April 13th, 2021 (1442رمضان1)

نمونیا پھیپڑوں کا انفیکشن

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

 

نمونیا پھیپڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی بیماری کا نام ہے۔ نمونیا کے مریض کو کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ عام طور سے نمونیا کا علاج گھر پر ہی کیا جاتا ہے،اسے ٹھیک ہونے میں دو سے تین ہفتے درکار ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات بچوں اور بوڑھوں کے لئے یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے اس وجہ سے انھیں ہسپتال میں داخل کروانا پڑتا ہے۔ 
نمونیا کا عالمی دن ۱۲ نومبر کو ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس لئے منایا جاتا ہے تا کہ لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں آگاہی ہو اور اس جان لیوا بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اپنا سکیں۔ نمونیا سے مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔ 
دنیا بھر میں۱۵ ممالک میں نمونیا سے مرنے والے بچوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پاکستان پیڈریٹک ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں اب تک نو لاکھ بیس ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان کا شمار ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جہاں ننانوے فیصد بچے نمونیا کا شکار ہوتے ہیں۔ 
نمونیا ایک انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں میں آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ہمارے پھیپھڑوں میں بلغم بنتا ہے، جس کی بعد سے بخار، گلے میں درد، ٹھنڈ اور سانس لینے میں دقت شروع ہو جاتی ہے۔ 
پیدائش سے لے کر دوسال تک کے بچوں اور پینسٹھ سال کے بزرگوں میں نمونیا کے خطرات زیادہ لاحق ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو تمباکو نوشی کرتے ہیں، شراب پیتے ہیں، ڈرگز استعمال کرتے ہیں یا ایچ آئی وی ایڈ کے مریضوں میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اس لیے ان میں نمونیا کے ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
دل کے مریض، دمہ، ذیابطیس، ہارٹ فیلیر جیسے مریضوں میں بھی قوتِ مدافعت کم ہو جاتی ہے اور ان کے لئے نمونیا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کے ذریعے بھی نمونیا پھیلتا ہے جو زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ اس لئے آئی۔سی۔یو میں داخل ہونے والے مریضوں میں اس کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ روز مرہ کے کام کے دوران بھی اسکے جراثیم لگ سکتے ہیں آفس جاتے ہوئے یا گھر پر، لیکن وائرس سے لگنے والے نمونیا سے زیادہ خطرناک بیکٹیریا سے لگنے والا نمونیا ہوتا ہے اور بیکٹریا سے لگنے والا نمونیا ہسپتالوں سے پھیلتا ہے۔ 
اگر آپ کو سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی ہے، سینے میں درد ہو یا (102F  (39 C  بخار ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں خاص طور پر وہ مریض جنہیں کھانسی کی تکلیف ہو، تا کہ نمونیا کی ہونے کے صورت میں اس کا علاج کیا جاسکے۔
نمونیا کے جراثیم سانس لینے، کھانسی اور چھینک سے پھیلتے ہیں جبکہ یہ جراثیم آلودہ ماحول اور گندگی میں نشونما پاتے ہیں، نمونیا ہمارے پھیپھڑوں کو کمزور کر دیتا ہے اور ان کی قوتِ مدافعت کم کر دیتا ہے۔ 
نمونیا کی علامات ابتداء میں ہلکی اور پھر شدید ہوتی ہے۔ یہ علامات انفکشن، مریض کی صحت اور مریض کی عمر کے لحاظ سے ظاہر ہوتی ہیں بالغ لوگوں میں اسکی شدت کبھی کم کبھی زیادہ ہوتی ہے، بخار اور بلغمی کھانسی کی علامات کبھی ظاہر ہوتی ہیں کبھی ظاہر نہیں ہوتی، نوزائدہ بچوں میں اسکی علامات واضح نہیں ہوتی ہیں بلکہ بخار کھانسی اور الٹیوں کی علامات نظر آتی ہیں بچے کمزور اور تھکے تھکے سے رہتے ہیں سانس لینے اور نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے، بڑی عمر کے لوگوں میں یہ علامات مختلف ہوتی ہیں وہ دماغی طور پر الجھن اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں، نمونیا کے مریض کا مرض اس وقت شدید ہوجاتا ہے جب پہلے سے پھیپڑوں میں انفکشن موجود ہو، دوسری علامات بھی مرض کی شدت میں نظر آتی ہیں عمر اور عمومی صحت کے لحاظ سے یہ نمونیا کی شدت کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔
نمونیا کی ابتدائی علامات نزلہ اور چھینکیں ہیں،۱۲ سے ۳۶ گھنٹوں بعد تیز بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے ۱۰۵ ڈگری فارن ہائیڈ حرارت کے ساتھ ساتھ اس مرض میں دماغی الجھن، پسینہ آنا، ہونٹ اور ناخن کا نیلا ہونا شامل ہے، ۵ سال سے کم عمر کے بچوں میں سانس کا تیز چلنا بھی ایک علامت ہے، نوزائدہ بچوں میں الٹیاں، کمزوری، سانس لینے، نگلنے میں تنگی شامل ہے جبکہ عمر رسیدہ لوگوں میں نمونیا کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے۔
نمونیا کا علاج اس کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، نمونیا کے مریضوں کو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق دوا کا استعمال کرنا چاہئے۔ علاج کے دوران ایسے مریضوں کو بہت زیادہ آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو سگریٹ نوشی سے مکمل اجتناب برتنا چاہئے۔ کام پر جانے کی جلدی نہ کریں اور کم سے کم کام کریں۔ 
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق نمونیا کی ویکسین مکمل طور سے نمونیا سے محفوظ نہیں رکھ سکتی لیکن کافی حد تک اسکے خطرات کم کر دیتی ہے، نمونیا کی ویکسین دو طرح کی ہوتی ہیں ایک دو سال سے کم عمر بچو کے لئے اور ایک پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لئے لیکن۲ سے ۵ سال تک کے بچوں کو اسکی ویکسین لازمی کروانی چاہئے۔
جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا خسرہ اور چکن پوکس کے مریضوں میں نمونیا کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس لئے نمونیا کے جراثیم سے بچنے کے لئے صابن کی مدد سے اچھے طریقے سے ہاتھ دھوئیں، کھانسی یا چھینک کے وقت اپنے ہاتھ منہ پر رکھیں۔ مکمل نیند لیں، روزانہ ورزش کریں اور صحت مند غذا لیں۔