September 17th, 2019 (1441محرم18)

تحریکِ پاکستان اور جماعت اسلامی

محمود عالم صدیقی

جماعت اسلامی جب قائم ہوئی تو تحریک پاکستان کا آغاز ہوچکا تھا اور مسلم لیگ اپنے لاہور کنونشن میں قرار دادِ پاکستان ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور کر چکی تھی۔ جماعت اسلامی اس قرار داد کے پاس ہونے کے سترہ ماہ بعد ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو وجود میں آئی۔

جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد

جماعت اسلامی نے اپنے مقصدِ وجود اور طرزِ تنظیم کو اپنے اولین اجلاس میں ہی جس انداز میں پیش کیا اس ساری صورتِ حال کو واضح کرنے کے لیے بہت کافی ہےجو اُس وقت اس کے پیش نظر تھی۔ جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد اور اس کی تنظیم کا رُخ خالص نظریاتی اور اصولی تھا۔ بظاہر وہ ملک کے اندر موجود سیاسی مسائل سے عملی طور پر کسی درجے میں بھی تعرض کرنا نہیں چاہتی تھی۔ بانی جماعت اور پہلے امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے سب سے پہلے مقصدِ قیام جماعت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ:

’’مسلمانوں میں عموماََ جو تحریکیں اٹھتی رہی ہیں ان میں یا تو اسلام کے کسی جزو یا دینوی مقاصد میں سے کسی مقصد کو بنائے تحریک بنا لیا گیا ہے، لیکن ہم عین اسلام اور اصل اسلام کو لے کر اٹھ رہے ہیں اور پورا پورا اسلام ہی ہماری تحریک ہے‘‘،

جماعت اسلامی کی تنظیم کے بارے میں انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ:

’’مسلمانوں کی تحریکوں کی جماعتی تنظیم عموماََ دینا کے مختلف انجمنوں اور پارٹیوں کے ڈھنگ پر کی گئی ہے، لیکن ہم ٹھیک وہی نظام جماعت اختیار کررہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ کی قائم کردہ جماعت کا تھا‘‘۔

دوسری جماعتوں سے مختلف جماعت

انہوں نے اس بات کی مزید وضاحت کی کہ مسلمانوں کی عام جماعتوں میں ہر قسم کے آدمی اس مفروضے پر بھرتی کر لیے جاتے ہیں کہ جب یہ مسلمان پیدا ہوئے ہیں تو پھر مسلمان ہی ہوں گے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا رہا ہے کہ ارکان سے لے کر کارکنوں اور لیڈروں تک بکثرت ایسے آدمی ان جماعتوں کے نظام میں گھس جاتے رہے ہیں جو اپنی سیرت کے اعتبار سے ناقابل اعتبار ہوتے ہیں اور کسی بار امانت کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتے۔ لیکن ہم کسی شخص کو اس مفروضہ پر نہیں لیتے کہ وہ مسلمان ہہ ہوگا، بلکہ یہ التزام کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے کم سے کم متقضیاتِ ایمان کو لازماََ پورا کرے، اس طرح ہم مسلمان قوم کا صرف صالح عنصر چھانٹ کر جماعت میں لینا چاہتے ہیں۔

بانی جماعت نے بھی کہا کہ ہم مقامی مسائل اور صرف مسلمانوں کے قومی مسائل تک ہی اپنی نظر محدود نہیں کرسکتے، ہمارے لیے چونکہ پورا اسلام ہی تحریک ہے اور اسلام کی دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے اس لیے ہماری نظر کسی خاص قوم یا ملک یا علاقہ کے وقتی مسائل میں الجھی ہوئی نہیں ہے، بلکہ پوری نوع انسانی اور سارے کرہٓ زمین پر وسیع ہے۔ تمام انسانوں کے مسائلِ زندگی ہمارے مسائل ہیں اور ان مسائل کا حل ہم اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے ہی پیش کرتے ہیں۔انہوں نے اس کی مزید وضاحت کی کہ ہماری جماعت کامشن صرف اسلام ہے اسی لیے ہم اسے اسلامی جماعت کہتے ہیں۔ اسلامی جماعت کے سوا اس کا دوسرا کوئی نام نہیں ہوسکتا۔ اس کا نصب العین اسلام ہے اور یہ اسلامی طریق پر ہی حرکت کرتی ہے۔ ایسی تحریک وہی پیش کرتی ہے جسے انبیاء کرام نے پیش کیا تھا۔ایسی نظریاتی جماعت کو فرقہ بننے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ایسی جماعت کے امیر کی حیثیت بس اسی جماعت کے امیر کی ہوتی ہے۔ اس کی حیثیت امیر المومنین کی نہیں ہوتی۔ نیز اس نوعیت کی مسلمانوں میں بہت سی دوسری جماعتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور ایسی جماعتیں جس قدر زیادہ ہوں اسی قدر بہت بہتر ہوتا ہے تاکہ خدا کے راستے پر لوگ قافلہ در قافلہ چلیں۔ دین کوئی دکانداری نہیں ہے کہ اس میں مسابقت اور رقابت ہو، اور نہ ہی ایسی جماعت کا دائرہٓ کار محدود ہوسکتا ہے۔ پوری انسانی زندگی پوری وسعتوں کے ساتھ اس کے دائرہٓ کار میں آتی ہے۔

بانی جماعت کے اس طرز سے جماعت اسلامی اس طرز کی سیاسی جماعت بن کر ہمارے سامنے نہیں آتی جیسی دیگر سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو پارلیمانی یا صدارتی نظام مملکت میں یورپ اور دیگر جمہوری ممالک میں پائی جاتی اور مختلف محدود اور مقامی مقاصد کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے آغازِ کار سے ہی یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ وہ اپنی جگہ ایک مثبت مقصد لے کر وجود میں آئی تھی، وہ کسی جماعت کی حریف بن کر میدان میں نہیں آئی تھی اور باطل نظام کے سوا اس کی کسی سے کشمکش نہ تھی۔

جب جماعت اسلامی وجود میں آئی تو تحریک پاکستان کا آغاز ہوچکا تھا اور مسلم لیگ کا لاہور ریزولیوشن جو بعد میں قرار دادِ پاکستان کہلایا ، پاس ہوچکا تھا، لیکن جماعت اسلامی کے قیام و تشکیل کے اجلاس میں قرار داد پاکستان کے مخالف یا موافق کوئی بات ہمارے سامنے نہیں آتی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اُس وقت ملک کے وقتی مسائل سے صرفِ نظر کرکے معاشرے کے افراد کی فکری تطہیر اور ان کے کردار کی تعمیر پر اپنی ساری قوت صرف کرنا چاہتی تھی اور جماعت لحاظ سے پاکستان کے بارے میں کوئی منفی ذہن نہیں رکھتی تھی۔ اسنے کوئی مہم تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں نہیں چلائی، بلکہ کانگریس کی کھل کرمخالفت کی وجود کی جو پاکستان کے قیام کی کٹر مخالف ہے۔

جماعت کا نصب العین

اس کے اوّلین دستور میں جو باتیں ہمارےسامنے آتی ہیں ان کا تعلق جماعت کے افرادکےعقیدے، اخلاق،کردار، فرائض رکنیت، اوصاف مناسب، مشاورت اور مناصب کے لیے خدا اور رسول کی وفاداری کے حلف سے ہے۔ اس کےنصب العین میں یہ بات درج کی گئی ہے کہ اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاََ اقامتِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظام زندگی کا قیام) اورحقیقتاََ رضائے الٰہی اور فلاح اخروی کا حصول ہوگا۔

اس طرح جماعت اسلامی کا ابتدائی دور خالصتاََ نئی فکر اور عقیدے کے مطابق ایک نئی انقلابی جماعت کی تشکیل کا دور تھا۔ ایک ایسا گروہ جو وقت کے غالب نظام کو مٹانے کے لیے ایمان، علم اور اخلاق و کردار سے مسلح ہو۔ مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اسلامی انقلاب اوراس کےطریقہ کو’’اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘کے رسالے میں بہت وضاحت سے بیان کردیا تھا۔  ان امور کے پیش نظر ہم تحقیق سے یہی بات کہہ سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی سے تحریک پاکستان کی عملی سیاست میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

نظریہ پاکستان کی واضح موافقت

البتہ نظری سیاست میں ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے پاکستان کی واضح موافقت کی۔ اس موافقت میں ایک کرادر مولانا مودودی کا وہ ہے جو انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے ادا کیا۔ وا واضح طور پو پاکستان کی موافقت کا کردار ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی انڈین نیشنل کانگریس کی مخالفت کی اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی کانگریس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ نہیں رکھا۔ انہوں نے ایسے محترم اور بزرگ علمائے کرام پر اصولی تنقید کی جن کا وہ بے حد احترام کرتے تھے، اس لیے کہ وہ کانگریس اور اس کے مخلوط متحدہ قومیت کے نظریے کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے ۱۹۲۸ء میں جمعیت علمائے ہند کے اخبار’’الجمعیت‘‘ دہلی سے بلا تاخیر اُس وقت استعفیٰ دے دیا جب جمعیت علمائے ہند نے انڈین نیشنل کانگریس سے سیاسی الحاق کرلیا۔ ۱۹۳۵ء کے دستوری ایکٹ کے نفاذ کے بعد صوبوں میں کانگریسی وزارتیں قائم ہونے کے بعد جب کانگریس کی طرف سے متحدہ قومیت کی رابطہ عوام کی مہم چلی تو انہوں نے اپنے رسالہ’’ترجمان القرآن‘‘ میں ایک طویل سلسلہ مضامین تحریر کیا جس میں عقلی اور شرعی دلائل سے ثابت کیا کہ مسلم قوم ایک علیحدہ قوم ہے اور اسے کسی غیر مسلم علاقائی قومیت میں شامل کرکے ایک متحدہ قومیت بنانا نہ عقلاََ ممکن تھا اور  اور نہ شرعاََ درست تھا اور نہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان بزرگ علمائے کرام پر تنقید کرنا بھی گوارا کرلیا جس کا خمیازہ ان کے شاگردوں کی طرف سے بعد میں مدت دراز تک بانی جماعت کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے ۱۹۳۷ تا ۱۹۳۸ء کے دور میں اپنے علمی استدلال، تاریخی اجتہاد اور زور بیان سے اسلامی تصورِ قومیت کو پوری طرح ثابت کیا۔اوراس زورِ استدلال نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر بالآخر ایک سیاسی نصب العین کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ مسلم لیگ نے ۱۹۴۰ء میں تحریک پاکستان کا لاہور ریزولیوشن پاس کرلیا۔ غیر مسلموں سے جداگانہ قومیت، جدا تہذیب و تمدن اور جداگانہ قومی تشخص کی لہر کا ہی نتیجہ تھا کہ بالآخر جداگانہ مملکت کا نصب العین بھی واضح ہوا اور یہ فکری لہر سیاسی روپ دھار کر قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔

۱۹۳۷ تا ۱۹۳۸ء کے دور میں پاکستان کا ریزولیوشن پاس ہونے سے بہت پہلے ہندوستان کے مسلمانوں میں بعض اہلِ علم و نظر پاکستان اور جدا گانہ مملکت کے سلسلے میں مختلف تجاویز پیش کرچکے تھے۔ ان حضرات میں عبداللہ ہارون، ڈاکٹر عبدالطیف، سر سکندر حیات’’ایک پنجابی مسلمان‘‘ سید ظفر الحسن، ڈاکٹر قادری، چودھری رحمت علی، چودھری خلیق الزمان اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مولانا مودودی کے تین فارمولے جو ’’ترجمان القرآن‘‘ کی ۱۹۳۸ء کی فائل میں شائع ہوئے۔ وہ اب بھی ’’آزادئ ہند اور مسلمان‘‘ جلد دوم میں موجود ہیں۔ یہ سب تجاویز لاہور ریزولیوشن سے پہلے کی چیزیں ہیں۔

یوپی مسلم لیگ،پاکستان کے حامی علماء کا بورڈ

اسلامی تصورِ قومیت پر مولانا مودودی بانی جماعت کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے، چنانچہ یوپی مسلم لیگ نے مطلوبہ پاکستان میں اسلامی نظم مملکت کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے پاکستان کی اسکیم کے حامی علماء کا ایک بورڈ تشکیل دیا تو اس میں انہوں نے جہاں مولانا محمد اسحاق سندیلوی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولونا آذاد سبحانی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بھی شامل کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یوپی کی مسلم لیگ نے مولانا مودودی کا نام تحریک پاکستان کا مخالف نہیں بلکہ موافق اور حامی سمجھ کر ہی تجویز کیا ہوگا اور جب مولانا مودودی نے یوپی مسلم لیگ کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس بورڈ کی رکنیت قبول کرلی تو انہوں نے اس کام سے اپنا قلبی اطمینان اور ذہنی اتفاق سمجھتے ہوئے ہی اسے قبول کیا ہوگا۔ غرض جماعت اسلامی کے قیام سے پہلے مولانا مودودی کی وہ تمام نگارشات جن کا تعلق اسلام کی نظری سیاست سے ہے نظریہٓ پاکستان کے حق میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی حقیقی بنیاد جداگانہ قومیت پر اتنا زبردست لٹریچر تیار کیا کہ تنہا ان کا تیار کردہ لٹریچر ہی پاکستان کی عملی جدوجہد میں موٓثر دفاع اور حقیقی دماغ کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانا مودودی نے علامہ اقبال کے ساتھ مل کر دارالاسلام میں تدوین قانون اسلامی کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ بھی ایک اسلامی مملکت کے لیے ہی دستوری اور قانونی بنیاد مہیا کرنے کے لیے تھا۔ اُس دور میں علامہ اقبال پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے اور وہ اسلامی مملکت کے لیے اسلامی قانون مولانا مودودی کی مدد سے پیشگی طور پر مرتب و مدون کرنا چاہتے تھے۔

قائد اعظم سے ملاقات

جماعت اسلامی کے اُس وقت کے سیکرٹری جناب قمرالدین خان مولانا مودودی کے ایماء پر قائد اعظم سے دہلی میں ان کی قیام گاہ’’گل رعنا‘‘میں جاکر ملے اور قائد اعظم کے سامنے جماعت اسلامی کے قیام کے مقاصد بیان کیے، نیز اقامتِ دین کی اہمیت پر زور دیا۔ قائد اعظم پورے تحمل سے ۴۵ منٹ تک ان کی بات سنتے رہے اور پھر فرمایا کہ وہ مولانا مودودی کی دینی خدمات کو نہایت پسند کرتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اُس وقت ایک آزاد ریاست کے حصول کی ضرورت تھی اور یہ کام کردار کی تطہیر سے بھی زیادہ فوری نوعیت کا حامل تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ میں کوئی اختلاف نہیں۔ جماعت جس اعلیٰ مقصد کے لیے کام کررہی ہے لیگ اس کام کے فوری حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ اگر یہ کام اس وقت نہ ہوا تو جماعت کا کام بھی مکمل نہ ہوسکے گا۔ گویا قائد اعظم نے ایک طرف جماعت اسلامی کے تطہیر افکار اور تعمیر کردار کے کام کی تائید کی اور دوسری طرف قیام پاکستان کے بعد اس کام کو آگے بڑھانے کی طرف اشارہ کیا۔

اسلامی ریاست کا قیام اور مسلم لیگی قیادت

مولانا مودودی جو بات اُس وقت کہتے تھےوہ مسلم لیگ یا تحریک پاکستان کی مخالفت کی بات نہیں تھی، بلکہ اس طریق کار کی اصلاح کی بات تھی جو بعد کے حالات میں پاکستان کی قسمت پر اثر انداز ہونے والا تھا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ:

’’اگر ہمارے پیش نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے تو پھر ہم اپنی قوم کو اخلاقی لحاظ سے اتنا تیار کریں کہ وہ ایک اسلامی ریاست کی اخلاقی ذمہ داریوں کو سنبھال سکے۔ سیاسی جنگ کے ساتھ ساتھ اخلاقی تیاری بھی کرنی چاہیے۔اس لیے جب تک علمی، فکری اور تہذیبی میدان میں بھی کام نہ کیا جائے، صرف سیاسی میدان کا کام اسلامی ریاست کا لیے کافی نہیں ہے۔ ایسے کام کے ذریعے ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام مشکل ہے۔‘‘

دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ جب ہمارے پیش نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے تو پھر اس کی قیادت کی ہر سطح پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ اسلامی کردار کے لوگوں کے انتخاب  و تقرر کی سخت ضرورت ہے۔ اشتراکیوں، ملحدوں، بےدینوں، جاگیرداروں اور بے کردار زمینداروں کو بے سوچے سمجھے ایک ساتھ جمع کرکے اسلامی ریاست کی قیادت بنادینا ٹھیک نہیں ہے۔ ایسے لوگ قوم کی صحیح رہنمائی نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگ اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے اور ٹانگیں کھینچنے کا کام تو کرسکتے ہیں لیکن اسلامی ریاست کی تشکیل کا کام نہیں کرسکتے۔ ان کے ذریعے کسی اسلامی منزل پر پہنچنا مشکل ہے، البتہ ایسے لوگ اس منزل کو کھوٹا ضرور کرسکتے ہیں۔(تاریخ شاہد ہے کہ سید مودودیؒ نے حقیقی اسلامی ریاست کی تشکیل کی راہ میں جن رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا وہ سو فیصد صحیح ثابت ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے انتقال اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بے دین اور سیکولر حکومتی ٹولے نے گٹھ جوڑ کرکے پہلے دستور ساز اسمبلی کو توڑ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرکے پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگادیا۔ قرارداد مقاصد سمیت اسلامی تشخص کے منظور شدہ آئین کو معطل کرکے ملک کو بے دین سیاسی اور سیکولر قیادت کے حوالے کردیا۔ سیکولر اور فوجی طالع آزماؤں نے اپنے من مانے اقدامات سے ملکی یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا)۔

اس مؤقف کے باوجود مولانا مودودیؒ جماعت اسلامی کے امیر کی حیثیت سے تحریک پاکستان کے مجموعی تصور کے ساتھ اس کی پوری طرح موافقت کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ کردار سازی کا وہ کام بھی سر انجام دیتے رہے ہو جو مسلم لیگ اپنی ہنگامی اور فوری جدوجہد کے پیش نظر سرانجام دینے سے قاصر رہ گئی تھی۔ انہوں نے اس دوران میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کی اور اس کے ذریعے اسلامی نظام حیات کے خدوخال کو واضح کیا، اور جن لوگوں کی طرف سے بھی مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے خلاف اعتراضات کیے جاتے رہے مولانا مودودیؒ ان کا اطمینان بخش جواب دیتے رہے۔

فسادات اور جماعت اسلامی کا کردار

جب ملک تقسیم ہوا تو بے پناہ فسادات ہوئے، خصوصاََ جون ۱۹۴۷ء سے اگست ۱۹۴۷ء تک کے دور تو شدید درجہ ہلاکت خیز دور تھا جب پورے مشرقی پنجاب کا نظم و نسق معطل تھا۔ حکومت کا کوئی وجود نہ تھا۔فسادی عناصر کا راج تھا اور عوام شدید درجے کے ظلم وستم کا شکار تھے۔ عملاََ اُس وقت کوئی تنظیم بھی میدان میں خدمتِ خلق کا کام نہیں کررہی تھی، اس لیے کہ دو قومیں آپس میں سربکف تھیں اور انگریز رخصت ہورہا تھا۔ ایسی صورت میں خدمتِ خلق کا کام کون کرتا! مسلمانوں کی پاکستان کے لیے مکمل یکسوئی کے بعد ہندو جیسے تنگ دل قوم کا شدید اعصابی ردعمل ایک فطری بات تھی۔ چنانچہ اس ردعمل کے نتیجے میں ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کی ایک خوفناک خونیں لہر اٹھی۔ بہار کے فسادات اس کا پیش خیمہ تھے جو اپنی نوعیت اور کیفیت کے لحاظ سے ہندو قوم کی جھنجھلاہٹ کے سبب درندگی اور بہمیت میں اپنی مثال آپ تھے۔ مسلمانوں کی بستیوں کی بستیاں متحدہ قومیت کے دعویداروں نے جلادیں۔ انسانوں کو جلتی آگ میں بھون دیا گیا۔ ہزاروں مربع میل علاقے میں چند دنوں کے اندر انسانی قافلے مہاجر ہو کر بے در اور بے گھر ہوگئے۔ آتش زنی، بچوں اور عورتوں کی لوٹ مار، بڑے بڑے لشکروں کی صورت میں ہندوؤں کا مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ اور بہمیت کے لرزا دینے والے واقعات پورے صوبے میں ہر روز اور ہر طرف پیش آنے لگے۔ جماعت اسلامی نے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے پٹنہ میں ریلیف کیمپ قائم کیا۔ یہ امدادی کیمپ مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب عبدالجبار غازی کی سرکردگی میں کئی ماہ تک وہاں مظلوم  مہاجرینِ فسادات کے لیے کام کرتا رہا۔

معاشرے کا اخلاقی فقدان

جماعت اسلامی کے تبلیغی و دعوتی کام کا فسادات کے نتیجے میں متاثر ہونا ایک فطری امر تھا۔ جماعت اسلامی کا تجزیہ ان فسادات کے بارے میں یہ تھا کہ ہندوستان کے باشندوں میں اخلاقِ صالحہ کا فقدان تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ اخلاقی فقدان کا نتیجہ ہی تھا جس کی بدولت باہر سے ایک اجنبی قوم کے لیے یہ ممکن ہوا تھا کہ وہ ہمارے ہی سرمائے اور ہمارے ہی آدمیوں کے ذریعے ہمین مغلوب کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ پھر مغرب کی غلامی نے مزید اخلاقی خرابیاں پیدا کیں جن میں طبقاتی خود غرضی سرفہرست تھی۔ آبادیوں، منڈیوں، ملازمتوں، بازاروں، عدالتوں، دفتروں، گھروں ہر جگہ دھڑے بندی، تعصب، فتنہ پروری اور ظلم و زیادتی کی ریل پیل تھی۔ اخبار نویس ہر روز اخبارات میں فتنہ جوئی، فتنہ انگیزی اور فتنہ پروری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس طرح فساد کی آگ قریہ قریہ بستی بستی پھیلتی چلی جارہی تھی۔

جماعت اسلامی کے ارکان کی ذہنی تربیت اور ہدایات

ان حالات میں جماعت اسلامی نے اپنے ارکان کو جن امور کی ذہنی تربیت دی ان میں سب سے پہلی بات یہ تھی کہ:

۱)چونکہ انسانوں کی بستیاں خدا ترسی، نیکی اور راست بازی کی حمایت سے خالی ہوگئی ہیں اور خدا کی جگہ قوم نے معبود کی صورت اختیار کرلی ہے اس لیے یہ فسادات محض غنڈوں اور لیڈروں کے برپا کردہ نہیں ہیں بلکہ ایک پورا نظامِ حیات ان فسادات کی پشت پر موجود ہے، اس لیے اس نظامِ حیات کو بدلے بغیر محض چند اوپری تدبیروں سے یہ فسادات اب رکنے والے نہیں ہیں۔ ان فسادات کا سدباب نہ غنڈوں کی پکڑ دھکر سے، نہ پریس پت قدغن سے، نہ امن کمیٹیوں کے قیام سے، اور نہ دوسری اوپری تدبیروں سے ہوسکتا ہے۔یہ انسان کے داخلی بگاڑ کا مسئلہ ہے۔

۲)دوسی بات جو اُن دنوں ارکانِ جماعت اسلامی کے ذہن نشین کرائی گئی، یہ تھی کہ حالات چاہے قومی تعصب کو کتنے ہی بھڑکانے والے ہوں لیکن جماعت اسلامی کو بہرحال قومی تعصب سے بالاتر ہوکر حق کی دعوت دینی چاہیے اور اسی حق پرستی کے راستے پرعمل پیرا رینا چاہیے جو خدا برستی کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے۔ یہ اصول کسی قوم کی نفرت و عداوت کی وجہ سے بدل نہیں سکتے۔ یہ کسی طرح اسلام میں درست نہیں ہے کہ ایک جگہ کے شہریوں کے ظلم کا بدلہ دوسری جگہ کے بے گناہ لوگوں سے لیا جائے۔

۳) تیسری بات یہ ہے کہ فرار اور بھگدڑ کا سختی سے تدارک کیا جائے۔اپنی جگہ پر پوری بےخوفی اور اطمینان قلب کے ساتھ قدم جمائے جائیں ایک ایسے سچے مسلمان کی طرح جو اللہ کا عائد کردہ فرض ادا کررہا ہوتا ہے۔ فرض ادا کرتے ہوئے جان دے دینا ایک ایسی چیز ہے جس کی مسلمان کو تمنا کرنی چاہیے۔ ڈرتا صرف وہ شخص ہے جس کا یا تو خدا کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا، یا تعلق ہو تو چھوٹا ہوتا ہے۔ جو انسان خدا سے ڈرتا ہے وہ پھر خدا کے سوا اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔ اس لیے جماعت اسلامی سے وابستہ ہر کارکن کو آخری وقت تک اپنی جگہ پر ڈٹے رہنا چاہیے،یہاں تک کہ ساری آبادی منتقل ہوجائے،اور ان کی مدد اور حفاظت کرنی چاہیے۔

ان ہدایات کے ساتھ جماعت اسلامی نے فساد زدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی کام کیا۔ خدمتِ خلق

کے اس کام میں فساداتِ بہار کا امدادی کام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ جہاں مسلمانوں پر اکثریتی گروہ نے تباہی کا طوفان مسلط کردیا تھا وہاں جماعت اسلامی نے باقاعدہ پہینچ کر اپنا امدادی کیمپ لگایا اور کئی ماہ تک مظلوموں کے اندر مالی تعاون اور اخلاقی امداد کا کام کیا۔ پٹنہ بہار کے اس امدادی کیمپ کے ذریعے تین قسم کا امدادی کام کیا گیا جس کے انچارج جناب عبدالجبار غازی تھے:

 

 ۱) سب سے مقدم کام تو مسلمانوں کے اکھڑے قدم جمانا، ان کے پست حوصلے بلند کرنا، ان کے خوف و ہراس کو دور کرنا اور ان میں صحیح اسلامی روح پیدا کرکے ان کے طرزِ فکر اور طریق کا کو بدلنا تھا۔ جماعت اسلامی کی رائے یہ تھی کہ اگر مسلمان بن جائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک سمجھ جائیں تو اس کے نتیجے میں غیر مسلموں کے رویّے میں بھی خوشگوار تبدیلی پیدا ہوگی۔

۲) جماعت اسلامی نے دوسرا کام اپنے ذمے یہ لیا کہ مسلمانوں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ اپںی بستیاں الگ الگ خطوں کی شکل میں بنائیں۔ اس لیے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے یہ کام اپنے ذمے لیا کہ وہ مسلمان بستیوں کا کوئی خاص حلقہ منتخب کرکے وہاں کے مسلمانوں کے اندر انصار اور مہاجرین کی اسپرٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ پھر اس پاکٹ یعنی محفوظ خطے کی نقل دوسرے خطوں کے مسلمان بھی کریں، اور اس طرح مسلمان غیر مسلموں کے مقابلے میں ذیادہ محفوظ ہوجائیں۔

۳)جماعت اسلامی نے تیسرا کام امداد و تعاون اور ریلیف کا کیا۔ کارکنوں کویہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ امداد میں صرف مصیبت زدہ کو دیکھیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی تفریق نہ کریں۔ اگر غیر مسلم بھی امداد کے مستحق ہوں تو ان کی بھی تا حد امکان ہر طرح کی امداد کی جائے۔

چنانچہ ملک بھر سے جماعت اسلامی کے منجھے ہوئے کارکن ایک ایک ماہ کی تربیت اور امدادی کام کے لیے کیمپ میں جانے لگے۔ جہاں بعد میں مولانا امین احسن اصلاحی بھی تربیتی مقاصد کے لیے مرکز کی طرف سے تشریف لے گئے۔ اس طرح جماعت نے کئی ماہ تک پٹنہ کیمپ کے ذریعے آفت زدگانِ فسادات کی امداد و تعاون، رہنمائی، دستگیری اور آباد کاری و منصوبہ بندی کا کام کیا۔ یہ کام تقسیم ملک تک جاری رہا۔

اپنی ان کوششوں کے مختلف نتائج جماعت اسلامی کے سامنے آئے جن میں یہ بات بڑی حصلہ افزا تھی کہ انسانی فطرت کو صحیح طریق سے اپیل کیا جائے تو وہ تعضبات، جانبدارانہ رجحانات اور انتقامی جذبات کے پردے پھاڑ کر لبیک کہتی ہے کبھی جلد اور کبھی ذرا دیر سے۔ اس فطرت کو کسی بھی مسلمان اور کسی بھی غیر مسلم کے اندر ابھار کر اگر بات کی جائے تو وہ حق، راستی اور انصاف کے اصولوں کو فوراََ تسلیم کرنے اور انہیں اپنانے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی قوم کی ناانصافیوں کی فراخدلی سے تسلیم کرنے پر آمادہ بھی ہوجاتا ہے۔ یہ دریافت اس اخلاقی اور فطری انسان کی ہے جو ہر انسان کے اندر چھپا ہوا موجود ہے۔

مرکز جماعت دارالاسلام

جماعت اسلامی کا مرکز دارالاسلام گورداس پور میں پٹھان کوٹ سے چند میل کے فاصلے پر سرنا ریلوے اسٹیشن سے متصل بیشتر غیر مسلم آبادیوں میں گھرا ہوا تھا۔ فسادات کا سلسلہ تو اوائل سال سے ہی شروع تھا اور اقلیتی آبادیوں کے مظلومین اجڑ اجڑ کر اپنے اکثریتی علاقوں کی طرف منتقل ہورہے تھے۔ سارا حکومتی نظم و نسق معطل تھا۔ گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوگئی تھی۔ اِکا دُکا افراد پر سفر میں حملے بھی معمول بنتے جارہے تھے، اور جماعت اسلامی کی تنظیم ان فسادات میں اپنے اپنے علاقوں میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔

ان حالات میں اپنی جماعتی تربیت اور پالیسی کے مطابق ہر کارکن اپنے اپنے علاقوں میں خدمتِ خلق کا کام کررہا تھا۔ ہر جگہ جماعت کے کارکنوں نے جرات و ہمت سے مظلومین کا ساتھ دیا۔ لاہور، سیالکوٹ، گجرات، سرگودھا، جہلر، مردان اور پشاور کے اضلاع میں جماعت اسلامی کے لوگ مسلمانوں کو ظلم سے روکنے اور غیر مسلموں کو بچانے کی پوری کوشش کرتے رہے۔ سرحد میں تو چند مقامات پر جماعت اسلامی سے وابستہ کارکنوں نے مظلومین کے تحفظ میں اپنی جانیں تک خطرے میں ڈال دیں اور فسادیوں میں چامل اپنے بھائیوں اور برادری کے لوگوں پر واضح کردیا کہ اگر ظلم کیا گیا تو ہم حق کی خاطر آپ کے خلاف کڑیں گے اور کسی مظلوم غیر مسلم کو نقصان پہنچانے کے لیے آپ کوپہلے ہمارے سر تن سے جدا کرنے پڑیں گے، جس کے نتیجے میں انہیں فسادیوں کا ساتھ چھوڑنا پڑا اور فسادیوں کے منصوبے ناکم ہوگئے۔ اسی طرح بعض کارکنوں نے غیر مسلم لڑکیوں کو فسادیوں سے چھڑا کر کیمپوں میں ان کے اعزہ اور دوسرے غیر مسلم ذمہ دار لوگوں تک پہنچایا۔ بعض نے بےگناہ غیر مسلموں کو بچانے کے لیے اپنے سینکڑوں اور ہزاروں روپے خرچ کردیئے۔بعض جگہ انہیں قومی غدار تک کہا گیا اور طعنوں کی بارش کی گئی، لیکن انہوں نے وہی کچھ کیا جو انہیں کھرے مسلمان ہونے کی حیثیت سے کرنا چاہیے تھا۔ جماعت کے ایک ذمہ دار آدمی نے جو اپنے علاقے میں سربراہِ کار بھی تھا، گردونواح کے بارہ دیہات کے غیر مسلموں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انہیں حفاظت کے ساتھ رخصت کیا اور محفوظ مقامات تک پہنچایا۔

جماعت اسلامی کے کارکن مشرقی پنجاب کے اکثریتی غیر مسلم محلوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد و تعاون میں بھی پیش پیش رہے۔ انہوں نے ہر جگہ فسادات کو روکنے کی انتہائی کوشش کی اور جہاں کہیں فساد ان کی موجودگی میں پھوٹ پڑا انہوں نے مسلمانوں کو بچانے، ان کی ہمت بندھانے اور انہیں بخیریت نکال لانے میں اپنی حدِ اسطاعات تک پوری قوت صرف کردی۔ گورداس پور، امرتسر، فیروزپور، پھلوار، جالندھر، حصار اور گُڑگانوہ کے اضلاع  اور ریاست کپورتھلہ جو فسادات کے مراکز تھے،ہر جگہ جماعت کے کارکنان کا ایک ہی طرز عمل رہا۔

انہوں نے آخری وقت تک فسادی عناصر کو انسانیت اور شرافت کی راہ دکھانے کی کوشش کی، اور بعض جگہ پر شریف غیر مسلموں نے بھی ان سے تعاون کیا۔فساد کے دوران میں انہوں نے اپنے اخلاقی اثر اور جرات سے نہ صرف اپنے آپ کو بچالیا بلکہ ہزاروں مسلمانوں کی حفاظت بھی کی۔ کسی جگہ بھی بھاگنے والوں میں وہ پہلے نہ تھے۔ بعض مقامات پر انہوں نے مسلمانوں کو منظّم کرکے ظالموں کا مقابلہ بھی کیا، اور بعض مقامات پر وہ مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں کے گاؤں فساد زدہ علاقوں سے نکال لانے میں کامیاب رہے۔ وہ جن جن کیمپوں میں رہے وہاں وہ اپنے بھائی مسلمانوں کو حوصلہ دینے اور ان کی خدمت سرانجام دینے کی کوشش کرتے رہے۔ بعض مقامات پر وہ آخر وقت تک مسلمانوں کو بحفاظت نکالنے اور پاکستان روانہ کرنے میں لگے رہے اور وہاں سے خود سب سے آخر میں نکل کر آئے۔ غرض جماعت اسلامی کی تعلیم و تربیت کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ جماعت کے کارکنوں نے زمانہٓ امن میں اگر لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی تھی تو وہ زمانہٓ بد امنی میں بھی انہیں سلامتی کے راستے کی طرف ہی لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے کسی حالت میں بھی اپنی تربیت اور کردار کے منافی طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ یہ نتیجہ اُس تربیت کا تھا جو جماعت اسلامی پورے چھ سال تک انہیں لٹریچر، اجتماعات اور تربیت گاہوں کے ذریعے دیتی رہی تھی۔ بالآخر فسادات کی آگ کے طوفان نے دارالاسلام بستی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ۳ جون ۱۹۴۷ء کے اعلانِ پاکستان نے فسادات نے اور بھی شدت اختیار کرلی تھی اور پورا بنجاب فسادات سے بھڑک اٹھا تھا۔ جولائی میں دونوں طرف کے پناہ گزینوں کی اِدھر سے اُدھر آمدورفت نے زور پکڑا تو اس کے ساتھ ہی فسادات نے بھی زور پکڑا اور اس کے شعلے سر سے اونچے ہوگئے۔ اگست تک پہنچتے پہنچتے پورا پنجاب جہنم کا منظر پیش کررہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اس علاقے میں انسان نہیں بلکہ درندے آزاد ہورہے تھے۔ ہر طرف آگ و خون، دھواں، بربادی اور تباہی کا منظر تھا۔ ہر طرف مہاجر، قافلے اور کیمپ تھے۔ یہاں تک کہ ۱۴ اگست کو قیام پاکستان کا اعکان ہوگیا۔ قیام پاکستان کے اعلان میں گورداس پور کاضلع جس میں جماعت اسلامی کا مرکزواقع تھا، پاکستان میں شامل کیا گیا تھا، اس لیے کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریتی  آبادی موجود تھی، لیکن ۱۷اگست کے باؤنڈری کمیشن کےاعلان نے شکرگڑھ کی تحصیل چھوڑ کر باقی سارا ضلع دوبارہ ہندوستان میں شامل کردیا۔ یہ کمیشن کی طرف سے سیاسی بددیانتی کا بدترین مظاہرہ تھا جس کے لیے کوئی دلیل نہ دی گئی تھی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ کشمیر جانے کا راستہ ہندوستان کو فراہم کردیا جائے۔

فسادات کے حالات نے کسی جرم کی بناء پر نہیں بلکہ فلسفہ قومیت کی بناء پر ہر مسلمان کو ہندو کا، اور ہرہندو کو مسلمان کا دشمن بنادیا تھا۔ قومی عداوت کے اس اندھے جوش میں یہ سوال ہی باقی نہ رہا تھا کہ کون آدمی کس قسم کا ہے اور کیسے خیالات اور کیسا کردار رکھتا تھا۔ صدیوں کے ہمسائے ایک دوسرے کےخون کے پیاسےہوگئےتھےاور یہ پیاس معصوم بچوں، قابلِ رحم بیماروں، زخمیوں اور بوڑھوں تک کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔

اب وہمسلمان بھی ہندوؤں، سکھوں کی نگاہمیں قابلِ معافی نہیں رہ گئے تھے جو سال ہا سال سے اپنی قوم کے خلاف کانگریس کا ساتھ دے رہے تھے اورجماعت اسلامی کا مسئلہ تو اور بھی دشوار تھا۔قومی تعصب کی شدت کے ان بدترین حالات میں وہ ایک مسلمان جماعت کی حیثیت سے غیر مسلموں سے خطاب کرکے انہیں انسانیت، شرافت اور انصاف کی دعوت دینے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئی تھے، اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ بھی ان حالات میں کوئی معقول اور نظریاتی بات سننے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے تھے۔ اس لیے قوم کے محدود سے گروہ کے سوا جو اسلام کے اصولوں کو فی الواقع سمجھتا اور ان کا قدردان بھی تھا، باقی پوری قوم کی بڑی اکثریت جماعت اسلامی کی تبلیغی حیثیت سے بےنیاز تھی۔ وہ دن جماعت اسلامی کے لیے سخت مشکلات اور آزمائش کے دن تھے۔ ان مشکلات کے باوجود جماعت کا فیصلہ یہی تھا کہ:

ٌٌٌٌٌہم بندگانِ خدا کو فساد سے روک کر انصاف اور بھلائی کی دعوت دیں گے۔ اور

فساد میں بلالحاظِ قومیت مظلوم کی حمایت کریں گے اور ظالم کو ظلم سے روکیں گے، اگرچہ یہ اصول دونوں قوموں کو پسند نہ تھے۔

جماعت اسلامی کا کیمپ اورپٹھان کوٹ کے مسلمان

بالآخر فسادات کے سمندرمیں دارالاسلام کی بستی ایک یک و تنہا جزیرے کی مانند رہ گئی۔ مرکز جماعت کے بیشتر افراد وفود بنا بنا کر آس پاس کی بستیوں میں تلقینِ انسانیت کے لیے روزانہ جاتے تھے جو بیشتر سکھوں کی بستیاں تھیں۔ ان بستیوں میں دفاعی کمیٹیاں بنائی گئیں اور پہرے کا انتظام کیا گیا۔ لیکن فسادات کے حقیقی مقامات پٹھان کوٹ اور اس کی نواحی آبادیاں تھیں۔ ۱۵ اگست کے اعلان آزادی کے بعد تو شہروں کی فضا مزید مکدر ہوگئی تھی  اور دونوں قوموں کی آبادیوں میں فسادات کی خوفناک افواہیں جلتی پر تیل کا کام کرنے لگیں۔

’’جتھہ دار کر پان سنگھ‘‘ کے فرضی نام سے غیر مسلموں کے فسادی عناصر نے اشتہارات نکالے جن میں نوٹس دیا گیا تھا کہ مسلمان اپنے اپنے علاقے خالی کرکے ایک ہفتے کے اندر اندر پاکستان چلے جائیں ورنہ وہ تباہ کردئیے جائیں گے۔ حکومت کا رویہ بھی مشتبہ تھا۔ مسلمان افسران بے اختیار اور مسلمان پولیس غیر مسلح کردی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ۱۸ اگست کو مشرقی پنجاب میں نہتی مسلمان آبادیوں کے باشندوں پر مسلح حملے کئے گئے اور ان بستیوں کو جلا کر خاک کردیا گیا۔ پھر یہ حملے پھیلتے ہی چلے گئے۔مشرقی پنجاب میں کرفیو کی پابندی صرف مسلمانوں پر تھی اور غیر مسلم ٹولیاں بنا بنا کر ہر طرف آگ لگاتے پھر رہے تھے جس کے نتیجے میں ۲۲ اگست کو سارا پٹھان کوٹ شہر مسلمانوں سے خالی ہوگیا اور ریلوے اسٹیشن کت پاس بھیڑ بکریوں کی طرح ایک کھلے میدان میں ساری مسلمان آبادی خیمہ زن ہوگئی۔

پٹھان کوٹ کے خالی ہوتے ہی آس پاس کے دیہاتوں اور بستیوں سے مسلمان خود بخود اٹھ اٹھ کر جماعت اسلامی کے مرکز میں جمع ہونے لگے۔ ان کی تعداد چند دن میں ہی دو ہزار سے تجاوز کر گئی۔ وہ پناہ گزین تھے اور ان کے دفاع، خور و نوش اور حفاظتی انتظامات اخلاقی طور پر جماعت اسلامی کے مرکزی عملے کے ذمے خود  بخود آگئے۔ چنانچہ دیہاتوں سے غلہ لانا اور اشئک کے ذریعے کیمپ کے مکینوں میں تقسیم کرنا جماعت اسلامی کے کارکنوں کا فریضہ بن گیا۔ آس پاس کے بعض شریف غیر مسلموں نے بھی اپنے اپنے گاؤں کے مسلمانوں کو اپنی حفاظت میں جماعت اسلامی کے کیمپ میں پہنچا دیا۔

مورچہ بندی اور پہرہ

جماعت اسلامی کے کارکنوں نے پورے کیمپ کے چاروں طرف فوجی طرز کے مورچے کھودلیے اور باقاعدہ پہرہ لگادیا گیا تا کہ ہر قسم کے بیرونی حملے کو روکا جاسکے۔ ۱۴ اگست کو کیمپ پر حملے کا سخت خطرہ تھا اور افواہیں عام تھیں۔ جب دارالاسلام کا ایک رکن عبدالرحمٰن جو پناہ گزین خاندانوں کی ایک قریبی بستی سے ان کا سامان نکلوانے کے لیے ان کے ہمراہ گیا تھا اس کی لاش کھیتوں میں پڑی ہوئی پائی گئی جس کے جسم پر نیزوں اور کرپانوں کے بےشمار سوراخ اور زخم تھے، لیکن اس کی پشت پر کوئی زخم نہ تھا۔اب گویا جماعت اسلامی کے معروف کردار اور حسن سلوک کا اثر بھی غیر مسلم آبادی پر باقی نہ رہا تھا۔ سب کی رائے تھی کہ وہ رات دارالاسلام پر حملے کے لیے یقینی رات تھی۔ چنانچہ امیر جماعت مولانا مودودی نے عورتوں کو جمع کرکے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’شاید دارالاسلام کی زندگی کا یہ آخری دن ہو، جب تک ہم میں سے ایک مرد بھی زندہ ہے دشمن انشاء اللہ تم تک نہ پہنچ سکے گا، لیکن اگر مرد خدانخواستہ ختم ہوجائیں تو تمھیں مومن عورتوں کی طرح کٹ مرنا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ خود کشی کرنا اور نہ اپنے آپ کو زندہ کسی کے حوالے کرنا۔ جو حملہ آور ہو، اس کا مقابلہ کرو اور اپنی عزت کے لیے لڑ کر جان دے دو‘‘۔

لیکن ساری رات کے پہرے میں وہ رات بخیریت گزرگئی۔

مولانا کی صاحبزادی سیدہ حمیرا مودودی اپنی یادداشتوں کی کتاب شجر ہائے سایہ دار میں دارالاسلام میں اگست ۱۹۴۷ء کے واقعات کے بارے میں لکھتی ہیں:

’’یہ اگست ۱۹۴۷ء کے وہ دن تھے جب فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے۔ ابا جان اور دارالاسلام کے کارکنوں کا رعب و دبدبہ اس قدر تھا کہ آس باس کے ہندوؤں اور سکھوں کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ دارالاسلام کی حدود میں قدم بھی رکھیں۔ یہی وجہ تھی مضافات کے دیہات سے لوگ اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کے ساتھ دارالاسلام میں پناہ لینے کے لیے آگئے تھے۔ پورا علاقہ مسلمانوں سے پٹا پڑا تھا۔ متاثرین کی آمد کا اتنا دباؤ تھا، لیکن اُس وقت فوج کی ہمراہی میں سرف تین بسیں لوگوں کو لینے کے لیے آئیں۔ ان میں سے بھی ایک بس، چودھری نیاز علی خان صاحب کے گھر والوں کو لینے کے لیے بھیج دی گئی۔اب صرف دو بسیں دارالاسلام والوں اور وہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں کے لیے رہ گئیں۔

ابا جان نے فوری طور پر فیصلہ کیا:’’اس وقت صرف عورتیں اور بچے ان دو بسوں میں چلے جائیں، مرد بعد میں جائیں گے‘‘۔غضب یہ ہوا کہ جو فوجی جوان بسوں کے ساتھ آئے تھے، انھوں نے حکم صادر کیا:’’دس منٹ کے اندر اندر آپ لوگ بسوں میں بیٹھ جائیں،ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘‘ اس وقت دادی اماں اور اماں جان نے کہا:’’ہم مردوں کے بغیر اکیلے کیسے جائیں جبکہ قدم قدم پر سکھ کرپانیں لیے کھڑے ہیں!‘‘ تقریباََ یہی سوال ہر گھر میں اٹھا ہوا تھا اور چونکہ ہمارا گھر نمونے کا گھر تھا، اس لیے سب کی نظریں اس گھر پر ٹکی ہوئی تھیں۔

ابا جان نے کہا:’’آس پاس کے دیہات کے مسلمان میرے پاس پناہ کے لیے آئے ہیں، میں انہیں کیسے بلوائی سکھوں اور ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اور اپنے بیوی بچوں کو لے کر چلا جاؤں؟‘‘ ابا جان نے مزید کہا:’’عورتوں اور بچوں کی موجودگی میں بہادر سے بہادر مرد بھی بزدلی دکھا کر جان بچانے کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔عورتوں اور بچوں کے جانے کے بعد ہم عزتیں بچانے کی فکر سے تو آذاد ہوجائیں گے۔ باقی رہیں ہماری اپنی جانیں ، تو جو اللہ کو منظور ہوا وہی ہوگا، اس کی فکر نہ کریں۔‘‘

اسی گومگو میں وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا۔ فوجی جوان سیٹیوں پر سیٹیاں بجا رہے تھے۔ بالآخر ابا جان نے بڑے مصم لہجے میں اماں جان سے کہا:’’جب تک آخری آدمی یہاں سے پاکستان نہیں چلا جاتا، میں یہاں سے ہلوں گا بھی نہیں۔‘‘یہ سنتے ہی دادی اماں نے اپنا قرآن شریف گلے میں ڈالا، وضو کا لوٹا ہاتھ میں لیا اور اماں جان کے ساتھ بچوں کا ہاتھ پکڑ کر ستے ہوئے چہروں، بھنچے ہوئے ہونٹوں اور آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ بس میں سوار ہوگئیں۔ جیسے ہی دادی اماں اور اماں جان بس میں بیٹھیں ، باقی گھروں کی خواتین اور بچے بھی سوار ہوگئے۔ جب بسیں چلیں تو کچھ لوگ بے اختیار ہوکر ساتھ ساتھ دوڑنے لگے، لیکن ہم نے مڑ کر کھڑکی سے دیکھا تو ابا جان ، چٹان کی طرح جمے اپنی جگہ پر خاموش کھڑے ہماری طرف دیکھ رہے تھے!‘‘

دارالاسلام سے لاہور روانگی

۲۵ اگست کو شام کے وقت لاہور سے جماعت کے بعض کارکن ایک قافلے میں دو بسیں لے کر دارالاسلام پہنچے۔ یہ قافلہ صرف نصف گھنٹے کے لیے آیا تھا۔جماعت کے ذمہ دار لوگوں نے اتنے پڑے کیمپ کو جس میں دو ہزار سے زائد مسلمان پناہ گزین موجود تھے، بے سہارا چھوڑ کو جانے سے انکار کردیا۔ چنانچہ عورتوں اور بچوں کو ان بسوں میں لاد کر روانہ کردیا گیا۔

خطرات کی شدت کے پیش نظر پیدل قافلہ روانہ کرنے کے بارے میں بھی سوچ بچار ہورہا تھا کہ فوج نے ۲۹ اگست کی شام آکر کیمپ کا چارج لے لیا۔ اس طرح کیمپ کی حفاظت کی ذمہ داری سے جماعت اسلامی اور اس کے ارکان بخیر و خوبی سبکدوش ہوگئے۔ اس روز ایک اور فوجی قافلے کے ساتھ غازی عبدالجبار تین بسیں لے کر آگئے اور پھر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ دارالاسلام سے مرکز جماعت لاہور منتقل ہوجائے۔چنانچہ پناہ گزینوں کے کیمپ میں ڈھارس بندھانے اور جماعت کے سامان کی حفاظت کے لیے تین کارکنوں کو چھوڑ کر باقی لوگ دارالاسلام سے لاہور کے لیے ہفتہ ۳۰ اگست ۱۹۴۷ء کی صبح آٹھ بجے روانہ ہوگئے۔ لیکن جو سامان دارالاسلام میں چھوڑا گیا تھا، وہ پھر کبھی نہ مل سکا، جس میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا پورا ذخیرہ، مکتبہ جماعت اسلامی کی گیارہ ہزار ایک سو اٹھارہ روپے چار آنے کی کتابیں، امیر جماعت اسلامی کی پوری ذاتی لائبریری جو نایاب کتب پر مشتمل تھی،دارالاسلام کی پوری مرکزی لائبریری اور جماعت اسلامی کا دیگر سامان، فرنیچر اور پورا اثاثہ وہاں رہ گیا جو اُن دنوں ستّر ہزار روپے سے زائد رقم کا سامان تھا۔

مرکزی اسٹاف کا قافلہ اسی روز شام کو لاہور پہنچ گیا۔ لاہور پہنچ کر آبادی کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے مرکزی اسٹاف نے کچھ روز ریلوے روڈ پر ایک عمارت میں گزارے اور پھر سوہن لال کالج کی عمارت جو اب مدرستہ البنات کی عمارت ہے، اس میں الاٹمنٹ کے بعد منتقل ہوگئے، لیکن ابھی اس عمارت کی صفائی بھی نہ کر پائے تھے کہ الاٹمنٹ منسوخ کردی گئی، چنانچہ تقریباََ ایک ماہ تک ایک کھلے افتادہ میدان میں چھوٹے چھوٹے خیمے لگا کر گزارہ کیا اور پھر اچھرہ کی آبادی میں مقامی مسلمانوں سے کرائے کے چند مکان لے کر ان میں منتقل ہوگئے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کے دفاتر انہی مکانات میں مستقل طور پر قائم ہوگئے۔

پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان

تقسیم ہند اور قیام پاکستان

مشرقی بنگال، جنوبی پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل پاکستان کا وجود ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو عمل میں آگیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح جن کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں اور مسلم لیگ نے آذادی کی جنگ لڑی تھی، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ تینوں مسلح افواج کے سربراہ انگریز تھے کیونکہ کوئی بھی مسلمان افسر اُس وقت تک جنرل، ایر مارشل اور ایڈمرل کے عہدے تک نہیں پہنچا تھا۔

تحریک اسلامی کا مرکز دارالاسلام پٹھان کوٹ کے نزدیک ایک قریہ جمال پور میں واقع تھا جو ضلع گورداس پور کا حصہ تھا۔ ضلع گورداس پور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور اس کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان بھی ہوچکا تھا۔ لیکن ۱۷ اگست ۱۹۴۷کو حد بندی کمیشن نے ریڈ کلف کی سربراہی میں جس میں پاکستان کی طرف سے جسٹس محمد منیر اور جسٹس دین محمد نمائندگی کررہے تھے، ضلع گورداس پور کو ہندوستان میں شامل کردیا۔ ضلع گورداس پور میں قادیانی بہت فعال اور سرگرم تھے۔ یہ شواہد موجود ہیں کہ وہ اس ضلع کو ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں سے خالی کراکر خالص قادیانی علاقہ بنانے کی تگ و دو میں تھے۔ قادیان چونکہ گورداس پور کے قلب میں میں واقع تھا، قادیانیوں کی تبلیغی جماعتیں گردوپیش کے دیہاتوں میں نکل جاتیں۔ قادیان، دارالاسلام جمال پور سے بہت نزدیک تھا، اس لیے ان کے پروپیگینڈا اہل کار وہاں بھی آتے اور مناظرے کرنے کی کوشش کرتے۔ مسلمانوں کی آبادی ۵۱ فیصد سے ذیادہ تھی، لیکن برطانوی سامراج کے منظور نظر سر ظفر اللہ خان نے(سکھوں کی طرح) قادیانیوں کو الگ درجہ بندی دینے کی درخواست کی، جس کی وجہ سے مسلمان اکثریت میں سے قادیانیوں کی تعداد کو کم کرکے مسلمانوں کی تعداد ۴۹ فیصد سے کم ظاہر کی گئی۔ اس طرح ایک بدنیت گٹھ جوڑ کے ذریعے جس میں ریڈکلف کمیشن، ہندوستان اور قادیانی اور ریڈ کلف میں قادیانیوں کے نمائندے سر ظفر اللہ خان شریک تھے، یہ اہم ضلع ہندوستان کو دے دیا گیا۔ اس طرح ہندوستان کو کشمیر کا راستہ مل گیا، ورنہ ہندوستان کا کشمیر سے زمینی رابطہ موجود ہی نہیں تھا۔ گورداس پور کی ہندوستان میں شمولیت کے اعلان کے ساتھ ہی وہاں کے سکھوں اور ہندوؤں کے تیور بدل گئے۔ مغربی پاکستان سے آنے والے ہندو اور سکھ پناہ گزینوں نے مسلمانوں کے خلاف فضا کو انتہائی زہر آلود بنا دیا۔ ایسے ماحول میں دارالاسلام میں گورداس پور کے مختلف علاقوں سے مسلمان مہاجرین کا تانتا بندھ گیا اور جماعت اسلامی کو ان کے کھانے پینے اور حفاظت کے لیے ہر قسم کا بندوبست کرنا پڑا۔ بعد میں انہیں بہ حفاظت پاکستان بھجوانے کی ذمہ داری بھی جماعت اسلامی نے بخوبی انجام دی۔

سرحدوں کا تعین ۔ ریڈ کلف ایوارڈ

۲۲ مارچ ۱۹۴۷ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن آخری وائسرئے ہند کی حیثیت سے ندوستان آئے، اور انہوں نے ۳ جون ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کا منصوبہ پیش کیا۔اس منصوبے کے تحت پنجاب ، سندھ اور بنگال کی صوبائی اسمبلیوں نے کثرتِ رائے سے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔۱۷ اگست کو ریڈ کلف کی سربراہی میں سرحدی حد بندی کا تعین کیا گیا۔ گزشتہ اعلان کے برخلاف گورداس پور کا علاقہ (ماسوائے شکر گڑھ کی تحصیل کے) ہندوستان کے حوالے کردیا گیا۔

تقسیم بنگال و پنجاب ۔ ایک غیر منصفانہ بٹوار

آزادی ہند کے ایکٹ مجریہ ۱۹۴۷ء کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ پنجاب اور بنگال کو ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کرنے کے لیے دو سرحدی کمیشن مقرر کیے جائیں گے، اور ہر سرحدی کمیشن میں مساوی تعداد میں پاکستان اور ہندوستان کے نمائندے شامل ہوں گے، ان کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ غیر جانبدار اراکین بھی ان میں شامل ہوں گے۔ایکٹ کے مطابق سر ریڈ کلف کو مکمل اختیارات کے ساتھ