December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني8)

پی ٹی آئی حکومت بھی قوم کو پر قرضوں کا بوجھ لاد رہی ہے، سراج الحق

 امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے در پر حاضری دینے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے ۔ حکومت اس وعدے پر آئی تھی کہ قرضوں میں مزید اضافہ نہیں کرے گی اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کر ے گی لیکن وزیرخزانہ اور خود وزیراعظم کی طرف سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے اعلان نے قوم کو مایوس کیاہے ۔ حکومت حالات کو سلجھانے اور نارمل کرنے کے بجائے الجھاؤ کی طرف لے جارہی ہے جو خود اس کے لیے مسائل کا سبب بنے گی۔سابق حکومتوں کی طرح اگر موجودہ حکومت نے بھی قوم پر قرضوں کا بوجھ لادناہے تو سابق اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔ پی ٹی آئی حکومت نے سب سے پہلے طلبہ کا خون بہایا ہے ۔ لوگوں کو احتجاج کے جمہوری حق سے روکنے کے لیے ان پر ڈنڈے برسانے کا حق حکمرانوں کو کس نے دیا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے مردان میں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنر ل اظہر اقبال حسن ، صوبائی سیکرٹری عبدالواسع اور ضلعی امیر مولانا عطا الرحمن بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سودی نظام اور مدینے جیسی اسلامی ریاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت آئندہ 100 دنوں میں سود کے خاتمے کا روڈ میپ اور واضح لائحہ عمل دے ۔ انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس میں نوازشریف کو نااہل کرنے کے بعد ایک پر اسرار خاموشی ہے اور پاناما کے دیگر 436 ملزموں کے خلاف اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ احتساب کے لیے ضروری ہے کہ وہ رات کے اندھیروں میں نہ ہو اور دن کی روشنی میں کیا جائے ۔ احتساب کا عمل روز روشن کی طرح عیاں اور واضح ہوناچاہیے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ پاناما کے باقی 436 ملزموں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان کابھی مکمل آڈٹ کیا جائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پشاور یونیورسٹی میں فیسوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر حکومت نے ڈنڈے برسائے اور انہیں لہولہان کیا ۔ جمہوری حکومت کی طرف سے ایسا رویہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ جو حکومت خود تعلیم کو سستا اور عام کرنے کے دعوے کرتی تھی ، اس نے مستقبل کے معماروں کو سڑکوں پر لٹا کر ان پر تشدد کیا اور ان کا خون بہایا۔حکومت کے اس طرح کے رویے سے ملک میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا ۔ حکومت کو اب اپوزیشن والا رویہ چھوڑ کر حکومتی رویہ اپنانا اور صبر اور حوصلے کے ساتھ تنقید کو برداشت کرنا چاہیے ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ یونیورسٹی واقعے پر صوبائی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ جلد سامنے لائی جائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قبائلی علاقوں کو صوبے میں شامل کرنے کا جو فیصلہ ہواہے ، اس پر پوری طرح عمل درآمد کی ضرورت ہے محض پولیٹیکل ایجنٹ کو ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو اسسٹنٹ کمشنر بنادینے سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے نہ کوئی تبدیلی آئے گی ۔ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کا اعلان تو کردیا گیا مگر ابھی تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طویل بدامنی کی وجہ سے خیبر پختونخوا خاص طور پر قبائلی علاقے بر ی طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں تعلیمی اداروں ،اسپتالوں اور سڑکوں کو بری طرح نقصان پہنچاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو قبائلی عوام کے لیے ایک ترقیاتی پیکج دینا ضروری ہے تاکہ قبائل کی محرومیوں کو ختم کیا جاسکے اور انہیں بھی تعلیم اور علاج کی سہولتیں دستیاب ہوں اور وہ آگے بڑھ سکیں ۔