November 24th, 2020 (1442ربيع الثاني8)

اردو زبان قومی روایات کی علمبردا ر ہے ،دردانہ صدیقی

کسی بھی ملک کی ترقی میں قومی زبان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،قومی زبان ہی ملکی ثقافت کی پہچان اور اس کی ترقی کے لیے لازم ہے۔ ہر ملک کی قومی زبان اس ملک کے معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے یوم نفاذ اردو کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ انسان کی ترقی کا راز بہت حد تک زبان میں پوشیدہ ہے کیونکہ علم کی قوت کا سہارا زبان ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قومی زبان اردو عصبیت کا نہیں بلکہ وحدت و قوت کا سرچشمہ ہے پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ سے علاقائی زبانوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ بہت عرصے سے ہماری قومی زبان زوال کا شکار ہے اور ہم انگریزی زبان کو اردو پر فوقیت دیتے ہیں۔ہر ملک میں اس کی قومی زبان کو ہی سرکاری اہمیت حاصل ہے اور تمام دفاتر، عدالتوں ،ا سکولوں اور اسمبلیوں میں قومی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قومی زبان کو فروغ ملے۔1973 کے آئین کی رو سے اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور اسے سرکاری زبان بنانے کی سفارش کی گئی لیکن افسوس آج تک پاکستان میں تمام تر نصاب اور سرکاری و عدالتی ریکارڈ انگریزی ہی میں موجود ہے یہ بات اس امر کی غماز ہے کہ آج بھی ہماری سوچ انگریزوں کی غلامی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی ضرورت اور تقاضا ہے کہ قومی زبان کو فی الفور سرکاری اورعدالتی زبان کے طورپر نافذ کیا جائے تاکہ ملک معاشی و معاشرتی ناہمواری کی کیفیت سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکے۔