January 25th, 2026 (1447شعبان6)

حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور کے تحت مدرسات کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ دورۂ قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قرآن کو فکر و نظر کا اصل ماخذ بنایا جائے، قرآن کے ذریعے ذہن، کردار اور رویّوں کی اصلاح کی جائے، اقامتِ دین کی عملی جدوجہد میں شمولیت کا عزم بیدار ہو اور دعوتِ دین یعنی نیکی کے فروغ اور برائی کے ازالے کا شعور پیدا کیا جائے۔— ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی خواتین  حلقہ لاہور کے زیر اہتمام مدرسات کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران  منصورہ آڈیٹوریم لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کیا -  انہوں نے کہا کہ دورہ قرآن  کا بنیادی مقصد قرآن فہمی کو گہرا کرنا، تدریسی مہارتوں میں بہتری لانا اور اقامتِ دین کی عملی جدوجہد کے لیے فکری و عملی تیاری ہے۔
 انہوں نے کہا کہ اس تربیت کا ایک اہم ہدف فرد کو جماعت اسلامی کا فعال رکن بننے کے لیے عملی طور پر تیار کرنا بھی ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے پارہ وائز حاصلاتِ تعلّم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پارے کے مطالعے سے رب اور بندگی کے درست تصور کا شعور اجاگر کیا جانا مقصود ہے۔ اسی طرح ہر مدرسہ کو پارہ وائز حاصلاتِ تعلّم کی باقاعدہ فہرست تیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ روزانہ ایک پارہ درست قواعد اور صحیح تلفظ کے ساتھ تلاوت کیا جائے، اہم نکات بیان کیے جائیں اور بنیادی موضوعات کی تشریح مؤثر انداز میں کھول کر کی جائے تاکہ قرآن فہمی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
ڈائریکٹر برائے مدرسات ٹریننگ کورس انیلہ محمود نے “خیرکم من تعلّم القرآن و علمہ” کے عنوان کے تحت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسات کا کردار نہایت اہم اور ذمہ دارانہ ہے کیونکہ افراد کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دورہ قرآن کو ہر گلی  محلے اور علاقے میں ایک مہم کے انداز میں لے کر چلنا ہے -، قرآن کی درست تعلیم، عملی نمونہ اور خلوصِ نیت ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتیں قائم نہ کرنا غیر جمہوری اور عوام دشمن اقدام ہے- پنجاب حکومت نے 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔
ثمینہ سعید نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت تمام سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان پورے صوبے میں اس کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کی واحد مؤثر آواز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن پنجاب کے اس کالے بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری اور عوام دشمن قرار دے چکے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع بھی کیا ہے اور ڈسٹرکٹ و ڈویژنل سطح پر دھرنے بھی دیے ہیں۔ ہم بلدیاتی حکومتوں کے تمام اختیارات  کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے- اس موقع پر ڈپٹی  سیکرٹری زبیدہ جبیں ، ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران اور ناظمات اضلاع بھی اپنی نائبین کے ہمراہ موجود تھیں