امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی پریس کانفرنس | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 19th, 2018 (1439ذو الحجة8)

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی پریس کانفرنس کے چند اہم نکات

جماعت اسلامی جمہوریت اور ووٹ کو ملک میں اسلامی انقلاب کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد کی ہے۔ کمزور اور لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے

اداروں کی غیر قانونی مداخلت نے رائے عامہ کو متاثر کیا، تمام تر ریاستی قوت اور وسائل کا استعمال کرکے من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ کئی کئی گھنٹے تک انتخابی نتائج روک کر تبدیل کیے گئے۔ کراچی سے چترال تک پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 نہیں دیے گئے۔ اس عمل نے جیتنے والوں کو بھی شرمسار کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن اور ریاستی ادارے خود بھی کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ لوگ کبھی ایک اور کبھی دوسرے پولنگ اسٹیشن پر دھکے کھاتے رہے۔ ہم نے ریاستی رکاوٹوں کے باوجود مقابلہ کیا اور عوام نے متحدہ مجلس عمل کو 25 لاکھ سے زیادہ ووٹ دیے۔

الیکشن میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف الزامات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے۔ تمام جماعتوں کو اپنے تحفظات پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور ان تحفظات کو دور کیا جائے۔

ہمیں عوامی رائے کا احترام ہے۔ مخالفت برائے مخالفت پر یقین نہیں رکھتے، پورے وقار کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور حکومت کی ہر اچھے کام پر تعریف اور غلط کام کی گرفت کریں گے۔ مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں کے متعلق ایم ایم اے کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے اور اپوزیشن کا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

قوم نے متحدہ مجلس عمل سمیت دینی جماعتوں کو 55 لاکھ ووٹ دیے۔ مذہبی ووٹ متحد ہو کر ایک ناقابل تسخیر قوت بن سکتا ہے اور ہم ان شاءاللہ دینی جماعتوں کے اتحاد کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

عمران خان کے وعدوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ شدید تحفظات کے باوجود چاہتے ہیں کہ حکومت کو اپنے پہلے 100 دنوں کے پروگرام پر عملدرآمد کا پورا موقع دیا جائے۔ نئی حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔

ہم عمران خان کی طرف سے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے، سود کے خاتمہ، اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد، مہنگائی کے خاتمہ، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے، معیشت کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے چنگل سے آزاد کرانے اور پچاس لاکھ بے گھروں کو چھت مہیا کرنے کے وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔

کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی ہم ملک سے نظریاتی، اخلاقی اور معاشی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ لٹیروں کا بے لاگ احتساب کیا جائے۔ لوٹی گئی قومی دولت کے بیرونی بنکوں میں پڑے پانچ سو ارب ڈالر واپس لائے جائیں اور ملک پر موجود 83 ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنے کے بعد باقی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور اس سے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ لوٹی گئی رقم کی واپسی اصل کام ہے جس کی طرف آنے والی حکومت کوتوجہ دینا ہوگی

کشمیر کی آزادی تک بھارت سے تجارت کا پاکستان کو نقصان ہوگا۔ کشمیری قیادت کے بغیر بھارت سے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔

جماعت اسلامی نے 11 ،12 اگست کو مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس طلب کیا ہے، اس سے قبل چاروں صوبوں کی شوراﺅں کے اجلاس ہوں گے۔ ان میں انتخاب کے بعد کی صورتحال سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا