March 25th, 2019 (1440رجب19)

اے دل! تمام نفع ہے سودائے عشق میں

غزالہ عزیز

پھر دسمبر کا مہینہ آتے ہی بنگلا دیش کی قاتل حسینہ کے سر پر خون سوار ہوگیا اور بنگلا دیش کی عدالت نے جماعت اسلامی کے چھ ارکان کو سزائے موت سنادی۔ یہ عدالت جس کے بارے میں مغرب کے اخبارات انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس سب ہی شک و شبہ کا اظہار کرچکے ہیں‘ کہہ چکے ہیں کہ عدالت کا طریقہ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بنگلا دیش میں انصاف تماشا بن گیا ہے حکومت مخالفین کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارنے کے درپے ہے۔ حسینہ حکومت متنازع جنگی جرائم ٹریبونل کو سیاست کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہی ہے۔
12 دسمبر 2013ء جماعت اسلامی بنگلا دیش کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبدالقادر ملا کو پاکستان توڑنے کی مخالفت پر پھانسی دی گئی، پھر 2015ء میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے سیکرٹری جنرل علی احسن مجاہد کو اس جرم میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر مطیع الرحمن نظامی کو بھی پھانسی چڑھا دیا گیا، جو کئی بار رکن پارلیمنٹ اور وزیر رہ چکے تھے۔ اب ایک بار پھر حسینہ کی عدالت نے جماعت اسلامی کے چھ ارکان کو موت کی سزا سنادی ہے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے پاکستان کی محبت میں بہتے خون کی کوئی قدر نہ کی، بہت ہوا تو وزارت خارجہ نے ان فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا۔ حالاں کہ جنگی جرائم پر یہ مقدمہ غیر قانونی ہے، بنگلا دیش نے خود 1972ء میں سہ فریقی مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ کیا تھا کہ جنگی مقدمات نہیں چلائے جائیں گے، یہ مقدمات عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہیں، یہ صریحاً انسانی حقوق کے بھی خلاف ہیں، بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت پاکستان بنگلا دیش سے احتجاج نہیں کررہا اور نہ ہی اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں نوٹس لینے کا کہہ رہی ہے۔ 1971ء سے قبل بنگلا دیش مشرقی پاکستان تھا۔ پاکستان کا مشرقی بازو، انڈیا کے وزیراعظم نے تو اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ بنگلا دیش ان کی کوششوں سے وجود میں آیا۔ مقدمہ تو عالمی عدالت میں انڈیا کے ذمے داروں پر چلایا جانا چاہیے۔ لیکن پاکستان کے حکمران مدعی بننے کو تیار نہیں، مودی کی دوستی عزیز ہے، حسینہ واجد کے والد مجیب نے بنگلا دیش بننے کے بعد ڈیڑھ سو غداروں کی فہرست بنائی تھی۔ اس فہرست میں جماعت اسلامی کا نہ کوئی راہ نما تھا اور نہ کوئی کارکن۔ بعد میں مجیب کے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں بھی جماعت اسلامی کے کسی راہ نما یا کارکن پر غداری کے الزام میں کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ اس انتہائی مشکل وقت میں جماعت اسلامی پر کوئی الزام نہیں لگ سکا، اس کی وجہ یہ تھی کہ جماعت اسلامی کا جرم بنگلا دیش کی مخالفت نہیں بلکہ اسلام کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک پاکستان کی بقا اور محبت تھی۔
جماعت اسلامی نے پاک وطن کے مشرقی بازو کو کاٹنے والوں کو اپنے نہتے ہاتھوں سے روکنے کی کوشش کی تھی، آج بلوچستان اور سندھ کو وہی ہاتھ پاکستان سے کاٹنے کے لیے کار فرما ہیں۔ کیا ان کی کوششیں جرم ہیں یا فرض؟؟ یقیناًفرض ہے اور یہی فرض جماعت اسلامی نے 1971ء میں البدر اور الشمس کے ذریعے نبھانے کی کوشش کی۔ سلیم منصور خالد اپنی کتاب ’’البدر‘‘ کی ابتدا میں لکھتے ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان کے تقریباً آٹھ سال بعد جب میں اپنے ایک بنگالی دوست کے ہمراہ سائیکل رکشے پر ڈھاکا یونی ورسٹی اور ریس کورس گراؤنڈ کی درمیانی شاہراہ سے گزر رہا تھا تو میں نے اپنے رفیق سفر سے پوچھا۔ آپ سے البدر میں شامل (شہید) دوستوں کے بارے میں کچھ تفصیل سے جاننا چاہوں گا۔ اس سوال پر اس کا ہشاش بشاش چہرہ اداس ہوگیا، آنکھیں اشک آلود ہوگئیں، ریس کورس کی جانب اس نے درد بھری نظر ڈالی اور دھیرے دھیرے کہنے لگا۔
’’اگر آپ البدر کے شہیدوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ بتانے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ میں جب اس ظلم کے بارے میں سوچتا ہوں جس کا نشانہ وہ بنائے گئے تو میرا دل چھلنی ہوجاتا ہے اور روح لرز جاتی ہے۔ میں اس موضوع پر انصاف نہ کرسکوں گا۔ اس لیے تم ریس کورس گراؤنڈ اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے در و دیوار سے پوچھو ان کی بے زبانی اس داستان رنج و الم کو بہتر انداز میں بیان کرسکے گی۔ اس سرزمین کا چپہ چپہ ہماری محبوب ہستیوں کے خون سے لہو رنگ ہے‘‘۔
افسوس کہ وہ سلسلہ تھما نہیں۔ دار پر ہیں وفادار یوں ہی سربکف تیار دین اسلام کی آبیاری کے لیے۔ جماعت اسلامی کا اصل جرم اسلام سے محبت ہے جس کے لیے ایک طرف ان کے راہ نماؤں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھائی جارہی ہے اور دوسری طرف کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے، ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے، یہاں تک کہ خواتین اور طالبات کے قرآنی اجتماعات پر بھی دھاوے بولے جارہے ہیں۔ صورت حال کچھ یہ ہے کہ عوامی لیگ نے اپنے ہر دور اقتدار میں انڈیا سے کچھ اس طرح تعلق قائم کیے کہ بنگلا دیش کو پوری طرح بھارتی اثر و رسوخ اور ترجیحات کا تابع بنادیا، جماعت اسلامی کے خلاف کیے جانے والے تمام فیصلوں میں بھارت کی پوری تائید اور اعانت شامل ہے۔ حسینہ واجد بنگلا دیش کے معاشرے سے اسلام کو نکال دینا چاہتی ہے لیکن بنگالی عوام کے دلوں سے اسلام کے تعلق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی بنگلا دیش میں اہم موضوع بن گئی ہے، حسینہ واجد کی انتقامی سیاست جس شدت کی ہے یقیناًموضوع کی مقبولیت میں بھی اُسی شدت کا اضافہ ہوگا۔ سو، ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔
پاکستان 1971ء میں دولخت ہوا اس وقت دی جانے والی البدر کی قربانیاں نہ کل رائیگاں گئی تھیں اور نہ آج پھانسی کے پھندوں کو ہنستے کھیلتے چومنے والے ناکام ہوئے ہیں۔
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
ایک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں