October 30th, 2020 (1442ربيع الأول14)

تحریکِ آزادی کشمیر امریکہ بھارت ریاستی دہشت گردی کا نیا شکار سیّد صلاح الدّین

سید عارف بہار

گلوبل ٹیررسٹ کا اردو ترجمہ ’عالمی دہشت گرد‘ بنتا ہے۔ یہ وہ تمغہ ہے جو بھارت نے ایک ایسے کشمیری کے سینے پر سجا دیا ہے جس کی ساری دنیا کشمیر کی وادیوں کے اندر تک محدود ہے۔ جس نے کشمیر کی حدود سے باہر کسی چڑیا کا شکار بھی نہیں کیا، اور نہ اپنی دنیا سے باہر بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ اس کا گلوب جموں کے ایک کونے سے وادیٓ کشمیرکے دوسرے سرے پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس محدود سے ’’گلوب ‘‘ میں ستّر برس سے ایک سیاسی تنازع چل رہا ہے جو تین دہائیوں سے شمالی آئرلینڈ اور ان جیسے دوسرے مغربی اور یورپی تنازع کی طرح خون خرابے اور مارا ماری کی وجہ بن کر رہ گیا ہے۔ شمالی آئرلینڈ جہاں جیری آدم کی قیادت میں آئرش ری پبلکن آرمی برطانوی فوجیوں پر مدتوں حملے کرتی رہی اور امریکی گلوبل ٹیررسٹ قرار دینے کے بجائے اپنی سرزمین پر سرخ قالین بچھا کر اس کا استقبال کرتے رہے۔ اب امریکیوں کا چشمہ بدل گیا یا کیا ہوا نریندر مودی کے دورے کے موقع پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جیری آدم کی طرح کشمیریوں کی داخلی مزاحمت کی علامت سیّد صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد کے خطاب سے نواز دیا۔ بظاہر امریکہ کے اس فیصلے کی حیثیت علامتی ہے مگر یہ ایک مائنڈ سیٹ کا عکاس ہے۔ اس فیصلے سے امریکی حکومت کو امریکہ میں سیّد صلاح الدین کی جائیداد ضبط کرنے، ان کی فنڈنگ روکنے اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ ان کے لین دین پر پابندی ہوگئی۔

حقیقت یہ ہے امریکہ کا تصورِ گلوب بدل گیا ہے، جس کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ جب سے امریکہ نے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ اسڑے ٹیجک پارٹنر شپ کی ہے، اُس کا تصورِ گلوب تل ابیب سے شروع ہو کر دہلی پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے سوا سیّد صلاح الدین پر گلوبل ٹیررسٹ کی اصطلاح کسی طور پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ یہ وہ شخص ہے جو عالمی قوانین کو برملا مانتا ہے، اقوام متحدہ کے ادارے اور نظام کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہے اور مدت سے امریکہ سے ثالثی کی درخواست کرتا چلا آرہا ہے۔ میں تین عشرے سے کرید کرید کر اس سے انٹرویو لیتا رہا ہوں۔ کبھی یہ شخص اقوام متحدہ سے مایوسی کا اظہار کرے، کبھی عالمی نظام سے بیزاری پر بات کرے، کبھی فقط دھمکانے کی خاطر ہی اپنے ایجنڈے کو اپنی حدود سے باہر پھیلانے کی بات کرے، مگر مجال ہے کبھی اس دائرے سے باہر نکلا ہو۔

1993ء کی ایک گرم دوپہر کو ایک عارضی کیمپ میں سیّد صلاح الدین کے پہلے انٹرویو سے آج تک وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی دہائی دیتے چلے آرہے ہیں۔ بارہا ہم نے خواہش کی کہ یہ شخص کسی تلخ سوال کے جواب میں مایوس ہو کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے مایوسی کا اظہار کرے، مگر کبھی کامیابی نہیں ہوئی۔ ایک ایسا شخص جو نہ عالمی نظام کا باغی ہے، نہ قانونِ بین الاقوام کا منکر ........ حالانکہ اس نظام نے اسے دیا بھی کچھ نہیں، ایسا شخص جو اپنی دنیا کی حدود سے باہر نکل کر غلیل اُٹھا کر بھی نہ چلا ہو، راتوں رات گلوبل ٹیرر بن گیا۔ اسے ’’گلوبل جوک‘‘ یعنی عالمی لطیفہ ہی کہا اور سمجھا جانا چاہیے۔ جس طرح امریکیوں کو افغانستان میں اپنی حماقتوں کے لیے صدر ریگن کو دس بار پھانسی دینی چاہیے اسی طرح کشمیر اور خطے میں اپنی قسمت کا ماتم کرنے کے لیے بھی اسی شخص کی قبر پر کوڑے برسانے چاہئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب کشمیر میں مسلح تحریک کا تانا بانا بُنا جارہا تھا، اور پھر یہ لاوا پھٹ پڑاتھا۔ امریکیوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، دوڑے دوڑے پاکستان اور بھارت آئے اور سوویت یونین کے دوست بھارت کی کلا ئی مروڑنے پر بغلیں بجانے لگے ۔ ان کا خیال تھا کہ خطے کی اتھل پتھل کے لمحوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان خود مختار کشمیر کی صورت میں ایک قطعہ زمین حاصل ہوجائے تو چین پر نظر رکھے اور بھارت کا دماغ درست کرنے کے لیے ا س سے مناسب کوئی طریقہ نہیں ۔سی آئی اے کے اہلکاروں کا خطے میں آنا جانا بڑھ گیا اور ایک مشہورامریکی یہودی سینیٹراسٹیفن سولارزتواس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹوسے ملاقات ہوئی اور فرمائش کی کہ اگر پاکستان خودمختار کشمیرکی حمایت کرے تو امریکہ اپنا کرادر ادا کرسکتا ہے ۔بے نظیر بھٹو کا جواب تھا کہ چین کو یہ قبول نہیں ۔یادش بخیر ایک تھی امریکی نائب سیکرٹری آف اسٹیٹ مس رابن رافیل جو آئے روز کشمیریوں کی حمایت میں ایک بیان دیتی ،اور یہ وہ وقت تھا جب صلاح الدین کشمیر کے سب سے طاقتورمسلح گروپ کے سربراہ بن چکے تھے اور کنٹرول لائن کے آرپارجاناان کا معمول تھا۔یہی وہ زمانہ تھا جب پامیلاکانسٹیبل امریکہ کی ایک با اثر صحافی کے طورپر اُبھر رہی تھیں اور پاکستان اور بھارت کے معاملات میں بطورصحافی دلچسپی لے رہی تھیں ۔انہیں پینٹا گون اورا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ تک رسائی تھیں۔ کشمیر میں مسلح جدوجہد کی آگ بھڑک اٹھی اور1990ء میں پامیلانے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا کہ مسئلہ کشمیر کاواحد حل یہ ہے کہ مزیدخون ریزی سے بچنے کے لیے پاکستان اور بھارت اسے آزاد چھوڑدیں ۔ 1992ء میں جب کشمیریوں کی مسلح مزاحمت کو شروع ہوئے تین سال ہوئے تھے ،نیویارک ٹائمز نے اس صورتِ حال پر پہلا اداریہ لکھا جس میں کہا گیا کہ

’’اگر بھارت سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے ۔ بدلتی دنیا میں تنازع کشمیرایجنڈے سرفہرست مسائل میں آگیا ہے۔۔‘‘

1998ء میں امریکی سینیٹ نے ایک قراردادمنظورکی جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر اظہارِ تشویش کیا گیا اور اس تنازعے کو جنوبی ایشیا میں کشیدگی سب سے بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔امریکہ کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے جن میں صدوراور وزرائے خارجہ شامل ہیں، کشمیر کے تنازعے کی گہرائی اور گیرائی کو تسلیم کرنے کے بیانات پر کئی جلدیں مرتب کی جاسکتی ہیں ۔ دہلی میں امریکہ کے کے ایک سفیررابرٹ بلیک ول کشمیر کی اس مزاحمت کے سیاسی چہروں یعنی حریت قیادت سے ملاقاتیں کرتے اور انہیں کشمیراسمبلی کا الیکشن لڑنے پر آمادہ کرتے رہے۔اس وقت سید صلاح الدین اس مزاحمت کا عسکری چہرہ تھے۔

جب بھارت نے امریکہ کے لئے اپنی منڈیوں کے دروازے کھولنا شروع کئے تو کشمیر سے امریکی دلچسپی پر بھارت کا رنگ چڑھنا شروع ہو گیا۔ امریکہ ماضی کی اصلاحات دلچسپیوں، استعمارات کو بھارتی مزاج کے مطابق بدلتا چلا گیا۔ تبدیلی کے اس سفر میں اسٹرے ٹیچک شراکت داری ایک فیصلہ کن موڈ بن کر رہ گئی۔ یہیں سے پاکستان اور امریکا کے دفاعی تصورات میں مشرق اور مغرب کا بعد اور دوری پیدا ہوتی چلی گئی۔

سید صلاح الدین اس پوری تاریخ مین ایک مرکزی اہمیت کے حامل شخص کے طور پر منظر پر موجود رہے ہیں۔ یہیں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب کیا ہوا کہ سیاسیات کی ماسٹر ڈگری کا حامل ایک ایسا شخص جو ۱۹۸۷ء کے ریاستی اسمبلی کے انتکابات میں بطور امید وار شریک تھا اب اچانک اور بیٹھے بٹھائے ’’ گلوبل ٹیررسٹ‘‘ کے لیبل کا مستحق قرار پایا؟ بظاہر اسکی دو وجوہات ہیں۔ اول امریکہ بھارت اسٹرے ٹیجک شراکت داری۔ دوئم چین امریکہ بڑھتی ہوئی مخاصمت۔ دنیا میں امریکہ کے صرف دو اعلانیہ اسٹرے ٹیجک شراکت داری ہیں۔ اسرائیل ایک مدت تک تنہا اس مقام کے مزے لوٹتا رہا، اور اب گزشتہ دہائی سے بھارت کو یہ مقام حاصل ہو گیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دونوں شراکت داروں کے دائی بائیں مسلمان ملک ہیں اور سب کا حال بگڑا ہوا ہے۔ اسٹرے ٹیجک شراکت داری کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے دوست اور دشمن ایک ہیں نفع و تقصان یکساں ہے۔ جب سے امریکہ اور بھارت اس رشتے میں بندھے ہیں امریکہ سے بھارت  کے مفاد کو تحفظ دینے والے کسی بھی انتہائی قدم کی توقع کی جا سکتی ہے۔ بھارت اور امریکہ کی شراکت داری پاکستان سے زیادہ چین کے پانیوں اور جزیروں پر بالا دستی کی جنگ ہے۔ اس کھیل میں فریقین کا ہر داؤ جائز ہے۔ پاکستان چونکہ بھارت کا ضمیر بننے کے بجائے چین سے شراکت داری کا فیصلہ کر چکا ہے اس لئے امریکہ اسے اپنی کتاب زیست کا نا پسندیدہ باب سمجھ کر فراموش کر رہا ہے، اور پاکستان امریکہ کو لا علاج جان کر بھولتا جا رہا ہے۔ اب وہ زمانہ لد گیا جب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے فرمان پاکستان کا اسلوب اور اصول بنتے تھے، کیونکہ اب ’’ نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ زخم ہے زلفِ ایاز میں’’ کے مصداق نہ دنیا یونی پولر رہی، نہ پاکستان امریکہ کا مزارع۔ اب امریکہ کا بیانیہ فقط امریکہ کا بیانیہ ہے، اور چین ہر فورم پر اس کی مزاحمت پر اامادہ و کمر بستہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کو انتظامی حکم نامہ تھما کر روانہ کر دیا تھا جسے مودی فاتحانہ انداز میں لہراتے ہوئے دہلی پہنچیں گے ، مگر تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں یہ حکم نامہ ردی کے ایک ٹکرے سے زیادہ حیثیت کا حامل نہیں ہوگا۔ اس سے اتنا ہوا کہ پاکستان پر اثر انداز ہونے اور تنازع کشمیر میں با معنی کردارادا کرنے کی امریکی صلاحیت مزید کم ہو کر رہ گئی ہے۔ امریکہ کے کمزور ہوتے ہوئے اس کردار سے پیدا ہونے والے خلا کو چین ازخود پُر کرتا جائے گا، اور یوں خطے میں جاری اسٹرے ٹیجک کشمکش تیز ہونے کا امکان پوری طرح موجود ہے۔ اگر بھارت نے امریکہ کے عسکری کردار کی خاطر کشمیر میں داعش کا ڈول ڈال دیا تو پھر سنکیانگ سے متصل ہونے کی بنا پر چین اور اتحادی شام کی طرح اس کھیل سے لا تعلق نہیں رہ سکتے، اور یوں کشمیر ایک نئی جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔