December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

سراج الحق کی کراچی میں بے گھر کرنے کیخلاف سینیٹ میں قرار داد

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کراچی میں عدالت عظمیٰ کے حکم کے نام پر ہزاروں افراد کو بے روزگار اور بے گھر کر نے ، املاک کو نقصان پہنچانے اور کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے مسلسل جاری کارروائیوں کے باعث شہریوں اور بالخصوص چھوٹے تاجروں اور عام دکانداروں میں پائے جانے والے خوف و ہراس کے حوالے سے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی ہے، جس میں ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے اور نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کے نام پر جاری مہم کو فی الفور رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے ،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ امر افسوس کا باعث ہے کہ عدالت عظمیٰ کے آرڈر کی آڑ میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر کارروائی کے ذریعے لاکھوں شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ تجاوزات کے خلاف مہم کے نام پر کے ایم سی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ریلوے کی طرف سے اس سلسلے میں کی گئی اب تک کی کارروائی سے 10 لاکھ سے زائد شہریوں کے کاروبار، رہائش گا ہیں اور تعلیم خطرے سے دو چار ہوگئی ہے کم و بیش 6000 دکانیں، جن میں سے 3500 سے زائد قانونی تھیں ، منہدم کی جا چکی ہیں اور مزید 9ہزار کے انہدام کے لیے اعلانات کیے گئے ہیں۔ صرف 2 گھنٹے کے نوٹس پر زبانی اعلانات کے بعد سامان سمیت د کانوں کا انہدام غیر قانونی، بلکہ عوام دشمن اور قابل مذمت ہے ،یہ معاملہ بھی حیرت کا باعث ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے ذمے دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لانے کے بجائے ان ہی کے ہاتھوں یہ تعمیرات، تجاوزات گرائی جارہی ہیں، جس سے یہ ساراعمل قانون اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہو گیا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں غیر قانونی تعمیرات وتجاوزات کے انہدام کے نام پر جاری مہم کو فی الفور رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے اورجس حد تک ممکن ہو ان تعمیرات کو ریگولرائز کرنے پر توجہ دے۔ غیر قانونی طور پر کی گئی تعمیرات و تجاوزات ضرورہٹائی جائیں لیکن ضابطے کی کارروائی اور انصاف کے تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان تعمیرات سے وابستہ افراد کے متبادل روزگار ورہائش کے لیے بھی کوئی میکنزم تشکیل دیا جائے۔ نیز جن لوگوں نے قانونی تقاضوں کو پورا کر کے تعمیرات کی ہیں ان کے خلاف کارروائی فی الفور بند کی جائے۔علاوہ ازیں سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے ضرورت سے زیادہ کارروائی ہرگز نہ کی جائے۔یہ پہلو بھی افسوس ناک ہے کہ بڑے بنگلوں کی ریگولرائزیشن اور چھوٹی آبادیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ جو کہ سماجی تقسیم اور معاشرتی تباہی کا باعث بنے گی چونکہ متاثر ہونے والا ہرشخص پاکستانی شہری ہے لہٰذا اس کو روزگار اورشیلٹر کی فراہمی اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے