس کا مجموعی نقصان امت کو اٹھانا پڑا۔عیسائی مذہب کا بچہ بچہ حضرت مریم ؑ کا ایک دیو مالائی تصور اپنے سینے میں سجا رکھتا ہے جب جی امہات المؤمنین کی تو خدمات اتنی عظیم الشان ہیں کہ اگر ان کوہم نے اپنی نسلوں سے بیان کیا ہوتا تو آج اس امت کی عائشائین اور فاطمائیں امت کی آبرو ہوتیں اور ہم ماڈل کی تلاش میں یوں بھٹکتی نہ پھرتے۔

حضرت عائشہ اتنی بڑی مفسرہ تھیں کہ اصحاب رسول فرماتے تھے کہ قرآن کی آیتوں کے شان نزول کو ان سے زیادہ جاننے والا کوئی نہ تھا۔ خود امر معاویہؓ کے درباری گواہی دیتے ہیں کہ وہ وقت کی سب سے بڑی عالمہ تھیں۔ بڑے بڑے اصحاب رسول ان سے فتویٰ دریافت کرتے تھے۔ ان کی شخصیت سے جزوی سی واقفیت رکھنے والے بھی گواہی دیتے تھے کہ ان کا علم پوری امت پر بھاری تھا اور بڑے بڑے محدث اپنے فتوں سے رجوع کر لیتے تھے اور ان کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھتے تھے۔سینکڑوں احادیث ہیں جن میں ان کے قرآن کے احکامات کو سمجھنے کی تڑپ سامنے آتی ہے۔ہر مسئلے کا جواب قرآن میں تلاش کرتیں۔مثلاً پوچھا گیا آپ کے اخلاق کیسے ہیں،تو فرمایا’’تم نے قرآن نہیں پڑھا‘‘۔ پھر پوچھا گیاکہ راتوں کی عبادتوں کا حال کیا تھا؟ تو فرمایا تو فرمایا ’’تم نے سورہ مزمل نہیں پڑھی؟‘‘ قرآن کی تفسیر مین سب سے زیادہ حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ کی روایتیں مذکور ہیں۔ روایات کا ایک بڑا حصہ تو ان کی معرفت ہی ہمیں نصیب ہوا مگر روایت کی کثرت کے ساتھ تفقہ، اجتہاد، فکر اور قوت استنباط میں وہ اصحاب رسول میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔عورتوں کی اتنی بڑی محسنہ کہ حضرت کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے ایک روایت میں عورت، گدھے اور کتے کے برابر کر دیا تو تڑپ اٹھیں کہ ابو ہریرہؓ تم نے عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر کر دیا؟ اور تنبیہ کی کہ حدیثوں کو درست یاد رکھا کریں۔ ان کا بہت عظیم الشان کارنامہ یہ ہے کہ سینکڑوں شاگردوں کودین کا علم سکھا گئیں۔کوئی دن درس و تدریس سے خالی نہ تھا۔ شہر کے یتیم بچوں کو آ غوش مین لے کر ان کی تعلیم و تربیت کرتیں۔ محرم بنانے کی خاطر بہنوں اور بھانجیوں کی رضاعت میں شامل کر دیتیں تاکہ ان کے سامنے بیٹھ کر دین کی تفہیم دے سکیں ۔ہر سال حج پر جاتیں اور ان کا کیمہ علم کے پیاسون کو سیراب کرتا۔ دنیا بھر سے جوق در جوق لوگ آکر ان کے علم سے استفادہ کرتے۔ تابعین میں اس عہد کے تمام علماء نے ان سے استفادہ کیا، ان کی شاگردی اختیار کی، ان کی گود مین پرورش پائے ہوئے اصحاب رسول و تابعین مدینہ میں علم کے تاج دار بنے، امام عصر کے طور پر پہچانے گئے۔ فتویٰ میں وہ اپنے وقت کی سب سے بڑی عالم تھیں، بڑے بڑے محدثین ان کے شاگردوں کو علم کی دلیل آخر سمجھتے تھے۔ ان کے تلامذہ دنیا بھر میں فقیہ کے طور پر معروف ہوئے۔ محدثین کرام ان کی صحبت سے استفادہ کی ہوئی خواتین کو علم کا سمندر قرار دیتے تھے۔

حضرت عائشہؓ کے سر فتاویٰ سے کئی ضحنیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔ جن مسائل میں اصحاب رسول کو اختلاف در پیش ہوتا، لوگ عموماً آخری فیصلے کے لئے حضرت عائشہؓ سے ہی رجوع کرتے۔ عراق، شام، مصر سمیت دور دراز ملکوں سے لوگ سفر کر کے آتے اور فتوے لے لے کر جاتے۔ آپؓ علم کا بحر بیکراں تھیں اور مہر عالمتاب ، افسوس مادی دنیا کی چکا چوند میں ہم ان عظیم ہستیوں کی ضوفشانیوں کو نہ پہچان سکے۔ والدین کے نا فرمان بڑی سزا پاتے ہیں اور یہ سزا ہم صدیوں سے بھگت رہے ہیں۔ عظیم کتاب قرآن کو ہم مخملی جزدان میں لپیٹ کر اس کی تعظیم کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کو ہم نے تکریم کے جزدانوں میں لپیٹ کر اپنی عملی زندگی سے بہت دور کر دیا۔ ان کی محبت کا حق یہ تھا کہ ان کے کردار کے ایک نقش کو قیامت تک آنے والی نسلیں سرمایہ حیات بناتیں۔ صدیوں کے زخم اٹھائی ہوئی امت آج بھی اس عظیم ماں حضرت عائشہ کو پہچان لے تو امامت کا تاج پھر اس کے سر پر سج سکتا ہے۔