September 23rd, 2018 (1440محرم12)

سیرت رسول ؐ کے چند پہلو قرآن کی روشنی میں

تحریر: سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ

اس کتاب (قرآن حکیم) کا لانے والا ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نے دوسری قسم کی رائج الوقت کتابوں کی طرح اپنے لانے والے کی تعریف کے پُل نہیں باندھے ہیں، نہ آپ کی تعریف کو ایک مستقل موضوع گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمد سخن میں محض اشارتاً آنحضرت کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس وجود مسعود میں کمال انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

۱۔ اعلیٰ اخلاق:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا اخلاق کا نہایت بلند مقام پر تھا:

ترجمہ: اور اے محمد! یقیناً تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔(القلم۴:۶۸)

۲۔ عزم راسخ:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک ایسا راسخ العزم، مستقیم الارادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسہ رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم اسے مٹا دینے پر آمادہ ہوگئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا، اس سخت مصیبت کے وقت بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا۔

ترجمہ: یاد کرو جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، جب کہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا، جب کہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔(التوبہ ۴۰:۹)

۳۔ فراخ حوصلہ:

وہ بتاتا ہے کہ اس  کا لانے والا ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا جس نے اپنے بد ترین دشمنوں کے لئے بھی دعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ کو اسے اپنا یہ قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا۔

ترجمہ: چاہے تم ان کے لئے معافی مانگو چاہے نہ مانگو، اگر تم ستر بار بھی معافی مانگو گے تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔(التوبہ ۸۰:۹)

۴۔ نرم خو:

وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والا کا مزاج نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لئے دنیا اس کی گرویدہ  ہوگئی تھی:

ترجمہ: یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِ ن کے ساتھ نرم ہو، ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد وپیش سے چھٹ کر الگ ہوجاتے۔(آل عمران :۱۵۹:۳)

۵۔ دعوت کی تڑپ:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا بندگانِ خدا کو راہ راست پر لانے کی سچی تڑپ دل میں رکھتا تھا اور ان کے گمراہی پر اصرار کرنے سے اس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا حتیٰ کہ وہ ان کے غم میں گھلا جاتا تھا:

ترجمہ: اےمحمد! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے، رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے(الکھف۶:۱۸)۔

۶۔ بھلائی کا حریص:

وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی امت سے بے حد محبت تھی، وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا اُن کے نقصان میں پڑنے سے کڑھتا تھا، اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:

ترجمہ: تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہو، جو تمہاری فلاح کا حریص ہے اور اہل ایمان کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے۔ (التوبہ: ۱۲۸:۹)

۷۔ رحمت عالم:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا صرف اپنی قوم ہی کے لئے نہیں، بلکہ تمام عالم کے لئے اللہ کی رحمت تھا:

ترجمہ: اےمحمد! ہم نے تم کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔(النبیاء ۱۰۷:۲۱)

۸۔ زھد و عبادت:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا راتوں کو گھنٹوں اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا:

ترجمہ: اے محمد! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباََ دو تہائی حصے تک اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصے تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔(المزمل۲۰:۷۳)

۹۔ صدق و ثبات:

وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا، نہ کبھی اپنی زندگی میں راہ حق سے بھٹکا نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا اور نہ کبھی اس نے ایک لفظ خواہش نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا۔

ترجمہ: لوگو! تمہارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہش نفس سے بولتا ہے۔(النجم:۵۳: ۲۔۳)

۱۰۔ اسوۂ کامل:

وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات، تمام عالم کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ تھی اور اس کی پوری زندگی کمال اخلاق کا صحیح معیار تھی۔

ترجمہ: تمہارے لئے رسول کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔(الاحزاب ۲۱:۳۳)

قرآن مجید کا تتبع کرنے سے صاحب قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھ لے گا، بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے، یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف، واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ الوہیّت کا کوئی شائبہ ہے، نہ تعریف و ثناء میں مبالغہ ہے، نہ غیر معمولی قوتیں آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے اور نہ آپ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔ اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں دنیا سے ناپید ہوجائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے تب بھی رسول اکرم کی شخصیت کے متعلق کسی غلط فہمی، کسی شک و شبہ کسی لغزش عقیدت کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کرسکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا، بہترین اخلاق سے متصف تھا، انبیاء سابقین کی تصدیق کرتا تھا، کسی نئے مذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت تمام عالم کے لئے تھی، اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نے خدمات کو پوری طرح انجام دے دیا تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہوگیا۔(تفہیمات حصّہ دوم ص۳۵۔۳۸)۔