December 16th, 2019 (1441ربيع الثاني18)

رہنما - موجودہ مردانہ قیادت

 

Missing siraj ul haq leader.jpg
موجودہ مردانہ قیادت

Related image

  سراج الحق امیرجماعت اسلامی پاکستان  

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آبائی تعلق دیر سے ہے۔ تاہم پیدائش 05 اپریل 1962ءکو خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ، میں ہوئی۔ آپ کے والدمحترم دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل اور مدرسے کے مہتمم تھے۔ آپ نے میرزو ہی کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں دیر کے مختلف سکولوں میں زیرتعلیم رہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول تیمرگرہ سے مڈل، جبکہ گورنمنٹ ہائی سکول لال قلعہ میدان دیر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

سراج الحق کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ آٹھویں جماعت میں ہی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ملک گیر تنظیم ”اسلامی جمعیت طلبہ“ کے رکن بن گئے تھے۔ میٹرک کے طالب علم تھے تو انھیں اسلامی جمعیت طلبہ ضلع دیر کا ناظم مقرر کردیا گیا۔ سراج الحق صاحب نےگورنمنٹ ڈگری کالج تیمرگرہ سے فرسٹ ائیرسے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں تنظیمی ذمہ داریوں کی وجہ سے مختلف کالجز مثلا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان ،گورنمنٹ مردان ڈگری کالج،  گورنمنٹ کالج پشاور  اور ڈگری کالج تیمرگرہ میں زیر تعلیم رہے، تاہم بی اے کا امتحان گورنمنٹ کالج تیمر گرہ سے دیا اور کامیاب ہوئے اور پھر 1983میں ڈگری کالج تیمر گرہ میں یونین کے صدر منتخب ہوئے۔

انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایڈ کا امتحان پاس کیا۔  اس عرصہ میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی  مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔سراج الحق اردو، پشتو کےعلاوہ انگریزی، فارسی، عربی اور دیگر زبانیں بھی جانتے ہیں۔  ناظم مالاکنڈ ڈویژن، تین سال تک ناظم صوبہ خیبر پختونخوا اور پھر 1989ءسے 1991ءتک بطورِ ناظم اعلیٰ خدمات انجام دیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ“ سے فراغت کے فوری بعد سراج الحق جماعت اسلامی سے منسلک ہوگئے  اور ایک سال کے اندر ہی جماعت اسلامی کے باقاعدہ رکن بن گئے۔ 2002 کے الیکشن میں PK95 سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔بعد ازاں خیبر پختونخوا میں بطورِ قیم  صوبہ(سیکرٹری جنرل) ذمہ داری رہی۔ 2003ءمیں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر بنے اور یہ گراں بار ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی۔ 2006ءمیں جب عید کے چوتھے دن ڈمہ ڈولہ پرڈرون حملے ہوئے تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اپریل 2009ء میں انھیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے مرکزی نائب امیر مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کو بھی انھوں نے بخوبی انجام دیا۔ مارچ 2014ء میں جماعت اسلامی کے ارکان نے آپ کو 5 سال کے لیے امیرجماعت منتخب کیا ہے۔متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے

سراج الحق اپنی درویشانہ اورسادگی پسند طبیعت اور مجاہدانہ اوصاف کی بدولت تحریکی اور عوامی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔ اکتوبر 2002ءکے انتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا میں کامیابی حاصل کی تو انھوں نے صوبائی حکومت میں بطورِ سینئر وزیر اور وزیر خزانہ خدمات انجام دیں اور اپنوں اور غیروں سے اپنی صلاحیت وقابلیت اور امانت و دیانت کا لوہا منوایا۔ 2013ءکے انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط قائم ہوئی تو سینئروزیر اور وزیر خزانہ کے لیے نظر انتخاب انھی پر ٹھہری اور اس عرصے میں بھی انھوں نے بخوبی ذمہ داری نبھائی۔ دونوں ادوار میں بطور وزیر ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہا۔ بلا تفریق مذہب و مسلک اور سیاسی وابستگی کے کوئی بھی ان سے مل سکتا تھا۔ اسی لیے ان کی شخصیت ہردلعزیز رہی۔ انھوں نے سول سیکرٹریٹ میں خود خطبہ جمعہ اور نمازوں کی امامت کرواکر ایک اورمثال قائم کی۔

 نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان :

  •  لیاقت بلوچ 


  • عبدالغفارعزیز


  • راشدنسیم


  • اسد اللہ بھٹو


  • ڈاکٹرفریداحمدپراچہ


  • پروفیسرمحمد ابراہیم


  • میاں محمد اسلم


  • ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی


 امیرالعظیم (قیم جماعت اسلامی پاکستان) 


نائب قیم :

  • خالدرحمن


  • سیدوقاص جعفری


  • محمداصغر


  • اظہراقبال حسن


  • حافظ ساجد انور


  • سید بختیار معان