December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني8)

اسلامی اور خوشحالی پاکستان کیلئے خواتین اپنا کردار ادا کریں،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ خواتین نے ہمیشہ انقلابات میں نمایاں کردار ادا کیاہے ، خواتین نے انبیا کرام ؑ کی اصلاحی تحریکوں میں ساتھ دیا اور خیر و شر کے ہر معرکے میں ثابت قدمی دکھائی ، گھروں کی محافظ ، نئی نسلوں کی تربیت ، ماضی کی شاندار روایات کو برقرار رکھنے اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے والی قوت خواتین ہیں، خواتین کے بغیر معاشرہ نامکمل ہے، مغربی تہذیبی یلغار کا نشانہ بھی خواتین اور نئی نسل بنتی ہے، پاکستانی خواتین ان حقوق سے محروم ہیں جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عطا کیے ، اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے خواتین اپنا کردار ادا کریں، جماعت اسلامی کا نظریاتی بازوخواتین ونگ فعال بھی ہے اور استحصالی نظام کے خلاف بھی ، خدمت اور دعوت کے میدان میں بھی خواتین بھر پور کردار ادا کررہی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب اور کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر حافظ محمد ادریس بھی موجودتھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے قوم کو خوشخبری دی تھی کہ وہ کشکول ہمیشہ کے لیے توڑ دے گی اور کسی صورت بھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی لیکن ایک بار پھر حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور آئی ایم ایف کے مطالبے پر ہی بجلی ، گیس ، سیمنٹ اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیااور عوام کی روز مرہ کی ضرورت کی 18سو سے زائد چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ۔ایک طرف حکومت 5 سال کے لیے سعودی عرب سے ادھار تیل لے رہی ہے اور دوسری طرف پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے پر تول رہی ہے جس سے عوام مایوسی کا شکار ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نان فائلر کے خلاف بھی حکومت اپنی مرضی سے نہیں ، آئی ایم ایف کے مطالبے پر ایکشن لے رہی ہے ۔ اس وقت حکومت کا ایک ہی ہد ف ہے کہ کسی طرح آئی ایم ایف کو سابق سود کی ادائیگی کے بغیر رام کر کے مزید قرض حاصل کیا جائے ۔ حکومت ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی کرنے کا ارادہ کر چکی ہے جس سے اندرونی و بیرونی قرضوں کے حجم میں اربوں روپے کا اضافہ ہوجائے گا اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کا غذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا بن کر رہ جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اپنے منشور پر ثابت قدمی سے عمل کرتی اور معیشت کو سود سے پاک کرنے اور بتدریج زکوٰۃ و عشر کے پاکیزہ نظام کو رائج کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیتی تو آج اسے چاروں طرف سے اللہ کی رحمتوں کا نزول نظر آتا اور عوام کے اندر بھی ایک جو ش و جذبہ اور عزم پیدا ہو ا ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایک بار پھر آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسنے کے بجائے خود انحصاری کے باعزت راستے کا انتخاب کرے تو قوم آئی ایم ایف کے قرضے کی بھیک سے کہیں زیادہ دولت حکومت پر نچھاور کر نے کے لیے تیار ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اب حکمرانوں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے لیے سر اٹھا کر چلنے کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں یا ایک بار پھر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ۔