December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني7)

بیت المقدس : تازہ امریکی جارحیت اور اُمت مسلمہ

 

پروفیسر خورشیداحمد


مسئلہ فلسطین اور خاص طور پر بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ۶دسمبر ۲۰۱۷ء کا شرم ناک اعلان، جہاں فلسطین اور عالمِ اسلام کے خلاف ایک اعلانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں بین الاقوامی قانون، جنیوا معاہدات (جنیوا کنونشن) اور اقوامِ متحدہ اور    اس کے چارٹر سے بھی عملاً امریکا کی لاتعلقی کا اعلان ہے۔ فکری اور عملی، ہردواعتبار سے اس کے بڑے دُور رس اثرات ہیں جن کو سمجھنا اور ان کے شرسے بچنے کے لیے صحیح اور مؤثر حکمت عملی اور لائحۂ عمل بنانا وقت کا اصل چیلنج ہے۔
عالمِ اسلام کے لیے خاص طور پر اور عالمی برادری کے لیے عام طور پر، اس ضمن میں افسوس اور غصے کا اظہار بالکل فطری چیز ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطرناک اعلان کے جو تباہ کن اثرات اور نتائج و عواقب (consequences) ہیں، ان کا صحیح ادراک پیدا کیا جائے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس سلسلے کے چند اہم ترین پہلوئوں کی نشان دہی کریں اور مسلم اُمت اور عالمی برادری کو اس طرف متوجہ کریں کہ امریکا کی موجودہ قیادت، قیامت کی جو چال چل گئی ہے، اس کا کس طرح مقابلہ کیا جائے؟
درحقیقت صدر ٹرمپ سے بالکل ایسی ہی عاقبت نااندیشی، حماقت اور سفاکی کے اقدام کا خطرہ تھا، اس لیے یہ بیان کسی پہلو سے بھی غیرمتوقع نہیں ہے۔ جو اہلِ قلم ، دانش ور اور سیاست دان اس سے کسی بھلے اقدام کی توقع رکھتے تھے یا سمجھتے تھے کہ عالمی سوپرپاور کا صدر اتنا غیرذمہ دار نہیں ہوسکتا، وہ صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے اصل ایجنڈے کا اِدراک ہی نہیں رکھتے اور نوشتۂ دیوار کو پڑھنے میں غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اسرائیل اور شرقِ اوسط کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اصل بھروسے کے لوگوں میں تین افراد بہت اہم ہیں: ۱- جیسن گرین بی لاٹ (صدر ٹرمپ کے ڈپلومیٹک ایڈوائزر)،۲- ڈیوڈ فریڈمین (اسرائیل میں امریکا کے سفیر اور ایک مدت سے سرزمینِ فلسطین پر صہیونی آبادکاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے)، ۳- جارید کشنر (موصوف کے داماد، نیتن یاہو کے وفادار اور صدر امریکا کے دست ِ راست)۔ یہ تثلیث مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ایک خطرناک منصوبے پر کاربند ہے۔

نیا صہیونی منصوبہ
اس منصوبے کے مطابق شرقِ اوسط میں سُنّی اور شیعہ تصادم کا فروغ، اسرائیلی اور ’سُنّی اسلام‘ کا متحدہ محاذ، فلسطین کی آزاد ریاست کے تصور کو دفن کر کے بیت المقدس کو اسرائیل کا مستقل دارالحکومت بنانا اور فلسطینیوں کے لیے ایک ایسی بے معنی ضمنی ریاست کا قیام جو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں پر مشتمل ہو، جس کی کوئی مستقل فوج نہ ہو، جس کا دارالحکومت بیت المقدس سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر ایک گائوں ابودیس (Abu Dis) ہو، اور جو ایسی کٹی پھٹی، لولی لنگڑی اور کمزور (نام نہاد) ریاست ہو، جو معاشی طور پر کبھی خودکفیل نہ ہوسکے اور جو ہمیشہ مالی اعتبار سے امریکا اور چند دوسرے ممالک پر منحصر رہے۔
اس شیطانی منصوبے کے لیے امریکا اور اسرائیل نے جو لائحۂ عمل بنایا ہے اور امریکی اخبارات کے مطابق جس کے سلسلے میں کچھ عرب ممالک کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے، اسے ۲۰۱۸ء کے شروع میں ارضِ فلسطین پر مسلط کرنے کا پروگرام ہے۔ اس اصل پروگرام کے پیش خیمہ کے طور پر ہی ۶دسمبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی  بیت المقدس میں منتقلی کے بارے میں ۱۹۹۵ء کا جو امریکی قانون ہے، اس کے تحت ہر چھے مہینے گزرنے پر صدر کو سفارت خانہ منتقل نہ کرنے کے لیے مزید مہلت کی دستاویز پر دستخط کرنا پڑتے ہیں اور اس مشق پر ۲۲سال سے عمل ہورہا تھا۔ اسی تسلسل میں خود صدر ٹرمپ نے جون ۲۰۱۷ء میں سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔ اب اس روش کو تبدیل کرکے نئے منصوبے کی طرف پیش رفت کے لیے سفارت خانے کی منتقلی کا لائحہ عمل دینا مطلوب ہے۔
ٹرمپ اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ یہ پہلا قدم، مختصر نمایشی احتجاج کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا اور پھر جنوری/فروری ۲۰۱۸ء میں پورے منصوبے کا اعلان ہوگا۔ لیکن صدر ٹرمپ اور اسرائیل کا یہ خطرناک کھیل پہلے ہی قدم پر زمین بوس ہوتا نظر آرہا ہے۔ اسے فلسطینیوں،  اُمت مسلمہ اور عالمی برادری کی بڑی اکثریت نے جارحانہ اقدام اور ’ریڈلائن‘ کو روندنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس اعلان کو عملاً بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے اور اسرائیلی جارحیت کو  سند ِ جواز فراہم کرنے کی جارحانہ کارروائی قرار دیا، نیز فلسطین اور اُمت مسلمہ نے اسے اقدامِ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ مزیدبرآں اقوامِ متحدہ میں امریکا کو منہ کی کھانا پڑی۔ ساری دھونس، دھمکی اور سامراجی فرعونیت کے اظہار کے باوجود،سلامتی کونسل میں امریکا بالکل تنہا رہ گیا اور باقی چودہ کے چودہ ارکان نے اس اقدام کو غلط، غیرقانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیا، البتہ امریکی ’ویٹو‘ (حقِ استرداد)کی وجہ سے قرارداد نامنظور ہوگئی۔ اس کے جواب میں جنرل اسمبلی نے ۹ کے مقابلے میں ۱۲۸ووٹوں کی اکثریت سے امریکا کے اس اقدام کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اسے باطل اور بے اثر (null and void)  قرار دیا، جو امریکا کے منہ پر ایک بھرپور طمانچا ہے۔ عرب لیگ نے کمزور الفاظ میں،  جب کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) نے استنبول میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں اسے رد کر دیا۔
 عیسائی دُنیا کے اہم ترین اداروں اور شخصیات بشمول رومن کیتھولک سربراہ پوپ فرانسس، گریک آرتھوڈوکس کے سربراہ پیٹریارک تھیوفیلوس سوم اور مصر کے قبطی چرچ کے سربراہ نے نہ صرف اس کی مذمت کی، بلکہ امریکی نائب صدر سے ملنے سے بھی اسی طرح انکار کر دیا، جس طرح فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمودعباس نے انکار کیا ہے۔ فلسطین کی عیسائی قیادت نے بھی اس اقدام کو تسلیم کرنے سے صاف لفظوں میں انکار کر دیا۔ یروشلم کے آرچ بشپ عطالاحنا کے الفاظ ہیں: ’’ہم فلسطینی، مسیحی اور مسلمان، امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔
مسلم اُمت نے پوری یک جہتی سے اور عالمی برادری کی عظیم اکثریت نے امریکا کے اس جارحانہ قدم کو رد کیا ہے۔ الحمدللہ، یہ اقدام بیداری کی ایک سبیل (wake up call) بن گیا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں مسئلہ فلسطین کوتتربتر( liquidate ) کرنے کے منصوبے کو خاک میں ملانے اور اس کے خلاف صف آرا ہونے کی تحریک کو قوت اور تحرک عطا کرنے کا باعث ہوگا۔ انسان کیا سوچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کیا ہوتی ہے؟
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًاO (النساء ۴:۱۹) ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

مسئلہ فلسطین، بنیادی حقائق
یہاں چند بنیادی حقائق بہت ہی اختصار کے ساتھ پیش نظر رہیں، تاکہ درپیش چیلنج کی وسعت اور حقیقی نوعیت کو بہتر طورپر سمجھا جاسکے اور آگے کی حکمت عملی کے خدوخال طے کیے جاسکیں:
۱-  ارضِ فلسطین سےقلبی تعلق ایک چیز ہے اور ارضِ فلسطین پر اقتدار اور اس کے نظمِ مملکت پر اختیار بالکل دوسری چیز۔ ابوالانبیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُمت کی ہر شاخ کا ارضِ فلسطین سے تعلق ہے اور اس کا احترام صرف سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ حق و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس پہلو سے یہودی، عیسائی اور مسلمان اپنی اپنی وجوہ سے جو جذبات رکھتے ہیں، ان کا احترام ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے پورے دورِ اقتدار میں اس کا قرار واقعی احترام و اہتمام کیا۔ جہاں یہودیوں کے عیسائیوں پر اور عیسائیوں کے یہودیوں پر مظالم، تاریخ کا کرب ناک حصہ ہیں، وہیں مسلمانوں نے احترامِ حقوق اور رواداری کی جو مثالیں قائم کی ہیں، وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے اور دوست اور دشمن اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور بنی اسرائیل کی نافرمانیاں نہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ خود ان کی مقدس کتب اور قرآنِ پاک ان پر شاہدہیں۔ بنی اسرائیل کو ارضِ فلسطین پر کم از کم گذشتہ دوہزار سال میں کبھی اقتدار حاصل نہیں رہا اور ان کا یہ دعویٰ کہ: ’’یروشلم تین ہزار سال سے ان کا دارالحکومت ہے‘‘، اور صدرٹرمپ کا اسے ایک حقیقت (reality) کے طور پر پیش کرنا تاریخی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔ صہیونی تحریک ایک سیکولر، خالص سیاسی اور اپنی اصل کے اعتبار سے سامراجی تحریک ہے، جس نے مذہب کی اصطلاحات اور جذبات کو استعمال کیا ہے اور آج کے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے اس پہلو کی تفہیم ضروری ہے۔
مسلمانوں کے ۱۳سو سالہ دورِ حکومت میں، ارضِ فلسطین میں جو یہودی بھی آباد تھے وہ ریاست کے شہریوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ پھر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ۱۹ویں صدی کے اواخر میں جب صہیونی تحریک نے ارضِ فلسطین میں دَراندازی شروع کی، تو فلسطین کے مسلمان ہی نہیں، وہاں کے نسلاً بعد نسلاً رہنے والے یہودی بھی اس کے مخالف تھے۔ ہماری اس گزارش کا مقصد بھی دو اُمور کی وضاحت ہے: ایک یہ کہ ارضِ فلسطین پر یہودیوں کا وجود نہ کبھی مسئلہ تھا اور نہ آج کوئی قضیہ ہے۔ دوسرا یہ کہ فطری انداز میں انتقالِ آبادی پر بھی کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔ لیکن صہیونی تحریک نے سامراجی انداز میں، قوت اور دولت کی بنیاد پر پہلے دولت ِ عثمانیہ کی قیادت کو رشوت کی پیش کش کی گئی، لیکن وہ قبول نہ کی گئی، پھر سلطنت ِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں کیں، اور بعدازاں ارضِ فلسطین پر فرانسیسی اور برطانوی سامراج کے قبضے کے بعد ان کی سرپرستی میں ایسی منظم انتقالِ آبادی کی، جس نے فلسطین میں آبادی کے تناسب (demographic composition ) کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد یہ افسانہ وضع کیاکہ: ’’فلسطین ، وہ سرزمین ہے جہاں انسان نہیں ہیں، اور یہودی وہ قوم ہیں جنھیں زمین میسر نہیں‘‘___ دراصل یہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے کہ فلسطین کی آبادکاری اور بازیافت یہودیوں کا تاریخی مشن ہے۔ یہ صریح جھوٹ ہے جس کا پردہ چاک ہونا چاہیے۔ ۱۹۱۷ء میں اعلانِ بالفور کے وقت فلسطین کی آبادی ۸لاکھ افراد سے زیادہ تھی ، جب کہ  کُل یہودی ۵۳ہزار کے قریب تھے، اس طرح یہود، کُل آبادی کا ساڑھے تین فی صد تھے۔
۲- اسرائیل کا قیام کسی حق خود ارادیت (Right of Self-determination) کی بنیاد پر نہیں ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں بھی جب برطانیہ کا مینڈیٹ ختم ہورہا تھا اور اس نے اقوامِ متحدہ میں آیندہ کے بندوبست کا مسئلہ پیش کیا، تو بھی تمام دھونس دھاندلی کے باوجود، یہودیوں کی تعداد فلسطین کی  کُل آبادی کا ۱۰فی صد سے زیادہ نہ تھی۔ اسرائیل دنیا کی واحد ریاست ہے جو قومیت کی بنیاد پر،یا حق خود ارادیت کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئی، بلکہ غیرفطری انداز میں ایک Settler State (وضع کردہ ریاست) کے طور پر صرف اور صرف برطانوی استعمار کی سرپرستی اورمنصوبہ بندی (engineering) کے ساتھ،اور امریکا اور عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے وجود میں آئی۔ اصل منصوبے میں اسرائیل کی ریاست کو فلسطین کی آبادی کے ۱۰فی صد یہودیوں کے لیے ارضِ فلسطین کا ۵۱ فی صد دیا گیا اور بیت المقدس (یروشلم) کو عالمی انتظام کے تحت رکھا گیا۔
عرب ممالک کی کمزوری اور اہلِ فلسطین سے بے وفائی کے نتیجے میں، ۱۹۴۵ء-۱۹۴۷ء کی جنگ کے دوران اسرائیل نے ارضِ فلسطین کے ۷۵ فی صد حصے پر قبضہ کرلیا۔ پھر جون ۱۹۶۷ء کی جنگ کے نتیجے میں پوری ارضِ فلسطین اور اس کے علاوہ سطح مرتفع گولان (Golan Heights) اور صحراے سینا کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح علمِ سیاست کی اصطلاح میں اسرائیل متعین سرحدیں رکھنے والی ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ قابض اور وضع کردہ جارح ریاست ہے۔
۳- اسرائیل کے قیام اور بین الاقوامی قانون کی رُو سے اس کے ایک’جائز‘ ریاست ہونے کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف اقوامِ متحدہ کی ایک ایسی قرارداد ہے، جسے امریکا نے بڑی چابک دستی، دھونس اور اپنے اثرونفوذ کے بے جا استعمال سے منظور کروایا تھا۔ اس ’جائز‘ بنیاد کی حقیقت یہ ہے کہ اس قرارداد کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہورہی تھی۔ ووٹنگ کو غیراخلاقی طور پر مؤخر کرایا گیا۔ تین دن کے بعد لاطینی امریکا کی چند امریکی باج گزار ریاستوں کے ووٹ حاصل کرکے نام نہاد منظوری حاصل کی گئی۔
۴- اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل کونسل نے ۱۹۴۶ء سے لے کر آج تک مسئلہ فلسطین کے بارے میں سو سے زیادہ قراردادیں منظور کی ہیں اور جون ۱۹۶۷ء کے پورے ارضِ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بعد جنرل اسمبلی ہی نہیں سلامتی کونسل نے بھی متفقہ طور پر جن اُمور کا بار بار اعادہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ: ’’جنگ میں قوت کے ذریعے سے جو علاقے قبضے میں کیے گئے ہیں، وہ اسرائیل کا حصہ نہیں ہیں، اور اسرائیل اور فلطین کی دو آزاد مملکتوں کا اپنی اپنی متعین سرحدی حدود میں قیام ابھی ہونا باقی ہے‘‘۔ ۲۲نومبر ۱۹۶۷ء کی قرارداد (نمبر۲۴۲) صاف الفاظ میں کہتی ہے کہ: ’’اسرائیل کے لیے لازم ہے کہ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جو بھی علاقے اس نے اپنے قبضے میں لیے ہیں بشمول مشرقی یروشلم، ان سے اپنی افواج واپس بلائے‘‘۔ اس کے بعد آٹھ قراردادوں میں ذرا مختلف الفاظ میں، مگر اسی اصول اور اس کے تقاضوں کا اعادہ کیا گیا ہے۔{ FR 1091 } مگر اسرائیل کی استعماری، جارحانہ اور باغیانہ روش میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اسرائیل نے ۱۹۸۰ء میں مشرقی یروشلم کے بارے میں ایک قانون منظور کیا، جس میں مغربی یروشلم کو ضم کرنے اور پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کیا جس پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ۲۰؍اگست ۱۹۸۰ء کو ایک اہم قرارداد (نمبر۴۷۵) جو تمام ممالک پر قانونی طور پر لازمی تھی، منظور کی۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ تاہم،امریکا نے اس میں ووٹ نہیں دیا لیکن اسے ویٹو بھی نہیں کیا۔
طرفہ تماشا دیکھیے کہ صدر ٹرمپ نے اس قرارداد اور اس کے بعد کی قراردادوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ۶دسمبر کا اعلان کیا ہے، جو صریح طور پر بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے واضح قانونی اور قابلِ تنفیذ احکام اور خود امریکا کی اپنی قبول کردہ پالیسی کے خلاف ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا خلاصہ یہ ہے:
    ٭    کہ اسرائیل کے یروشلم پر [اپنے] ’بنیادی قانون‘ کے نفاذ اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار پرشدید لفظوں میں سخت مذمت کی جاتی ہے۔
    ٭    کہ اسرائیل کے ’بنیادی قانون‘ کا نفاذ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
    ٭    یہ تعین کرتی ہے کہ اسرائیل کے ان تمام انتظامی اقدامات اور اختیارات کو، جو مقدس شہر یروشلم کی حیثیت کو تبدیل کر رہے ہیں، انھیں لازماً مسترد کیا جائے۔
    ٭    کہ یہ اقدام شرقِ اوسط میں جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کردیتا ہے۔
    ٭    کہ جن ممالک نے یروشلم میں سفارتی وفود بھیج دیے ہیں، اس مقدس شہر سے وہ اُنھیں واپس بلا لیں۔
قرارداد کے یہ پانچوں نکات بہت واضح (incisive) اور قطعی (categorical) ہیں۔ امریکی صدر نے ۶دسمبر کے اعلان کے ذریعے ان سب کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے امریکا اقوامِ متحدہ ہی نہیں عالمی قانون اور پوری عالمی برادری کی عدالت میں ایک مجرم بن گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے اس اعلان کے بعد اپنی ۱۹۸۰ء کی قرارداد کا اعادہ  کیا ہے، اور جنرل اسمبلی نے ۲۱دسمبر ۲۰۱۷ء کو ۹ کے مقابلے میں ۱۲۸ ووٹوں کی اکثریت سے امریکی اقدام کی جو مذمت کی ہے اور اسے غلط اور غیرقانونی قراردیا ہے، وہ اسی پوزیشن کا تازہ ترین اظہار و اعلان ہے۔

امریکی پالیسی کے مضمرات
ان گزارشات کی روشنی میں اگر امریکی صدر کے اس اعلان کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل اُمور واضح ہوتے ہیں:
۱-  یہ بات کہ ’’یروشلم اسرائیل کا ۳ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے‘‘___ محض ایک ذہنی خلل ، تاریخ کے ساتھ ایک بے ہودہ مذاق اور صریح جھوٹ کی بنیاد پر پالیسی سازی کی مکروہ مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۳ ہزارسال کی بات کو چھوڑیے اسرائیل کا تو یہ دعویٰ بھی قانونی، سیاسی اور اخلاقی، ہراعتبار سے بے بنیاد ہے کہ ۱۹۶۷ء کے بعد سے یروشلم اس کا دارالحکومت ہے۔ صدرٹرمپ کا اسے ’حقیقت‘ اور ’امرواقعہ‘ (reality) کہنا تاریخی غلط بیانی اورعالمِ انسانیت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
۲-دوسری بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات کو طے کرنے کی بنیاد: اصول اور قومی مفاد تو ہوسکتے ہیں، محض اَمرِواقعہ نہیں ہوسکتے۔اس دُنیا میں ظلم، بے انصافی، جھوٹ، چوری، دغا، بدعنوانی کون سی بُرائی ہے جو حقیقت نہیں؟ کیا محض حقیقت ہونےسے وہ صحیح اور جائز اور مطلوب بھی بن جاتی ہیں؟ یہ کج فہمی اور خلط مبحث کی ایک شرم ناک مثال ہے۔
۳-صدر ٹرمپ نے اسے ’امریکا کی پالیسیوں کا تسلسل‘ بھی کہا ہے، حالاں کہ اقوامِ متحدہ کی مذکورہ بالا تمام ہی قراردادوں کو امریکا نے قبول کیا اور کبھی ان سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا۔   اس طرح صدرٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی صداقت کے منافی ہے۔
۴-صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے بین الاقوامی قانون، جنیوا کے معاہدات، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی راے عامہ، سب کی خلاف ورزی کی ہے اور دُنیا میں امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ راےعامہ کے تمام اہم جائزے بشمول گیلپ اور پیو(PEW) جو امریکی ادارے ہیں، کم از کم تین عشروں سے یہ تصویر پیش کر رہے ہیں کہ اسرائیل اور بھارت کے سوا دنیا کے تمام ہی ممالک میں امریکا کے خلاف نفرت اور اس سے بے زاری کے جذبات بڑھ رہے ہیں، اور آدھے سے زیادہ ممالک میں جو دنیا کی آبادی کا ۷۰،۸۰فی صد ہے، یہ بے زاری آبادی کی اکثریت میں پائی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے بلاشبہہ اس بے زاری میں اضافہ کیا ہے۔ کیا صدر ٹرمپ یہ سوچنے کی زحمت گوارا کریں گے کہ وہ اپنے اس اقدام سے امریکا کی ساکھ اور خیرسگالی میں عالمی سطح پر کوئی اضافہ کر رہے ہیں یا اسے نقصان پہنچا رہے ہیں؟ محض اسرائیل کی خوشنودی اور امریکا کی صہیونی لابی اور ایونجلیکل کنزرویٹوو عیسائیوں کو خوش کرنے کےلیے ان کا    یہ فعل اور اسی قسم کے دوسرے اقدامات امریکا کی کون سی خدمت ہیں؟
اقوامِ متحدہ کے ارکان کو ڈرانے، دھمکانے اور امداد کی چھڑی استعمال کرنے کے جو بھونڈے ہتھکنڈے انھوں نے خود اور ان کی بھارتی النسل اقوام متحدہ میں مستقل نمایندہ ’نِکی ہیلی‘ نے استعمال کیے ہیں، اس سے امریکا کے چہرے سے وہ نقاب اُترگئی، جو اس کے بدنما داغوں کو ڈھانپے ہوئے تھی۔امریکا نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے لیے اپنی مالی اعانت میں ۲۸کروڑ ۵۰لاکھ ڈالر کی کٹوتی کرے گا اور خلاف ووٹ دینے والے ممالک کو بھی بیرونی امداد بندکرنے یا کم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی مسائل کے بارے میں اپنے تعصبات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے مالی ہتھیار کا اس طرح استعمال امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اندازِ حکمرانی کی بڑی مکروہ شکل پیش کرتا ہے، اور معاشی ترقی اور انسانی ہمدردی کے تمام دعوئوں کی قلعی کھول دیتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس کا بڑا مؤثر جواب دیا ہے کہ: ’’ہماری راے اور عزت کوئی قابلِ فروخت شے نہیں ہے‘‘، اور دولت کے بھروسے پر ضمیر خریدنے کا یہ کاروبار کسی بھی قوم کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ امریکی صدر، امریکا کے چہرے کو اور بھی داغ دار کررہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے کالم نگار رک گلیڈسٹون اور مارک لینڈلرنے ۲۲دسمبر کی اشاعت میں اسے اقوامِ عالم کی طرف سے امریکا کے لیے ایک واضح سرزنش اور ملامت (rebuke) قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا کی اقوام نے امریکا کی دھمکیوں کو کوئی وقعت نہیں دی۔ کالم نگاروں نے اس پورے عمل کو صدرٹرمپ کے لیے ایک شکست خوردگی (setback)  بھی کہا ہے۔
۵- عالمی سطح پر بھی ردعمل بحیثیت مجموعی منفی رہا ہے اور امریکا کے اپنے اتحادیوں کی   بڑی تعداد نے صدرٹرمپ کے اس اقدام کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ کسی قسم کے دبائو میں آنے سے انکار کر دیا ہے، جو ایک مثبت علامت ہے۔ قابلِ ذکر ممالک میں سے زیادہ سے زیادہ چار پانچ ہیں، جنھوں نے امریکا کے خلاف ووٹ سے اجتناب کیا ہے ،مگر اس کے حق میں ووٹ انھوں نے بھی نہیں دیا۔ امریکا کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح کچھ مسلم اور عرب ممالک اس کاساتھ دے دیں ،یا کم از کم اس کے خلاف ووٹ نہ دیں، لیکن اس مقصد میں بھی اسے ناکامی ہوئی اور تمام مسلم ممالک نے بلااستثنا مذمتی قرارداد کے حق میں اور امریکا کے خلاف ووٹ دیا۔
اسی طرح امریکا کے اہم اخبارات اور دانش وروں اور سابقہ پالیسی سازوں کی ایک تعداد نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ Congressional Progressive Caucus کے سربراہ نے اس اقدام کو امریکا کے مفاد سے متصادم اور علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کی راہ میں مشکلات کے اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔ سب سے زیادہ چشم کشا سروے وہ ہے، جو امریکی یہودیوں کے ایک نمایندہ ادارے Global Jewish Advocacy  (AJC) نے ستمبر ۲۰۱۷ء میں کروایا تھا، اور جس کے مطابق اس اقدام سے پہلے، متوقع راے عامہ کو معلوم کرنے والے اس جائزے کی رُو سے ۴۴فی صد امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل نہیں ہونا چاہیے۔۳۶ فی صد کا خیال ہے کہ اگر اسے منتقل کرنا ہی ہے تو یہ مسئلۂ فلسطین کے بارے امن مذاکرات کے حصے کے طور پر ہونا چاہیے، اور صرف ۱۶ فی صد اس راے کے حامی ہیں کہ اسے منتقل کر دینا چاہیے۔ اسی طرح دوامریکی یونی ورسٹیوں کے زیراہتمام کیے جانے والے سروے میں، عام امریکیوں کی راے کے مطابق ۶۱فی صد کے نزدیک منتقلی درست نہیں۔ اگرامریکی راے عامہ کے رجحانات کے بارے میں یہ سروے درست ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود امریکا میں اس سلسلے میں مؤثر مزاحمتی تحریک کو فروغ دینے کے بارے میں امکانات خاصے روشن ہیں۔ (میڈابنجمن، ایریل گولڈ: Where are the Democrats?   ، [ commondreams.org]بحوالہ دی نیوز، ۱۴دسمبر۱۷ء)
سی این این کے انٹرنیشنل ڈپلومیٹک ایڈیٹر نِک روبرٹسن نے بھی ۱۰دسمبر ۲۰۱۷ء کو ادارے کی ویب پر شائع کردہ مضمون: Trump has to Live with the Consequences of his Israel Decision میں فلسطین کے عوام اور سفارتی حلقوں دونوں کے ردعمل کی روشنی میں اس راے کا اظہار کیا ہے کہ: ’’ٹرمپ نے اس وقت اس مسئلے کو چھیڑ کر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے اور امریکا کے لیے اس کے اثرات مضر ہوں گے‘‘۔

بیداری کی نئی لہر اور تقاضے
حالات اور رجحانات کے اس جائزے کی روشنی میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ امریکی صدر کے اس اقدام کے اثرات محض وقتی نہیں ہوں گے بلکہ بڑے دُور رس ہوں گے۔ بحیثیت مجموعی اس سے امریکا کو نقصان پہنچے گا۔ اس کے دوستوں میں کمی آئے گی اور مخالفت میں اضافہ ہوگا۔ ویسے بھی دنیا کے حالات بدل رہے ہیں۔ امریکا گو اب بھی دنیا کی اہم ترین عسکری اور سیاسی قوت ہے، لیکن گذشتہ ۲۰برسوں میں اس کی قوت اور اثرات میں کمی واقع ہوئی ہے، کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
روس کے ۱۹۹۰ء کے عالمی قوت کی حیثیت سے غیرمؤثر ہونے کے بعد جو صورتِ حال پیدا ہوئی تھی، اور اس کے فوراً بعد دوعشروں میں امریکا کے نہ صرف واحد سوپر پاور ہونے اور    اس حیثیت کو ۲۱ویں صدی میں بھی برقرار رکھنے کے لیے جو غوغا آرائی اور سخن سازی کی گئی تھی،   وہ پادر ہوا ہو رہی ہے۔ اس زمانے میں عوامی جمہوریہ چین نے غیرمعمولی ترقی کی ہے اور وہ دوسری عالمی قوت کی حیثیت سے اُ بھرا ہے۔ روس نے بھی گذشتہ ۱۰برسوں میں نئی کروٹ لی ہے۔ امریکا اور مغربی اقوام ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کے اثرات سے اب تک نہیں نکل سکے۔ صدرٹرمپ نے ’سب سے پہلے امریکا‘ عالم گیریت سے شدید بے زاری، دائیں بازو کے قوم پرستانہ خیالات و اہداف کی حوصلہ افزائی، تجارت میں داخلیت کی طرف جھکائو، اقوامِ متحدہ، یورپین یونین،ناٹو اور راے عامہ کے عالمی اداروں کے بارے میں سردمہری کا جو مظاہرہ کیا ہے، اس سے امریکا کے عالمی کردار کے محدود ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ یک قطبی (Unilateral) نظام سے کثیر قطبی (Multilateral)نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مسلم دُنیا خصوصیت سے شرقِ اوسط، معاشی اور سیاسی اعتبار سے کمزور ہورہا ہے۔ لیکن ترکی، ایران، انڈونیشیا اورملایشیا رُوبہ ترقی ہیں اور ان کا کردار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستان اپنی بے پناہ استعداد (potential) کے باوجود اندرونی کمزوریوں اور خودشکنی کی وجہ سے اپنا صحیح مقام حاصل اور کردار ادا نہیں کرپا رہا۔ شام، عراق، افغانستان، لیبیا، یمن بُری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ مصر بھی وسائل اور امکانات کے باوجود، دوڑ میں نہ صرف بہت پیچھے بلکہ داخلی اعتبار سے   تباہ کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ تیونس اور مراکش میں زندگی اور تبدیلی کے آثار ہیں۔ ان حالات میں سیاسی، عسکری اور معاشی، ہر میدان میں نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔
صدرٹرمپ کے حالیہ اقدام کے منفی پہلو تو بے شمار ہیں، لیکن اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہوسکتے ہیں جن کی فکر کرنے کی ضرورت ہے:
٭ پہلی اہم چیز مسئلہ فلسطین کا دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن جانا ہے۔ یہ ردعمل اپنے اندر بڑے اہم امکانات رکھتا ہے اور فلسطین میں اور عالمی سطح پر مزاحمت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی تحریک کو نئی زندگی دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بڑے عرب ممالک کا ردعمل مایوس کن ہے، لیکن خود فلسطین اور اہلِ فلسطین کے ردعمل میں بڑی جان ہے۔ اسی طرح اُردن اور قطر نے مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔ ترکی کا ردعمل سب سے مؤثر اور بلند آہنگ ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کا حکومتی اور عوامی موقف بھی صحیح سمت میں ہے، گو اصل ضرورت اسے مستحکم کرنے اور اس کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر مؤثرانداز میں ربط ضبط کی ہے۔
٭امریکا پر انحصار یا امریکا کے بارے میں خوش فہمی: دونوں تباہی کے راستے ہیں۔ لیکن    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا ہو یا کوئی بھی اور ملک، جہاں متعین ایشوز پر مناسب ردعمل کا اظہار اَزبس ضروری ہے، وہیں رواں اور دیرپا پالیسیاں بنانے کا کام بڑی گہرائی، تسلسل اور بالغ نظری کا تقاضا کرتا ہے۔
٭رنج، خوف اور غصّے میں جو پالیسیاں بنتی ہیں وہ کبھی متوازن اور حقیقت پسندانہ نہیں ہوسکتیں۔مقاصد اور اہداف کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح وسائل اور ان کا صحیح استعمال بھی حقیقت پسندانہ انداز میں ضروری ہے۔ فوری اہداف اور دیرپا مقاصد کا فرق ملحوظ رکھنا اور اس فرق کی روشنی میں پالیسیاں بنانا بھی ضروری ہے۔ پالیسی سازی میں قومی مفاد کا صحیح صحیح تعین بے حد ضروری ہے۔ ذاتی اور گروہی مفادات کے تاریک سایوں سے ان کو محفوظ رکھنا کامیابی کی اوّلین شرط ہے۔ مشاورت اور قوم کو اعتماد میں لے کر قومی مقاصد اور عوامی جذبات دونوں میں توازن قائم کرتے ہوئے پالیسی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
٭امریکا کے موجودہ اقدام سے ہمیں ایک تاریخی موقع ملا ہے کہ اُمت مسلمہ بحیثیت مجموعی اور پاکستان اور ترکی بالخصوص تمام حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور ہمہ گیر پالیسی بنانے کی کوشش کریں۔ اس عمل کی تشکیل ہرسطح پر مشاورت سے ہو اور قومی اتفاق راے پیدا کرکے اس پر عمل کیا جائے۔ اسی طرح تمام ہم خیال ممالک کو مشاورت میں شریک کرنا اور مل جل کر اجتماعی پالیسی بنانا بھی ازبس ضروری ہے۔
٭ صدر ٹرمپ کے اس اقدام نے نہ صرف امریکا سے بے زاری میں اضافہ کیا ہے بلکہ حالات کی تفہیم اور مسائل کے حل کے لیے بیداری کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ امریکا سے ربط ضبط (engagement ) حکمت کا تقاضا ہے۔ اختلاف اور احتجاج کے ساتھ افہام و تفہیم اور مذاکرات (dialogue)کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکا کے اپنے مقاصد، مفادات ، ترجیحات اور مطالبات ہیں اور ہمارے اپنے مقاصد، ترجیحات اور مفادات۔ مثبت مشترکات میں تعاون کا باب کبھی بند نہیں ہونا چاہیے، مگر دھونس اور دبائو (dictation ) کے ذریعے جو پالیسی بنائی جاتی ہے، وہ کسی کے مفادات کی محافظ نہیں ہوسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مطالبات اور دبائو کے تحت پالیسی بنائے جانے کے باب کو یکسر بند کردیا جائے۔ ’لالچ اور خوف‘ کے تحت بننے والی پالیسیاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں، چند مسائل کے دیرپا اور مستقل حل کے باب میں ۔
٭ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ دست نگری کے چکّر سے نکلنے اور خودانحصاری کی راہ کو اختیار کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ دوستی دوستی رہے، وہ غلامی اور چاکری میں تبدیل نہ ہوجائے۔ اسی طرح اختلاف اور تصادم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اختلاف انسانی معاشرے کی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کا اظہار اور اس کی روشنی میں صحیح رویوں کا اہتمام ناگزیر ہے، جب کہ جنگ و جدال کا رُوپ دھارنا کسی کے لیے بھی مفید و مطلوب نہیں ہوسکتا۔
٭ملک اور اُمت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان حدود کا صحیح صحیح تعین کرلے جن کے اندر  رہ کر معاملات کو طے کیا جاسکتا ہے۔ حدِفاصل کا تعین اور اس کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے    جتنا مشترک مقاصد اور مفادات کے باب میں تعاون، افہام و تفہیم اور لین دین۔ پاکستان، فلسطین، مسلم دنیا اور عالمی برادری سبھی کو ان مسلّمات کی روشنی میں عملی اقدام کا اہتمام کرنا چاہیے۔ امریکا سے تعلق مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ سب سے اہم مسئلہ خود اپنے گھر کی اصلاح اور اپنے وسائل پر اپنا اختیار اور ان کا قومی مقاصد اور عوام کے بہترین مفاد میں استعمال ہے۔
٭اس تجزیے اور ان اصولی باتوں کی روشنی میں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیاہے، اس امر کی ضرورت ہے کہ مسئلہ فلسطین، اسرائیل کی حالیہ پوزیشن، امریکا کی پالیسی اور اسرائیل کی سرپرستی، فلسطینی قیادت اور تحریک ِ مزاحمت کی موجودہ صورتِ حال، عرب اور مسلم ممالک خصوصیت سے ان کی قربانیوں، ان کی قیادتوں کا رویہ، عرب اور مسلم عوام کے جذبات، احساسات اور جدوجہد کے عزائم اور امکانات کے ساتھ عالمی راے عامہ اور عالمی اداروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔ اپنی کمزوریوں کا بھی ادراک ہو اور مقاصد کے حصول کے لیے کس کس میدان میں کس کس نوعیت کی جدوجہددرکار ہے، اس کی مناسب منصوبہ بندی بھی کی جائے۔
ہم اپنے قارئین کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں اپنے خیالات اور نتائجِ فکر سے ادارے کو مطلع کریں اور ہماری بھی کوشش ہوگی کہ اپنی معروضات ان شاء اللہ مستقبل قریب میں  آپ کے اور اُمت مسلمہ کے غوروخوض کے لیے پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق سے نوازے، آمین!