October 30th, 2020 (1442ربيع الأول14)

اہل کشمیرسے یک جہتی اور بیوفائی کی داستان

متین فکری

پانچ فروری آتا ہے تو بے اختیار قاضی حسین احمد یاد آجاتے ہیں۔ اس دن کو یوم یک جہتی کشمیر کے طو ر پرمنانے کا اعلان قاضی صاحب نے کیا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب افغاستان میں سابق سوویت یونین کی ذلت آمیز شکست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جہاد کا غلغلہ بلند ہوچکا تھا اور کشمیری نوجوان بھارتی استعمار کے خلاف جذبہٓ شہادت سے سرشار ہوکر میدان میں نکل آئے تھے۔ قاضی صاحب اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت کرے، کشمیر کی آزادی کے لیے بھی اُتنے ہی پُرجوش اور کمٹڈ تھے جتنے افغانستان کے بارے میں اپنی جوانی کے ایام میں تھے۔ کشمیر ان کے دل میں بستا تھا اور ان کے آنکھوں میں کشمیر کی آزادی کا خواب جھلک رہا تھا چنانچہ جب کشمیر میں جہادِ آزادی کی صدا گونجی اور کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جہاد کی تربیت حاصل کرنے کے لیے کنٹرول لائن عبور کر کے آزاد کشمیر آپہنچی تو قاضی صاحب نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا اور پانچ فروری کو ان کے ساتھ یوم یک جہتی منانے کا اعلان کیا۔ اس وقت پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی۔ پہلا یومِ یک جہتی کشمیر تو جماعت اسلامی نے اپنے امیر کی ہدایت کے مطابق ملک گیر سطح پر اپنے وسائل سے منایا اور کنٹرول لائن سے لے کر آزاد کشمیر اور پاکستان کے تمام شہروں میں اہل کشمیر سے اظہار یک جہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر منانے کی روایت قائم کی لیکن اگلے سال نواز حکومت نے اس دن کو سرکاری طور پر اپنالیا۔ قومی تعطیل کا اعلان کیا گیا اور حکمران جماعت سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں، تعلیمی ادارے، بچے، بوڑھے، مرد، خواتین سبھی اس دن کو منانے میں شامل ہو گئے۔ کئی سال گزر گئے یہ روایت آج بھی قائم ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم اہل کشمیر کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ ان کے حق آزادی کے لیے متحدہ یک جان ہے اور کسی حال میں بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔

اہل کشمیر کے ساتھ پاکستانی قوم کی یک جہتی بے مثال ہے لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی کلام نہیں کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیر کازکو نقصان پہنچانے اور کشمیریوں کی جدوجہد اور ان کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کشمیر کی تاریخ ان حماقتوں اور بے وفائیوں سے بھری ہوئی ہے۔ سب سے پہلی حماقت، جس کے بڑے اثرات کشمیری اور پاکستانی آج تک بھگت رہے ہیں کشمیر میں جنگ بندی کو قبول کرنا تھا۔ واقعات شاہد ہیں کہ قبائلی مجاہدین فتح کا پرچم لہراتے ہوئے سری نگری کے قریب پہنچ گئے تھے اور کشمیر کی آزادی چڑھتے سورج کی طرح نظر آرہی تھی کہ بھارت جنگ بندی کی اپیل لے کر اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور پاکستانی حکمرانوں نے اسے قبول کیا حالاںکہ یہ کام سری نگر پر قبضے کے بعد بھی ہوسکتا تھا۔ پھر 1962میں ایک موقع ایسا آیا جب چین نے بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ چینی وزیراعظم مسٹر چوائن لائی نے پاکستانی حکمران جنرل ایوب خان کو پیغام بھیجا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی کاروائی کرکے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کے قبضے سے چھڑالیں لیکن وہ امریکا و برطانیہ کی چال میں آکر بزدلی کا مظاہرہ کرگئے اور کشمیری آزادی سے محروم رہے۔ پھر اس کے بعد تو کشمیر کاز سے بے وفائی پاکستانی حکمرانوں کا وتیرہ بن گیا۔ بھٹو نے اپنی سیاست کی بنیاد ہی کشمیر ایشو پر رکھی۔ کشمیر کی آزادی کے لیے ایک ہزار سال تک لڑنے کا اعلان کیا لیکن شملہ میں اندرا گاندھی کے آگے گھٹنے ٹیک کر آگئے۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنھبالا تو وہ افغان جہاد میں الجھ کر رہ گئے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ایک قدم بھی نہ اٹھاسکے۔ ان کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی سول حکومتیں آئیں لیکن کشمیر کے محاذ پر ان کی کارکردگی بھی صفر رہی۔ جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کی حیثیت سے کارگل میں مہم جوئی کی لیکن عالمی سطح پر پاکستان کو شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا پھر جب وہ نواز حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے تو مسئلہ کشمیر کے آگے لیٹ گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی حکمران اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے حل پر اصرار کررہا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی زنبیل میں مسئلہ کشمیر کے ایک نہیں پانچ چھ حل تھے جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا کوئی ذکر نہ تھا بس بھارت کی خوش نودی سے سرحدوں میں کچھ ردوبدل تجویز کیا گیاتھا۔ اس مقصد کے لیے سیاسی فضا ہموار کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان دوستی بس کا اجراء بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ پرویز مشرف کی خواہش تھی کہ مقبوضہ کشمیر سے حریت قائدین پہلی بس میں بیٹھ کر مظفر آباد آئیں تا کہ بھارت کو ایک مثبت پیغام ملے اور انہوں نے مسئلہ کشمیر کا جو ’’ آؤٹ آف باکس‘‘ حل تجویز کیا ہے اسے پزیرائی حاصل ہو۔ اس وقت تک حریت کانفرنس دو حصوں میں نہیں بٹی تھی۔ سیدعلی گیلانی ہی اس کے متفقہ چیئرمین تھے اس لیے سارا زور اس بات پر تھا کہ گیلانی صاحب بس کے ذریعے ضرور براستہ مظفر آباد پاکستان آئیں۔ جماعت اسلامی کے اکابرین بھی اس بات کے حق میں تھے کہ گیلانی صاحب کو پاکستان آنا چاہیے اس سے تحریکِ آزادی کی پزیرائی ہوگی۔ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین بھی گیلانی صاحب کے حضور اپنی جدوجہد کا گوشوارہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان سب لوگوں نے گیلانی صاحب پر پاکستان آنے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن ان کی بدقسمتی کہ درمیان میں ایک سینئر صحافی کا خط حائل ہو گیا جو انہوں نے گیلانی صاحب  کو لکھا تھا اور جس میں یہ موقف پیش کیا تھا کہ دوستی بس تحریکِ آزادی کے اصولی موقف کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے اس لیے آپ اس کو توثیق نہ کریں۔ گیلانی صاحب نے یہ خط حریت کانفرنس کی شوریٰ میں پڑھ کر سنایا اور شرکائے اجلاس سے رائے طلب کی سب نے صحافی کے موقف کی تائید کی اور گیلانی صاحب نے دوستی بس کے ذریعے پاکستان نہ آنے کا اعلان کردیا۔ آخری چارہ کار کے طور پر ان حضرات نے قاضی صاحب سے رجوع کیا انہیں گیلانی صاحب کے مجوزہ دورۂ پاکستان کی اہمیت گوش گزار کی اور درخواست کی کہ وہ گیلانی صاحب پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ گیلانی صاحب کے پاس پاکستان نہ آنے کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو انہیں مجبورنہ کریں وہ تحریک آزادی کشمیر کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ بعد میں حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ گیلانی صاحب کا موقف درست تھا۔

پرویز مشرف کے بعد زرداری آئے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر آئندہ نسلوں تک منجمد کرنے کی تجویز پیش کردی اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا۔ اب نواز شریف کی حکومت آئی ہے تو وہ بھی کشمیریوں سے بے وفائی کی یہی داستان دہرارہی ہے۔ نواز شریف بھارتی وزیر اعظم کی ناراضی کے ڈر سے کشمیری لیڈروں کے ساتھ ملاقات کے بھی روادار نہیں۔ بے شک پاکستانی قوم اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یک جہتی میں مخلص ہے لیکن پاکستانی حکمران؟ ان کا عمل خود گواہی دے رہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں کہاں کھڑے ہیں!