October 21st, 2017 (1439محرم30)

ام المومنین حضرت زینبؓ بنت حجش

 

نام: زینبؓ
کنیت: ام الحکم
نسب: زینبؓ بنت حجش بن رباب بن یعمر بن صبرۃ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن سعد بن خزیمہ۔
آپؓ کی والدہ کا نام امیمہ تھا جو حضورﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب کی دختر تھیں اس لحاظ سے آپﷺ کی پھوپھی تھیں اس طرح حضرت زینبؓ حضورﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔
قبول اسلام:
آپؓ توحید کا اعلان سن کر اسلام قبول کرنے والوں میں سابقون الاولون ہیں یعنی آپؓ نے اسلام بہت پہلے قبول کر لیا تھا۔
ہجرت: آپؓ ۱۳ بعثت میں اہل خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ شریف میں آگئی تھیں۔
پہلا نکاح:
حضورﷺ نے آپؓ کا نکاح حضرت زیدؓ بن حارثہ سے کرنا چاہا جو آپؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔اور آپؓ انہیں بہت محبوب رکھتے تھے۔ آپﷺ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کا نکاح زیدؓ سے اس لیے کیا تھا کہ ان کو قرآن وحدیث کی تعلیم دیں۔
تقریباََ ایک سال تک حضرت زیدؓ بن حارثہ اور حضرت زینبؓ بنت حجش نے میاں بیوی کی حیثیت سے گزارا لیکن ان کے تعلقات میں تلخیاں زیادہ تھیں اور راحت کم۔ کیونکہ اکثر شکر رنجی رہتی تھی۔ جب نباہ ہونا مشکل ہوگیا تو ایک روز حضرت زیدؓ نے حضورﷺ سے اپنی زوجہ محترمہ کی شکایت کرتے ہوئے عرض کیا۔
’’یا رسول اللہﷺ زینبؓ مجھ سے زبان درازی کرتی ہے‘ میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں۔‘‘
حضور ﷺ نے انہیں سمجھایا کہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دو بلکہ نباہ کرنے کی کوشش کرو لیکن معاملہ ان کے قابو سے باہر ہوتا جا رہا تھا اور وہ حضرت زینبؓ کو طلاق دینے پر پوری طرح آمادہ بلکہ مجبور ہوگئے اور آخر یہ طلاق ہو کر ہی رہی۔ اس وقعہ کا ذکر اللہ پاک نے سورہ احزاب میں کرتے ہوئے فرمایا:
’’اور جب تم اس شخض سے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا یہ کہتے تھے اپنی بیوی کو نکاح میں رکھو اور خدا سے ڈرو‘‘۔
نکاح ثانی:
عربی معاشرے میں منہ بولے بیٹے کی مانند تصور کیا جاتا تھا اور اسے بھی وہی حقوق حاصل تھے جو حقیقی بیٹے کو ہوتے ہیں حالانکہ یہ رسم بے شمار مفاسد کو جنم دیتی ہے۔ اسے توڑنے کے لیے اللہ جل شانہ نے اپنے آخری نبی کو چن لیا۔ اور انہیں یہ بات اشارۃََ بتا دی کہ زیدؓ بن حارثہ اپنی بیوی کو طلاق دینے والے ہیں اور جب ایسا ہو جائے تو آپﷺ ان سے نکاح کرلیں تا کہ اس رسم قبیح کی جڑ کٹ جائے اور آپﷺ کہ یہ سنت رہتی دنیا تک قائم رہے۔ جب ماہِ صفر ۵ھ؂میں ایک روز حضرت زیدؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی بات کی تو حضور ﷺ نے انہیں اس سے باز رہنے کہ تلقین فرمائی۔ لیکن اللہ پاک تو ایک بات طے کر چکا تھا اس لیے ارشاد ہوتا ہے۔
’’اے نبی ﷺ ۔ یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر۔ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔
پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کر دیا تا کہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے سلسلے میں کوئی تنگی نہ رہے۔
زیدؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی‘جب ان کے ایام عدت پورے ہو گئے توحضور ﷺ نے اشارہٓ ایزدی کے مطابق حضرت زینبؓ سے نکاح کرنا چاہا اور زیدؓ سے ہی ارشاد فرمایا تم جاؤ اور زینبؓ کو میری طرف سے نکاح کا پیغام دو۔
نکاح کے بعد دعوت ولیمہ ہوئی۔
اس نکاح کی خصوصیات:
حضرت زینبؓ کے نکاح کی کئی منفرد خصوصیات ہیں:
۱۔ جاہلیت کی رسم کہ متبنّٰی حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتا ہے مٹ گئی۔
۲۔ لوگوں کو حکم ہوا کہ کسی کو حقیقی باپ کے علاوہ دوسرے(منہ بولے باپ) سے منسوب نہ کرو۔
۳۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زینبؓ کا نکاح وحی کے ذریعے کیا۔
۴۔ نہایت شاندار ولیمہ کیا گیا جس میں بکری کا گوشت اور روٹی اور حضرت ام سلیمؓ کا بھیجا ہوا مالیدہ تھا بکثرت لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا۔
۵۔ اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوئی اور پردہ کا رواج ہوا۔
یہی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر حضرت زینبؓ کو حضرت عائشہؓ سے ہمسری کا دعویٰ تھا۔
اخلاق:
آپ بہت پرہیز گار، سچ کہنے والی اور عبادت گزار تھیں آپؓ کی عبادت گزاری کا خود حضور ﷺ نے اعتراف کیا ہے۔ ایک بار حضور ﷺمہاجرین کی ایک جماعت میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ حضرت زینبؓ اس معاملے میں کچھ بول اٹھیں۔ حضرت عمرؓ کو یہ بات نا گوار گزری اور انہوں نے آپ کو ڈانٹا تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’عمرؓ ان کو درگزر کرو یہ اداہ ہیں یعنی بہت عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والی ہیں۔
حق گو ایسی تھیں کہ جب حضرت عا ئشہؓ پر اتہام (جھو ٹا الزام) لگایا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں سورۂ نور میں ’’افک مبین ‘‘ سے کیا گیا تو حضور ﷺ نے آپ (حضرت زینبؓ) سے حضرت عائشہؓ کے متعلق دریافت کیا جبکہ خود حضرت زینبؓ کی بہن حمنہؓ بھی اتہام لگانے والوں میں شامل تھیں۔ اور حضرت عائشہؓ سے آپ کو ہمسری کا بھی دعویٰ تھا۔ وہ ان کی سوت بھی تھیں لیکن جب حضورﷺ نے دریافت فرمایا تو آپؓ نے بلا تامل کہا ’’میں عا ئشہؓ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں پاتی‘‘۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کو ان کے اس صدق و اقرار حق کا خود اعتراف کرنا پڑا۔ وہ فرماتی تھیں’’میں نے دین کے معاملہ میں زینبؓ سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی‘‘۔
مخّیرایسی تھیں کہ ایک بار حضورﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے فرمایا ’’تم میں سے وہ مجھے جلد ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا ‘‘ اگرچہ یہ فیاضی کے متعلق ایک بہت حسین استعارہ تھا مگر ازواج مطہرات نے اسے حقیقی سمجھا اورآپس میں ہاتھ ناپا کرتی تھیں۔ لیکن جب حضرت زینبؓ کا انتقال تمام ازواج مطہرات سے پہلے ہوا تو پھر ان کا خیال اس طرف گیا کہ حضورﷺ نے حضرت زینبؓ کی فیاضی کے متعلق کیسا لطف اشارہ کیا ہے۔
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں:
(حضرت زینبؓ) نیک خو، روزہ دار اور نماز گزار تھیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
’’میں نے کوئی عورت زینبؓ سے زیادہ دین دار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار‘ زیادہ فیاض‘ مخّیر اور خدا کی رضا جوئی میں بہت سرگرم نہیں دیکھی۔ فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر ان کو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔
وفات:
آپؓ کی وفات ۲۰ھ ؂ میں حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر۵۳سال تھی۔ وفات سے پہلے کفن کا انتظام خود کرلیا تھا۔
آپؓ کی وفات پر مدینہ کے مساکین اور فقراء میں کہرام مچ گیا کیونکہ ان دستگیری کا ایک دروازہ بند ہو گیا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے آپؓ کی وفات پرفرمایا:
وہ نیک بخت بے مثل خاتون چلی گئیں اور یتیموں اور رانڈوں کو بے چین کر گئیں‘‘۔
فضائل:
۱۔ آپؓ حضورﷺ کی بہت قریبی رشتہ دار تھیں۔
۲۔ آپؓ کا نکاح اللہ پاک نے حضورﷺ سے بذریعہ وحی کیا۔
۳۔ آپؓ کے نکاح سے منہ بولے بیٹے کے متعلق جاہلیت کی رسم مٹ گئی کہ وہ حقیقی بیٹے کے برابر ہے۔
۴۔ آپؓ کے نکاح کے بعد پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
۵۔ آپؓ کی فیاضی کی وجہ سے مدینہ کے مساکین میں آپؓ کی وفات پر کہرام مچ گیا۔
۶۔ آپؓ کے نکاح کے بعد حضورﷺ نے ولیمہ کی شانداردعوت کی۔
منازل:
۱۔ آپؓ کا نکاح حضورﷺ سے ۵ھ ؂میں ہوا۔
۲۔ آپؓ سے نکاح کے وقت حضورﷺ کی عمر ۵۷ سال تھی۔
۳۔ حضورﷺ سے نکاح کے وقت آپؓ کی عمر ۳۶ سال تھی۔
۴۔ حضور ﷺ سے آپ کی رفاقت چھ سال رہی۔
۵۔ وفات کے وقت آپؓ کی عمر ۵۳ سال تھی۔
۶۔ آپؓ کی وفات ۲۰ھ؂میں ہوئی۔
۷۔ آپؓ کی قبر مدینہ شریف میں جنت البقیع میں ہے۔
آپؓ پر لاکھوں سلام ہوں!!