December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني7)

حضرت فاطمہؓ بنت اسد

 

انتہائی شفیق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماں کی طرح محبت کرنے والی چچی جان

ام ایمان

حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی اور ہاشمی خاندان میں سے ہی تھیں۔ ان کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاشم تک پہنچ کر مل جاتا ہے۔ حضرت فاطمہؓ کے والد اسد بن ہاشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم کے سوتیلے بھائی تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے قریش کے معزز ترین خاندان ہاشم میں آنکھ کھولی۔ نہایت نازو نعم کے ساتھ بہترین تربیت پائی۔ آپؓ بچپن سے ہی نہایت اعلیٰ اوصاف کی مالک تھیں۔ چنانچہ گوہر شناس عبدالمطلب نے انہیں اپنی بہو بنانے کے لیے منتخب کرلیا اور اپنے فرزند عبدمناف (ابو طالب) سے ان کانکاح کردیا۔

حضرت ابو طالب سے اللہ نے انہیں چار بیٹے دیے جن کے نام طالب‘ عقیلؓ‘ جعفر اور علی رکھے۔ بیٹیاں ام ہانیؓ اور جمانہ تھیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے کئی رشتے تھے۔ وہ رسول اللہ کی شفیق چچی اور سمدھن بھی تھیں کہ آپ کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کی ساس تھیں۔ حضرت عبدالمطلب کی بھتیجی ہونے کے ناتے سے آپ کے والد عبداللہ کی چچا زاد بہن اور رسول اللہؐ کی پھوپھی بھی ہوتیں تھیں۔

جب رسول اللہؐ کی والدہ بی بی آمنہ کا انتقال ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ رکھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تمام اولادوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے۔ قریب بٹھاتے تھے۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اس بات کی آزادی تھی کہ جس وقت چاہتے ان کے پاس چلے جاتے تھے۔ خواہ وہ سوئے ہوئے ہوں یا آرام کررہے ہوں حالانکہ دوسرے بیٹوں کو ان کی ہیبت کی وجہ سے یہ جرأت نہ ہوتی۔

کعبہ کی دیوار کے سایہ میں ان کے لیے ایک فرش بچھایا جاتا تھا جس پر ادب کی وجہ سے ان کی کوئی اولاد نہیں بیٹھتی تھی بلکہ سب اردگرد بیٹھتے مگر حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس وقت خوب صحت مند بچے تھے، آکر سیدھے اسی فرش پر بیٹھ جاتے۔ آپ کے چچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہٹانا چاہتے تھے تو عبدالمطلب کہتے ’میرے بیٹے کو چھوڑ دو خدا کی قسم اس کی شان ہی کچھ اور ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ اپنے بلند مرتبے تک پہنچے گا جس پر اس سے پہلے کوئی عرب نہ پہنچا ہوگا۔

ابن سعد نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنی مذلج جو قیافہ شناسی کے لیے مشہور تھا، اس کے چند لوگ عبدالمطلب کے پاس آئے اور کہا کہ اس بچے کی خاص حفاظت کرناکیونکہ ہم نے کوئی نشان قدم ایسا نہیں دیکھا جو مقام ابراہیم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم سے اس قدر مشابہہ ہو جیسی مشابہت اس بچے کا نشان قدم رکھتا ہے۔

اس موقع پر ابوطالب وہاں موجود تھے۔ عبدالمطلب نے ان سے کہا کہ ’یہ لوگ جو بات کہہ رہے ہیں اسے غور سے سنو اور اس کی حفاظت کرو۔

شفیق دادا کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ حاصل نہ رہی آپ صرف 8 سال کے تھے کہ حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ ان کا اصل نام عبدمناف تھا لیکن آپ اپنے بڑے بیٹے طالب کی وجہ سے ابوطالب کی کنیت سے اتنے مشہور ہوگئے کہ اصل نام دب کر رہ گیا۔

حضرت ابوطالب کے بیٹے طالب عمر میں رسول اللہؐ کے تقریباً برابر ہی تھے، انہیں رسول اللہؐ سے بہت محبت تھی۔ جنگ بدر میں جب قریش کے لوگ اپنے ساتھ بنی ہاشم کو بھی مجبور کرکے لڑنے لے کر گئے تو ان میں طالب بھی تھے۔ لیکن انہوں نے جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ بعد میں نہ مقتولوں میں ان کا پتا چلا نہ زخمیوں میں او رنہ ہی وہ واپس مکہ آنے والوں میں تھے۔ کچھ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں چلے گئے۔

ابوطالب رسول اللہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اپنی اولادوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ جہاں جاتے ساتھ لے جاتے، کھانے کے وقت کوشش کرتے تھے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آکر شریک ہوں، تب دوسرے کھانا شروع کریں۔ شروع میں جب رسول اللہ چچا کے پاس آتے تو جیسا کہ قاعدہ تھاکہ بچوں کو تھال میں کھانا دے دیا جاتا اور بچے چھین جھپٹ کر کھاتے لیکن آ پ چپ چاپ کنارے بیٹھ جاتے۔ ایک دن حضرت فاطمہ بنت اسد بچوں کو دیکھنے آئیں تو دیکھا کہ سارے بچے کھانے میں لگے ہیں اور رسول اللہ کنارے بیٹھے ہیں۔

محبت سے پوچھا تو پتا چلا کہ رسول اللہ تو کبھی اس طرح چھین جھپٹ کر نہیں کھاتے۔ تب سے وہ رسول اللہ کے لیے علاحدہ برتن میں کھانا نکالتیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے کھاسکیں۔ حضرت ابو طالب کے ہاں اتنی فراعت نہ تھی۔ لہٰذا سب کا پیٹ بھر نہ پاتا پھر یہ بات محسوس کی گئی کہ جب رسول اللہ کھانے میں شریک ہوتے اور ساتھ کھاتے تو سب کا پیٹ بھر کر بھی کھانا بچ رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ برکت دیکھ کر ابوطالب نے قاعدہ بنالیا کہ جب سب کھانے کے لیے بیٹھتے تو وہ کہتے ٹھہرو جب تک میرا بیٹا نہ آجائے۔ پھر جب رسول اللہ آجاتے تو کھانا شروع کیا جاتا۔ ابوطالب کہتے بیٹا تم بڑے مبارک ہو۔ ابوطالب کے لیے الگ مسند بچھائی جاتی جس پر کوئی نہ بیٹھتا تھا، مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہی جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اس پر ابو طالب کہا کرتے کہ: ’ربیعہ کے خدا کی قسم! میرے اس بھتیجے پر سرداری سجتی ہے۔

جتنا وقت رسول اللہ نے حضرت ابوطالب کے ساتھ گزارا حضرت فاطمہ نے ایک ماں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اور محبت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ رسول اللہ آپ کے بعد آپ کے لیے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے۔

میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے۔

آخر ابو طالب نے ایک دن تنگ آکر رسول اللہ کو بلایا اور کہا ’’بھتیجے تمہاری قوم نے آکر مجھ سے یہ یہ باتیں کہی ہیں تم مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میں اٹھا نہ سکوں لہٰذا تم اپنی قوم سے وہ باتیں کہنی چھوڑ دو جو انہیں ناگوار ہیں۔‘‘

ابوطالب کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوا کہ اب چچا کے لیے میری حمایت کرنا مشکل ہوگیا ہے آپ نے فرمایا ’’چچا جان اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیں تو میں یہ کام نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے کامیاب فرمادے یا میں اس راہ میں ہلاک ہوجائوں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر رنجیدہ انداز میں چچا کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے کہ ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انہوں نے کہا:

’’اپنا کام جاری رکھو اور جو کچھ چاہو کرو خدا کی قسم میں کسی چیز کی وجہ سے بھی تمہیں دشمنوں کے حوالے نہ کروں گا۔‘‘

حضرت ابو طالب کی اس استقامت اور ثابت قدمی میں حضرت فاطمہؓقدم بہ قدم آپ کے ساتھ تھیں۔ آپ دونوں نے ہر طرح کی مخالفت کا مقابلہ کیا۔

ایک دن قریش کے لوگوں کے عزائم دیکھتے ہوئے ۔ حضرت ابو طالب نے بنی ہاشم او ربنی المطلب کو جمع کیا اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ سب مل کر رسول اللہ کی حفاظت کریں گے۔ اس بات کو سب نے قبول کیا اور ابوطالب کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے صرف ابولہب الگ کھڑا رہا۔

ابن سعد نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت زور و شور کے ساتھ ہورہی اور ابھی ہجرت حبشہ نہیں ہوئی تھی کہ ایک روز ابوطالب اور دوسرے اہل خانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نہ پایا ابوطالب کو شبہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے اسی وقت بنی ہاشم اور بنی مطلب کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ایک ایک خنجر یا کوئی اور ہتھیار اپنی چادر میں چھپالو اور میرے پیچھے پیچھے آئو اور میں مسجد حرام میں داخل ہوں گا دیکھو کہ سرداران قریش کی کس محفل میں ابن الحظلیہ (ابوجہل) بیٹھا ہوا ہے بس اس مجلس کے کسی فرد کو زندہ نہ چھوڑنا کیونکہ اسی مجلس کے لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا ہوگا۔‘‘

یہ ارادہ لے کر ابو طالب چلے اتنے میں زید بن حارثہ مل گئے اور ان سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیر و عافیت ہیں۔

دوسرے دن حضرت ابو طالب صبح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر آئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر بنی ہاشم اور بنی مطلب کے نوجوانوں سمیت قریشی کے سرداروں کی مجلس میں پہنچے او ران سے کہا کہ :

’’اے قریش کے لوگوں! تمہیں کچھ معلوم ہے کہ میں نے کیا ارادہ کیا تھا؟‘‘

انہوں نے کہا نہیں:

’’ابو طالب نے سارا ماجرا بیان کیا اور اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ذرا اپنی چادریں ہٹائو جب انہوں نے چادریں ہٹائیں تو لوگوں نے دیکھا کہ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک تیز ہتھیار ہے۔‘‘

پھر ابو طالب نے کہا:

’’خدا کی قسم اگر تم نے محمد کو قتل کیا تو میں تم میں سے کسی ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ ہم لڑ لڑ کر ختم ہوجائیں گے۔‘‘

اس واقعہ سے انہوں نے قریش کو اس بات کا احساس دلا دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ نے اپنے شوہر نامدار کی اس معاملے میں مکمل معاونت کی۔

انہوں نے بچپن سے لے کر جوانی تک رسول اللہ کی خدمت اور نگہداشت میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھی اور ایسا شفیقانہ سلوک کیا جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے سے کیا کرتی ہے۔

ادھر قریش کا غصہ روزبرو بھڑکتا جارہا تھا وہ یہ بات دیکھ رہے تھے کہ ان کی ہر طرح کی مخالفت کے باوجود اسلام روز بروز پھیلتا جارہا ہے اب معاملہ مکہ تک ہی نہیں بلکہ مکہ سے باہر حبش تک اس کی جڑیں پھیل رہی ہیں کیونکہ جب قریش کے مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حبش کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی۔ چنانچہ بعثت کے پانچویں اور چھٹے سال مسلمانوں کے دو قافلے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے۔

حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین میں حضرت فاطمہؓ کے فرزند حضرت جعفرؓ او ران کی بیوی اسماءؓ بنت عمیس بھی تھیں ابن اسحق کا کہنا ہے کہ حضرت جعفرؓ کی ہجرت کرنے والے اولین قافلے میں شامل تھے۔

اسی اثناء میں حبشہ میں یہ مہاجرین کو یہ خبر پہنچی کہ کفار مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ دراصل واقعہ یہ ہوا کہ ایک روز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے پاس تلاوت کررہے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر سورہ نجم کی آیات جاری کردیں کلام کی تاثیر میںوہ شدت تھی کہ کفار اور مشرکین کی بڑی تعدا دجو حرم میں موجود تھی انہیں شور مچانے اور غل غپاڑہ کرکے لوگوں کو دوسری طرف متوجہ کرنے کا ہوش ہی نہ رہا وہ دم بخود آیات ربانی کے سحر میں خاموش مبہوت کھڑے رہ گئے او رجب آیات کے خاتمہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سب کے سب حاضرین سجدے میں گر گئے۔

یہ منظر دیکھ کر وہ لوگ جو حبشہ کی طرف جانے والے تھے انہوں نے یہ خبر اس شکل میں پہنچائی کہ مشرکین قریش مسلمان ہوگئے مگر حقیقت یہ نہیں تھی چنانچہ افواہ کو سن کر بہت سے مسلمان مہاجرین مکے واپس آگئے لیکن حضرت جعفرؓ بن ابی طالب وہیں رہے بعد میں دوسرے گروہ نے جب ہجرت کی تو جعفرؓ بن ابی طالب سے حبشہ میں مل گئے۔

حضرت فاطمہؓ نے بڑے عزم اور حوصلے سے اپنے بیٹے اوربہو کی جدائی برداشت کی۔

مشرکین کو اس بات کا بڑا افسوس تھا کہ مسلمان اپنی جان اور ایمان بچا کر ایک پرامن مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے سوچا کہ سفراء کو بھیج کر حبشہ کے بادشاہ کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ کسی طرح ان لوگوں کو ہمارے حوالے کردے۔ لہٰذا انہوں نے دو نہایت سمجھدار اور گہری سوجھ بوجھ رکھنے والے اشخاص کو بھیجنے کا فیصلہ کیا چنانچہ انہوں نے عمرو بن عاص‘ عبداللہ بن ربیعہ کو اس سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور ان دونوں کو بہترین تحفے اور ہدیے دے کر حبشہ روانہ کیا انہوں نے وہاں پہنچ کر وہ تحائف حبشہ کے بادشاہ کو پیش کیے۔

ساتھ ہی عرض کی اکہ اے بادشاہ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ نہ سمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں انہوں نے ایک نیا دین ایجاد کیا ہے ہمیں ان کے باپ چچا اور خاندان کے سرداروں نے بھیجا ہے کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ واپس بھیج دیں۔

ان لوگوں کی بات مکمل کرنے کے بعد دربار کے مشیروں اور وزیروں نے ان کی تائید کی اور کہا کہ یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ان کو ان کے خاندان والوں کے حوالے کردینا چاہیے۔

لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قصے کو محض ایک طرف سے سن کر نہیں نمٹانا چاہیے بلکہ دوسری طرف کی بات بھی معلوم کرنا چاہیے انصاف کا تقاضا یہ ہے چنانچہ اس نے دوسرے دن مسلمانوں کو بلابھیجا۔دوسرے دن مسلمانوں نے دربار آنے سے پہلے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کو اپنا ترجمان بنایا۔

حضرت جعفرؓ نے پوری صورتحال نجاشی کے سامنے رکھ دی یہاں تک کہ دوسری ملاقات میں نجاشی نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں دریافت کیا تو حق بات بتانے میں ذرا پیچھے نہ ہٹے حالانکہ جلاوطنی کی حالت میں تھے پیچھے کوئی مضبوط سہارا نہ تھا۔ سارے اہل دربار رشوت کھا کر مسلمانوں کو دشمن کے سپرد کردینے کے لیے تیار تھے اور اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ بادشاہ حق بات سن کر بگڑ نہ جائے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کلمہ حق پیش کرنے میں ذرا برابر کو تاہی اختیار نہ کی۔ یہ ماں کی تربیت تھی کہ حق کے سینہ سپر ہونے میں انہوں نے کسی قسم کی گھبراہٹ اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا۔

بعثت کے ساتویں سال مشرکین قریش نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم او ربنو مطلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے نہ کریں گے کوئی شخص ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا نہ ان سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے گا او رنہ رشتہ ناتا رکھاجائے گا اس فیصلے کو انہوں نے تحریر کی شکل دی اور ہر قبیلے کے نمائندے نے اس پر اپنے دستخط کیے اور پھر اس معاہدے کو حرم کے دروازے پر لٹکادیا گیا۔

حضرت ابوطالب کو جب اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے بنوہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بلایا اور ان سے کہا کہ ہم سب کے سب محمد کے ساتھ شعب ابی طالب میں جمع ہوجائیں اور آخر وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں اس تجویز کو دونوں خاندانوں نے قبول کیا ان میں کافر اور مسلمان سب کے سب تھے۔ چنانچہ دونوں خاندان ابو طالب کی ہدایت پر شعب ابی طالب میں محصور ہوکر بیٹھ گئے۔

بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے اس دوران قریش نے مکہ نے ایسی ناکہ بندی کی تھی کہ کھانے پینے کی چیزیں پہنچنے کے تمام راستے بند ہوگئے تھے اس پریشان کن حالات میں حضرت فاطمہؓ بنت اسد مکمل استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ کا ساتھ دیا ادھر اس تحریری معاہدے کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے ایک ایسے لشکر کو بھیجا جو کسی کی نظر میں نہ آیا اور یوں دیمک نے اس سارے معاہدے کو چاٹ ڈالا سوائے اس جگہ کہ جہاں اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔

اللہ نے بذریعہ وحی یہ بات اپنے رسول تک پہنچادی رسول اللہ نے اس کا ذکر اپنے چچا ابوطالب سے کیا انہوں نے پوچھا کیا تم کو تمہارے رب نے خبر دی ہے؟

’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔‘‘

ابوطالب نے اس بات کو اپنے بھائیوں اور خاندان کے بزرگوں کے سامنے رکھا انہوں نے پوچھا ’’آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

’’ابو طالب نے کہا کہ واللہ محمد نے کبھی مجھ سے کوئی بات جھوٹی نہیں کہی ہے۔‘‘

رسول اللہ نے فرمایا’’میری رائے یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے بہترین کپڑے پہن کر قریش کی طرف نکلیں اور ان کو یہ بات بتائیں۔‘‘

چنانچہ سب نکلے اور حجر کی طرف گئے جہاں قریش کے بڑے اور دانا لوگ بیٹھا کرتے تھے ان لوگوں کو آتے دیکھ کر سب حاضر کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں اور وہ سوچنے لگے کہ یہ لوگ آخر کیا کہنے کے لیے آئے ہیں؟

ابوطالب نے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ خبر دی ہے اور خدا کی قسم کبھی وہ جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اب تم وہ صحیفہ منگو اکر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی بات سچی ہے تو ہمارے ساتھ اپنی قطع رحمی سے باز آجائو اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں اے تمہارے حوالے کردوں گا۔

حاضرین محفل نے کہا کہ آپ نے یہ انصاف کی بات کی ہے۔ پھر وہ صحیفہ منگوایا گیا کھول کر دیکھا تو بات وہی سچی نکلی جس کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور سر جھک گئے۔

ابو طالب نے کہا کہ اب تم پر واضع ہوگیا کہ ظلم اور قطع رحمی اور بدسلوکی کے مرتکب تم ہی لوگ ہوئے ٹھے پھر ہم کس قصور میں محبوس رکھے جائیں؟

پھر ابوطالب اپنے ساتھیوں کے ساتھ کعبہ کے پردوں کے پیچھے گئے اور بیت اللہ کی دیواروں سے لپٹ کر انہوں نے دعا مانگی کہ

’’خدایا ان لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے ہم سے قطع رحمی کی اور وہ کچھ اپنے لیے حلال کرلیا جو ہمارے معاملے میں ان پر حرام تھا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کو لیے ہوئے شعب ابی طالب کی طرف روانہ ہوگئے ان کے جاتے ہی بہت سے ُوگ آپس میں اس ظلم پر ملامت کی جو انہوں نے روا رکھا ہوا تھا ان میں سے مطعم بن عدی‘ عدی بن قیس‘ زمعہ بن اسود‘ ابوالنجتری بن ہاشم اور زبیر بن الجاامیہ پیش پیش تھے پھر یہ لوگ ہتھیار بند ہوکر شعب ابی طالب گئے اور بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب سے کہا کہ اب آپ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جاکر آباد ہوں۔

لیک محصوری کے خاتمے کو ابھی چند مہینے ہی ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پے درپے جدائی کے صدمہ آپڑے یہ جدائی اپنے شفق و حامی مددگار چچا ابوطالب اور آپ کی انتہائی وفادار اور غمگسار بیوی حضرت خدیجہؓ کے تھے۔

ابن سعد لکھتے حیں کہ 15 شوال 10 بعد بعثت حضرت ابو طالب کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر 80 سال تھی اس سال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’عام الحزن‘‘ کا سال قرار دیا ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا اور دوسری طرف یکایک قریش کے لوگ یہ دیکھ کر کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی پشتیبان نہیں رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر بہت جری ہوگئے تھے۔

ایک روز قریش کے ایک اوباش نے سربازار حضور پاک کے سر مبارک پر مٹی ڈال دی آپ اس حال میں گھر تشریف لے گئے۔ آپ کی صاحبزادی آپ کا سر دھوتی جاتی اور روتی جاتی اور حضور انہیں تسلی دینے کے لیے یہ فرماتے جاتے تھے کہ:

’’نہ رو میری بیٹی اللہ تیرے باپ کا حامی ہے۔‘‘

شفیق چچا کے رخصت ہونے کے بعد آپ کی سرپرستی کی ذمہ داری حضرت فاطمہؓ نے اٹھالی اور ایک عورت ہونے کی حیثیت سے جو کچھ بن آیا آپ کے لیے کیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرزندوں سے زیادہ چاہتی تھیں۔

جب عام مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا تو حضرت فاطمہؓ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلی گئی۔ لیکن اپنے چھوٹے فرزند حضرت علیؓ کو رسول اللہ کے ساتھ چھوڑ گئیں۔

رسول اللہ کے ہجرت موقع پر ان کے لخت جگر حضرت علی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بستر پر آپ ؓ کو سلایا اور ہجرت کے لیے روانہ ہوئے۔

ہجرت کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لے گئے اور رات ہونے تک وہیں رہے تاکہ دشمن کو کسی معاملے میں شک نہ ہو رات کو اپنے طے شدہ وقت کے مطابق وہ بارہ افراد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے لیے مامور کیے گئے تھے پہنچے لیکن ان لوگوں کے آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کو اپنے بسر پر اپنی سبز چادر اڑھا کر لٹادیا تھا اس لیے دشمن باہر سے تانک جھانک کر جب بھی دیکھتے یہ ہی سمجھتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر سورہے ہیں وہ لوگ رات بھر باہر بیٹھے آپ کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے تاکہ صبح سویرے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں گے یکبارگی آپؐ پر ٹوٹ پڑیں۔

اسی دوران جب کہ دشمن گھیرا ڈالے ہوئے تھے رات کو کسی وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے باہر تشریف لائے اوران کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل کر چلے گئے اس وقت آپ سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھ رہے تھے صبح ہوئی تو ان لوگوں نے حضرت علیؓ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترپر سے اٹھتے دیکھا۔

تب ان کو علم ہوا کہ رسول اللہ تو کبھی کے جاچکے ہیں انہوں نے حضرت سے پوچھا ’’تمہارا صاحب کہاں ہے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا ’’مجھے کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں تشریف لے گئے ہیں میں ان پر کوئی نگراں تو نہیں ہوں تم لوگوں نے انہیں نکلااور وہ نکل گئے۔‘‘

یہ سن کر ان لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی انہوں نے حضرت علیؓ کو ڈانٹا ڈپٹا مارا پیٹا کچھ دیر مسجد حرام میں لے جاکر بند رکھا مگر جب کسی بھی طریقے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ معلوم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو انہیں چھوڑ دیا۔

ہوسکتا ہے کہ انہیں اس لالچ نے بھی حضرت علیؓ کو چھوڑنے پر آمادہ کی اہو کہ انہیں ان سے اپنی امانتیں وصول کرنی ہوں اور شاید ان کے ضمیر نے بھی ان کو ملامت کیا ہو کہ تم جس شخص کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوکر آئے اس کے اخلاق کی بلندی کا یہ عالم ہے کہ وہ قتل گاہ سے نکلتے ہوئے بھی اپنے دشمنوں کی امانتوں کو ان تک بحفاظت پہنچا دینے کے لیے فکر مند ہے۔

ہجرت نبوی کے دو سال بعد حضرت علیؓ کا نکاح رسول اللہ کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرہؓ سے ہوگیا اور یوں ایک گھر میں دو فاطمہؓ جمع ہوگئیں ایک ساس اور ایک بہو۔

حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمدہ اور نفیس بہت بڑی چادر مجھے دی اور ارشاد فرمایا کہ اسے فواطم میں برابر کی تقسیم کردو فواطم فاطمہ کی جمع ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں چار خواتین فاطمہ نام کی جمع تھیں۔

(1) فاطمہ بنت اسد

(2) فاطمہ بنت محمد

(3) فاطمہ بنت حمزہ

(4) فاطمہ بنت شیبہ

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تعمیل ارشاد کرتے ہوئے چادر کے چار حصے کرتے ہوئے چاروں خواتین کو ایک ایک حصہ دے دیا۔

حضرت فاطمہؓ بنت اسد ہجرت کے بعد چند سال ہی زندہ رہیں حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہؓ بنت اسد کی وفات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ اسی وفت ان کے گھر پہنچے اور میت کے پاس بیٹھ کر افسردہ انداز میں فرمایا۔

اماں جان! اللہ آپ کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے میری والدہ کے بعد کتنی مرتبہ آپ خود بھوکی رہیں اور مجھے خوب کھانے کودیا ‘ پہنے کو لباس دیا‘ کھانے کے لیے عمدہ چیزیں فراہم کیں اور خود ان سے اپنا ہاتھ روکے رکھا یقینا آپ کا یہ عمل اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ماں جیسی چچی جان کی یاد میں بہت ملول اور غمزدہ ہوئے آپ کے چشم مبارک سے سیل اشک رواں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کو اپنی قمیض مبارک مرحمت کی اور ہدایت کی کہ انہیں میری قمیض کا کفن پہنائو۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ ؓ بن زید اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو حکم دیا کہ جنت البقیع میں جاکر قبر کھودیں جب وہ قبر کا اوپر کا حصہ کھودچکے تو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم خود نیچے اترے اور اپنے دست مبارک سے لحد کھودی اور خود ہی اس میں سے مٹی نکالی جب یہ کام پورا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لحد کے اندر لیٹ گئے اور دعا مانگی الٰہی میری ماں کی مغفرت فرما اور ان کی قبر کو وسعت دے۔

یہ دعا مانگ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر سے باہر نکلے تو شدت غم سے ریش مبارک ہاتھ میں تھی اور رخسار پر آنسو بہہ رہے تھے لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو فرمایا’’ابو طالب کے بعد ان سے زیادہ میرے ساتھ کسی نے مہربانی نہیں کی میں نے اپنی قمیض ان کو اس لیے پہنائی کہ جنت میں انہیں جگہ ملے اور قبر میں اس لیے لیٹا کہ قبر میں آسانی ہو۔‘‘

تاریخ میں پانچ ایسی خوش نصیب شخصیات ہیں جن کی قبروں میں رسول اقدس جائزہ لینے کے لیے خود اترے ان کے نام یہ ہیں۔

(1) حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ

(2) حضرت عبداللہ مربی رضی اللہ عنہ جو ’’ذوالجادین‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہوئے تھے۔

(3 حضرت ام رومان رضی اللہ عنہ جو آپ کی خوشدامن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ تھیں۔

(4) حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہ

(5) اپنے بیٹے کی قبر میں جو حضرت خدیجہ الکبری کے بطن سے تھا اور بچپن میں ہی اللہ کو پیارا ہوگیا تھا۔

ایک روایت میں یہ ہے کہ اس موقع پر جب کہ حضرت فاطمہؓ بنت اسد لحد میں اتاری جارہی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو فاطمہؓ بنت اسد پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت فاطمہ بنت اسد کے فرزند عقیلؓ ام ہانی اور ججانہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔ ججانہ کی زندگی کے بارے میں تاریخ خاموش ہے البتہ ام ہانی کے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا آغاز اپنی ان ہی چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سے ہوا تھا جہاں آپ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے ہوئے تھے اورمکان کی چھت کھول کر جبرائیل امین اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے گئے۔

حضرت فاطمہؓ بنت اسد کے سارے بچے ناموس رسالت کے محافظ و شیدائی تھے۔ ایک ماں کے لیے سکون قلب کی اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی۔ اور جس خاتون کو سید المرسلین کی قمیض کا کفن اور آخری آرام گاہ کو جسم مبارک کا لمس نصیب ہوا ہو ان کے مراتب کے کیا ہی کہنے ہیں بے شک اللہ اور اللہ کا رسول ان سے راضی اور وہ اللہ کی رضا پر مطمئن تھیں۔

حضرت جعفرؓ نے پوری صورتحال نجاشی کے سامنے رکھ دی یہاں تک کہ دوسری ملاقات میں نجاشی نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں دریافت کیا تو حق بات بتانے میں ذرا پیچھے نہ ہٹے حالانکہ جلاوطنی کی حالت میں تھے پیچھے کوئی مضبوط سہارا نہ تھا۔ سارے اہل دربار رشوت کھا کر مسلمانوں کو دشمن کے سپرد کردینے کے لیے تیار تھے اور اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ بادشاہ حق بات سن کر بگڑ نہ جائے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کلمہ حق پیش کرنے میں ذرا برابر کو تاہی اختیار نہ کی۔ یہ ماں کی تربیت تھی کہ حق کے سینہ سپر ہونے میں انہوں نے کسی قسم کی گھبراہٹ اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا۔

بعثت کے ساتویں سال مشرکین قریش نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم او ربنو مطلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے نہ کریں گے کوئی شخص ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا نہ ان سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے گا او رنہ رشتہ ناتا رکھاجائے گا اس فیصلے کو انہوں نے تحریر کی شکل دی اور ہر قبیلے کے نمائندے نے اس پر اپنے دستخط کیے اور پھر اس معاہدے کو حرم کے دروازے پر لٹکادیا گیا۔

حضرت ابوطالب کو جب اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے بنوہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بلایا اور ان سے کہا کہ ہم سب کے سب محمد کے ساتھ شعب ابی طالب میں جمع ہوجائیں اور آخر وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں اس تجویز کو دونوں خاندانوں نے قبول کیا ان میں کافر اور مسلمان سب کے سب تھے۔ چنانچہ دونوں خاندان ابو طالب کی ہدایت پر شعب ابی طالب میں محصور ہوکر بیٹھ گئے۔

بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے اس دوران قریش نے مکہ نے ایسی ناکہ بندی کی تھی کہ کھانے پینے کی چیزیں پہنچنے کے تمام راستے بند ہوگئے تھے اس پریشان کن حالات میں حضرت فاطمہؓ بنت اسد مکمل استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ کا ساتھ دیا ادھر اس تحریری معاہدے کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے ایک ایسے لشکر کو بھیجا جو کسی کی نظر میں نہ آیا اور یوں دیمک نے اس سارے معاہدے کو چاٹ ڈالا سوائے اس جگہ کہ جہاں اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔

اللہ نے بذریعہ وحی یہ بات اپنے رسول تک پہنچادی رسول اللہ نے اس کا ذکر اپنے چچا ابوطالب سے کیا انہوں نے پوچھا کیا تم کو تمہارے رب نے خبر دی ہے؟

’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔‘‘

ابوطالب نے اس بات کو اپنے بھائیوں اور خاندان کے بزرگوں کے سامنے رکھا انہوں نے پوچھا ’’آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

’’ابو طالب نے کہا کہ واللہ محمد نے کبھی مجھ سے کوئی بات جھوٹی نہیں کہی ہے۔‘‘

رسول اللہ نے فرمایا’’میری رائے یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے بہترین کپڑے پہن کر قریش کی طرف نکلیں اور ان کو یہ بات بتائیں۔‘‘

چنانچہ سب نکلے اور حجر کی طرف گئے جہاں قریش کے بڑے اور دانا لوگ بیٹھا کرتے تھے ان لوگوں کو آتے دیکھ کر سب حاضر کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں اور وہ سوچنے لگے کہ یہ لوگ آخر کیا کہنے کے لیے آئے ہیں؟

ابوطالب نے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ خبر دی ہے اور خدا کی قسم کبھی وہ جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اب تم وہ صحیفہ منگو اکر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی بات سچی ہے تو ہمارے ساتھ اپنی قطع رحمی سے باز آجائو اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں اے تمہارے حوالے کردوں گا۔

حاضرین محفل نے کہا کہ آپ نے یہ انصاف کی بات کی ہے۔ پھر وہ صحیفہ منگوایا گیا کھول کر دیکھا تو بات وہی سچی نکلی جس کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور سر جھک گئے۔

ابو طالب نے کہا کہ اب تم پر واضع ہوگیا کہ ظلم اور قطع رحمی اور بدسلوکی کے مرتکب تم ہی لوگ ہوئے ٹھے پھر ہم کس قصور میں محبوس رکھے جائیں؟

پھر ابوطالب اپنے ساتھیوں کے ساتھ کعبہ کے پردوں کے پیچھے گئے اور بیت اللہ کی دیواروں سے لپٹ کر انہوں نے دعا مانگی کہ’’خدایا ان لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے ہم سے قطع رحمی کی اور وہ کچھ اپنے لیے حلال کرلیا جو ہمارے معاملے میں ان پر حرام تھا۔‘‘

ایک روایت میں یہ ہے کہ اس موقع پر جب کہ حضرت فاطمہؓ بنت اسد لحد میں اتاری جارہی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو فاطمہؓ بنت اسد پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت فاطمہ بنت اسد کے فرزند عقیلؓ ام ہانی اور ججانہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔ ججانہ کی زندگی کے بارے میں تاریخ خاموش ہے البتہ ام ہانی کے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا آغاز اپنی ان ہی چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سے ہوا تھا جہاں آپ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے ہوئے تھے اورمکان کی چھت کھول کر جبرائیل امین اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے گئے۔

حضرت فاطمہؓ بنت اسد کے سارے بچے ناموس رسالت کے محافظ و شیدائی تھے۔ ایک ماں کے لیے سکون قلب کی اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی۔ اور جس خاتون کو سید المرسلین کی قمیض کا کفن اور آخری آرام گاہ کو جسم مبارک کا لمس نصیب ہوا ہو ان کے مراتب کے کیا ہی کہنے ہیں بے شک اللہ اور اللہ