September 23rd, 2018 (1440محرم12)

رسولِ رحمت,منبعِ مہر و عطا!ٍ

تحریر: حافظ محمد ادریس

حضور اکرم کو اللہ کی پوری مخلوق سے حتیٰ کہ حیوانوں، پرندوں اور نباتاتی حیات سے بھی محبت تھی۔آپ کو خالقِ باری نے دل ہی ایسا دیا تھا کہ جس میں محبت کے زمزمے رواں دواں رہتے تھے۔اپنے اہلِ و عیاں سے محبت اور حسنِ سلوک کو آپ نے اہلِ ایمان کی اعلیٰ ترین اخلاقی خوبی قرار دیا ہے۔آپ اس معاملے میں سب انسانوں سے ممتاز تھے۔اپنے صحابہؓ کے ساتھ ایسی اپنائیت، محبت اور وابستگی تھی کہ ہر صحابی سمجھتاتھا کہ آپکو سب سے زیادہ محبت میرے ساتھ ہے۔آپ کا کمال ہے کہ آپ نے ہر صحابی کو ایسا اعزاز بخشا ہے کہ جس میں دوسرے اس کے ثانی نہیں۔یہ بالکل درست اور بد یہی بات ہے کہ سب سے زیادہ محبت تو یارِ غار ابوبکر صدیقؓ ہی کے ساتھ تھی، اس کے باوجود نبی جو دو عطا کا یہ کمال ہے کہ جس صحابی کے حالات کا مطالعہ کیجیے، ہر ایک کا بے بدل اعزاز سامنے آجاتا ہے۔

ایوب بن بُشَیُرقبیلہٓ بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، اس نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو ذر غفاریؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ بھی کیا کرتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ: میں جب بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا،اور آپ نے ہمیشہ مجھ سے مصافحہ کیا اور ایک دفعہ آپ نے مجھے گھر سے بلوایا۔میں اُس وقت اپنے گھر پر نہیں تھا، جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا(کہ حضور نے مجھے بلوایا تھا) تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُس وقت آپ اپنے سر یر پر تھی(جو کھجور کی شاخوں سے ایک تخت یا چار پائی کی طرح بنا لیا جاتا تھا)۔ آپ (اس سے اٹھ کر) مجھ سے لپٹ گئے اور گلے لگا لیا۔آپ کا یہ معانقہ بہت خوب اور بہت ہی خوب تھا(یعنی بڑا لذت بخش اور بہت ہی مبارک تھا)۔ (سنن ابی داؤد)

حضرت جعفر بن ابی طالبؓ آپ کے محبوب و مشفق چچا ابوطالب کے بیٹے تھے۔آپ کے حکم سے ہجرت کر کت حبشہ چلے گئے اور مہاجرین حبشہ نے ان کو اپنا متفقہ امیر و ترجمان بنا لیا۔ نجاشی کے دربار میں انھوں نے ہی اسلام کی ترجمانی کی تھی جس سے متاثر ہو کر شاہِ حبشہ نے دراصل اسی وقت دل سے اسلام قبول کر لیا تھا اگرچہ اس کا اظہار بعد میں آنحضور کا خط ملنے پر کیا۔ حضرت جعفرؓ تقریباََ چودہ سال حبشہ میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے کے بعد اُس وقت واپسی مدینہ آئے جب نبی ٓ برحق ، یہودیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے خیبر کے قلعوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، طویل سفر کے باوجود حضرت جعفرؓ خیبر روانہ ہوگئے اور وہیں جاکر آپ سے ملاقات کی۔ اس وقت ایک طویل جدوجہد اورمشکل جنگ جوئی کے بعد آپ نے اللہ کی تائید اور صحابہ کی بے مثال جرات و استقامت کے نتیجے میں خیبر کے جملہ قلعے فتح کرلیے تھے۔

آپ نے حضرت جعفرؓ کو دیکھا تو بے ساختہ اُن کی طرف بڑھے، اُن کو گلے لگا لیااور اُن کے ماتھے پر پیار بھرا بوسہ دیا۔اپنے چچا زاد بھائی اور جاں نثار صحابی کو دیکھ کر آپ انتہائی خوش تھے۔ روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ خیبر کے قلعوں کی شاندار فتح اور عظیم کامیابی پر میرا دل زیادہ شاداں و فرحاں ہے یا جعفر کی آمد اور ملاقات کی خوشی اس سے زاید ہے۔ امام شعبی تابعیؒ سے مرسلاََ روایت ہے کہ رسول اللہ نے جعفر بن ابی طالب کا استقبال کیا، (جب وہ حبشہ سے واپس آئے) تو آپ ان سے لپٹ گئے(یعنی معانقہ فرمایا) اور دونوں آنکھوں کے بیچ میں(اُن کی پیشانی کو) بوسہ دیا۔ (سنن ابی داؤد، شعب الایمان للبیہقی)

غزوہٓ احد میں جب فتح شکست میں بدلی اور اسلامی فوج میں انتشار پیدا ہوا تو آپ کے گرد چند صحابہ نے حصار بنا لیا۔ آپ میدان میں ڈٹے رہے۔اللہ نے سورہ آل عمران میں اس کی طرف یوں ارشاد کیا ہے:

’’یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا، اور (اللہ کا) رسول تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔اُس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے،تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اُس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘(آل عمران 153:3 )

حضور اس وقت صحابہؓ سے فرما رہے تھے کہ وہ بھگدڑ کا مظاہرہ نہ کریں۔آپ میدان میں جم کر کھڑے تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے اِلَی عباد اللہ یعنی اللہ کے بندو، میری طرف آؤ۔ اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اپنے حواس کو مکمل برقرار رکھا۔نہ گھبراہٹ، نہ خوف ، نہ پاؤں میں لغزش، نہ ہاتھوں میں رعشہ۔ آنحضور کے پاس کھڑے ہو کر آپ کے لیے ڈھال بن گئے اور دشمن پر بڑی مہارت و جرات سے تیر بھی چلاتے رہے۔ حضور خود اپنے دستِ مبارک سے اپنے جاں نثار کو تیر پکڑا رہے تھے اور کوئی ایک تیر بھی خطا نہیں ہورہا تھا۔ وہی موقع تھا جب نبی ٓ رحمت نے حضرت سعدؓ کو وہ تمغہ عطا فرمایا جس کی نظیر پوری جماعتِ صحابہ میں نہیں ملتی۔ آپ فرما رہے تھے:’’ساتھ ہی آپ نے اپنی مالا کے اس عظیم اور قیمتی ہیرے کے لیے اللہ سے دعا کی کہ’’ اے اللہ! سعد کی تیر اندازی میں قوت اور نشانے میں اصابت عطا فرما، اور سعد کی دعاؤں کو قبول فرما‘‘۔

(جامع ترمذی ابو اب المناقب،ص 216 ، روایت حضرت علیؓ بن ابی طالب و سعدؓ بن ابی وقاص)

اس دعا کا اثر تھا کہ حضرت سعد دنیا کے بہترین جرنیل اور تاریخ انسانی کے عظیم ترین فاتح ثابت ہوئے ۔نام نہاد سپر طاقت ایران کو ملیا میٹ کر کے وسیع و عریض زمین پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔وہ مستجاب الدعوات بھی تھے اور ان کی قبولیت دعا کی بھی بڑی ایمان افروز تفصیلات حدیث اور تاریخ میں ملتی ہیں۔

اسی معرکہ احد میں انصار کی عظیم بیٹی حضرت ام عمارہ نے وہ کارنامے سر انجام دئے کہ زبان رسالت مآب سے ان کی تحسین فرمائی گئی۔ان کے لئے تحسین کے الفاظ کے ساتھ وہ دعا رسول امین کے لبوں پر آئی جس سے بڑے انعام کا کوئی مومن تصور بھی نہیں کر سکتا ۔آپ نے فرمایا : یوم احد کی مشکل گھڑیوں میں میں نے ام عمارہ کو دیکھا کہ وہ میرے دائیں جانب دشمن سے بر سر پیکا رتھی ، میں نے بائیں اور آگے دیکھا تو وہاں بھی وہ اپنا خنجر چلا کر دشمن کو پیچھے دھکیل رہی تھی ۔ام عمارہ تو خاتون احد کہلاتی تھیں اور پورے معاشرے میں ان کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔اسی معرکے کے دارون ام عمارہ ایک کافر ابن قمہ کے ہاتھوں زخمی ہوئیں ۔ان کے باز و پرشدید زخم آئے ۔آنحضور نے اپنی چادر سے پٹی پھاڑ کر ام عمارہ کے ز خم پر باندھی اور ان سے درد کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! اس درد و تکلیف کا کیا ہے ، آپ سے میرے لئے اور میرے اہل و عیال کے لئے دعا کیجئے کہ ہم جنت میں آپ کے قرب میں رہیں۔آپ نے اپنی عظیم صحابیہ کی اس درخواست پر اللہ سے دعا مانگی کہ انھیں اپنے اہل و عیال سمیت جنت میں میرا (نبی کریم ) کا قرب نصیب ہو۔

حضرت فاطمتہ الزہرہ آپ کی لخت جگر تھیں ۔آپ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور وہ بھی آپ پر جان قربان کرتی تھیں۔حضرت خدیجہ و جناب ابو طالب کی وفات کے بعد جب قریش نے آنحضور کو اذیتیں پہنچانے میں شدت اختیار کی تو سیدہ فاطمتہ الزہرہ آپ کے دفاع کے لئے گھر سے باہر آجایا کرتی تھیں۔آپ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:

’’بیٹیوں سے نفرت کا اظہار مت کیا کرو (جیسا کہ جاہلت میں ہوتا تھا ) ، بلا شبہ وہ تو (والدین کے لئے ) ان کے غم بانٹنے والئی اور بہت قیمتی اثاثہ ہو تی ہیں‘‘۔تمام والدین اس کا مشاہدہ و تجربہ کرتے ہیں کہ بیٹے بھی جو سعادت مند ہوں ، والدین کے دکھ درد میں ان کے شریک اور ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرتے ہیں، مگر بیٹیاں اس معاملے میں زیادہ ہی والدین کا خیال رکھتی ہیں۔وہ واقعی محبت کرنے والی اور قیمتی متاع ہوتی ہیں۔

حضرت فاطمہ الزہرہ آنحضور کے ساتھ غم کی گھڑیوں میں ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔دشمن آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اذیت پہنچاتے، یا آپ کی پشت مبارک پر نماز کی حالت میں مرے ہوئے اونٹ کی اوجڑی لا کر رکھ دیتے تو محمد عربی کی یہ لخت جگر گھر سے دوڑ کر آتیں اور آپ کے دشمنوں کو برا بھلا کہ کر آپ کی ڈھال بن جاتیں۔اکثر شاموں کو آپ دن بھر کی دعوتی سر گرمیوں کے بعد جب گھر پلٹتیں تو آپ کے مبارک بالوں میں دشمنوں کی کی طرف سے پھینکی جانے والی گرد کو وہ پانی سے دھوتیں اور کبھی کبھار فرط جذبات اور محبت کی فراوانی سے آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے ۔ایسے ہر موقع پر آنحضور اپنی محبوب بیٹی کو تسلی دیتے اور بہت زیادہ پیار فرماتے ۔پھر کہتے: لخت جگر ! کوئی فکر نہ کرو ، اللہ تمھارے باپ کو ضائع نہیں کرے گا۔یہ دین غالب ہو کر رہے گا۔

حضور اکرم اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ بھی آپ کے ہاں حاضر ہوا کرتی تھیں۔ایسے ہر موقع پر باپ بیٹی ایک دوسرے کو بوسہ دیتے اور محبت کا اظہار فرماتے تھے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو شکل و صورت ، سیرت و عادت اور چال ڈھال میں صاحبزادی فاطمہ زہرا سے زیادہ رسول اللہ کے مشابہ ہو (یعنی ان سب چیزوں میں وہ سب سے زیادہ رسول اللہ سے مشابہ تھیں۔جب وہ حضور کے پاس آتیں تو آپ (جوش محبت سے) کھڑے ہو کر ان کی طرف بڑھتے ، ان کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیتے اور (پیار سے) اس کو چومتے ، اور اپنی جگہ پر ان کو بٹھاتے ۔(اور یہی ان کا دستور تھا) جب اپ ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے لئے کھڑی ہو جاتیں ، آپ کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں لے لیتیں، اس کو چومتیں اور اپنی جگہ پر آپ کو بٹھاتیں( سنن ابی داؤد)

قائد کا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کا دل جیتے ۔عام آدمی جب اپنے قائد سے محبت کی شیرینی پاتا ہے تو اسے بہت بڑا انعام سمجھتا ہے۔اللہ نے اپنے نبی کو جو خیر کثیر عطا فرمایا تھا ، اس میں ایک محبت بھرے حلیم و کریم دل کا خصوصی تذکرہ قرآن میں ملتا ہے ۔ارشاد ہے: ’’(اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ورنہ اگر کہیں تم تند خوا اور سنگ دل ہو تے تو یہ سب تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔ان کے قصور معاف کردو ، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسا کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں‘‘۔(آل عمران)

آنحضور نے زندگی بھر اللہ کی ذات پر مکمل بھروسا کیا اور اسی کی مدد و نصرت کے سہارے دنیا بھر کی مخالفتوں کے سامنے ڈٹے رہے۔جب بھی غموں کے ہجوم اور دشمنوں کی یلغار نے زور پکڑا ، آپ نے اپنے خالق و مالک ہی سے رجوع کیا اور ہمیشہ یہ کہا کہ اگر تو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی چیز کا غم نہیں ۔اللہ کی تائید کے ساتھ آپ کے اصحاب کی نصرت بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک بڑا انعام تھا۔اللہ نے سورۃ انفال میں فرمایا:’’ اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمھارے لئے اللہ ہی کافی ہے ۔وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دئے ۔تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے، مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے ، یقیناًوہ بڑا زبر دست اور دانا ہے۔اے نبی تمھارے لئے اور تمھارے پیرو اہل ایمان کے لئے تو بس اللہ کافی ہے۔‘‘ ( سورہ انفال)

سورہ التحریم میں ارشاد ہے :’’ اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتے ہو (تو یہ تمھارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تمھارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولی ہے اور اس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مدد گار ہیں۔‘‘