April 19th, 2019 (1440شعبان14)

اعلیٰ تعلیم: مرد،عورت میں عدم توازن؟

 

عابدہ فرحین

پاکستان کی ۷۰ سالہ تاریخ پہ نظر ڈالیں تو ترقی کی راہ میں جو رکاوٹیں نظر آتی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہمارے معاشرے کا افراط وتفریط کا شکار ہونابھی ہے۔ جب تک ہم ایک ذمہ دار قوم کی طرح بغیرکسی دباؤکے اپنی ضروریا ت اور حقیقی ترجیحات کے مطابق فیصلے اور طرزِعمل نہیں اختیار کریں گے، اس وقت تک ترقی کا سفر طے کرنا مشکل ہے۔ اس کی ایک مثال ہمارے معاشرے میں عورت(جو کسی بھی معاشرے کاکلیدی کردارہے)کے متعلق مختلف اور حددرجہ متحارب و متضاد تصورات ہیں۔ تاہم، گذشتہ دو عشروں سے اس رجحان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اگرچہ دیہات میں اب تک صورتِ حال کافی گھمبیر ہے، لیکن شہروں میں تعلیم کے باعث اور کچھ گلوبل ایجنڈے پہ عمل درآمدکے دباؤ کی وجہ سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب پہلے کی نسبت عورت کو نہ صرف جلدانصاف ملنے لگا ہے اور اس کے حقوق کا شعور بھی بیدار ہونے لگا ہے، نیز اس کے مسائل کو اہمیت ملنے لگی ہے، بلکہ وہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع میں بھی کشادگی پید ا ہوئی ہے۔
 الحمدللہ، یہ سب کچھ بہت خوش آیند ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا معاشرہ عورت کو ایک استحصال سے نکال کر دوسرے استحصال کی طرف دھکیل دے۔مستقبل کے منظر نامے پر نظر ڈال کرسوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہم کیا کریں کہ عدم توازن کا شکار ہوئے بغیر توازن اور ترقی کا سفر بہ آسانی طے ہوسکے اور اس کے لیے ہم خودبھی بحیثیت فرد یا گروہ اپنافعال کرداراداکرسکیں۔ ریا ستی سطح پراب الحمد للہ، اعلیٰ تعلیم کے میدان میں طلبہ و طالبات کو یکسا ں موا قع حاصل ہیں۔ اس وقت ملک میں بشمو ل کشمیر اور گلگت اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۸۷ سرکاری اور غیرسرکاری یونی ورسٹیاں کا م کر رہی ہیں، جب کہ خوا تین کی ۱۰علیحدہ یو نی و ر سٹیوں کے با عث ان کو مزیدبھی موا قع حاصل ہیں۔
پاکستان میں عمومی سطح پر اب یہ تصور پرانی بات لگتا ہے کہ ’لڑکیو ں کو پڑھ لکھ کر کیا کرناہے؟‘ اب یہ سمجھا جاتا ہے: معاشرے کو اعلیٰ تعلیم یا فتہ خوا تین کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوں کی۔ اعلیٰ تعلیم فرد کے علم و ہنر اور کا م کر نے کی استعداد میں اضا فہ کر تی ہے۔ خواتین خواہ وہ گھر کی ذمہ داریا ں سنبھا لیں،بچو ں کی نگہداشت کر یں، یا گھر سے باہر ملازمت وغیرہ، ہر جگہ تعلیم ان کو آگے بڑھاتی ہے۔ نہ صرف گھر یا تعلیم اور طب جیسے میدا نو ں میں خواتین کی ضرورت ہے بلکہ صحافت، قانون، نفسیا ت، حتیٰ کہ بعض صورتوں میں سکیورٹی، ریسرچ،سائنس، سوشل سا ئنس جیسے شعبو ں میں خوا تین کی مو جو د گی کی ضرورت ہے۔

مردوں اور عورتوں میں معاشی عدم توازن
چند لمحے کے لیے اسے ایک حو صلہ افز ا پہلو سمجھ بھی لیا جائے تو اس کے سا تھ ساتھ ایک گھمبیر مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے، جومستقبل کے منظرنامے کی خوف نا ک تصویر کشی کرتا ہے۔وہ یہ کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کا تنا سب عدم توا زن کا شکا ر ہے۔
ہما رے ہا ں لڑکیو ں میں محنت سے آگے بڑ ھنے کا جذبہ نسبتاً زیا دہ دکھائی دیتا ہے،جب کہ مردوں کے آگے بڑھنے کے راستے میں اگرچہ کو ئی طبعی رکا وٹ مو جو د نہیں ہے، مگر اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں ان کا گرا ف تیزی سے نیچے گررہا ہے۔ اس چیز کا اندا زہ امتحا نی نتا ئج اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دا خلو ں میں لڑکوں کے پیچھے رہ جانے سے ہو تا ہے ۔
اعلیٰ تعلیم میں مردوں اور عورتوں کا تناسب دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیا دہ تر یو نی ورسٹیوں میں لڑکیو ں کی تعداد ۷۰فی صد سے زیادہ ہے اور میڈیکل یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں اس سے بھی زیادہ، جب کہ خوا تین یونی ورسٹیوں میں پڑ ھنے والی طالبا ت کی تعداد اس کے علا وہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں مردوں اور عورتوں کے تناسب کا اندا زہ درج ذیل شوا ہدسے بخو بی کیا جا سکتا ہے:
۲۰۱۳ء اور۲۰۱۴ء میں کرا چی یو نی ورسٹی میں لڑ کیو ں کی تعداد۷۳ فی صد، جب کہ  لڑکوں کاتناسب ۲۷ فی صد تھا۔ اسی طرح این ای ڈی انجینیرنگ یو نی ورسٹی میں ۵۰، ۵۰ فی صد کا تناسب تھا (یاد رہے ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کے عشروں میں یہاں پر طالبات کا تناسب ۴ اور ۸فی صد تھا)۔ پنجا ب یو نی ورسٹی کے زیا دہ تر شعبو ں میں نما یا ں طو ر پر طا لبا ت کی بر تری دو تہا ئی سے زیا دہ آرہی ہے۔  ۲۰۱۷ء کے اعداد و شمار کے مطابق قائداعظم یونی ورسٹی میں، ایم ایس سی کورسز میں طالبات کی تعداد  ۱۷۳۵ ، جب کہ طلبہ ۱۴۷۴ تھی۔ ایم فل میں بھی طالبات کی تعداد غیرمعمولی طور پر زیادہ رہی۔
پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل کے مطابق مجموعی طور پر میڈیکل کی تعلیم میں خواتین کا تناسب ۸۰فی صد، جب کہ مردوں کا ۲۰فی صد ہے۔دوسری جانب جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق میڈیکل کی تعلیم میں طالبات کا تناسب ۷۰فی صد ہے اور ہرسال طالبات کے تناسب میں اضافہ ہی ہورہاہے، کمی نہیں۔
مستقبل کا نقشہ کچھ یوں نظر آرہا ہے کہ اچھے اور ذمہ دار عہدوں پہ مردوں اور عورتوں کا تناسب عدم توازن کا شکار ہوگا۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہوگی، حتیٰ کہ مردوں کے علاج کے لیے بھی عمومی طور پہ زیادہ تر خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہی میسر ہوںگی۔ اور گھریلو نظام چلانے کے لیے بھی عورت کی معاشی استعدادمرد سے زیادہ ہوگی۔
 مندرجہ بالا صو رتِ حا ل سے مستقبل میں معا شرے کا نقشہ اور توازن اُلٹ پلٹ ہو تا  نظر آتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعلیٰ تعلیم میں لڑکیو ں کی پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہرگزنہیں، اس کی حو صلہ افز ائی کے ساتھ ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑ کوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول اور پیشہ ورا نہ تر بیت کے موا قع میں اضا فہ کیا جا ئے۔ بصو رتِ دیگر تمام ملازمتوں پر بالخصوص اعلیٰ عہدو ں پر ملا زمت کے معیار کو زیا دہ تر خوا تین ہی پو ر ا کر یں گی۔ اس طرح معاشی ذمہ داریوں کا بو جھ مرد کے کا ندھو ں سے کم ہوکر عورت کے کا ندھو ں پر بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

مردوں کی معاشی ذمہ داری کا تقاضا
عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہما رے معاشرے میں لڑکیوں کو تو کسی حد تک یہ سکھایاجاتا ہے کہ ان کو دوسرے گھر جانا ہے، اس لیے دوسروں کواپنی زندگی میں جگہ دینے کی استعداد پیدا کرنی چاہیے، جب کہ لڑکوں کی تربیت اپنی عملی زندگی اور با لخصو ص خانگی زندگی کے بارے میں نہ ہو نے کے برابر ہوتی ہے۔ہماری معاشرتی اُٹھا ن اور مردوں کی بیرون خانہ مصروفیات کے باعث گھریلو ذمہ داریاں عموماً عورت ہی کے کا ندھو ں پرہوتی ہیں۔ پھر ،جب کہ صورت حال یہ ہو کہ لڑکے تعلیم اور ہنر کے میدان میں پیچھے ہونے کے باعث معاشی میدان میں بھی پیچھے رہ رہے ہوں، تو مستقبل میں عورت کے کاندھوں پر بچو ں کو پا لنے، ان کی تر بیت کر نے، گھر اورخاندان کے نظا م کو چلا نے اور شوہراور سسرال والوں کی خدمت وغیر ہ جیسے کام تو کہیں کم ہو تے نظر نہیں آرہے، کجاکہ معا ش کی ذمہ داریوں کا بو جھ بھی اس کے کا ندھو ں پر بڑھنا شروع ہو جا ئے۔
 بظاہر صنف نازک تر قی کر تی نظر آرہی ہے لیکن درحقیقت وہ چکّی کے دونو ں پاٹوں میں  پس رہی ہوگی۔ گویاکہ وہ ایسی موم بتی کی مانندہوگی، جو اپنے دونوں سروں سے جل رہی ہواور   اس طرح وہ ایک نئے اور کہیں زیادہ اذیت ناک استحصال کا شکار ہوجائے گی۔ اس کے برعکس  دینِ اسلام تو مرد کو ’قوّام‘ قرار دیتا ہے۔ یہ ’قوامیت‘ اس بنیاد پر ہے کہ وہ اپنے خاندان کا معاشی اور معاشرتی بوجھ اٹھانے کا ذمہ دار ٹھیرایا گیا ہے۔ لہٰذا، باوجود اس کے کہ عورت بھی اپنی بنیادی    ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ، اللہ کی بتائی گئی حدود میں رہ کر معاشی میدان میں کام کر سکتی ہے، باوجود اس کے کہ عورت کتنا بھی کماکر لارہی ہو، تب بھی مرد اپنی اس معاشی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

پیشہ ورانہ رہنمائی کا فقدان
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ نہ صرف تعلیم بلکہ اعلیٰ تعلیم تک کے لیے بھی کسی پیشہ ورانہ رہنمائی (کیرئیر گا ئیڈنس) کا انتظا م نہیں ہے، جس کے با عث بلاتخصیص مرداور خواتین اپنے دا ئرۂ کار کو مدّنظر رکھے بغیر اکثروبیش تر اندھا دھند صرف بھیڑ چا ل کا شکا ر ہو جاتے ہیں۔ اپنے میدان کا ر کے انتخا ب کے وقت دُور اندیشی سے نہ خود سو چتے ہیں اور نہ انھیں سمجھا یا جا تا ہے کہ کو ن سے میدا ن کا ا نتخا ب ان کی فطری اور لازمی ذمہ داریو ں(mandatory role) سے مناسبت رکھتا ہے اور کو ن سا نہیں؟ اکثر خوا تین اُن مضامین کو منتخب کر لیتی ہیں، جن کے اوقا ت کار ان کی فطری اور لازمی ذمے داری سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس طر ح وہ اپنی اس تعلیم کا استعما ل نہیں کرپاتیں اور اس پہ صرف کیا جانے والا وقت اور سرمایہ ضائع ہوتا ہے، یاپھر دوہری محنت کے باوجود دونوں جانب حق ادا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ اس دوہرے بوجھ سے یہ پڑھی لکھی خواتین نہ صرف طبعی اور نفسیاتی دبا ؤ کا شکا ر ہو تی ہیں، بلکہ ان کے بچے بھی مطلو بہ نگہدا شت سے محروم رہتے ہیں اور اس کے مظاہر جب ان بچوں کی جوانی اور ازاں بعد سامنے آتے ہیں تو درستی کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ملتا۔

درپیش چیلنج اور تقاضے
اس صو رتِ حا ل میں سر کا ری اور نجی شعبوں میں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کچھ فوری اور ہنگامی بنیادپراور کچھ دوررس نتائج کے حامل اقدامات کی ضرورت ہے :
٭  لڑکو ں کے لیے بھی متوازی اداروں کا قیام: اگرچہ یہ خوش آیندامر ہے کہ ہمارے ہا ں ’ویمن ڈیولپمنٹ‘ (عورتوں کی ترقی)کا شعو ر گذشتہ دو عشروں میں بہت قوت سے اُجاگر ہواہے، حتیٰ کہ ملک کی بڑی یونی ورسٹیوں میں ’ویمن ڈویلپمنٹ‘ کے باقاعدہ شعبے بھی کھلے ہیں، مگراس کے سا تھ ’مین ڈیو یلپمنٹ‘ (مردوں کی ترقی)کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مزید اضافہ ضروری ہے، تا کہ تمام اہل طلبہ وطالبا ت کے لیے داخلے ممکن ہوسکیں۔ خواتین یو نی ورسٹیوں کے متوازی طلبہ کے لیے بھی یونی ورسٹیاں قائم کرنا بہت ضروری ہیں، تا کہ مقابلتاً پیچھے رہ جانے کے باعث کوئی بھی طالب علم اعلیٰ تعلیم سے محرو م نہ رہے اورہر اہل طالب علم کے لیے اعلی تعلیم کا حصول ممکن ہوسکے اور معا شرے کی گاڑی کسی عدم توازن کا شکا ر ہوئے بغیر آگے بڑھتی رہے۔
٭  لڑکوں کی تعلیم میں عدم دل چسپی کی وجوہ: ہمارے ہاں یہ عمومی شکایت پائی جارہی ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے تعلیم اور لکھنے پڑھنے میں بہت کم دل چسپی لیتے ہیں اور اس لیے وہ نتائج میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کے بجاے ہمارے شعبۂ تعلیم کے ذمہ داروں اور تعلیم سے متعلق تحقیقی اداروں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے، کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماراتعلیمی نظام لڑکوں کی مطلوبہ درجے میں توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرا  رہا؟
٭  پیشہ ورانہ رہنمائی کی ضرورت: اسکو لوں سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سطح تک مردوں اور عو رتو ں کے دا ئرۂ کا ر، کا م کا بو جھ اٹھا نے کی فطری استعداد اور فطری صلاحیت و رجحان کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ بحیثیت مرد یا عورت اپنے فطری کردار کے ادراک کے حوا لے سے کیرئیرگائیڈنس یا پیشہ ورانہ رہنمائی کا انتظام ہونا لا زمی ضرورت ہے، تا کہ بھیڑ چال اور اندھی تقلید کے بجاے، ہر فرد سوچ سمجھ کر اپنے عملی میدان کا انتخاب اورمستقبل کی منصو بہ بندی کرسکے۔ اصولاًتو  اس کیر ئیر گا ئیڈنس کو ہمارے نظام تعلیم میں ہی شامل ہونا چاہیے، مگر جب تک ایسا نہیں ہے، اس وقت تک تعلیمی،تربیتی اور تحقیقی کام کرنے والے افراد اور اداروں کو، رضاکارانہ طور پر مختصر دورانیے کے نصاب یا ریفریشر کورس تیار کرنے چاہییں۔ جن کے ذریعے طالب علموں کو نہ صرف ان کے رجحان اوراستعداد کے مطابق بلکہ ان کی سما جی ذمہ داریو ں کے متعلق بھی آگا ہی دی جا ئے۔ ان کو اپنے فرا ئض اور دوسروں کے حقوق بتا ئے جا ئیں، تا کہ خاندان اور معاشرے میں اپنے کر دار کا فہم ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے وقت اپنے مضامین کے انتخاب میں مدد د ے سکے۔
٭  ترجیحات متعین کرنے کی ضرورت: شعبۂ تعلیم کے ’مراکز دانش‘ کی یہ   ذمہ داری ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں میں اور بالخصوص پیشہ ورانہ تعلیم میں، اپنی قومی ترجیحات کا جائزہ لیں اورقومی ضرورت کے مطابق نشستوں کا تعین کریں، نہ کہ جبری کوٹہ سسٹم رائج کرکے کسی ایک طبقے میں احساس محرومی اور ردعمل پیداہو۔
٭  خواتین کے لیے لچک دار اوقاتِ کار کی ضرورت: ملا زمت پیشہ خوا تین کی سہولت اور تحفظ کے حوا لے سے جولچک دار قوا نین اور اوقات (Flexible working hours) مو جو د ہیں، ان پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جا ئے، تاکہ جو تعلیم یافتہ خوا تین معا شی عمل میں کردار ادا کررہی ہیں، وہ اپنے گھر اور بالخصوص بچو ں کی نگہداشت کے سا تھ اپنے کا م کو انجام دے سکیں۔
٭  ’گھر سے کام‘ کی سہولت کی فراہمی:’گھر سے کام‘ (Work from home) کا تصور خصو صاً خوا تین کے لیے بہت پُرکشش ہے اور یہ بہت سے ممالک میں را ئج بھی ہے (اس سے مراد یہ ہے کہ بہت سے کام گھر پر ہی کرکے معاشی اور فنی عمل کا حصہ بناجائے)۔ ہمارے ہاں چند اداروں نے اس کو اپنایاہے، لیکن اگر دیگر ادارے بھی اس کو ممکن بنا ئیں، تو خاندان اور گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہونے سے بچ سکیں گے۔
٭  نئی نسل کی تعلیم و تربیت کو ترجیح دینے کی ضرورت:ضرورت ہے کہ نئی نسل کی تعلیم وتربیت کو معاشرے کے ایک عظیم کام کے طور پہ منوایا جائے۔جو اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین چھوٹے بچوں کی پرورش اور نگہداشت اور گھریلوذمہ داریوں کی ادایگی میں مصروف ہیں، ان کے کام کو بھی معاشرے میں ایک لائق تحسین کام کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ان کی فکری اور عملی مدد کرنے کو ترجیح دی جائے۔
٭  حقیقی تصورِ تعلیم کو اُجاگر کرنے کی ضرورت: تعلیم کے اس تصور کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے کہ اعلی تعلیمی ڈگری کا استعمال صرف اچھی ملازمت،اعلیٰ عہدہ یاکوئی بھرپور کاروبار ہی میں ہو سکتا ہے۔اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی معاشی ضروریات بغیر ملازمت کیے پوری ہورہی ہیں، توان کو اپنا وقت، تعلیم اور صلاحیت معاشرے کی تعمیر و ترقی اور بھلائی کے کاموں میں رضاکارانہ صرف کرنا چاہیے۔ ’تعلیم براے روزگار‘ کے تصور سے بالا ہوکرتعلیمی، دعوتی اور سماجی خدمت کے کاموں کا حصہ بننا چاہیے۔ اس حوالے سے ہمارا معاشرہ بہت پیاسا ہے۔ یہاں ایسے افراد کی بہت ضرورت ہے، جو کسی بھی ذاتی مفاداور معاشی فائدے سے بالاتررہ کر قوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے کا م کریں۔
٭  پس ماندگی دُور کرنے کی ضرورت: دیہات میں پس ماندگی دُورکرنے اور فروغِ تعلیم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھانے اور منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
 اگر معاشرے کی اس بدلتی ڈگر اور عدم تناسب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم توازن کا ادرا ک نہ کیا گیا اور اس کے سد باب کی کوشش نہ کی گئی تونہ صرف مرد نقصان میں رہیں گے، بلکہ عورت ہی سب سے زیادہ استحصال کا شکارہوکر رہ جائےگی، اور چند ہی برسوں میں معاشرے میں ترجیحات کاتوازن بگڑ جائے گا۔ایسی صورت حال میں نہ صحت مند معاشرہ پیدا ہوگا اور نہ قوم ترقی کی منازل طے کرسکے گی۔
 اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کومتوازن اور صحت مند معاشرہ منتقل کرنا چاہتے ہیں، اور یقینا ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں، تو پھر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اور اگر ہم کسی ادارے یا کسی گروہ کے ذمہ دار ہیں، تو اس حیثیت میں بھی، مستقبل کے درپیش چیلنجوں کا آج ہی سے ادراک کریں۔ اپنے معاشرے کی ترجیحات اور اقدارکو اُلٹ پلٹ ہونے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ یہ دینی ذمہ داری بھی ہے اور قومی فرض بھی۔