April 24th, 2018 (1439شعبان8)

عام انتخابات، ووٹر لسٹیں اور عقیدہ ختم نبوت

اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ
ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا وقت قریب آرہا ہے۔ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کا معاملہ اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ تاہم انتخابات اور عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے بھی ایک اہم معاملہ زیرِ بحث ہے۔ نئی آئینی ترمیم میں امیدواروں کے حلف نامے میں تبدیلی اور پھر اس کی بحالی کے بعد یہ مسئلہ ابھی حل اور ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے اندر سقم موجود ہے اور عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان اور یقین کے اظہار کے حوالے سے قوانین اور دفعات کو ابھی نئے الیکشن آرڈر 2017 میں شامل کیا جانا باقی ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں چند حقائق اور گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔ جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کو درست کیے بغیر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
نئی ترامیم اور الیکشن ایکٹ 2017 سے قبل ملک میں انتخابات سے متعلق 8 قوانین رائج تھے۔ جو یہ ہیں (1)دی الیکٹرول رولزایکٹ 1974 (2) دی ڈی لمیٹیشن آف کانسٹی ٹیوئنسیز ایکٹ 1974۔ (3) دی سینٹ (الیکشن) ایکٹ 1975 (4) دی ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ 1976۔ (5) دی الیکشن کمیشن آرڈر2002 (6) دی کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر (7)–2002 دی پولیٹکل پارٹیز آرڈر –2002 (8) دی الوکیشن آف سمبلز آرڈر 2002
حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ وہ ان تمام قوانین کو یکجا کرکے مربوط قانون بنا دیں۔ کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے بالآخر الیکشن ایکٹ 2017ء پاس ہوگیا اس قانون کی آخری دفعہ 241 مذکورہ بالا آٹھ قوانین کی منسوخی (Repeal) سے متعلق ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے پاس ہوتے ہی عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے دو غلطیوں کی نشاندہی ہوئی جس پر ملک بھر میں شدید تشویش پیدا ہوئی اور عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ایک غلطی یہ سامنے آئی کہ پرانے قوانین کے مطابق کسی بھی الیکشن کے لیے جس آدمی کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ نامزد کرتے ہیں وہ ایک حلف نامہ والا فارم بھر کر اس پر دستخط کرتا ہے اس میں تین الگ الگ حلف ہیں جن میں سے ایک حلف اس کے کوائف کے متعلق ہوتا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
1. I-the above mentioned Candidate, hereby declare on oath that ______
دوسرا حلف عقیدہ ختم نبوت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
2. I-the above mentioned Candidate solemnly swear that______
اور تیسرا حلف بینک کے قرضہ جات اور بینک کے نادہند نہ ہونے کے متعلق ہوتا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
3. I here by solemnly declare to the best of my knowlege and belife that_________
نئے قانون الیکشن ایکٹ 2017ء میں جو اقرار نامہ دیا گیا ہے اس کا متن اس طرح ہے:
DECLARATION ON BY THE CANDIDATE
1. I,_______(nominated Candidate), hereby declare that _____________
نئے قانون کے فارم میں صرف ڈکلیئر کا لفظ لکھا ہوا ہے اور ’’حلف‘‘ حذف کردیا گیا نیز پہلے والے فارم میں درج تین حلف کو ختم کردیا گیا اور صرف ایک دفعہ ڈکلیئر لکھا گیا۔
اس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم منظور کر کے سابقہ فارم مع تینوں حلف کو من و عن بحال کردیا گیا ہے اس طرح یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ پرانے قانون The Conduct of General Election Order 2002 کی دفعات 7B اور 7C کو نئے قانون (الیکشن ایکٹ 2017) میں شامل نہیں کیا گیا۔ دونوں دفعات 7B اور7C عقیدہ ختم نبوت سے متعلق ہیں۔
پاکستان میں انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ دو طرح کی ہوتی ہیں ایک مسلمانوں والی ووٹر لسٹ Joint Electoral Rolls)) اور دوسری غیر مسلم والی ووٹر لسٹ (Supplemenlary list of Voters) ہے مذکورہ بالا دفعات میں سے دفعہ 7B مسلمانوں والی ووٹر لسٹوں میں اندراج کروانے اور دفعہ 7C مسلمانوں والی ووٹر لسٹ کی درستی یعنی مسلمانوں والی ووٹر لسٹ میں سے قادیانیوں کے ناموں کو نکالنے کے طریقہ کار کے لیے ہے۔ دفعہ 7B کا متن یہ ہے۔
[7B. Status of Ahmadis etc. to remain unchanged___Not with standing anything contained in the Electoral Rolls Act, 1974(XXI of 1974), the Electoral Rolls, Rules, 1974, or any other law for the time being in force, including the Forms prescribed for preparation of electoral rolls on joint electorate basis in pursuance of Aricle 7 of the Conduct of General Election Order,2002 (Chief Executive’s Order No.7 of 2002), the status of Quadiani Group or the Lahori Group (who call themselves ‘Ahmadis’ or by any other name) or a person who does not believe in the absolute and unqualified finality of Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the last of the prophets or claimed or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever , after Muhammad (peace be upon him) or recongnizes such a claimant as a Prophet or religious reformer shal remain the same as provided in the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973.
اس دفعہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلم ووٹر لسٹ میں نام لکھوانے کے لیے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء کی دفعہ 260 کی ذیلی دفعہ 3 کی شق (a) کے مطابق عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ دینا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دفعہ 7Bقادیانیوں کے لیے مسلمانوں والی ووٹر لسٹ میں نام لکھوانے میں سب سے بڑی اور نہایت مؤثر رکاوٹ ہے دفعہ7Bکا عنوان ’’احمدیوں وغیرہ کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘‘ (مفہوم) ہی عقیدہ ختم نبوت کے لیے کافی ہے۔

دفعہ 7C کی کا متن یہ ہے۔
7C____If a person has got himself enrolled as voter and objection is filed before the Revising Authority notified under the Electoral Rolls Act, 1974, within ten days from issuance of the Conduct of General Election (Second Amendment) Order, 2002, that such a voter is not a Muslim, the Revising Authority shall issue a notice to him to appear before it within fifteen days and require him to sign a declaration regarding his belief about the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) in Form-IV prescribed under the Electoral Rolls Rules,1974. In case he refuses to sign the declaration as aforesaid, he shall be deemed to be a non-Muslim and his name shall be deleted from the joint electoral rolls and added to a supplementary list of voters in the same electoral area as non-Muslim. In case the voter does not turn up in spite of service of notice, an ex-parte order may be passed against him.]
حلف نامہ و اقرار نامہ
میں حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبین محمد ؐ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا/ رکھتی ہوں۔ اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں۔ جو سیدنا محمد ؐ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو۔ اور نہ ہی میں ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں۔ نہ ہی میں قادیانی گرپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا /رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔
اس دفعہ کا تعلق دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 پاکستان کی دفعہ 260 کی ذیلی دفعہ 3 کی شق (b) میں درج غیر مسلموں کی تعریف پر عمل درآمد سے ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی قادیانی یا احمدی وغیرہ کسی طرح اپنا نام مسلمانوں والی ووٹر لسٹ میں لکھوا دے تو اس کو نکالنے کے لیے دفعہ 37C مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے اور واضح طور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نوٹس کے باوجود وہ پیش نہ ہو تو اس کے خلاف Exparte آرڈر پاس ہوسکے گا یعنی کوئی قادیانی یا احمدی وغیرہ مسلمانوں والی ووٹر لسٹ میں اس کے لکھے ہوئے نام کے معاملہ کو غیر معین مدت کے لیے لٹکا کر نہ رکھ سکے گا۔ ووٹر لسٹ ایک بنیادی دستاویز ہے جو شناختی کارڈ و پاسپورٹ بنوانے اور ملازمت و ڈومیسائل کے حصول سمیت بے شمار معاملات میں اہم شہادت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اس لیے قادیانی یا احمدی اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ملک کے اندر اور ملک سے باہر استعمال کرسکتے ہیں۔ جس کی مؤثر رکاوٹ مذکورہ دفعات 7B اور 7C ہی ہیں۔ حکومت نے دینی جماعتوں کے دباؤ اور عوام کے غیظ و غضب کے نتیجہ میں الیکشن ایکٹ 2017ء میں اس طرح ترمیم کی ہے جو قادیانیوں یا احمدیوں وغیرہ کے مفاد میں ہے۔ حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017ء کی آخری دفعہ 241 کی ذیلی دفعہ 2 (f) میں درج الفاظ کے آخر میں اضافہ کیا کہ ’’ماسوائے دفعہ 7B اور 7C ‘‘ یعنی اس طرح کی عبارت وجود میں آئی کہ سابقہ قانون دی کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر 2002 منسوخ (Repeal) ہوگیا ماسوائے دفعہ 7B اور 7C اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک طرف جب کوئی آدمی الیکشن ایکٹ 2017ء کی کتاب میں دیکھے گا یا انٹرنیٹ پر دیکھے گا تو مذکورہ دفعات کا متن کہیں نظر نہیں آئے گا حالاں کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں انتخابات سے متعلق باب چہارم کی دفعات23 تا دفعہ 49 موجود ہیں ووٹرلسٹ کے مختلف پہلوؤں پر قانون سازی موجود ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت کے متعلق کوئی دفعہ موجود نہیں ہے جو قادیانیوں / احمدیوں کے لیے خوش ہونے کا ذریعہ ہے کیوں کہ رکاوٹ والی دفعات 7B اور 7C الیکشن ایکٹ 2017ء کا حصہ نہیں ہیں۔ دوسری طرف موجودہ ترمیم کے بعد دفعات 7B اور 7C صرف ایک صفحہ کا قانون بن گیا ہے جو کون چھاپے گا؟ کہاں ملے گا؟ اس طرح عقیدہ ختم نبوت کے متعلق ان دونوں دفعات کو ایک طرح اندھے کوئیں میں پھینک دیا گیا ہے یا بالکل بے اثر کر دیا گیا ہے جس سے مذکورہ دونوں دفعات بحال ہونے کے باوجود قادیانیوں / احمدیوں کے راستہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔
حقیقت میں ضرورت اس بات تھی کہ مذکورہ دونوں دفعات 7B اور 7C کے مؤثر نفاذ کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کا باقاعدہ حصہ بنایا جاتا۔ جس کے لیے ان دونوں دفعات کو الیکشن ایکٹ 2017ء میں نئی دفعات متعین (allot) کی جائیں نیز اس کے متعلق سابقہ رولز اور فارم IV سمیت تمام فارموں کو بحال رکھا جائے۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی وجہ سے قانون سازی یا ترمیم غیر مؤثر ہوگئی ہے۔ تمام دینی حلقوں، آئین و قانون کے ماہرین اور پاکستان کے ہر شہری کا مطالبہ ہے کہ: عقیدہ ختم نبوت کے معاملے پر حکومتی غلط بیانی اور گمراہ کن اشتہار بازی کو ختم کیا جائے۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں پرانی دفعہ 7B کو نئی دفعہ 37A اور پرانی دفعہ 7C کو نئی دفعہ 37B کے طور پر شامل کیا جائے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ان دونوں پرانی دفعات 7B اور 7C پر عمل درآمد والے سابق رولز اور فارم IV کو نئے رولز اور فارم کا حصہ بنا کر بحال رکھا جائے۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں غلطی پر غلطی سرزد ہونے پر اللہ تعالیٰ اور قوم سے معافی مانگی جائے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء میں مذکورہ بالا ترامیم بغیر کسی تاخیر کے فوراً کی جائیں۔