July 22nd, 2019 (1440ذو القعدة19)

بااختیاراورباوقار

 

بینا حسین خالدی

انگریزی لفظ ’’ایمپاورمنٹ‘‘ کے لغوی معانی (آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق) “To give someone more contool over their own gife or situaation” کے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق ’’ویمن ایمپاورمنٹ‘‘ ایک کثیر المعانی اور کثیر المقاصد اصطلاح ہے۔ جس کے مطابق عورتوں کے حقوق کی بحالی، معاشی خود مختاری، سیاست و حکومت میں ان کی شمولیت اپنی آمدنی کو اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار، اپنی زندگی کے تمام فیصلے خود کرنے کی آزادی، معاشرتی زندگی کے تمام شعبہ جات بشمول اسپورٹس اور وہ شعبے جن میں مردوں کی اجارہ داری ہو، میں ان کا حصہ مقرر کیا جانا وغیرہ شامل ہیں۔ مندرجہ بالا ان تمام مقاصد میں معاشی خود کفالت جو خود مختاری پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ دورِ جدید کی نفسانفسی، معاشی و معاشرتی مسائل کے تناظر میں تو ویمن ایمپاورمنٹ کا یہ نظریہ خواتین کے حقوق و مفادات کا ضامن ہوسکتا ہے لیکن اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے حالات یکساں نہیں ہیں اور نہ ہی تمام عورتیں معاشی خود کفالت کے اس نظریے کے تحت بنائے گئے ویمن ایمپاورمنٹ کے منصوبوں کا خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عالمی سروے کے مطابق عورتوں کے لیے خطرناک قرار دیے گئے ممالک کی فہرست میں بھارت اول نمبر پر ہے جہاں 2012ء میں 23 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ اور ہلاکت کے واقعے کے بعد خواتین پر ہونے والے اس طرح کے حملوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے بلکہ دن بدن اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی اور روایتی رسوم و رواج کے سبب عورتوں اور نابالغ بچیوں کی جبری شادی، جنسی غلامی اور گھریلو تشدد کے لحاظ سے بھی بھارت کو عورتوں کے حقوق کی خراب ترین صورت حال کا حامل ملک قرار دیا گیا ہے۔ ایسی صورت حال میں بھارتی عورت کے تحفظ کے لیے چند ہزار روپے کی ملازمت یا بہترین روزگارا اس کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے۔ تھامسن روئٹرز فائونڈیشن کے اس سروے کے مطابق افغانستان اس درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں طاالبان کی حکومت کے خاتمے کے سترہ سال بعد بھی خواتین کی سماجی و معاشرتی زندگی مایوس کن ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کو نہ صرف جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا ہے بلکہ اقتصادی و طبی وسائل تک بھی اُن کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ افغان عورتیں مختلف خطرناک امراض کا شکار ہیں اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے وہاں متعددی امراض بھی دن بدن پھیلتے جارہے ہیں۔
سات سال سے خانہ جنگی کا شکار ملک شام کو خواتین کی مجموعی صورت حال کے حوالے سے تیسرا خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے اور عورتوں پر غیر جنسی تشدد اور طبی سہولتوں کے فقدان کے لحاظ سے شاما دوسرے نمبر پر خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہاں کی عورتوں کا پہلا اور بنیادی حق تو امن وامان کی بحالی اور طبی سہولتوں کی فراہمی ہی ہوگا نہ کہ معاشی خود کفالت و خود مختاری۔
عورتوں کے ساتھ ناانصافی، غیرت کے نام پر قتل، اقتصادیات میں ان کی عدم شمولیت اور مذہب و سماج کے نام پر کیے جانے والے امتیازی سلوک کی بنا پر پاکستان کو تھامسن روئٹرز فائونڈیشن سروے کے مطابق چھٹے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا تجزیہ کیا جائے تو ’’مذہب و سماج کی بنا اپر امتیازی سلوک‘‘ یہاں پاکستانی عورتوں کی ترقی اور ایمپاورمنٹ کے راستے میں رکاوٹ ہے جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔
ہندوستان میں بیسویں صدی کے آغاز سے ہی مشرقی اقدار و روایات اور مغربی تہذیب و تمدن کے مابین ایک کش مکش برپا ہوچکی تھی جو آج کے دن تک جاری ہے۔ عورت کے بارے میں جب مشرقی مفکرین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ عورت ناقص العقل ہے تو مغربی معاشرے عورت کو سائنسدان، ہوا باز اور ریاضی دان کے طور پر سامنے لائے۔ جب ہم نے کہا کہ عورت صف نازک ہے تو آزادی نسواں کے علمبرداروں نے عورت کو ایتھلیٹ بنا کر ہماری اس دلیل کو بھی چاروں خانے چت کردیا۔ مشرق و مغرب کی اِن دو انتہائوں کی کش مکش کے درمیان ’’دینِ اعتداال‘‘ (اسلام) دونوں ہی تہذیبوں کو عدل و توازن کی طرف دعوت دیتا رہا لیکن اس کی اس دعوت کو اس وقت بھی درخورِ اعتناء نہ سمجھا گیا تھا اور آج بھی دنیا تیزی سے لبرل ازم کی چکا چوند سے متاثر ہورہی ہے۔ برصغیر پاکا و ہند میں تو مشرقی اقدار و تمدن میں پہلے بھی ہندو وانہ کلچر کی آمیزش تھی پھر انگریزوں کے دور میں مغربی افکار و کلچر کی یلغار نے مشرقی تہذیب میں اسلامی تمدن کے خدوخال کو اور زیادہ دھندلاا کردیا تھا اور آج تک بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مشرقی تہذیب و تمدن اسلامی اقدار کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتی ہے۔ خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات عدل و توازن پر مبنی ہیں۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا کمتری اور برتری کا جھگڑا ہی ختم کردیا گیا ہے۔ یعنی جب میاں بیوی دونوں ہی ایک دوسرے کو لباس کی طرح چھپاتے اور تحفظ دیتے ہیں تو دونوں کی حیثیت برابر ہے۔ ’’مردوں کو عورتوں پر ایک درجے فضیلت حاصل ہے کیونکہ وہ اُن پر مال خرچ کرتے ہیں‘‘ (القرآن) اس آیت کے مفہوم کے مطابق اگر فضیلت کا معیار مال کا خرچ کرنا ہے تو وہ حضرات جو اپنی بیویوں پر مال خرچ نہیں کرتے نکمے اور آوارہ مزاج ہیں یا بخیل ہیں تو کیا پھر بھی فضیلت کا درجہ برقرار رہے گا؟۔ دوم یہ کہ دورِ جدید کے معاشی مسائل، غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میاں بیوی دونوں مل کر کماتے ہیں۔ رفیق حیات کی حیثیت سے ایک بیوی گھر میں رہتے ہوئے بھی اگر قناعت اور کفایت شعاری اختیار کرتی ہے… ایثار کرتی ہے تو وہ بھی اپنے شوہر کے معاشی کفالت کا بوجھ اُٹھانے میں اُس کی مددگار ہے۔
نبی کریم حضرت محمدؐ کے دورِ رسالت میں بھی عورتیں اپنے شوہروں کی معاشی سرگرمیوں میں اُن کی مددگار تھیں۔ کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ مویشیوں کی دیکھ بھال اور ان کا دودھ دوہتی تھیں۔ کپڑا بنتی، جانوروں کی کھال سے گھریلو استعمال کی چیزیں بناتی تھیں۔ آج مشینی دور ہے، سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ اگرچہ دینِ اسلام نے عورت پر کما کر لانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے لیکن موجودہ دور کے مسائل کے تناظر میں ویمن ایمپاورمنٹ کا نظریہ مرد اور عورت دونوں کے لیے اس وقت تک مفید ثابت ہوسکتا ہے جب اس میں عورت کی طرف سے جذبہ رفاقت و تعاون شامل ہو نہ کہ عورتوں میں احساس برتری، مردوں یعنی شوہروں اور بھائی باپ وغیرہ سے لاتعلقی، خود سری اور اعلیٰ سماجی اقدار سے بغاوت جیسے منفی رجحانات پیدا ہوجائیں اور معاشرے کی نفسانفسی، ذہنی اضطراب اور گھریلو انتشار جیسی برائیاں جنم لینے لگیں۔ آج مشرقی روایات کے جامل معاشروں میں بڑھتی ہوئی بے حجابی، عریانی اور فحاشی کا ذمہ دار عورت کو گردانا جاتا ہے اور اس کا سبب ویمن ایمپاورمنٹ کے نام پر خواتین کی معاش کے اُن شعبوں میں شمولیت ہے جہاں اُن کی ضرورت نہیں ہے۔ محض شو پیس کے طور پر ان کو مصنوعی آسامیوں پر تعینات کیا جاتا ہے جسم کو عریاں کرکے حسن کی نمائش کے بل پر روزی کمانا ویمن ایمپاورمنٹ نہیں ہے۔ بحیثیت مسلمان عورت کوئی بھی ورکنگ ویمن خواہ وہ لبرل ہو یا دینی مزاج کی ہو اس کا بہرحال اپنے خالق حقیقی سے کبھی نہ ٹوٹنے والا ایک رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بندیوں کو معاشی طور پر خود مختار دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے اس نے وراثت میں بیٹیوں، بہنوں کا حصہ، بیوی کا حق مہرنان و نقہ اور ماں کی حیثیت سے بیٹے کی جائیداد میں اُس کا حصہ مقرر کیا ہے اور حدیثِ مبارکہ کے مطابق بیوی کی حیثیت سے عورت کو اختیار دیا گیا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی اس کے رکھے ہوئے روپے پیسے سے اپنی ضرورت کا حصہ لے سکتی ہے اگر شوہر بخیل ہو تو… ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت میں وہ تمام ضرورتیں شامل ہوسکتی ہیں جو معاشرت و معاش سے متعلق بھی ہوسکتی ہیں اور ایک باعزت روزگار کے حصو کے لیے بھی ہوسکتی ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر اپنی بندیوں کو بااختیار کے ساتھ ساتھ باوقار بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا پردے و حجاب کا حکم ربانی ہر مسلمان عورت پر فرض کیا گیا۔ زیب و زینت کی نماائش سے پرہیز کیے بغیر وقار اور سنجیدگی کا اظہار نامکمل ہے، اس لیے نہ صرف زیب و زینت کو چھپانے بلکہ زمین پر پائوں مار کر آواز پیدا کرتے ہوئے چلنے، خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنے اور اکیلے سفر کرنے کی ممانعت بھی کردی گئی۔ یہ تمام احکامات دراصل عورت کے تحفظ اور وقار کے حق میں ہی ہیں لیکن مشرقی معاشرے کی عورت نے جب یہ دیکھا کہ مردوں کے لیے جو احکام فرض کیے گئے تھے اُن پر عمل درآمد کروانے والی کوئی قوتِ نافذہ اسلامی حکومت یا اخلاقی قوت محر کرکے۔ معاشرے میں موجود نہیں ہے اور پردے حجاب اور گھروں میں ٹک کر رہنے کے احکامات، شرم و حیا ایثار اور حدود قیود کی پابندی کا مطالبہ صرف عورت ہی سے کیا جاتا ہے تو اس نے پردے و حجاب کے حکم کو اپنی عزت نفس پر حملہ متصور کیا اور یہ سمجھا کہ عورت کو کمزور کردار کی حامل سمجھتے ہوئے اس پر یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ مردوں کو یہ اسلامی معاشرہ کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ وہ جو مرضی کرتے پھریں۔ اس احساس نابرابری نے عورت میں اسلامی و معاشرتی اقدار سے بغاوت کے منفی رجحانات کو جنم دیا۔ آج اور دو ڈرامہ سیریل ’’باغی‘‘ ہماری عورتوں کی پسندیدہ ڈرامہ سیریل ہے اور ہر عورت اور لڑکی اپنے آپ کو اُس ڈرامے کی ہیروئن کی جگہ رکھ کر دیکھتی ہے۔ ایسے میں جب ویمن ایمپاورمنٹ کا نظریہ اُن پر پیش کیا گیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ یہ نظریہ تو ان کے دل کی آواز ہے۔ لہٰذا ایمپاورمنٹ کے نام پر آزادی، صنفی مساوات، یہاں تک کہ جنسی آزادی کے زہر کو بھی انہوں نے اپنے لیے تریاق سمجھا۔ کچھ ماہ قبل اسلام آباد کی سڑکوں پر حوا کی کچھ بیٹیاں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے سلوگن اٹھائے ہوئے نظر آئیں۔ کیا یہی وہ ’’ویمن ایمپاورمنٹ‘‘ ہے؟۔ معاشی خود انحصاری ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے جس کو اٹھاتے ہوئے ایک خاتون اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی مکلف بن جاتی ہے اور یہی نہیں بلکہ گھریلو اور پیشہ ورانہ امور کی دہری مشقت اٹھاتی ہے۔ جن ملکوں میں ویمن ایمپاورمنٹ کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے وہاں بھی خواتین مختلف مسائل کا شکار ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ امریکا میں بھی ورکنگ ویمن کی 43 فیصد تعداد کو صنفی امتیاز کی بناء پر مردوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ چین جاپان جیسے صنعتی ملکوں میں تو ویمن ایمپاورمنٹ یا ایمپلائمنٹ اس وقت Punishment بن جاتی ہے جب حاملہ ورکنگ ویمن کو زچگی کی رخصتیں نہیں دی جاتی ہیں یا اتنی کم دی جاتی ہیں جو زچگی کے بعد اُن کی صحت کی بحالی کے لیے ناکافی ہوتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں 60 فیصد آبادی دیہی طبقے پر مشتمل ہے وہاں بھی کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں کو زچگی، حمل اور رضاعت کے معاملات میں کوئی رعایت نہیں دی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی خواتین کی حالت زار یکساں ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی خواتین اپنی محنت و دیانت کے بل پر ذریعہ معاشی کو جاری رکھے ہوئے ہیں وہاں مالکان کو ان کے استحصال سے روکنے والے قوانین موجود نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے خواتین کی اکثریت شوبز، اداکاری اور ماڈلنگ کے وہ شعبے اختیار کررہی ہے جہاں مشقت کم گلیمر زیادہ اور معاوضہ بھی زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ اشتہار سازی کا شعبہ اب ایک باوقار صنعت کا درجہ حاصل کرچکا ہے لیکن کیا ذہنی اور جسمانی مشقت اٹھا کر روزی کمانے والی خاتون اور ماڈل و اسٹار کہلانے والی خواتین دونوں ہی ورکنگ ویمن ہیں؟ اور کیا دونوں ہی کو ایمپاورمنٹ کی یکساں ضرورت ہے؟۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کو اس حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور ویمن ایمپاورمنٹ کا نظریہ قبول کرنے والے اسلامی ملکوں کو اپنی اقدار و روایات کے مطابق ’’مشرقی عورت بااختیار مگر باوقار‘‘ کے اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس اصول کے تحت اُن تمام شعبوں، اداروں، کمپنیوں اور ان میں کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے جہاں عورت محض ایک شوپیس بن کر اپنی نسوانی انا، عزتِ نفس اور وقار کا سودا کرنے پر مجبور ہے۔ حکومتی سطح سے اس بارے میں قانون سازی کی جائے اور خواتین کی ترقی و بہبود کے ادارے ایسی آسامیاں پیدا کرنے کے لیے پالیسی بنائیں جن میں عورتوں کی فطری صلاحیتوں کا بھرپور استعمال ہو، عورت ایک تخلیق کار ہے ایک فطری معلمہ ہے نظم و نسق چلانے کی بہترین صلاحیت قدرت کی طرف سے اُسے ودیعت کی گئی ہے۔ لہٰذا اچھے اداروں اور شعبوں میں انتظامیہ کے عہدوں پر خواتین کا کوٹہ مخصوص کیا جائے، فائن آرٹ کے شعبوں مثلاً ٹیکسٹائل ڈیزائننگ سے متعلقہ اداروں میں خاتون ڈیزائنر کی آسامیاں زیادہ سے زیادہ پیدا کی جائیں، ہوم انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے، حجاب و پردے پر پابندی لگانے والی تمام شرائط ملازمت ختم کردی جائیں۔ ایسا ہونا تبھی ممکن ہے جب تمام ہی خواتین اپنی عزت وقار اور پردے کی محافظت کرنے والی بن جائیں اور وہ مالکان ادارہ جن کو اپنے ادارے کی بہتری کے لیے ایک دیانت دار محنتی اور قابل عورت کی ضرورت ہو وہ بھی باپردہ خواتین کو ملازمت دینے پر مجبور ہوجائیں۔
خواتین خواہ گھریلو دائرہ کار تک محدود ہوں یا گھر کے مردوں کی مددگار بیوی، بیٹی، بہن کی حیثیت سے، ملازمت پیشہ ہوں ہر جگہ ان کے جائز مقام و مرتبے کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک عورت محض روپے پیسے کے بل پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کرسکتی۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ عورت نے جب بھی دنیا میں کوئی مقام و مرتبہ حاصل کیا ہے مسلسل محنت، دیانت اور نسوانی وقار کے بل پر حاصل کیا ہے۔ روزِ ازل سے عورت اور مرد ایک دوسرے کے رفیق ہیں ایسی ویمن ایمپاورمنٹ جو عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کا مدمقابل بنادے کسی بھی معاشرے کے لیے مفید نہیں ہوسکتی اور نہ ہی خود خواتین کو جبر و استحصال سے نجات دلانے والی ثابت ہوسکتی ہے۔