August 4th, 2020 (1441ذو الحجة15)

نصیحت اِقبال اور تعلیم

تحریر: غزالہ عزیز

اقبالؔ کا فارسی مجموعہ کلام ’’اسرارِ بے خودی‘‘ کی نظم ’’تمہید‘‘ کا ایک شعر ہے۔

اے بسا شاعر کہ بعد از مرگ زاد

چشم خودبربست و چشم ماکشاد

یعنی بہت سے شاعر ایسے بھی ہیں جو مرنے کے بعد زندہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں لیکن ہماری آنکھیں کھول دیتے ہیں۔

حقیقت میں یہ شعر خود ان کے اُوپر صادق آتا ہے اُن کی زِندگی میں بھی اُن کی شاعری نے قوم کی راہ نمائی کی اور بعد میں بھی۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ اب ہمارے محکمہ تعلیم کے کرتا دھرتا نصاب تعلیم سے اُن کی شاعری کا رشتہ کمزور کرنے پر آمادہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو قرآن کی آیات نصاب سے خارج کریں، امہات المومنین کے متعلق مضامین نکال کر کسی سماجی کارکن کے قصیدے کو شامل نصاب کرلیں اُن کی نظر میں اقبال کی کیا اہمیت اور ضرورت ہوسکتی ہے یہ سابق وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی تھے جن کا خیال تھا کہ ہندو مسلم ثقافت میں کوئی فرق نہیں اور ہماری تاریخ محمد بن قاسم کے بجائے اشوک سے شروع ہوتی ہے۔ کالجوں اور یونی ورسٹیز کی سطح پر اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کورس نکال دیا گیا، اور کہا گیا کہ ہمیں اس سطح پر اِن مضامین کی ضرورت نہیں ہے۔

انگریزوں کے دور میں اقبال نے اَسّی ،نوے سال پہلے کہا تھا اور خوب کہا تھا کہ؂

محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی

موسیقی و صورت گری و علم نباتات

کہ غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لیے ایسے ہی نصاب کی ضرورت تھی۔۔۔ ہمارے سندھ کے وزیر اعلیٰ تو موسیقی کے ساتھ ناچ سکھانا بھی ایک ضرورت قرار دیتے ہیں۔ کسی نے اس پر خوب کہا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو اس کے لیے سب سے پہلے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو آگے لانا چاہیے۔ ویسے کچھ بعید بھی نہیں کہ روشن خیالی اور لبرل ازم کی ضرورت سمجھ کر اس مشورے پر عمل درآمد ہونے لگے۔۔۔ بلکہ شاید انہیں ان مشوروں کی ضرورت ہی نہ ہو۔ کیا پتا پہلے ہی عمل پیرا ہوں۔

ظاہر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب رنگا رنگ اقسام کے تعلیمی ادارے ہوں گے تو طریق تعلیم اور نصاب تعلیم بھی رنگا رنگ ہوگا۔ ہمارے ہاں ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جو حکومت کے تحت چلتے ہیں، جہاں عمارتوں میں کچرا زیادہ اور طالب علم کم ہوتے ہیں جو ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے نہ مناسب فرنیچر ہوتا کہ نہ گرمی سردی سے نمٹنے کا انتظام ہوتا ہے یہاں تک کہ پینے کا پانی اور ضروریات سے فارغ ہونے کے لیے باتھ روم تک میسر نہیں ہوتے۔

دوسرے تعلیمی ادارے نجی انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں۔ جہاں کا نصاب مختلف ہوتا ہے۔ ذریعہ تعلیم، زبان تعلیم ، طریق تعلیم سب ہی مختلف ہوتاہے۔ بھلا جہاں تعلیم اتنے طبقات میں بٹی ہو وہاں ایک ایسی قوم تشکیل دی جاسکتی ہے جو آپس میں یک جہتی اور ہم آہنگی رکھتی ہو۔

کسی بھی قوم کو مضبوط اور یک جان بنانے میں اُس کی تہذیبی، نظریاتی اور اخلاقی شناخت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ تعلیم قوم کی نظریاتی، تہذیبی اور اخلاقی شناخت بناتی ہے اُسے محفوظ رکھتی ہے اور ترقی دیتی ہے، لیکن جب تعلیم اتنی متضاد شناخت بنانے پر کمربستہ ہو تو یہ پوری قوم کو ایک طبقاتی تصادم میں مبتلا کردیتی ہے جس کے انتہائی مہلک اثرات ہوتے ہیں۔

ملک کی ترقی اور قوم کو متحد اور منظم کرنے کے لیے ’’قومی تعلیمی پالیسی‘‘ کی ضرورت ہے، مؤثر اور تعمیری منصوبہ بندی اور نصاب پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ نج کاری یعنی پرائیویٹ ازم تعلیم کے لیے زہر قاتل ہے۔ تعلیم عوام کا حق اور حکومت کا فرض ہے۔ کبھی پاکستان ایسا ملک تھا کہ جہاں کے تعلیمی ادارے بہت بڑے ادارے سمجھے جاتے تھے۔ کوئی بھی غریب طالب علم جس کے پاس صلاحیت ہو وہ آگے بڑھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتا تھا۔ لیکن اب غریب آدمی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پیسے والا چاہے ذہنی طور پر کم ہو لیکن پیسے کی بنیاد پر آگے بڑھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرلے گا۔ لہٰذا قوم کو اعلیٰ معیار کے سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین حاصل نہیں ہوں گے کیوں کہ پیسے نے اعلیٰ ذہنی سطح کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تعلیم کو آج ایک بزنس کا درجہ دے دیا گیا ہے یعنی دولت کے بل پر وہ دیوار تعمیر کی جارہی ہے جو علم کے سورج کی روشنی سے قوم کے کچے گھروں کے صحن کو منور ہونے سے روک کر رکھے۔ اقبالؔ نے اپنے اشعار میں مکتب استاد اور طالب علم کے رشتے کے درمیان تعلق کو یوں بیان کیا ہے کہتے ہیں

شیخ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

نکتہ دلپزیر تیرے لیے!

کہہ گیا ہے حکیم قاآنی

پیش خورشید برمکش دیوار

خوا ہی از صحن خانہ نورانی

’’حکیم قاآنی‘‘ایران کا مشہور شاعر تھا جس نے دلپزیر نکتہ بیان کیا تھا کہ ’’تو اگر اپنے گھر کا صحن روشن دیکھنا چاہتا ہے تو ایسی دیوار نہ بنا جو سورج کی روشنی کو روک دے‘‘۔