November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

بنام نوجوانانِ پاکستان

 

نزہت منعم
آپ کی خیر و سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ آپ سے اس لیے مخاطب ہوں کہ آپ اس ملک و قوم اور سب سے بڑھ کر اُمت محمدیہ کا سرمایہ ہیں۔ آپ مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن ہیں، اُمید ہیں، مستقبل ہیں۔ عزیز بہنوں اور بھائیو! آپ کا حوالہ کائنات کی سب سے عظیم شخصیت سے جڑا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا یہ حوالہ کتنا اہم ہے اور کتنا پیارا ہے۔ اس خیال سے دل کتنا مسرور ہوتا ہے کہ ہم اس پیارے نبی کی امت ہیں جن پر ہزار بار نثار ہونے کو جی چاہتا ہے۔ جی ہاں میری اور آپ کی محبوب ترین ہستی نے فرمایا ’’دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘۔ یہ دینا کیا ہے؟ یہ صرف مال کا دینا نہیں ہے، اہل دنیا کو دینے والی چیزیں بہت سی ہیں۔
نظریہ، Ideology، تہذیب Civilization، ثقافت Cultur، اقدار Values، مقصد زندگی Mission of life۔
امت مسلمہ دنیا کو یہ سب دینے کے لیے بھیجی گئی ہے اور اسی کام کے لیے ہمیں اللہ نے امت وسط بنایا ہے۔ اس وقت مسلم نوجوانوں کی اکثریت ایک بے مقصد زندگی گزار رہی ہے اور اپنا وقت، صلاحیت، جذبہ، قوت ارادی لایعنی چیزوں کی نذر کررہی ہے۔ وہ جنہیں دنیا کو Follow نہیں کرنا بلکہ Lead کرنا ہے وہ یوں اپنا وقت برباد نہیں کرتے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے دنیا کو سائنس، قانون، طب، فن تعمیر، فن سپاہ گری اور بہترین حکمرانی کے اصول دیے۔ آج بھی دنیا کی کامیاب اقوام ان پر عمل کرکے ترقی کی منازل طے کررہی ہیں لیکن چوں کہ ان کے پاس نظریہ نہیں ہے، زندگی کا بلند مقصد نہیں ہے اس لیے چوڑی سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، بل کھاتے پل، بہترین طرزِ زندگی انہیں وہ سکون رشتوں کا احترام، حفاظت اور امن نہیں دے سکا جو آج بھی مسلم معاشروں کا خاصا ہے، ہمیں جان لینا چاہیے کہ Freedom of expression of thoughts Human rights اور women rights اصلاحات اور Termenology کا کھیل ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں غربت، جہالت، بھوک، بے حیائی، فحاشی، خواتین کے خلاف جرائم، انسانیت کی تذلیل اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ جتنے بڑے پیمانے پر گزشتہ چند سال میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں، بچے یتیم ہوئے ہیں، پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یہ کسی عالمی جنگ سے کم نہیں۔ اس سے بڑا نادان کون ہوگا جس کے پاس زخموں کا مرہم ہو، دکھوں کا مداوا ہو اور وہ اسے استعمال نہ کرے؟
یہ مرہم آپ کے پاس ہے اور آپ سے بہتر اس کام کو کون کرسکتا ہے؟ یاد کیجیے اصحاب کہف بھی تو نوجوان تھے اور جنہیں ہمارے نبیؐ نے زندگی میں جنت کی بشارت دی اُن دس میں سے چھ بھی نوجوان ہی تھے۔ آپ ہی کو اپنی تہذیب اور اقدار و روایات کا محافظ بننا ہوگا۔ آپ کو اس دنیا میں جینا ہے اور اسلامی شعائر کے ساتھ جینا ہے، آپ ہی کو دنیا کو بتانا ہے کہ جو اصول زندگی آپ کے پاس ہیں وہی اصول دنیا میں امن قائم کرسکتے ہیں، جہالت کے اندھیرے دور کرسکتے ہیں، غربت مٹا سکتے ہیں، انسانیت کو تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے دل حب رسول سے منور ہیں اسے اپنے اعمال میں ڈھالیں پھر کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ ناموس رسالت پر حملہ کرے۔
عزیزو! اگر آپ نے ایسا کرلیا تو دنیا کی کامیابیوں کے ساتھ آخرت میں محبوب خدا محمد مصطفیؐ کی پیار بھری مسکراہٹ آپ کا استقبال کرے گی (ان شاء اللہ) اور اس مسکراہٹ پر تو ہزاروں جانیں قربان ہیں۔