March 20th, 2019 (1440رجب13)

ڈاکٹر فیاض عالم  نے عظیم رہنما چوھدری رحمت علی کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج وغم کا اظہار

ڈاکٹر فیاض عالم  نے عظیم رہنما چوھدری رحمت علی کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر اور بزرگ رہنما چوہدری رحمت الٰہی دار فانی سے کوچ کرگئے- اللہ اپنے اس نیک بندے کی مغفرت فرمائے، درجات کو بلند کرے اور جنت الفردوس کا مستحق بنادے، آمین
انھونں نے مزید کہا کہ چوہدری صاحب کی زندگی ایک باکردار مسلمان کا نمونہ تھی جس نے فریضہ اقامت دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا- وہ بلاشبہ مولانا مودودی کے ان رفقاء میں سے تھے جن پر جماعت اسلامی کے وابستگان فخر کرسکتے ہیں-
طویل تحریکی زندگی میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب انہیں تحریک کے نظریئے اور بنیادی طریقہ کار پر تھوڑا سا بھی شبہ ہوا ہو اور ان کی یکسوئ متاثر ہوئ ہو-
وہ دعوت دین کے منصب اور مشکلات سے پوری طرح آگاہ تھے اور دنیوی ناکامی و کامیابی کبھی ان کے لئے اہم نہیں رہی- وہ دنیا کو آخرت کی امتحان گاہ سمجھ کر برتتے رہے اور ہر چیز پر اللہ کے دین کی دعوت کو فوقیت دیتے رہے- بلاشبہ معاشرہ اب چوہدری رحمت الہی جیسے قدآور لوگوں سے محروم ہوتا جارہا ہے-
اللہ ہم سب کو اپنے ان بزرگوں کی حیات و خدمات سے سیکھنے اور ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

انھوں نے چوھدری رحمت علی کی زندگی کا مختصر سا تعارف دیتے ہوئے کہا کہ

 ان کی زندگی کا ایک مختصر خاکہ جو جماعت اسلامی کی ویب سائیٹ پر موجود ہے- لیکن ظاہر ہے کہ یہ دور حاضر کے ایک بہت بڑے آدمی کا بہت ہی مختصر تعارف ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری رحمت الٰہی 1923ء جہلم(پنجاب) میں پیدا ہوئے۔گریجویشن کرنے کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کرلی۔چونکہ ذہن وفکرپردینی تعلیمات کا گہرا اثرپڑچکا تھا اور بالخصوص تحریک اسلامی سے وابستگی سے انکے خیالات میں مزید پختگی اور دین سے قربت پیدا ہوگئی تھی ۔ اس لئے اس ملازمت پر زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکے اور بالآخر 1951میں استعفی دے دیا۔ آپ 1947میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔
تحریک پاکستان میں جماعت کی طرف سے دار السلام پٹھان کوٹ (انڈیا) میں مہاجرین کی نگہداشت،خدمت اوران کو مشرقی پاکستان کی سرحد سے بحفاظت پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری بھی چوہدری رحمت الٰہی ہی کو سونپی گئی۔چوہدری صاحب نے قیام پاکستان کےبعد بھی لاہور کے گرد ونواح میں آباد ہونے والے مہاجرین کی بحالی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ ان خاموش طبع، گمنام اور سرگرم کارکنان میں سے ہیں کہ جن کی نظرفقط رضائے الٰہی پرمرکوز ہوتی ہے۔محترم چوہدری صاحب نے انتہائی مشکل اور دور ابتلا میں اہل حق کے ہراول دستے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
1953کی تحریک ختم نبوت میں سیدابوالاعلٰی مودودیؒ اور میاں طفیل صاحب کی گرفتاری کے دوران قائمقام امیرجماعت اسلامی کی ذمہ داری ادا کی۔
1957اورپھر 1965، 1978میں قیم جماعت اسلامی پاکستان رہے۔ان تمام دورانیوں کو ملاکر تقریباً 20برس سے زائد تک بحیثیت قیم جماعت خدمات انجام دے چکے ہیں۔
1979ء میں وہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان مقررہوئے، اس دوران امیر جماعت کی غیر موجودگی میں متعدد دفعہ قائمقام امیر جماعت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔1960کی دہائی میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان انتخابی مہم میں جماعت کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا۔چوہدری رحمت الٰہی1977ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے)کےپارلیمانی بورڈ کے ممبر رہے،اورتحریک نفاذ نظام مصطفٰیﷺ میں انہیں دوبار گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاگیا۔انہوں نے پی این اے کے قائمقام جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے راولپنڈی میں لانگ مارچ کی قیادت کی۔
جب پاکستان قومی اتحاد (پی این اے)1978میں حکومت میں شامل ہوئی تو چوہدری صاحب بجلی اورقدرتی وسائل کے وزیر بنائے گئے۔نوماہ کے مختصر عرصے میں پی این اے نے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسلامائزیشن کے عمل کو شروع کیاگیا جس کے تحت حدودآرڈینینس،زکٰوۃ،معیشت سے سود کے خاتمے کے فیصلہ ،تعلیمی پالیسی کی تشکیل،وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل، جس میں قرآن وسنت کے خلاف قوانین کو چیلنج کیاجاسکتا ہے،عمل میں لائے گئے۔اس کے علاوہ دیگربہت سارے اقدامات کئے گئے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے چوہدری رحمت الٰہی جماعت اسلامی کی مزدور،زمیندار تنظیموں،پارٹی کے مالیاتی شعبے اور اسلامی تعلیمی سوسائٹی کی خاص طور پر نگرانی کرتے رہے۔