December 13th, 2017 (1439ربيع الأول24)

او آی سی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کراسکتی ہے

ڈاکٹرعظیم ابراہیم

میانمر میں روہنگیا اقلیت کے خلاف انسانیت سوز سلوک کا سلسلہ جاری ہے اور یہ روز بروز بد تر ہوتا جارہا ہے ۔ہمیں اب یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ اقوام متحدہ اپنے1948ء کے نسل کشی سے متعلق کنونشن کے اصولوں کے نفاذ میں بالکل ناکام رہا ہے۔
اسی سال اقوام متحدہ کی انسانی رابطہ کار رینیٹا لوک ڈیسالین کے دفترکی افشا ہونے والی دستاویز سے ایک افسوسناک تصویر سامنے آئی ہے۔انہوں نےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک غیر فعال کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اقتصادی ترقی کے مقاصد کو انسانی حقوق پر ترجیح دی۔ ان کے اپنے عملے کے ارکان نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نےمیانمرکی سول حکومت اور فوجی اشرافیہ سے بڑے اچھے تعلقات استوار کرلیے تھے جبکہ روہنگیا اور دوسری اقلیتوں کے خلاف مظالم کو اپنے ایجنڈے میں نظر انداز کردیا تھا۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ آنگ سان سوچی کی جدوجہد کے نتیجے میں جمہوریت کی جو نئی صبح طلوع ہوئی ہے ،وہ جلد پھل پھول دینا شروع ہوجائے گی لیکن اقوام متحدہ بالعموم اور لوک ڈیسالین بالخصوص خاموش تماشائی بنے سینکڑوں ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔دیہات کے دیہات ملیا میٹ کردئے گئےاور ہزاروں افراد کشتیوں کے دشوار بحری سفر کے ذریعے بنگلہ دیش اور ملائشیا کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے لیکن انہیں وہاں بھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہواجیسے وہ میانمر میں چھوڑ کر گئے تھے۔اقوام متحدہ نے میانمر سے متعلق بظاہر سابق امریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کے تزویراتی ضبط و تحمل کا نظریہ اپنا لیا تھا جس کا سفارتی مطلب کچھ بھی نہ کرنا ہے ۔

 حال ہی میں رینیٹالوک ڈیسالین کو میانمر مشن سے ان کی ذمہ داریوں سے ہٹانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔اس پر کئ افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن انُ کی جگہ لینے والے نئے رابطہ کار کیا اس ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی توجہ مرکوز کرسکیں گے؟
امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی بین الااقوامی تنظیم روہنگیا مسلمانوں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ ان کو زیادہ بہتر طریقے سے پورا کیا جاسکتا تھا۔

روہنگیا کی صورتحال کا موضوع اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی)کے وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں بھی سرفہرست رہا ہے ۔اوآئی سی نے اسی سال ملائشیا میں روہنگیا کی صورتحال پر غور کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا تھا۔

اوآی سی کے جہاں تک تنازعات کے حل سے متعلق ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ تنظیم تنازعات کے حل کے معاملے میں بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے۔کیونکہ اس کے پاس ایسےذرائع نہیں ہیں جن کو وہ فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے بروئے کار لا سکے۔او آئ سی کے اجلاسوں میں قراردادیں منظور کی جاتی ہیں لیکن مسلم دنیا سے باہر ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتاہے۔عام طور پر یہ قراردادیں مقامی آبادی کی دل جوئی اور انہیں مطمئن کرنے کے لئے منظور کی جاتی ہیں ۔

اس سب کے باوجود اوآئی سی اس معاملے میں مزید مؤثر ثابت ہوسکتی ہے یہ دنیا کی دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے اس کے 57 رکن ممالک ہیں جو کہ ۴ براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین کی فعال شخصیت اس تنظیم کی سیکرٹری جنرل ہے۔ ان کی قیادت میں یہ تنظیم روہنگیا کے مسئلےمیں مداخلت کرسکتی ہے اور وہ کام کرسکتی ہے جو اقوام متحدہ نہیں کرسکی ہے ۔ہمارے خیال میں اوآئی سی درج ذیل بعض سادہ اقدامات کرسکتی ہے۔

۱:اوآئی سی اقوام متحدہ میانمر کے حکام کے ساتھ مل کر ان الزامات کی تحقیقات کرسکتی ہے کہ بعض جنگجو روہنگیا کی جدوجہد کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان الزامات میں اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن میانمر کے حکام روہنگیا کو اجتماعی سزا دینے کے لئے ایسے الزامات کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور وہ عالمی برادری کو بھی اس طرح کی فریب کاری کے ذریعےیہ باور کرانے کی کوشش کر تے ہیں کہ وہ اپنی آنکھیں موند لیں ۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں داعش اپنے علاقوں سے محروم ہورہی ہے اوروہ اب نئے علاقوں کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنے زہریلے نظریے کو پھیلاسکے۔
 ۲:روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہے کیونکہ بعض عناصر بدھ تعلیمات کی غلط تشریح کرکے تشدد کو تحریک دے رہے ہیں ۔اوآئی سی ایک مذہبی تنظیم ہے اور وہ بین المذاہب مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کے لئے از سر نو کوششیں کر سکتی ہے۔او آئ سی مسلمانوں کی عالمی آواز ہونے کی نمائندہ ہے ۔اس کو ایسی عالمی مسلم شخصیات کو قائدانہ کردار کے لئے آگے لانا چاہئے جو اس ملک کے بدھ مت ماننے والے رہنماؤں کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔

۳:اوآئی سی میانمر کے ہمسایہ ممالک پر روہنگیا مسلمانوں کے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے تاہم بنگلہ دیش کی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ روہنگیا مستقل طور پر اس ملک میں نہ رہیں کیونکہ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ جانیں بچا کر آنے والے ہزاروں روہنگیاؤں کو اپنے ہاں مستقل طور پر پناہ دے سکیں۔

۴:اوآئی سی بنگلہ دیش سمیت میانمر کے پڑوسی ممالک میں روہنگیا پناہ گزینوں کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لیے ایک مربوط عالمی مہم چلاسکتی ہے ۔اوآی سی کی اپنے فنڈنگ کے اصولوں کے حوالے سے کوئی خوشنما تاریخ نہیں ہے لیکن وہ اس معاملے میں کامیاب ہوسکتی ہے جہاں اقوام متحدہ ناکام ہوچکی ہے ۔روہنگیا کی صورتحال اس تنظیم کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ خود اپنی غلطیوں کا ازالہ کرسکتی ہے ۔ اور وہ مذکورہ بالا سادہ اقدامات کے ساتھ اس کا آغاز کر سکتی ہے۔ اس کے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ہمیں توقع ہے کہ وہ اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھائے گی۔