August 19th, 2017 (1438ذو القعدة26)

ام المومنین حضرت حفصہؓ

 

 

نام: حفصہؓ

نسب: حفصہؓ بنت عمر فاروقؓ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرطہ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّی۔

آپؓ کی والدہ زینبؓ بنت مظعون ہیں۔ جو بہت جلیل القدر صحابیہ تھیں۔

پیدائش: آپؓ کی پیدائش بعثت سے پانچ برس پہلے اس وقت ہوئی جب قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔

پہلا نکاح:

آپ کا پہلا نکاح حضرت خنیسؓ بنت حذافہ بن قیس بن عدی سے ہوا۔

قبول اسلام:

آپؓ دونوں میاں بیوی آغاز اسلام میں ہی مسلمان ہوگئے تھے۔

ہجرت:

آپؓ کے شوہر حضرت خینس ۶ھ بعثت میں ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے اور حضور کی ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے واپس مکہ آگئے اور وہاں سے اپنی زوجہ محترمہ حضرت حفصہؓ کو ساتھ لے کر مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔

بیوگی کا زمانہ:

آپؓ کے شوہر حضرت خینسؓ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ جنگ احد میں انہوں نے بڑی بہادری کا ثبوت دیا اور سخت زخمی ہو گئے چنانچہ انہیں نازک حالت میں مدینہ شریف لایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ قدیم الاسلام، مہاجر اور شہید تھے۔

جب آپؓ کی عدت کا وقت پورا ہوگیا تو آپؓ کے والد محترم حضرت عمر فاروقؓ کو آپؓ کے نکاح ثانی کی فکر ہوئی اور آپؓ نے ایک روز حضرت ابوبکرؓ سے کہا تم حفصہؓ سے نکاح کرلو لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ کو ان کی اس خاموشی پر غصہ تو آیا مگر کچھ کہنے سے گریز کیا۔ اسی طرح ایک دوسرے موقع پر آپؓ نے عثمانؓ سے بھی کہا کہ وہ آپؓ کی بیٹی حفصہؓ سے نکاح کر لیں کیونکہ ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہؓ جو حضور کی نور نظر تھیں، فوت ہوچکی تھیں لیکن انہوں نے بھی ٹال دیا اور کہا مجھے فی الحال نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔ آپؓ کو اس پر صدمہ ہوا اور آپؓؓ نے یہ مسئلہ حضور کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کرلیا۔

نکاح ثانی:

حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عثمانؓ کی طرف سے مایوسی ہونے کے بعد ایک روز بارگاہ نبوت میں عرض کیا ’’یا رسول اللہ میں حفصہؓ کے نکاح ثانی کے لئے بہت پریشان ہوں۔ میں نے ابوبکرؓ اور حضرت عثمانؓ سے کہا کہ وہ حفصہؓ سے نکاح کر لیں لیکن ایک نے خاموشی اختیار کر لی اور دوسرے نے انکار کر دیا۔ اب کیا کروں؟‘‘

حضور یہ سن کر مسکرا دئیے اور فرمایا:

’’حق تعالیٰ نے عثمانؓ کو تمہاری بیٹی سے بہتر بیوی عطا فرما دی اور تمہاری بیٹی کو عثمانؓ سے بہتر شوہر عطا فرمایا‘‘ حضرت عمرؓ یہ ارشاد سن کر خاموش رہے کیونکہ یہ ارشاد نبوی ان کے لئے واضح نہیں تھا۔

اس کے کچھ دن بعد حضور نے اپنی بیٹی ام کلثومؓ کا عقد حضرت عثمانؓ سے کردیا اور خود حضرت حفصہؓ سے نکاح کر لیا اور یوں عمر فاروقؓ کی بیٹی حضرت حفصہؓ کو ابو بکرؓ اور عثمانؓ سے کروڑوں درجہ بہتر شوہر مل گیا۔ یہ واقعہ ۳ھؔ ماہ شعبان کا ہے۔ اس وقت حضرت حفصہؓ  کی عمر بیس سال تھی۔ اس نکاح کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا:

’’تم میری بات کا رنج نہ کرنا کیونکہ حضور خود حفصہؓ کا ذکر مجھ  سے کرچکے تھے اور میں آپ کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر حضور نکاح نہ کرتے تو میں کر لیتا ۔‘‘

ازدواجی زندگی:

آپؓ کے مزاج میں کسی قدر تیزی تھی ۔ غالباً یہ پدری اثر تھا۔ اس لیے آپؓ کبھی کھبی حضور کے ساتھ بے باکی سے گفتگو کرتی تھیں۔ جب آپؓ کے والد محترم حضرت عمرفاروقؓ کو اس بات کا علم ہوا تو آپؓ کو سخت رنج ہوا اور آپؓ ان کے گھر تشریف لائے۔ بیٹی نے باپ کی عزت و تکریم کی لیکن آپؓ نے پوچھا:

’’کیا تم رسول اللہ کو برابر کا جواب دیتی ہو؟‘‘

بیٹی نے کہا ’’ہاں میں کبھی کبھی ایسا کرتی ہوں ‘‘

آپؓ نے فرمایا ’’بیٹی خبردار! میں تمہیں خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔ تم ابوبکرؓ کی بیٹی (عائشہؓ ) کی ریس نہ کرو اسے حضور کی محبت کی وجہ سے اپنے حسن پر ناز ہے‘‘۔

صحیح بخاری کی روایت میں خود حضرت عمرؓ سے روایت میں خود حضرت عمرؓ سے یہ بات منقول ہے کہ ’’ہم لوگ جاہلیت میں عورتوں کو ذرہ برابر وقعت نہ دیتے تھے۔ اسلام نے ان کو درجہ دیا اور قرآن میں ان کے متعلق آیتیں اتریں تو ان کی قدر و منزلت معلوم ہوئی۔ ایک دن میری بیوی نے کسی معاملہ میں مجھ کو رائے دی۔ میں نے کہا تم کو رائے اورمشورہ سے کیا واسطہ۔ بولیں ابن خطاب تم کو ذرا سی بات بھی برداشت نہیں۔ حالانکہ تماری بیٹی رسول کو برابر کا جواب دیتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ دن بھر رنجیدہ رہتے ہیں۔

آپ میں اور حضرت عا ئشہؓ میں بہت محبت تھی، دونوں بہنوں کی طرح رہتی تھیں اور دوسری امہات المومنینؓ کے مقابلہ میں ان دونوں میں ایک طرح کا بہناپا تھا۔ ایک بار رسول اللہ کو حضرت زینبؓ بنت حجش کے گھر خلاف معمول زیادہ دیر ہو گئی۔ حضرت عا ئشہؓ کو رشک ہوا کہ وہاں زیادہ وقت گزارا ہے۔حالانکہ حضور وہاں وہ شہد کھانے میں مشغول رہے جو انہیں کسی نے ہدیتہََ بھیجا تھا۔ حضرت عا ئشہؓ نے حضرت حفصہؓ کو اس واقعہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ جب حضور تمہارے پاس آئیں تو کہنا کہ یا رسول اللہ آپ کے دہن مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ چونکہ حضور کو ہر قسم کی بو ناپسند تھی اس طرح کوئی نہ کوئی رد عمل ان سے ظہور میں آئے گا۔ چنانچہ جب حضور آپ (حفصہؓ) کے پاس آئے تو آپؓ نے کہا یا رسول اللہ آپ کے دہن مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ حضور نے اسے سخت نا پسند فرمایا کہ آپؓ کے دہن مبارک سے کسی قسم کی بو آئے اس لئے فرمایا میں آئندہ کبھی شہد نہیں کھاؤں گا۔ اس پر آیت تحریمہ نازل ہوئی۔

(ترجمہ ) ’’اے نبی اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے تم خدا کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کیو ں کرتے ہو‘‘

دین میں جستجو:

 آپ علم و فضل کے لحاظ سے بہت مرتبے والی تھیں۔ حصول دین کے اس شوق کو دیکھ کر حضورنے ایک صحابیہؓ حضرت شفا بنت عبداللہ سے فرمایا تھا کہ تم حفصہؓ کو چیونٹی اور کیڑے کے کاٹے کا منتر سکھا دو۔ آپؓ نے اس صحابیہ سے لکھنا بھی سیکھاتھا۔

دجال سے خوف:

صحیح مسلم میں ہے کہ آپؓ دجال کے شر سے بہت ڈرتی تھیں۔ مدینہ میں ایک شخص ابن صیاد تھا اس میں دجال کی بعض علامات پائی جاتی تھیں۔ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو جو آپؓ کے بھائی ہیں راستے میں مل گیا۔ انہوں نے اس شخص کی بعض حرکات پر نفرت کا اظہار کیا۔ وہ کم بخت ان کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے اسے پیٹنا شروع کردیا۔ حضرت حفصہؓ کو خبر ہوئی تو بھائی سے کہنے لگیں:

’’تم  اس سےکیوں الجھتے ہو تمہیں معلوم نہیں حضور نے فرمایا کہ دجال کے خروج کا شر محرک اس کا غصہ ہوگا۔‘‘

اخلاق اور فضائل:

(۱)ایک حدیث میں ہے کہ جبریل امین نے آپ کی تعریف ان الفاظ میں کی تھی:

’’وہ بہت عبادت کرنے والی بہت روزے رکھنے والی اور بہشت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں‘‘

(۲)ابن سعد میں ان کے متعلق ہے:

’’وہ صائم النہار اور قائم اللیل ہیں‘‘

دوسری روایت میں ہے: انتقال کے وقت تک صائم رہیں۔

(۳) آپ اختلاف سے سخت نفرت کرتی تھیں۔ جنگ صفین کے بعد جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو ان کے بھائی عبداللہ بن عمرؓ اس کو فتنہ سمجھ کر خانہ نشین رہنا چاہتے تھے لیکن آپؓ نے کہا کہ گو اس شرکت میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں، تاہم تمہیں شریک رہنا چاہئے۔ کیونکہ لوگوں کو تمہاری رائے کا انتظار ہوگا اور ممکن ہے کہ تمہاری گوشہ نشینی ان میں اختلاف پیدا کردے۔

وفات:

آپؓ نے اپنے آخری وقت میں اپنے جلیل القدر بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بلا کر وصیت کی کہ غایہ میں ان کی جو جائداد تھی جسے حضرت عمرؓ ان کی نگرانی میں دے گئے تھے اس کو صدقہ کر کے وقف کر دیا جائے۔

آپؓ نے شعبان ۴۵ھ میں وفات پائی۔ اس وقت حضرت امیر ماویہؓ کی خلافت کا زمانہ تھا اور مدینے کا گورنر مروان بن الحکم تھا اس نے نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کندھا دیا اس کے بعد حضرت ابو ہریرہؓ جنازہ کو قبر تک لے گئے۔ قبر میں آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور انکے لڑکے عاصم، سالم عبداللہ اور حمزہ نے اتارا۔

منازل عمر:

۱۔ آپؓ کا نکاح حضور سے شعبان ۳ھؔ میں ہوا۔

۲۔ حضور سے نکاح کے وقت آپؓ کی عمر۲۲سال تھی۔

۳۔ آپؓ کے نکاح کے وقت حضور کی عمر ۵۵سال تھی۔

۴۔ حضور سے آپؓ کی رفا قت ۸ سال رہی۔

۵۔ وفات کے وقت آپؓ کی عمر ۵۹ سال تھی۔

۶۔ آپؓ کی وفات ۴۵ ہجری میں ہوئی۔

۷۔ آپؓ کی قبر مدینہ شریف میں جنت البقیع میں ہے۔

۸۔ آپؓ کی پیدائش بعثت سے ۵ سال قبل ہوئی۔

آپؓ پر لاکھوں سلام ہوں!