November 30th, 2020 (1442ربيع الثاني14)

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف جماعت اسلامی خواتین کا زبردست احتجاجی مظاہرہ , فرانس کے صدر کی مذمت

جماعت اسلامی (حلقہ خواتین)کراچی کے تحت فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، ان خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر لگانے اور فرانسیسی صدر کی جانب سے توہین ِ رسالت ؐ کا ارتکاب کرنے کے خلاف منگل کو نیو ایم اے جناح روڈ پر خواتین کا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے میں نبی کریم ؐ سے اظہار عقیدت و محبت کا ثبوت دینے کے لیے شہر بھر کی خواتین ماؤں،بہنوں اور چھوٹی بچیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرے میں خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے تھے جن پر تحریر تھا غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے،حرمت رسول ؐ پر جان بھی قربان ہے،احتجاجی مظاہرے سے امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ٹیلیفونک خطاب کیا جبکہ امیرجماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی، امیرکراچی حافظ نعیم الرحمن اور نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے میں جماعت اسلامی خواتین صوبہ سندھ کی ناظمہ عطیہ نثار اور ناظمہ کراچی اسماء سفیر سمیت دیگر خواتین ذمہ داران بھی موجود تھیں۔سینیٹر سراج الحق نے مظاہرے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کراچی کی خواتین نے تحفظ ناموس رسالت ؐ کے حوالے سے جمع ہوکر نبی ؐ سے محبت کا ثبوت دیا ہے،نبی کریم ؐ سے محبت مسلمانوں کے لیے زندگی کا مرکز ہے نبی کریم ؐسے محبت ایمان کا لازمی جزہے،مسلمانوں نے ہر دور میں نبی کی شان رسالت ؐ کی عزت اور حفاظت کی ہے، اسلامی ممالک کے اکثر حکمرانوں نے منافقانہ اور بزدلانہ روش اختیارکرکے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے،اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی غیرت کو جگانے کی ضرور ت ہے،بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو نبی ؐ کی اسوہ کے مطابق بنائیں،نبی کریم ؐ کی سنتوں کا اتباع کریں یہی آپ ؐ سے محبت اور عقیدت ہے، فرانس کے سفیر کو فوری ملک بدر کیا جائے،تمام اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،حکومت پاکستان او آئی سی کا اجلاس بلائے اور توہین رسالت ؐ کا قانون پاس کروایا جائے۔سینیٹر سراج الحق نے مزیدکہاکہ آج کے عظیم الشان خواتین مارچ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،کراچی کے عوام نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان کی خاطر قربانیاں دی ہیں،فلسطین کا مسئلہ ہو یا پھر روہنگیا کے مسلمانوں کا مسئلہ ہو کراچی کے عوام نے ہمیشہ بھرپور اظہار یکجہتی کیا ہے،اہل کراچی نے ہمیشہ امت مسلمہ کو اپنا مسئلہ سمجھ کر عزیمت کا رستہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ نبی مہربان ؐنے زندگی گزارنے کا اصل مقصد بتایا ہے،ہماری زندگی میں لطف نبی کریم ؐکی ذات گرامی کی وجہ سے ہی ہے،نبی کریم ؐ کی توہین مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔انہوں نے کہاکہ فرانس میں ابلیس کے پیروکاروں نے نبی پاک ؐکی شان میں ناپاک جسارت کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیاہے،مسلمانوں نے ہر بار شیطان کے ایجنٹوں کو بھرپور جواب دیا ہے،مسلمان ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کسی ایک کی بھی توہین برداشت نہیں کرسکتا،پوری دنیا کے 2ارب مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور پیغام دے رہے ہیں کہ نبی ؐ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ذہنی پسماندگی اور نظریاتی شکست ہے،دشمنان دین کے پاس دین اسلام کے مقابلے میں کوئی دین اور نظریہ موجود نہیں ہے،مغرب عریانی اور فحاشی کے ذریعے ہماری نئی نسل پر حملہ آو ر ہے،جماعت اسلامی نے پارلیمنٹ سمیت اور پورے پاکستان میں فرانسیسی صدر کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے، فرانسیسی صدر کے خلاف جرأت مندانہ اقدام پر ترک صدر کو سلام پیش کرتے ہیں، اس موقع پر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسلامی ممالک کے سربراہ او آئی سی کا اجلاس بلاتے۔ محمد حسین محنتی نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فرانس کے صدر کی نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے،مغرب میں مسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے،آج مائیں بہنیں اور بیٹیاں نبی کریم ؐ اور ان کی ازواج مطہرات سے اظہار عقیدت کے لیے جمع ہیں، نبی کریم ؐ کی ازواج مطہرات خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور اپنے  نبی سے اظہار عقیدت کررہے ہیں، پاکستان کے تاجر اور دکاندار فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے خراج تحسین کے مستحق ہیں، حکومت پاکستان فرانس کا تجارتی و سفارتی بائیکاٹ کرے،جماعت اسلامی پاکستان سمیت پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے کررہی ہے اور نبی سے محبت کا اظہار کیا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پونے دو ارب مسلمانوں کے حکمران امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں،آج ہماری بہنیں اعلان کررہی ہیں امت مسلمہ کے اکثر حکمران غیرت اور حمیت سے عاری ہوچکے ہیں، حکومت پاکستان ٹویٹ اور بیانات سے مسئلہ ختم کرنے کے بجائے توہین رسالت کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے۔ فرانس سے ہرقسم کے تعلقات ختم کیے جائیں، توہین رسالت پر بین الاقوامی قانون سازی کی جائے، کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے پر توہین رسالت قانون لگایا جائے،بہت جلد تحفظ ناموس رسالت مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ  پوری امت پر واجب ہے کہ نبی کی حرمت کے تحفظ کے لیے جمع ہوجائیں، نبی کریم ؐ کی ذات ہماری محبت وعقیدت کا سر چشمہ ہے۔