October 30th, 2020 (1442ربيع الأول14)

اظہار یکجہتی کشمیر کے عملی تقاضے

سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان
ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبہ اور تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کیلئے جلسے جلوس، ریلیوں اور سیمینارز میں کشمیریوں کا ہر سطح پر ساتھ دینے کے عہد کا اعادہ کرتی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی رسمی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف سے بھارتی ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے بلند بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں، بلاشبہ یہ تقریبات اور روایت انتہائی مبارک اور قابل تحسین ہیں لیکن بحیثیت قوم ہمیں جائزہ لینا اور اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ کیا ہم ان توقعات اور امیدوں پر پورا اترتے ہیں جو کشمیری شہداء کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے ہم سے لگا رکھی ہیں۔ کشمیری شہدا قبر میں بھی اپنے جسموں پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لپیٹ کر اترتے ہیں مگر ہمارے حکمران بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے کشمیری شہدا کے خون سے غداری کررہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اور قوم کی آنکھیں کھولنے کیلئے مودی کا یہ بیان کافی ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے اور یہ بیان اس نے طوطے کی طرح کئی بار دہرایا ہے۔ مودی کشمیر میں ہمارا خون بہا رہا ہے اور پاکستان کے حصہ کا پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر صحراء بنانے کے ایجنڈے پر کار بند ہے۔ کشمیر کے لوگ مزاحمت نہ کرتے تو بھارت اب تک کئی بیراج اور ڈیم بنا چکا ہوتا، موجودہ پنجاب اور سندھ ریگستان کا منظر پیش کررہا ہوتا، کشمیریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان کو سیراب کرنے والے دریاؤں کی حفاظت کی اور پاکستان کو بنجر ہونے سے بچایا۔ پنجاب اور سندھ کی لہلہاتی فصلوں میں پانی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے۔ کشمیری بھارت کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان کے اندر ہزاروں کلبھوشن تخریب کاری کررہے ہوتے۔ پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کیلئے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔کشمیری 26سال سے بھارتی قابض فوج کے ساتھ برسر پیکار ہیں، ہزاروں نوجوان بھارت کے عقوبت خانوں میں اذیت ناک اور انسانیت سوز سزائیں بھگت رہے ہیں، کشمیریوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں، مساجد اور مدارس اور کھیتوں اور کھلیانوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی بجائے تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے، برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں بے انتہاء اضافہ ہوچکا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو یہ ظلم و جبر اور حیوانیت ٹھنڈا نہیں کرسکی۔ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا لیکن اس پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور بھارت کو اس جبر و اتبداد سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے پوری وادی میں کرفیو کا سماں ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں لوگوں کو زخمی اور پیلٹ گنوں سے اندھا کر دیا ہے۔ ایک طرف مودی ہمارا خون بہا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمران اس حد تک گرچکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کے لئے مرے جارہے ہیں، ملک میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی گئی ہے۔ کیا کسی کا ضمیر اتنی گہری نیند بھی سوتا ہے اب تک حکومت کو بھارت سے ہر طرح کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کر دینے چاہئیں تھے۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے نظریہ اور جغرافیہ کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کا جہاد کوئی علاقائی لڑائی یا محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازعہ نہیں بلکہ یہ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے جو کشمیری لڑ رہے ہیں، حکومت پاکستان کو اب منافقانہ رویہ چھوڑ دینا چاہئے، حکومت کشمیریوں کی وکالت کرے یا بھارت سے دوستی نبھائے۔ بھارت ہمارا خون بہارہا ہے آبی دہشت گردی کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے جسے بھارت بار بار جھٹک دیتا ہے۔
بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے 71سال سے جارحیت کررہا ہے مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ قابض فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا۔ اس ہتھیار نے کشمیری نوجوانوں، بچوں اورخواتین کو بینائی سے محروم اور ہزاروں کو زخمی کر دیا۔ بھارت کا مسلسل کرفیو کے ذریعے کشمیری عوام کو مستقل عذاب میں مبتلا رکھنا، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھ کر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا ایسے گھناؤنے جرائم ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری تھا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اور ضروری اقدامات کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ پاکستان ایٹمی قوت اور پاکستانی قوم ایک جرأت مند قوم ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید تحفظات ہیں جن کا اظہار وہ کئی بار کرچکے ہیں۔
مودی اور ٹرمپ کی دھکمیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں، پانچ فروری کو دنیا بھر میں نہ صرف پاکستانی اور کشمیری بلکہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور بھارتی کے ریاستی دہشت گردی کے خلاف امن پسند یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے۔ یہ طے ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا اسے آج یا کل کشمیر سے ذلیل و خوار ہو کر نکلنا پڑے گا۔ مگر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں کیا حصہ ڈالا۔ حکومت نے تو اپنے تین سالہ دور میں کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں بنایا جو کشمیر کے حق میں کسی عالمی فورم پر آواز بلند کرتا، میں اب بھی حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ وہ کشمیر میں بھارتی غاصب فوج کی بربریت کا شکار ہونے والے کشمیریوں کے لیے ایک نائب وزیر خارجہ ہی مقرر کر لیں جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کرے۔ حکومت پاکستان کو کشمیریوں کے لیے ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کرنا چاہئے تاکہ ہزاروں زخمیوں کے علاج معالجے کا کوئی انتظام کیا جاسکے۔ اقوام متحدہ نے بھارتی ظلم و جبر پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ جبکہ اسی یو-این-او نے مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان اور پاکستان کو دولخت کرنے میں بڑی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ کشمیر پر اقوام متحدہ اندھی بہری اور گونگی ہو چکی ہے۔ ہم نے گزشتہ سال مظفر آباد سے چکوٹھی تک کشمیرمارچ میں اعلان کیا تھا کہ ہم لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے اور اس دیوار برلن کو ایک دن گرا کر دم لیں گے۔ بھارت دونوں طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا راستہ کشمیر سے گزرتا ہے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے نہیں بڑھتا تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم بھارت کے گلے میں بانہیں ڈالتے پھریں۔ پوری دنیا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو مانتی ہے جس کی بنیادی وجہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں حالیہ بحث اور قرارداد ایک اہم پیش رفت ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کو اُن کی امنگوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے بھارتی جبر و تسلط سے آزادی نصیب ہوگی اور وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔