July 22nd, 2019 (1440ذو القعدة19)

ملائیشیا کے تین صوبوں میں اسلامی حکومت ہے ‘ دردانہ صدیقی

 ملائشیا میں ہونے والی عالمی مسلم خواتین کانفرنس میں شرکت کر کے آنے والے وفد کے اعزاز میں جماعت اسلامی خواتین لاہور کی جانب سے ظہرانہ دیا گیا، تقریب میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین دردانہ صدیقی اور ڈائریکٹر ویمن اینڈ فیملی کمیشن ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے خصوصی شرکت کی۔ خواتین وفد نے شرکا کے سامنے دورہ ملائشیا کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کیے۔ دردانہ صدیقی نے ملائیشیا کے خاندانی نظام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں وومن ایمپاورمنٹ ہر جگہ نظر آرہی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین، مثبت سوچ، ساطر لباس کا عورت و مرد کے لیے حکومتی سطح پر قانون ہے ، مردوں میں غض بصر تھا۔ وہاں کے لوگوں میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا خاص اہتمام ہے۔ وہاں 13 صوبے ہیں جن میں سے 3 میں اسلامی حکومت ہے۔ کلینتان کی ریاست قابل ذکر ہے۔ قیادت اور کارکن کے درمیان فاصلے کم ہیں۔ وہاں کی قیادت متحرک ہے ان کے اندر خدمت و مہمان نوازی کا جذبہ تھا۔وہاں اسلامی نظام کا قیام موجود ہے، حکومتی اراکین کے اندر سادگی ہے، سودی معیشت سے پاک بینکنگ، شراب کی ممانعت ہے۔ ان کی دوسری زبان عربی تھی۔وہ اپنی قومی زبان کے ساتھ ساتھ عربی و انگریزی دونوں میں ماہر ہیں۔وہاں خاندان کے استحکام کی اہمیت اور شوہر کی اہمیت بھی حکومتی سطح پر ہے جو ہمارے دین کی تعلیمات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں اللہ نے سب کچھ دیا مگر جو فہم دین ملک پاکستان میں ہے وہ کہیں نہیں۔ہمیں اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہوگا،عورت کا اصل دائرہ کیا ہے وہ سمجھیں،حالات کا شکار نہ ہوں۔ ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم بہت اچھی ہے۔ جہاں ان کے پاس طاقت ہے، وہیں وہ اپنے اختیارات بخوبی استعمال کر رہے ہیں۔ سمیحہ راحیل قاضی کو ملنے والا ایوارڈ بھی ریاست کلنتان کی طرف سے تھا، IMWU کی طرف سے نہیں۔ یہ ایک ریاست کی سطح کا پروگرام تھا اور اس میں کام کرنے والی تمام خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود والنٹیئر تھیں۔ ان کی وومن ویلفئیر بہت بہترین ہے جو بہت سے تربیتی پروگرامز کرواتی ہے، جن میں سے سالانہ دو پروگرام مردوں کے لیے ہوتے ہیں جنہیں کروانے والی خواتین ہوتی ہیں۔ انہوں نے خاندانوں میں بہتری کے لیے گھرانوں کی گریڈنگ کرکے ایک چیک لسٹ مہیا کی ہے۔جس میں افرادی قوت بڑھانے کی طرف توجہ دلائی گئی ،اس کے مطابق بچوں کی کم از کم تعداد دس ہے۔ اچھا شوہر، اچھی بیوی کا معیار بتایا جاتا ہے، اس فہرست کے مطابق اچھا بچہ وہ ہوگا جو ماں کی آمدنی کے مطابق خرچ کرے۔یہاں بہ نسبت سوڈان و ترکی کے، بہتر نظام ہے۔ سوڈان میں اختلاط اور مصافحہ کا کلچر عام ہے۔ ملائشیا میں نظریاتی بنیاد پر چیزیں زیادہ بہتر ہیں۔ وہاں کے پہلے شیخ نے لاہور پاکستان اور جامعۃالاظہر سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ صرف مدرسے کی تعلیم تبدیلی نہیں لا سکتی بلکہ اس کے لیے ایک سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے۔سمیحہ راحیل قاضی نے ایوارڈز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی برکت ہے کہ ہمیں IMWU جیسا پلیٹ فارم ملا۔ہم 23 سالوں سے ان کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔مگر یہ تنظیم پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں۔ہمیں مضبوط ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی اپنی تنظیم UN میں رجسٹرڈ کروانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر عائشہ مرغوب کی مرتب کردہ دورے کی رپورٹ پیش کی گئی۔ وفد میں شگفتہ عمر اور ڈاکٹر زیتون بھی شامل تھیں۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض ناظمہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین لاہور زر افشاں فرحین نے انجام دیے۔ تقریب میں مرکزی شوریٰ کے اراکین،مرکزی شعبہ جات ،صوبائی نظم و نائیبین ،ضلعی نائیبین و شعبہ جات نے بھی شرکت کی۔