October 21st, 2017 (1439محرم30)

قبولیت ِ دُعا کے تقاضے

ارشاد الرحمٰن

بندئہ مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے عطا کی اُمید رکھتا ہے اور ہمیشہ اُس سے مانگتا ہے۔ خزانے اُس کے ہیں مگر ختم نہ ہونے والے خزانے ہیں: وَ اِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر ۱۵:۲۱) ’’کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں‘‘۔
حدیث قدسی کا مفہوم ہے: ’’اے میرے بندو! اگر تمھارا اوّل و آخر شخص اور تمام جِنّ و انس ایک جگہ کھڑے ہوکر (بیک وقت) مجھ سے مانگیں اور میں ہرایک کو اس کی طلب کے مطابق عطا کردوں، تو یہ چیز میرے خزانے میں صرف اتنی سی کمی کرسکتی ہے جتنی سوئی سمندر میں ڈبو کر باہر نکالنے سے ہوتی ہے‘‘۔ (مسلم، ۲۵۷۷)
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی طرف اشارہ ہے۔ بندۂ مومن کی نگاہ بڑے سے بڑے معاملے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے امر میں بھی اللہ ہی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا دیکھتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی تعلیم فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرشخص کو اپنی ہرحاجت اور ضرورت کا سوال اپنے رب سے کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر اُس کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ ہی سے مانگے‘‘۔ (صحیح ابن حبان)
جب مسلمان کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہرقسم کی نعمتوں کا خزانہ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو     پھر مومن کا فرض ہے کہ وہ قبولیت کے تصور بلکہ یقین کے ساتھ اللہ سے دعا کرے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، آپؐ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو تو تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے۔ (مستدرک حاکم، ترمذی)

 صرف اللہ ہی سے دُعا کرنا:
عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنا ہر عبادت کی اصل اور عمل کی اساس ہے:
فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَo(المؤمن ۴۰:۱۴)     (پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، خواہ تمھارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
قرآن مجید کا بیان ہے:
وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ  ط وَ کَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۶۷) جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک (اللہ) کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے: اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓ ئَ (النمل ۲۷:۶۲) ’’کون ہے جو بے قرارکی دُعا سنتا ہے، جب کہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟‘‘
آدابِ دعا میں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ دعا کا آغاز خالق ارض و سما کی حمدوثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلاۃ و سلام سے کیا جائے۔ حضرت فضالہ بن عُبیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ایک آدمی کو سنا کہ اُس نے نماز میں نہ اللہ کی حمدوثنا کی، نہ رسولِ کریمؐ پر صلاۃ و سلام کی دعا کی۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا: اس شخص نے جلدبازی سے کام لیا ہے۔ پھر اُس آدمی کو بلایا اور اُس سے یا کسی اور سے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا سے ابتدا کرے۔ پھر نبیؐ پر درو د و سلام کی دعا کرے، پھر جو مانگنا چاہے مانگے‘‘۔ (ترمذی)

دل کی حضوری اور نفس کی بیداری:
مومن کا یہ عقیدہ ہے کہ ثواب کے خزانے بھی اللہ کے پاس ہیں اور عذاب کا اختیار بھی اُسی کو حاصل ہے۔ قلب ِ مومن ان دونوں احساسات کے ساتھ اپنے رب کے حضور میں پہنچتا ہے۔ اجروثواب کی کشش اور عذاب و عتاب کا خوف ایسی چیزیں ہیں کہ یہ مومن کے لیے حضوری قلب کا سبب بنی رہتی ہیں۔ مومن کی دعا کی شان یہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور حکم بھی یہی ہے کہ دعا و مناجات اور ذکروتسبیحات میں حضوری قلب اختیار کرو:
وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَo(اعراف ۷:۲۰۵) اے نبیؐ!  اپنے رب کو  صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم اُن لوگوں میں سے نہ ہوجائو، جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کہ اللہ سے دعا کرو تو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے کرو، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ غافل و لاپروا دل کی دعا کبھی قبول نہیں فرماتا۔ (مستدرک حاکم ،  ترمذی)

عزم و پختہ یقین سے مانگنا:
دعا دراصل انسان کی عاجزی و بے بسی ، ناتوانی و کمزوری اور تہی دامنی کا اظہار ہے۔ رب کی قدرتِ کاملہ اور اس کے وسیع خزانوں کا اقرار ہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش کا اعتراف ہے۔ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی مومن اس سے مانگتا اور دنیا کی ہرطاقت کو  اللہ کے سامنے ہیچ سمجھتا ہے۔ مومن جس یقین کے ساتھ یہ عقیدہ رکھتا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرتے ہوئے بھی اسی عزم و یقین سے کام لینا چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے اسی لیے دعا میں استثنا کے اظہار سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو وہ انکسار و تواضع کا پورا زور اُس میں صرف کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ!اگر تو چاہے تو عطا فرما دے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو اُس کے لیے نامطلوب نہیں بنانا چاہتا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یہ نہ کہے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو معاف فرما دے، بلکہ اپنے سوال میں زور پیدا کرے اور اپنی طلب میں رغبت کو بڑھائے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز گراں بار نہیں جسے وہ عطا نہ فرما سکے‘‘۔(بخاری، مسلم)

دُعاے مستضعفین:
اہل طائف کے بدترین ردعمل کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بارگاہِ رب میں دستِ دُعا بلند فرمائے:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِی وَقِلَّۃَ حِیْلَتِی وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ، اَنْتَ رَبُّ المُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّی، اِلٰی مَنْ تَکِلُنِی؟ اِلَی بَعِیْدٍ  یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍ مَلَّکْتَہُ اَمْرِی؟ اِنْ لَمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِی، وَلٰکِنَّ عَافِیَتَکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ مِنْ اَنْ یَنْزِلَ بِی غَضَبُکَ اَوْ یَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ، لَکَ العُتَبِی حَتّٰی تَرْضٰی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ ، بار الٰہا! میں اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ تجھی سے کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تومجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی بیگانے کے جو تندی سے میرے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی ذرا پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے اندھیرے روشن ہو جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات کا سدھار اسی پر ہے، کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے بغیرکوئی زور اور طاقت نہیں۔

 دُعاے بدر :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت و مدد کا وعدہ پورا کرنے کی دُعا مانگنے لگے۔ آپؐ کی دُعا یہ تھی:
اَللّٰھُمَّ اَنْجِزْلِی مَا وَعَدْتَّنِیْ، اَللّٰھُمَّ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ وَ وَعْدَکَ ،اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔
پھر جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی تو آپؐ نے یہ دُعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ العِصَابَۃُ الْیَوْمَ لَا تُعْبَدُ، اَللّٰھُمَّ اِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ اَبَدًا،اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔
آپؐ نے خوب تضرع کے ساتھ دُعا کی۔ یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گرگئی۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر درست کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ!بس فرمائیے! آپؐ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دُعا فرمالی۔ ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ:
اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ (الانفال۸:۱۲) میں تمھارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کے قدم جمائو، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔
اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی بھیجی کہ:
اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ (الانفال۸:۹) ’’میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور فرمایا: ’’ابوبکرؓ خوش ہوجائو، یہ جبریل ؑ ہیں ، گردوغبار میں اَٹے ہوئے‘‘۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا:’’ ابوبکرؓ خوش ہوجائو، تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل ؑ ہیں، اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گردوغبار میں اَٹے ہوئے ہیں‘‘۔

قبولیت کے لیے جلدبازی نامطلوب:
عموماً دعا کرنے والا اپنی تکلیف سے نجات یا نعمت کے حصول کے لیے دعا کا سہارا تو لیتا ہے مگر جلدبازی کرتا ہے۔ انسان کی یہ جلدبازی قبولیت ِ دعا میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اُس کی دعا قبولیت کو ابھی پہنچ نہیں پاتی کہ وہ ہمت ہار بیٹھتا ہے اور دُعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جب تک بندہ کسی گناہ کے کام یا رشتہ داری توڑنے کے لیے دعا نہیں کرتا ، یا جلدی کا طالب نہیں ہوتا اُس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا گیا: یارسولؐ اللہ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اُس کا   یہ کہنا کہ میں تو دعا کرکر کے تھک گیا ہوں، مجھے نہیں دکھائی دیتا کہ میری دعا قبول ہوگی۔ پھر اس مرحلے پر پہنچ کر وہ دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے‘‘۔(مسلم)
بندۂ مومن قبولیت ِ دعا میں ایسی نامطلوب عجلت کا متمنی کیسے ہوسکتا ہے کیوںکہ اللہ کئی اسباب اور وجوہ کی بنا پر قبولیتِ دعا کو مؤخر کرسکتا ہے اور یہ تاخیر بھی مومن کے لیے باعث ِ خیر ہوتی ہے۔ جب بندئہ مومن کی دعائیں قبول نہ ہورہی ہوں تو اُسے اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اللہ سے اپنے    تمام گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنی حاجت و ضرورت کو بھی کمال ترین تواضع کے ساتھ مسلسل اپنے رب کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہیے۔ وہ اپنی درخواست کی منظوری کا شدید حریص ہو اور بار بار اس عرض کو بارگاہ الٰہ العالمین میں پیش کرے۔ دعا کی قبولیت اور عدم قبولیت دونوں صورتوں میں دعا کا یہ مسلسل عمل اس کے لیے سراسر خیرواجر کا سبب بنے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان بھی اللہ سے کوئی دعا کرے اور اس میں گناہ کا عمل نہ ہو اور قطع رحمی کا سوال نہ ہو تو اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والے کو تین میں سے ایک چیز عطا کردیتا ہے۔ یا تو اُس کی دعا فوراً قبول ہوجائے گی، یا اس دعا کو آخرت میں اُس کے لیے ذخیرہ کردیا جائے گا، یا اس دعا میں مانگی گئی چیز کے برابر کسی بڑی مصیبت کو ٹال دیا جائے گا‘‘۔(مسنداحمد)
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کسی دعا کی قبولیت کا عمل طویل عرصے کے لیے بھی مؤخر ہوسکتا ہے۔ حضرت ایوبؑ کی بیماری سے شفا اور حضرت یوسف ؑ کی واپسی کے لیے حضرت یعقوب ؑ کی دعائیں اِس کی واضح مثال ہیں۔ حالاںکہ یہ دونوں ہستیاں زمرئہ انبیا ؑمیں شامل ہیں۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور دعا کا عمل کبھی ترک نہ کرے۔ دعا بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو ہر صورت اور شکل میں بندے کے لیے خیروفلاح کی ضامن ہے۔

سرگوشی و شائستگی کا انداز :
دعا ایک عرض، درخواست اور التجا ہے۔ جس طرح دنیاوی اُمور میں اس کے آداب میں نرمی، شائستگی اور ادب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس سے ہزار گنا زیادہ رب کے سامنے پیش ہونے والی درخواست، یعنی دعا میں اس کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے۔ ان اُمور میں سے ایک بات آواز کو ہلکا اور مدھم رکھنا ہے۔ خود قرآنِ مجید کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَo (اعراف ۷:۵۵) ’’اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ لوگوں نے ایک موقعے پر بلندآواز سے تکبیر پڑھنا شروع کر دی۔ اس پر نبی کریمؐ نے فرمایا: لوگو! اپنے اُوپر ترس کھائو، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ سمیع اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمھارے ساتھ ہے۔(بخاری، مسلم)
بعض لوگ جذبات میں دعائیہ کلمات کو ایسے لب و لہجے میں ادا کرتے ہیں گویا اللہ سے دعا نہیں کی جارہی، بلکہ اُسے حکم دیا جا رہا ہے۔ ظلم کی شدت اور انتہا کا اثر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان دعا کے اندر شائستگی اور نرمی ہی کو بھول جائے۔ ایسی دعا تو زیادہ سے زیادہ رازدارانہ انداز میں ہونی چاہیے۔

وقتِ سحر و نیم شبی:
رات کا پچھلا پہر، نیم شب، وقت ِ سحر ، رب سے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے اور اُس سے مانگنے کا بہترین اور خاص موقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارا رب روزانہ رات کو آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے تو فرماتاہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اُس کی دعا کو قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اُسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرے اور میں اُسے معاف کردوں؟‘‘ (بخاری، مسلم)
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے سنا کہ: ’’رات کی ایک ساعت ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے کسی امر میں خیر مانگے تو اللہ اُسے وہ عطا کردیتا ہے اور یہ روزانہ کا عمل ہے‘‘۔ (مسلم)
نماز ایک ایسا عمل ہے جو اوّل و آخر ذکر و تسبیحات اور دعا و مناجات پر مشتمل ہے۔ نماز کے کسی بھی حصے میں دعا کی جائے تو اس کی قبولیت کے امکانات اسی قدر روشن ہوتے ہیں جس قدر دعا میں اخلاص و للہیت اور عاجزی و انکساری ہو۔ نماز کی اس اہمیت کے باوجود ایک خاص کیفیت ایسی ہے جو نماز ہی کا حصہ ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حالت ِ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ترین ہوتا ہے‘‘۔(مسلم)

حرام رزق کے منفی اثرات:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگو! یقینا    اللہ تعالیٰ طیب ہے اور طیب (پاک) چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے، اور اللہ نے مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو مُرسلین کو دیا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط(المومنون ۲۳:۵۱) اے پیغمبرو ؑ! پاک اور طیب چیزیں کھائو اور صالح عمل کرو۔
اور (دوسری جگہ) فرمایا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ (البقرہ ۲:۱۷۲) اے اہلِ ایمان! ہم نے تمھیں جو پاکیزہ رزق دیا ہے اس سے کھائو۔
پھر آپؐ نے اُس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے جس سے اس کے بال اُلجھے ہوئے اور جسم غبارآلود ہوجاتا ہے۔ وہ اسی حالت میں آسمان کی طرف متوجہ ہوکر دست ِ دعا دراز کرتا ہے۔ کہتا ہے: اے رب! اے رب! جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام، اور اس کی پرورش بھی حرام غذا سے ہوئی ہوتی ہے، تو پھر کیسے اس کی دعا قبول ہوگی؟(مسلم، ۱۰۱۵)

دُعا مومن کا ہتھیار:
امام ابن قیمؒ کے مطابق مصائب و مشکلات میں دعا کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:
    ۱-    اگر دعا مصیبت سے قوی تر ہو تو مصیبت سے نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔
    ۲-    اگر مصیبت سے دعا کمزور ہے تو مصیبت اُس کے اُوپر غلبہ پا لے گی اور بندہ اُس سے دوچار ہوجائے گا۔ لیکن اس دعا کا اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ مصیبت کی شدت کم ہوجائے گی۔
    ۳-     اگر مذکورہ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو دونوں باہم کش مکش اور تصادم کے دوران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔(الجواب الکافی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی چاہتا ہو کہ کرب و بلا اور مصائب میں اُس کی دعا قبول ہو، تو وہ خوش حالی اور سلامتی کے زمانے میں کثرت سے دعا کرے۔ (ترمذی)
جب تمام سہارے ختم ہوجائیں، تمام اسباب بے کار ہوجائیں تو مومن کے پاس دعا کی صورت میں پھر بھی ایک مضبوط سہارا باقی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ o(البقرہ ۲:۱۸۶) اور اے نبیؐ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انھیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا، اُنھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں، شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔