September 17th, 2019 (1441محرم18)

میں نے پاکستان بنتے دیکھا

محمد عتیق الرحمن
قیام پاکستان بیسوی صدی کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ جس نے دنیا پر یہ باور کرادیا ہے کہ اسلام کے متوالے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی خاطر قربانیاں دینے کو بھی تیار ہیں۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر بننے والے اس ملک کی انگریزوں، ہندوؤں اور سکھوں نے مخالفت کی۔ انہیں منظور ہی نہیں تھا کہ مسلمان پھر سے برصغیر میں سر اٹھا سکیں۔ ہندو انگریز کے بعد حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے بلکہ اس کی تکمیل میں بھی سر کردہ تھے۔ مسلمانوں نے ان کے اس خواب کو دیکھتے ہوئے اور ان کی ناپاک سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا جس کی اس وقت سکھوں نے مخالفت کی لیکن قیام پاکستان کے بعد جب ہندو انتہا پسندی کی افتاد ان پر بھی آپڑی تو تاریخ نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کا یہ فیصلہ بروقت اور درست تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے کی جدوجہد میں مسلمانان برصغیر کی لاتعداد قربانیاں ہیں جو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اور شاید ان پر گرد بھی پڑچکی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جو پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کے سا تھ بیتی اور جو کچھ ان کے سا تھ ہندوؤں اور سکھوں نے کیا، آج بھی وہ مہاجرین پاکستان یاد کرتے ہیں تو راتوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں۔ اپنے گھر سے پورا خاندان لے کر نکلنے والا مسلمان پاکستانی زمین پر خون کا دریا عبور کرکے اکیلا پہنچے تو اس پر کیا بیتتی ہے، یہ وہی جانتا ہے، لیکن یہ سب ہوا اور مسلمانان برصغیر نے خون کا دریا عبور کیا اور پاکستان سرزمین پر پہنچ کر ثابت کیا کہ ہم اسلام کی خاطر ایک ایسے ملک میں جمع ہورہے ہیں جو کل کو اسلامی دنیا کا سردار بن کر ابھرے گا۔
بھارتی علاقوں سے کئی خاندان ہجرت کر کے پاکستان کو نکلے جن میں سے کئی کو پاکستان نصیب ہوا کئی کو شہادت اور کئی کو ہندوؤں اور سکھوں نے غلام بنا لیا اور کئی مسلمان ماؤں، بہنوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں۔ جن میں سے کچھ لٹی پٹی پاکستان پہنچ گئیں، اور کچھ نے عزت و ناموس بچانے کے لیے اپنے آپ کو ختم کر لیا اور کچھ  کو اب تک ہندوؤں اور سکھوں سے آزادی نصیب نہ ہو سکی۔ ایسا ہی ایک سفرنامہ پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ صاحب کا ہے جسے انہوں نے ’’میں نے پا کستا ن بنتے دیکھا ‘‘کے عنوان سے کتابی شکل دی ہے۔ اگست کے حوالے سے ان کے سفرنامے کا کچھ حصہ قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ پٹیالہ کے تاریخی مقام بٹھنڈہ کے محلہ کھٹیکاں میں یکم دسمبر 1940ء کو پیدا ہونے والے متین الرحمن کی عمر قیام پاکستان کے وقت 7برس تھی۔ ان کے والد میونسپلٹی میں سینڑی انسپکٹر تھے۔ محلہ کھٹیکاں میں چند گھر سکھو ں کے، دو چار ہندوؤں کے اور باقی مسلمانوں کے تھے، اسی وجہ سے اس محلے کو مسلمانوں کا محلہ سمجھا جاتا تھا۔ اگست 1947ء کا مہینہ گرم تو تھا لیکن اس بار عید کا موسم ذرا عجیب سا تھا جیسے جیسے عید کا دن قریب آرہا تھا گلی میں نعرو ں کا مقابلہ بڑھ رہا تھا۔ جے ہند، پاکستان زندہ باد، ست سری یا کال اور اللہ اکبر جیسے نعرے متین الرحمن نے ان ہی دنوں سنے اور سیکھے۔ فسادت کے بعد قرب وجوار کے مسلمان بھی ان ہی کے محلے میں آگئے۔ ان کے محلے کا محاصرہ کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں محاصرہ توڑ کر قافلے کی صورت میں نکلنا پڑا۔47ء کی عید الفطر کے ڈیڑھ ہفتے بعد ایک رات دوسرے پہر فساد زدہ شہری کی غیر محفوظ گلیوں سے ان کا قافلہ اسٹیشن تک پہنچا۔ قافلے کے لوگوں میں شہری حدود سے نکلنے اور ویرانے میں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی کسی حادثے یا واقعے کے سبب بھگڈر مچی اور بدقسمتی سے قافلہ 2حصو ں میں بٹ گیا۔ ایک میں والدین، تیسرے چھوٹے بھائی اور بہن اور دوسرے حصے میں متین الرحمن اور ان کا بھائی معین تھے، جنہوں نے قریبی گاؤں کی جانب سفر شروع کردیا۔ اب دوسرے قافلے کی کوئی ترتیب اور حفاظتی اقدامات نہ تھے، مردوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ نہتے بھی تھے۔ رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی۔ غیر ہموار سا میدانی راستہ، جگہ جگہ جھاڑیاں کٹی ہوئی تھی اور کٹے ہوئے سرکنڈوں کے گٹھے تھے۔ سرکنڈوں کے درمیان سے گزرنا دشوارتھا کیونکہ ہاتھوں اور چہروں پر خراشیں آرہی تھیں۔ اچانک ایک موٹر کی آواز سنی جس سے قافلے میں بھگدڑ مچ گئی لوگ افراتفری میں جھاڑیوں کے اندر کود کر چھپنے لگے۔ سلطا ن چاچا(محلے دار) نے لڑکوں (متین، معین اور چاچا کا بیٹا امین اللہ) کو زمین پر لٹا کر سر کنڈوں کے گٹھے بگھیر دیے۔ جب موٹر کی آواز غائب ہوئی، لڑکوں کو نکالا گیا تو سرکنڈوں کی چھال کی پھانسوں سے جسم کے کھلے حصوں پر خراشیں آچکی تھیں اور کہیں کہیں سے خون رس رہا تھا۔ سحرکے قریب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے متین الرحمن لکھتے ہیں کہ اب ہمارا سفر نہر کے کنارے کسی سڑک پر ہورہا تھا۔ کہ اچانک پیچھے سے ایک دلدوز چیخ ابھری۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو چچی (محلے دا ر کی بیوی)5,4 سکھوں کے نرغے میں تھی۔ چچی نے نہر میں چھلانگ لگادی تھی اور ایک سکھ بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچ رہا تھا۔ چچا تیزی سے واپس بھاگے اور ایک سکھ کا گنڈاسہ چھین کر بالوں سے کھینچنے والے سکھ پر حملہ کر دیا۔ باقی سکھوں نے چچا پر حملہ کر دیا۔ قافلے کے کچھ لوگ چچا کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور دو بدو لڑائی ہوئی، قافلے میں بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ صبح کا اجالا پھیلنے پر قافلے کا سفر از سر نو شروع ہوا لیکن اس میں مجھے نہ چچا دکھائی دیے اور نہ چچی۔ سورج چڑھ آیا توغالباََ وہ گاؤں دکھائی دیا جو منزل تھی۔ گاؤں میں داخل ہونے والی گلی کے قریب پہنچے تو ’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ والی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ گلی سے ننگی پنڈلیوں تک پیلے رنگ کے چغوں میں ملبوس اکالی سکھوں کا جتھا برآمد ہوا جن کے ہاتھوں میں خون آلود تلواریں تھیں۔ کپڑوں اور ہاتھوں پر خون کے دھبے لیے وہ ست سری یا کال اور دوسرے نعرے لگا رہے تھے۔ ڈرے سہمے بچے کچے قافلے کو گھیرے میں لے کر گاؤں سے کچھ دور ہٹایا گیا۔ اکالیوں میں ایک سکھ ڈھول پیٹ رہا تھا، کبھی کبھی سنکھ بجایا جاتا۔ قافلہ سوچ رہا تھا کہ سکھ اب انتظار کس کا کررہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور پھر اس سے شعلے اٹھنے لگے۔ فضا میں نا گوار سی بو پھیلنا شروع ہوئی جو لاشوں کے جلنے کی بو تھی۔ پاکستان کی آزادی کی قیمت ادا کرنے والے ان گمنام جانثاروں کے خون اور گوشت کے بھننے کی بو جو محض مسلمان ہونے اور پاکستان کے تصور سے ہمدردی کے جرم میں جل رہے تھے، فضا دہشت ناک ترین اور جنونی انداز میں پیٹے جانے والے ڈھول کی لرزہ خیز آواز، دھوئیں، آگ، جلتی لاشوں کی بو، بستی راکھ، بھوک سے ہلکتے بچوں کی آوازیں اوراکالیوں کے نعروں سے معمور تھی۔ سنکھ کی کریہہ آواز میں اضافہ ہوا اور ایک سکھ نے نو عمر ماں کی گود میں شیرخواہ بچے کے پیٹ میں تلوار کی نوک جھونکی اور بچے کو نوک شمشیر پر فضا میں بلند کر دیا۔ ننھی سی جان سے خون کا فوارہ ابلا، ممتا تلوار کی نوک پر لٹکے بچے کو چھیننے کے لیے جھپٹی تو دوسری تلوار نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد خوفناک رقص شروع ہوا۔ ہر طرف تلواریں اور ان سے کٹتے ہوئے جسم دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے پر گررہے تھے۔ ہم دونو ں بھائی دوسروں کے خون میں نہا چکے تھے لیکن مجھ میں ایک دو منٹ سے زیادہ اس کیفیت کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ مجھ پر کوئی گرا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو ایک لاش کے نیچے میرا سر دبا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنا سر اور ریت سے دبا ہوا اپنا چہرہ نکالا، گرم ریت سے منہ، ناک اورآنکھوں میں اذیت ناک جلن ہو رہی تھی۔ طبیعت سنبھلی تو معین کی تلاش شروع کی جو کہ قریب ہی لاش کے نیچے نیم بے ہوشی میں دبا ہوا تھا۔ منظر دیکھا تو ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کچھ زخمی تھے لیکن چلنے پھرنے سے معذور اور بری طرح زخمی تھے۔ ہمیں دیکھ کر زخمیوں نے پانی مانگا قریبی کھیت میں پانی دینے والا نالہ تھا۔ جس میں قمیض ڈبو ڈبو کر ان زخمیوں کے منہ میں نچوڑتے رہے۔ کئی زخمیوں نے پانی پی کر ہمارے سامنے آخری ہچکی لی۔ متین الرحمن لکھتے ہیں کہ ’آخری ہچکی لے کر زندگی کا سفر ختم کردینے کا غم انگیز منظر ذہن کو کیسا ماؤف کر دینے والا ہوتا ہے۔ اس تاثر کو میں آج تک فراموش نہیں کر سکا‘۔ اس کے بعد متین الرحمن اور ان کے بھائی زندہ دفن ہونے سے بچے اور ایک کھیت میں کچھ عرصہ اذیت ناک حالات میں چھپ کر گزارا۔ سکھوں کے ہاتھوں زخم کھائے، پھر ایک سکھ کی پناہ میں آئے اور پھر اسی سکھ کے غلام بننے سے بچے اور آخر کار ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے جہاں انہیں انار کلی مشہور جوتوں کی دکان چاؤلہ بوٹ ہاؤس کے مالک نیک دل شخصیت شیخ افتخار الدین نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد یہ اپنے والدین سے مل گئے۔
یہ کہانی صرف ایک متین الرحمن کی نہیں بلکہ 1947ء میں جو پاکستان آئے ان کی ہے۔ میرے ایک دوست کی والدہ نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان ہجرت کر کے جب پاکستان پہنچا تو 15 افراد کے خاندان میں سے صرف 2  لوگ زندہ تھے۔ قیام پاکستان کے وقت جو ظلم و ستم مسلمانوں پر ہوا آج بھی وہ لوگ محسوس کر کے آہیں بھرتے ہیں۔ جن کے سامنے ماؤں اور بہنوں کی عصمتوں کا جنازہ نکلا، ماؤں کے سامنے بچوں کو تلواروں پر ویا گیا، بیویوں کے سامنے سہاگ کاٹے گئے اور بیٹوں کے سامنے باپ کا سر تن سے جدا کیا گیا۔ یہ سب کس کے لیے تھا ۔؟ اپنی قربانیاں، آگ و خون کا دریا، زمین و جائیداد کی قربانی اپنی جائے پیدائش کی قربانی کس لیے تھی؟ کیا یہ صرف ایک ملک کے لیے تھا؟ نہیں یہ لڑائی اور عصمتوں کی قربانیاں دین اسلام کے لیے تھیں ۔اسلام1947ء سے لے کر اگست 2017ء تک کا سفر ماضی بن چکا لیکن پاکستانی قوم کو اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل اسلام کے مطابق محفوظ اور روشن بنانا ہے۔ بھارت و کشمیر میں آج بھی مسلمانوں کا ہندؤوں نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ کشمیر میں عید الفطر کے بعد سے لے کر اب تک مسلسل ظلم وستم، پیلٹ گن کا استعمال اور مسلسل کرفیو سے قحط کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ کشمیریوں کو پیلٹ گن کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اندھا بنایا جارہا ہے ۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ آئے دن بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم ہوتی رہیں۔ اقوام متحدہ، امریکا یورپ اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشی ہیں۔ پاکستان بن گیا اور ہم ہندوؤں کے ظلم وجبر سے محفوظ ہو گئے تو کیا ہمارا فرض پورا ہو گیا؟ کشمیری و بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے زخموں کا مداوا کون کرے گا؟ جن کو آج بھی مسلمان ہونے اور پاکستان کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ ان مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ہمارا مذہبی و اخلاقی فرض ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگست کے مہینے میں آئیے سوچیں اور کچھ عملی اقدامات کی طرف توجہ دیں۔ معروف شاعر اجمل سراج نے اسی حوالے سے بہت خوب کہا ہے:
پاکستان کا ایک مقصد تھا
مقصد پاکستان نہیں تھا