December 13th, 2017 (1439ربيع الأول25)

حجاب مسلم شناخت کا افتخار

سراج الحق

نئی صدی کے آغاز سے ہی اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے میڈیا کے زور پر اسلام اور اسلام کی علامات خصوصاََ حجاب کے خلاف متعصّبانہ رویوں سے بھرپور گمراہ کن مہم شروع کر دی گئی، بدقسمتی سے عالم اسلام کی طرف سے اس کا کافی و شافی جواب نہیں دیا گیا، مگر شرق وغرب میں بیدار ہوتی ہوئی نوجوان نسل نے اسلام مخالف زہریلے پروپیگنڈا کا اپنے عمل اور اسلام سے سچی محبت کا مظاہرہ کر کے بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی ایک واضح مثال بچیوں کے اندر حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ ایک سفارتی تقریب میں ایک نام نہاد پاکستانی دانشور نے بڑے افسردہ لہجے میں بتایا کہ جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو خال خال ہی کوئی حجاب والی لڑکی نظر آتی تھی مگر اب تو آپ نے ایک مؤثر مہم کے ذریعے ہر طرف حجاب والی بچیوں کو پھلا دیا ہے۔ ہم نے جواب دیا کہ حجاب کوئی کسی کو زبردستی تو نہیں پہنا سکتا اور یہ حجاب ڈارون کا بندر تو نہیں ہے مگر جیسے اس کپڑے کے ایک گز کے ٹکڑے نے ترقی کی ہے دنیا میں آج تک اس کی مثال نہیں ملتی۔ پہلے اسے مسلم خواتین کی ذہنی پسماندگی کی علامت قرار دیا جاتا رہا کہ بیچاری برقعے والی عورت کو نہ عصر کا شعور ہے نہ جدید دنیا کے تقاضوں سے باخبر، نہ اس کے پاس تعلیم ہے، نہ سماجی مرتبہ تو منہ نہ چھپائیں تو کیا کریں اور گھروں میں بند ہو کر نہ بیھٹیں تو اور کیا کریں۔ اگلے مرحلے پر حجاب کو ظلم و جبر کی علامت کے طور پر مشہور کیا گیا کہ مسلم دنیا کے مرد ظالم، کم نظر اور پسماندہ ہیں۔ انھیں عورت کو قید کر کے لطف آتا ہے۔ پردے کو مرد کی بالادستی، جبر اور مردوں کی شاؤ نزم کا استعارہ سمجھا گیا۔ پھر حجاب کو ایک سیاسی بیان کے طور پر لیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاملہ دراصل سیاسی اسلام کے پیروکاروں کا ابھارا ہوا ہے جو خود انتہا پسندی کی علامت ہیں اور انھیں پردے جیسی انتہا پسندی پسند ہے لیکن دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور تناظر نے حجاب کو ثقافتی اور تہذیبی بیان میں ڈھال دیا۔ لیکن اب یہ ایک گز کا ٹکڑا آزادی کی توانا علامت اور مسلم شناخت کا افتخار بن کر ابھر رہا ہے۔ پسماندگی کی علامت سے آزادی کی علامت تک حجاب کا یہ سفر اور ارتقاء بہت حیرت انگیز ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے ہم حضور نبی کریم کی لائی ہوئی آخری آسمانی ہدایت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جنہوں نے ہمیں ان طرح طرح کی غلاظتوں کے بوجھ سے نجات دی جسے زمانے نے ہمارے اوپر لاد دیا تھا اور ان زنجیروں سے آزاد کیا جنہوں نے طوق کی طرح ہمیں جکڑ لیا تھا۔ حضور نبی کریم کی ذاتی زندگی میں عورت کا کردار اتنا مرکزی اور متحرک ہے کہ ان پر ایک عرب شاعر طنزیہ کہتا ہے کہ ’’محمد جب سے آئے عورت ہی عورت ہونے لگی ہے‘‘۔ انھوں نے عورت کو جو کہ زندہ درگور ہورہی تھی کو خوشبو اور نماز کے ساتھ یاد کیا اور اس ایک جملے کی چھوٹی سی حدیث نے عورت اور مرد کے تعلق کی معنویت اور تقدس کو بہت خوبصورت طریقے سے آشکار کیا ہے۔ آپ زندگی کے کسی لمحے میں بھی اپنی والدہ بی بی آمنہ کو فراموش نہ کرسکے کیونکہ والد کو تو آپ نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اپنی رضاعی والدہ بی بی حلیمہؓ کے ہمیشہ احسان مند رہے۔ رضاعی بہن حضرت شیماؓ ایک دفعہ آئیں تو ان کے لیے اپنی چادر بچھادی۔ رضاعی بھائی بھی تھے مگر ہم ان سے لاعلم ہی رہتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ پہلی مسلمان ہونے کے اعزاز کے سا تھ ساتھ آپ کی زندگی میں ایسے شامل رہے ہیں کہ آپ انھیں ہر وقت انھیں یاد کرتے رہے اور حضرت عائشہ کو کہنا پڑا کہ مجھے حضرت خدیجہؓ پر رشک آتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کو اتنا زیادہ لاڈ پیار سے رکھا کہ حیرت ہوتی ہے اور انکی زندگی وفا اور محبت کی لازوال داستان دکھائی دیتی ہے۔ حضرت فاطمہؓ کے تعلق سے تو تاریخ بھری پڑی ہے اور آپ کی نسل بھی آپ کی بیٹی سے ہی چلی۔ لیکن آج امت مسلمہ بالعموم اور مسلمان عورت بالخصوص کس دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف مغربی تہذیب و ثقافت کا سیلاب ہے جو وقت کی ٹیکنالوجی کے مؤثر ترین آلات سے آراستہ ہو کر ہمیں اپنے دین و ایمان اور اپنی تاریخ و روایت سے کاٹ کر مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھال دینا چاہتا ہے اور دینوی ترقی اور ثروت کے طلسم سے ہماری آنکھوں کو خیرہ کرنے میں مصروف ہو تو دوسری طرف قدامت اور روایت کے کچھ علمبردار بھی اپنے خلوص کے باجود رسم و رواج کو اقدار اور اصول کا درجہ دے کے وقت کے حقیقی تقاضوں سے مکمل صرف نظر کر رہے ہیں۔ زمانے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے بجائے ہم ماضی کے حصار میں محصور ہو جانے میں عافیت دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں ہی راستے زندگی اور ترقی کے راستے نہیں ہیں نہ ہم نے اپنی اقدار و روایات پر کوئی سمجھوتہ کرنا ہے اور نہ وقت کی ضرورتوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ مغلوبیت اور محکومیت سے بچنے کا واحد راستہ وہی ہے، جو نبی اکرم نے دکھایا ہے، جسے صلحائے امت نے اپنے اپنے دور میں کامیابی سے آزمایا ہے یعنی اصول و اقدار کے سلسلے میں مکمل استقامت اور ذرائع اور وسائل کے باب میں ضروری لچک اور وسعت ۔ستمبر 2003ء میں فرانس نے حجاب پر پابندی کے لیے قانون سازی کی امت مسلمہ کے علمائے کرام نے علامہ یوسف القرضاوی کی قیادت میں پہلی دفعہ 4 ستمبر2004ء کو عالمی یوم حجاب منانے کا اعلان کیا۔ پاکستان سے محترم قاضی حسین احمد ؒ  اس تحریک کے علمبردار بنے، مسلمان خواتین کی ایک بڑی عالمی تنظیم انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے اسے 2004ء سے ہی عالمی سطح پر منانے کی روایت برقرار رکھی اور جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا اعزاز ہے کہ وہ اپنے کارکن میں قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری کرتی ہے۔ اس وقت اس عالمی تنظیم کی مرکزی اور ایشیائی ریجن کی صدارت ہماری دو کارکنان بہنوں ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ کے پاس ہے اور وہ اس عالمی تحریک حجاب کے ذریعے احیائے تہذیب اسلامی کی مہم چلا رہی ہیں۔ حجاب محض برقعے یا چادر کا نام نہیں اور یہ محض عورت سے بھی منسوب نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظام اخلاق اور نظام عفت وعصمت ہے جو کہ مردوں کو بھی اتنا ہی محفوظ رکھتا ہے جتنا عورت کو اور اسکا خطاب مردوں کو بھی ہے اور عورت کو بھی۔ اس تحریک کے ذریعے سے ہم اپنی تہذیب سے اپنے ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ میڈیا نے ہمارا پہلے بھی بہت سا تھ دیا ہے ہم اب بھی ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ تہذیب اسلامی کے احیائے کے اس مشترکہ کام میں ہمارا ساتھ دیں تا کہ ہم اپنی کھوئی اور گمشدہ متاع عزت و وقار کو بازیاب کراسکیں۔

آپ جہاں اور جس مقام پر بھی ہیں معاشرے کو استحکام بخشنے کی خاطر اور اپنی نسل نو کو اخلاقی طور پر کامیاب و کامران بنانے کے لیے اپنے کردار ادا کریں۔ آپ کالم نگار ہیں تو ایک کالم لکھ کر اپنا فرض پورا کریں۔ اگر ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں تو ایک پروگرام نشر کر کے اپنا حصہ ادا کریں۔ اگر آپ پروڈیوسر ہیں ایک دستاویزی فلم، کوئی ترانہ بنا کر اس مہم کا حصہ بنیں۔ اگر آپ استاد ہیں تو اپنی زبان اور بیان سے اس دن کی اہمیت اجا گر کریں اور ہر سطح پرمعاشرے کے استحکام اور عورت کو اسکی نسوانیت پر فخر کرنے اور اسے تحفظ کا احساس دلائیں۔