August 19th, 2017 (1438ذو القعدة26)

خوشحال پاکستان فنڈ مہم

افشاں نوید

وقت کی لوح پر ایک تاریخ رقم ہورہی ہے۔ وہ جن کے ہاتھ میں اللہ نے قومی خزانے دیے، انہوں نے اسے مالِ یتیم سمجھ کر ہڑپ کرلیا۔ کھربوں کی کرپشن تیسری دنیا کے اس ملک میں جس کی پیشانی پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا ہے۔ شب قدر کی رات کو ملا ہوا قدرت کا ان مول تحفہ، چار موسموں کی سرزمین، دریاؤں اور سمندروں کا مسکن، دنیا کے بَلند و بالا پہاڑ اور چوٹیاں، سونا اُگلتی زمین، معدنیات کے نہ ختم ہونے والے خزانوں کی دولت اپنے سینے میں چھپائے، عظیم بندرگاہوں اور حسین قدرتی مناظر سے تراشا ہوا یہ شاہکار خطۂ وطن، جہاں سیّاحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، بہترین انسانی دماغ اور نہ تھکنے والے بازو، دنیا میں جہاں بھی گئے، اپنے وطن کا سر فخر سے بَلند کر دیا مگر شومئی قسمت کہ پاک لوگوں کی اس پاک سرزمین کو حکم راں ایسے ملے کہ جن کے کرپشن کی داستانیں دنیا میں زبانِ زد عام ہوئیں۔ وزیر اور میئر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار، سب ایک تھالی کے چٹے بٹے، ایک دوسرے کے پشتیبان۔ حکم راں ٹولے پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا، ایوان زیریں و بالا ہاؤس ٹریڈنگ کے استعارے بن گئے۔

شاہراہِ دستور سے ایک آواز بلند ہوئی، جس کی گونج شرق و غرب میں سنی گئی کہ ’’اگر دفعہ 62 اور 63 لاگو ہو تو ایوانِ نما زندگان میں سوائے سراج الحق کے کوئی بھی نہ بچے گا‘‘۔

اس مبنی پُرحقیقت اعتراف کا کئی جہتوں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ یہ اعتراف بجائے خود ایک آئینے کی مانند قوم کے سامنے آیا کہ وقت ہے اجتماعی محاسبے کا کہ کیسے حکم رانوں کو قوم منتخب کرتی رہی؟ اللہ کے نبیؐ کی حدیثِ مُبارکہ ہے کہ مومن کو ایک ہی سُوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا۔۔۔جب کہ ایک ہی سُوراخ سے بار بار ڈسی ہوئی قوم جو خود ننگ، بھوک، افلاس، لوڈ شیڈنگ، ملاوٹ اور کرپشن کی ماری ہوئی ہے، مگر افسوس کہ اپنے حکم رانوں کی شاہ خرچیاں برداشت کرتی ہے، بار بار اندھا اعتماد کرتی ہے ان حکمرانوں پر، جنہوں نے کبھی بھی اس کی خیر خواہی کا ثبوت نہیں دیا۔ دوسری طرف وہ لوگ، عدالتوں میں جن کی امانت و دیانت کے چرچے ہورہے ہیں، لوگ جن کی شرافت دیا ک بازی کی گواہیاں دیتے ہیں، مگر ایوانِ اقتدار سے انہیں دور ہی رکھتے ہیں۔ اس میں انتخابی نظام کا شفاف نہ ہونا بھی ایک پہلو ہے اور عوام کی فکری تربیت کا نہ ہونا دوسرا پہلو۔ بڑا طرح دار ہے ہمارا یہ سماج، جہاں لوگ مسجد کے پیش امام سے عقیدت تو رکھتے ہیں، مسجد کی صفائی اور صفوں کی فراہمی کا بھی خیال رکھتے ہیں، اس کے تقدس میں کمی نہیں آنے دیتے، مگر مسجد سے تعلق نجی خوشی اور تہواروں کی حد تک ہی رکھتے ہیں۔ اپنے درمیان نیک اور صلاح لوگوں کو برکت کے طور پر قبول کرتے ہیں، مثلاً مسجد نہ ہو تو نومولود کے کان میں اذان کون دے گا؟ نکاح کون پڑھائے گا؟ جنازے کی تکبیریں کون کہے گا؟ جھاڑ پھونک کے کام کون آئے گا؟ اذان اور خطبہ کے لیے مسجدوں کو آباد رہنا چاہیے، اس لیے کہ تقدس کی علامت ہیں۔ جیسے درگاہیں تقدس کی علامت ہیں، قاری اور نعت خواں اکرام کا استعارہ ہیں، نیک لوگوں کو نیکیاں کرنی چاہئیں ورنہ زمین زلزلوں سے ہلا ماری جائے گی، سیلاب ہو یا زلزلہ یا دیگر قدرتی آفات، ان نیک لوگوں سے بہت توقعات وابستہ ہوتی ہیں، اس لیے کہ وہ ہمیشہ بفضل تعالیٰ ان توقعات کو پورا کرتے رہے ہیں۔ وہ خدمت کے کام بھی بلا تفریق رنگ و نسل کرتے ہیں۔۔۔ وہ لوگوں کو مایوسی سے امید کی طرف بلاتے ہیں، لوگوں سے پیسا لیتے اور انہی پر خرچ کرتے ہیں اور پائی پائی کا حساب رکھتے ہیں۔ کتنا مشکل ہے امانتوں کا بوجھ اٹھانا، اس کو مستحقین تک پہچانا اور جواب میں معاشرے سے کسی صلہ کی توقع نہ کرنا۔۔۔جہاں سب کچھ خدا کا ہو اور بندگان خدا کی بھلائی کے لیے وقف ہو اس میں نہ شیطان کا کوئی حصہ ہو نہ قیصر کا۔۔۔!!

لوگوں سے امانتیں طلب کی جا رہی ہیں تاکہ اس بوجھل غموں کی ماری قوم کا کچھ بوجھ ہلکا ہوجائے۔ ایک اجتماعی اتفاق ہمارے اجتماعی گناہوں کا کفارہ بن جائے۔ اور لوگوں کے لیے یہ گواہی بھی قائم ہوجائے کہ اگر عوام کے اموال ان کی فلاح پر خرچ کیے جائیں تو کبھی وہ خطِ غربت کی لکیر کے نیچے سسکتے ہوئے نہ پائے جائیں۔ یہاں نہ سوئس اکاؤنٹ ہیں، نہ آف شور کمپنیاں، نہ قطری شہزادوں کے تحفے میں دیے ہوئے محل، عوام سے قطرہ قطرہ وصول کیا جاتا ہے اور ان فصلوں میں لگادیا جاتا ہے، جہاں ایک دانے سے سو بالیں نکلتی ہیں اور اس اخلاص عمل کی شاخیں زمین سے بَلند ہو کر فضا تک جاتی ہیں اور ان کی سرسبزی اور شادابی دیکھنے والوں کے دل سرشار کردیتی ہے۔ یہاں خفیہ کوئی اکاؤنٹ نہیں، برسرعام جھولی پھیلائی جاتی ہے عوام کے سامنے کہ خیر کی قوتوں کا ساتھ دے کر معاشرے سے شَرکا بوجھ کچھ تو کم کریں، اللہ کے ہاں محبت قائم ہوسکے کہ اس سماج میں خیر کا ساتھ دینے والے اتنی تعداد میں موجود ہیں۔

سامری نے قوم سے اس کے زیور لیے اور اسے معبود کی شکل میں لوٹا دیے۔ آج قوم کی امانتیں سرے محلوں اور آف شور کمپنیوں میں کسی مرکھنے بَچھڑے کی طرح ہنہنارہی ہیں، وقت نے صرف معبودوں کی شکلیں بدلی ہیں۔۔۔لیکن لوگوں کی امانتیں اگر صحیح ہاتھوں میں جائیں تو ان کو حقیقی معبود سے ملانے کا وسیلہ بن سکتی ہیں۔ معاشرے فطرتاً شَرپسند نہیں ہوتے، مگر بے فکر قوم کی باگیں بے فکر قیادت کے ہاتھوں میں آجائیں تو اسی طرح کے معاشرتی فساد پیدا ہوا کرتے ہیں۔

ایک فاسد نظام کو کوسنے سے اس کا تسلط ختم نہیں ہوسکتا۔ ایک صحیح نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوتا ہے اور جسم و جان کی قوتیں بھی۔ اگر صحیح نظریہ کی پشت پر صادق الایمان لوگوں کی جماعت نہ ہو تو نظریہ کیسا ہی اعلیٰ پائے کا کیوں نہ ہو، زمین میں جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: زمین اتنی حقیقت پسند ہے کہ جب تک کسان اپنے جبر سے، اپنی محنت سے، اپنے بہتے ہوئے پسینے سے اور اپنی جفاکشی سے اس پر اپنا حق ثابت نہیں کردیتا، وہ لہلہاتی ہوئی کھیتی اُگلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ سرزمین بھی بڑی حقیقت پسند ہے اور ہم سے گواہی طلب کر رہی ہے، کیوں کہ تاریخ عالم یہ گواہی ثبت کرچکی ہے کہ ایک سچی اور دیانت دار قیادت ہی قوم کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری جماعت (جماعت اسلامی کے حق میں پلڈاٹ کے تجزیے کی گواہی) ہی روشنی کے سفر کی طرف گامزن کرسکتی ہے۔

امیر جماعت محترم سراج الحق پاکستان بھر کے گلی کوچوں میں عوام کو پکار رہے ہیں، خوش حال پاکستان کی تعمیر کے لیے:

محترم، بزرگو، بھائیو، بہنو، السلام علیکم

میں اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے سلامتی و رحمت اور برکت کا طلب گار ہوں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ (البقرہ 267)

پاکستان طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں اس قوم کو عطا کیا گیا۔ قوم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ ایک ایسی اسلامی ریاست قائم کریں گے، جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے اسلام، ترقی اور خوش حالی کا ماڈل ثابت ہو، مگر 70 برس گزر جانے کے باوجود یہ خواب اپنی تعبیر سے محروم ہے۔ قوم کو گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کرکے نفرتوں اور عصبتیوں کو پروان چڑھایا گیا، حکم رانوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پاکستان کو مالیاتی، نظریاتی، انتخابی اور عدالتی کرپشن سے اس طرح آلودہ کردیا کہ تعلیم، صحت، انصاف اور امن و امان فراہم کرنے والے تمام ادارے اپنی بدحالی کا منہ بولتا ثبوت بن چکے ہیں۔

پاکستان دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال خطّہ ہے۔ سونا اُگلتی زمین سونے، تانبے، لوہے، کوئلے، دیگر معدنیات، قدرتی گیس کے ذخائر، تیل کے چشمے، ایٹمی قوت، شان دار محل وقوع۔۔۔ سب سے بڑھ کر پاکستان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قربان ہونے والے 20 کروڑ انسانوں کا مسکن ہے، مگر یہ ہماری بدقسمتی کہ ملک کو آج تک مخلص، باکردار اور حرارت مند حکم راں نہ مل سکے۔ عوام بدحال ہیں اور حکم راں خوش حال۔ اپنی حکم رانوں کی شاہ خرچیوں کی بنا پر پاکستان 145 کھرب روپے کا مقروض ہے۔ گویا، ہر پاکستان ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ کرپٹ حکم رانوں نے قومی خزانے سے 600 کھرب روپے لوٹ کر بیرون ملک اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کروا دیے ہیں، کرپشن کے بڑے بڑے 150 اسکینڈلز ملکی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔

جماعت اسلامی ملک میں اسلام کے پاکیزہ، بابرکت اور شان دار نظام کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور مسلمان کو ہر قسم کے ظلم، زیادتی، بدامنی، ناانصافی، لُوٹ مار اور کرپشن سے پاک کرکے پاکستان کا نظام دیانت دار مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھ میں دنیا چاہتی ہے۔ جماعت کی دینی، سماجی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ملکی حالت اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت، پاکستان کو مسائل کے چنگل سے نجات دلائے۔ جماعت اسلامی عوام کی پارٹی ہے اور پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے اللہ کی تائید و نصرت کے بعد یہ عوام ہی کے وسائل اور اعتماد پر یقین رکھتی ہے۔ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور غیر ملکی طاقتوں کے کٹھ پتلی حکم رانوں سے نجات کے لیے جماعت اسلامی عوام کودعوت دیتی ہے، اس قومی جدوجہد میں ہمیں آپ کا اعتماد اور مالی تعاون چاہیے۔ پاکستان کو ہر قسم کی کرپشن، لوٹ مار، ظلم، غُربت، جہالت، مہنگائی، بے روزگاری، خوف اور ناانصافی سے پاک کرنے اور اسے ایک باوقار، اسلامی، خوش حال ملک بنانے کے لیے ہمارا ساتھ بیٹھیے اور خوش حال پاکستان فنڈ‘‘ میں حصہ ڈال کر اس عظیم جدوجہد کے ہر اول دستے میں شامل ہوجائیے۔

رب کریم ہماری کوششوں کو قبول فرمائے (آمین)!

اسلامی پاکستان، خوش حال پاکستان

والسلام سراج الحق