November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

اقبال کی شخصیت کا امتیازی پہلو

مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی

ایمان ویقین ‘ اقبال کا سب سے پہلا مربی اور مرشد ہے اور یہی اس کی طاقت وقوت اور حکمت وفراست کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ لیکن اقبال کا وہ یقین وایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے، بلکہ اقبال کا ’یقین ‘ عقیدۂ ومحبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب وجدان ، اس کی عقل وفکر ، اس کے ارادہ وتصرف ، اس کی دوستی ودشمنی ، غرض یہ کہ اس کی ساری زندگی پر چھایا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت شدید الایمان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی محبت ، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجے کا تھا۔ اس لیے ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندۂ جاوید دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح وسعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی ۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم رُشد وہدایت کے آخری مینار ، نبوّت ورسالت کے خاتم اور مولاے کُل ہیں   ؎

وہ دانائے سُبل ختُم الرّسل، مولاے کُل جس نے

غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سِینا  

اس دورِ مادّیت اور مغربی تہذیب وتمدن کی ظاہری چمک دمک سے اقبال کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں ۔ حالاںکہ اقبال نے جلوۂ دانشِ فرنگ میں زندگی کے کئی ایک طویل ایام گزارے ۔ اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقبال کی والہانہ محبت ، جذبۂ عشق اور روحانی اتصال تھا۔ بلاشبہہ ایک حُبِ صادق اور عشق حقیقی ہی قلب ونظر کے لیے اچھا محافظ اور مشعلِ راہ بن سکتا ہے   ؎

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ!

سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

_____

عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں مَیں

کہ مَیں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل ؑ

_____

رہے ہیں، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک

مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِبیضا

_____

عجب کیا گر مہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں

کہ برفتر اکِ صاحب دولتے بستم سرِ خُود را

 علامہ اقبال نے اپنی کتاب اسرارِ خودی  میں ملّت اسلامیہ کی زندگی کی بنیادوں اور  ان ستونوں کے ذکر کے سلسلے میں جن پر تاحیات ملّت اسلامیہ موقوف ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے روحانی تعلق ، دائمی اتصال اور اپنی فدا کارانہ محبت کا بھی ذکر کیا ۔ جب وہ اللہ کے نبیؐ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے اور مدحیہ اشعار اُبلنے لگتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے محبت وعقیدت کے چشمے پھوٹ پڑے ہوں۔ اس سلسلے میں چند اشعار پیش خدمت ہیں جن سے اقبال کے محبت بھرے جذبات کا قدرے اندازہ ہو گا:

در دلِ مسلم مقامِ مصطفےٰؐ است

آبروے ما زنام مصطفےٰؐ است

بوریا ممنونِ خوابِ راحتش

تاجِ کسریٰ زیر پاے اُمتش

درشبستانِ حِرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید

ماند شبہا چشمِ او محرومِ نوم

تا بہ تختِ خسروی خوابید قوم

وقتِ ہیجا تیغِ اَو آہن گداز

دیدۂ او اشکبار اندر نماز

٭حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام، مسلمان کے دل میں ہے، اور حضوؐر ہی کے نام سے ہماری آبرو ہے۔ ٭آپؐ خوابِ رحمت کے لیے بوریا کو ممنون فرماتے (دوسری طرف) آپؐ کی اُمت نے کسریٰ کا تاج پائوں تلے روند ڈالا۔ ٭آپؐ نے شبستانِ حرا کی خلوت اختیار فرمائی، اور (ایک نئی) ملّت، نیا آئین اور (نئے انداز کی) حکومت وجود میں لائے۔ ٭آپؐ نے کئی راتیں بے خوابی میں گزاریں، تب کہیں جاکر آپ کی اُمت نے تخت خسروی پر آرام پایا۔ ٭جنگ کے دوران میں آپؐ کی تلوار لوہے کو بآسانی کاٹ کے رکھ دیتی، نماز کے دوران آنجنابؐ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتیں۔

جوں جوں زندگی کے دن گزرتے گئے، اقبال کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت و اُلفت بڑھتی ہی گئی۔ یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا یا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا، تو اقبال بے قرار ہو جاتے ، آنکھیں بھر آتیں، یہاں تک کہ آنسو رواں ہو جاتے ۔ یہی وہ گہری محبت تھی جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں   ؎

مکن رسوا حضورِ خواجہؐ ما را

حسابِ من ز چشمِ او نہاں گیر

(اس دن مجھے میرے آقاؐ کے سامنے رُسوا نہ کرنا، میرا حساب لینا، مگر آپؐ کی نگاہ سے پوشیدہ۔)

محبت وعقیدت کا یہ شعر کتنا اچھا مظہر ہے۔

دراصل علامہ اقبال کا یہی وہ ایمان کامل اور حُبّ ِ صادق تھی جس نے اقبال کے کلام میں جوش ، یہ ولولہ، یہ سوز وگداز پیدا کر دیا۔ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ دراصل رقیق شعر ، عمیق فکر ، روشن حکمت ، بلند معنویت ، نمایاں شجاعت ، نادر شخصیت ، اور عبقریت کا حقیقی منبع وسرچشمہ محبت ویقین ہی ہے ۔ اور تاریخِ عالم میں جو کچھ بھی انسانی کمالات یا دائمی آثار ونشانات نظر آتے ہیں وہ سب کے سب اسی محبت ویقین کے مرحونِ منّت ہیں۔ اگر کوئی شخصیت یقین ومحبت کے جذبے سے خالی ہو تو پھر وہ صرف گوشت پوست کی صورت ہے۔ اور اگر پوری امّت اس سے خالی ہے تو پھر اس کی وقعت بکریوں اور بھیڑوں کے گلے سے زیادہ نہیں۔ اگر اسی طرح کسی کلام میں یقین ومحبت کی روح کار فرما نہیں ہے تو پھر وہ ایک مقفٰی اور موزوں کلام ہوسکتا ہے لیکن ایک زندہ جاوید کلام نہیں بن سکتا۔ اور جب کوئی کتاب اس روح سے خالی ہو تو اس کتاب کی حیثیت مجموعہ اوراق سے زیادہ نہیں ہو گی۔اسی طرح اگر کسی عبادت میں محبت ویقین کا جذبہ شامل نہیں ہے تو پھر ایسی عبادت بیکار ہے اور وہ ایک بے روح ڈھانچا ہے۔ غرض یہ کہ پوری زندگی اگر محبت ویقین کے جذبے سے خالی ہے تو پھر وہ زندگی، زندگی نہیں، بلکہ موت ہے۔ اورپھر ایسی زندگی کیا ؟ جس میں طبیعتیں مردہ وافسردہ ہوں، نظم ونثر کے سر چشمے خشک ہوں، اور زندگی کے شعلے بجھ چکے ہوں۔ ایسی حالت میں یقین کامل اور حُبّ ِ صادق ہی حیاتِ انسانی میں جلا پیدا کرتی ہے اور انسانی زندگی نُور ورنگ سے معمور ہو جاتی ہے ۔ پھر شُستہ پُر سوز و پُر درد ، روح نواز اور جاں بخش کلام سننے میں آتے ہیں۔ خارقِ عادت شجاعت وقوت دیکھنے میں آتی ہے اور علم وادب کے نقوش بھی زندۂ جاوید بن جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہی محبت اگر پانی ، مٹی اور اینٹ ، پتھر میں داخل ہو جائے تو اس کو بھی زندۂ جاوید بنا دیتی ہے۔ ہمارے سامنے اس کی روشن مثال مسجد ِ قرطبہ، قصرِ زہرا اور تاج محل ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت ویقین کے بغیر ادب وفن مُردہ وافسردہ و ناتمام ہیں  ؎

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سوداے خام خونِ جگر کے بغیر

بڑی غلط فہمی میں وہ لوگ مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اہل علم حضرات اپنی قوتِ علم، کثرتِ معلومات اور ذکاوت وذہانت کی وجہ سے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں، یا ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ اسی طرح شعرا کو ان کی فطری قوتِ شاعری ، لفظوں کا حُسنِ انتخاب،  معانی کی بلاغت ، انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے، اور مصلحینِ وقت اور قائدین ملت کی بلندی وپستی موقوف ہے اُن کی ذہانت کی تیزی ، خطابت کی بلندی ، سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمتِ عملی پر! حالاںکہ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن میں سے ہر ایک کی فضیلت وبلندی کا دارو مدار محبت واخلا ص پر ہے۔ ان کا  حُبّ ِصادق اور مقصد سے اخلاصِ کامل ہی ان کی عظمت و بزرگی کا سبب ہے۔ اس لیے کہ اس کا مقصد وموضوع اور غرض و غایت اس کی روح میں سرایت کرجاتی ہے،  قلب میں جاگزیں ہو جاتی ہے اور فکروعمل پر چھا جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی خواہش مغلوب اور شخصیت گھٹ جاتی ہے۔ اب وہ جب کوئی بات کرتا ہے تو مقصد کی زبان سے کرتا ہے، جب کچھ لکھتا ہے تو مقصد کے قلم سے لکھتا ہے۔ غرض کہ اس کے فکرو خیال ، دل ودماغ اور اس کی پوری زندگی پر اس کا مقصد چھا جاتا ہے۔

ایک عظیم گناہ جو اس جدید تمدن کا پیدا کردہ ہے وہ ہے مادہ پرستی ، اور پھر اس سے نفع پسندی، جنسی محبت اور نفسانی خواہش۔ جو درحقیقت جدید عصری مادی تعلیم کا ثمرہ ہے جس نے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر رکھا ہے۔ اور آج حال یہ ہے کہ ان کے قلوب و ایمان کی حرارت حُبّ ِ صادق کی تپش اور یقین کے سوز سے خالی ہیں اور یہ عالم نو ایک ایسی متحرک شے بن کر رہ گیا ہے کہ جس میں نہ کوئی زندگی ہے، نہ کوئی روح، نہ شعور ووجدان ہے، نہ مسّرت وغم کا احساس ! اس کی مثال اس جامد شے کی طرح ہے جو کسی جابرو قاہر شخص کے دستِ تصرف میں ہو، وہ جس طرح چاہے اسے حرکت دے اور استعمال کرے۔

جب آپ اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اقبال کا کلام ہمارے جانے پہچانے شعرا سے بہت کچھ مختلف ہے۔ اقبال کا کلام ہمارے شعور و احساس ، قلب ووجدان اور اعصاب میں حرکت وحرارت ، سوز وگداز اور تپش پیدا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسا شعلۂ جو الہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے جس کی گرمی سے مادیت کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں، فاسد معاشرہ اور باطل قدروں کے ڈھیر جل کر فنا ہو جاتے ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کس قدر طاقت ور ایمان، پُردرد و پُرسوز سینہ اور بے چین روح رکھتا ہے ۔ قابلِ صد ستایش ہے وہ دوسرا مدرسہ جس نے اتنی اچھی تربیت کی اور ایسی قابلِ قدر شخصیت تیار کی۔

اقبال کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ہے جو آج ہر مسلمان گھرانے میں موجود ہے، مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم ، اس کے علم وحکمت سے بے بہرہ ہیں۔ میری مراد اس سے قرآن مجید ہے۔ اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر اثرانداز ہوئی ہے، اتنا نہ وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں اور نہ کسی کتاب نے ان پر ایسا اثرڈالا ہے۔ اقبال کا ایمان چوںکہ ’نومسلم ‘ کا سا ہے، خاندانی وراثت کے طور پر انھیں نہیں ملا ہے، اس لیے ان کے اندر نسلی مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن سے شغف، تعلق اور شعور واحساس کے ساتھ مطالعے کا ذوق بہت زیادہ ہے۔ اقبال کا قرآن پڑھنا عام لوگوں کے پڑھنے سے بہت ہی مختلف رہا ہے، جیسا کہ خود اقبال نے اپنے قرآن مجید پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کایہ ہمیشہ کا دستور تھا کہ روزانہ بعدنمازِ صبح قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اقبال کے والد جب انھیں دیکھتے تو فرماتے، کیا کررہے ہو ؟ اقبال جواب دیتے ، قرآن پڑھ رہا ہوں ۔ کچھ دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخر ایک دن اقبال نے پوچھا: ابّا جان ! آپ مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں اور میں ایک ہی جواب دیتا ہوں اور پھر آپ خاموش چلے جاتے ہیں ، تو انھوں نے جواب دیا کہ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم قرآن اس طرح پڑھا کرو کہ جیسے قرآن اسی وقت تم پر نازل ہو رہا ہے۔ اس کے بعد سے اقبال نے قرآن برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور اس طرح کہ گویا وہ واقعی ان پر نازل ہو رہا ہے۔ اپنے ایک شعر میں بھی وہ اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں  ؎

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف    

علامہ اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غورو فکر اور تد بّر و تفکر کرتے گزاری ، قرآن مجید پڑھتے ، قرآن سوچتے، قرآن بولتے۔ قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انھیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ۔ اس سے انھیں ایک نیا یقین ، ایک نئی روشنی ، اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی ۔ جوں جوں ان کا مطالعۂ قرآن بڑھتا گیا، اُن کے فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی۔ اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندۂ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لدُنی علم اور اَبدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے۔ وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیاتِ انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبے پر بھی اسے لگایئے ، فوراً کھل جائے گا۔ وہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے!