October 24th, 2017 (1439صفر3)

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی عائلی زندگی

 

شیر محمد امینی

رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں ان نقوش کی تلاش و جستجو، جو شب و روزکے لمحات میں بکھرے ہوئے ہیں اور جن کے اتباع کے بغیر کوئی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔ پیغمبر اسلام کی سیرت طیبہ کا ایک اعجازی پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کی حیات مبارکہ کا کوئی کوشہ تشنہ تحقیق نہیں، اس اعتبار سے تمام انبیاء سابقین میں آپ ممتاز اور منفرد نظر آتے ہیں یہاں تک کہ آپ کی خانگی اور عائلی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات تک کتابوں میں درج ہیں۔

کسی بھی انسان کے اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش کی جگہ خود اس کا گھر ہے گھر کے لوگوں صبح و شام اور شب و روزکا سابقہ پڑتا ہے گھر کے ماحول میں انسان اپنا ’’حقیقی مزاج ‘‘چھپا نہیں سکتا، اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے سب سے بہتر اخلاق اس کے ہیں جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ بہتر اخلاق رکھتا ہو۔‘‘

پیغمبراسلام کی خارجی زندگی کی ذمہ داریاں اتنی متنوع اور وسیع تر تھیں کہ ان کے ساتھ اپنے اہل خانہ اور افراد خاندان کے لیے وقت نکالنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا، آج کے زمانے کو دیکھتے ہوئے۔ ایک مشکل ترین بات تھی لیکن حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ازواج مطہرات ہوں یا اولاد، خدام ہوں یا اقربامتعلقین ہوں یا احباب، آپ ہر ایک کے حقوق کی رعایت فرماتے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ اس سے غافل نظر نہیں آتے، ہر آن آپ کو ان کے حقوق کی فکر دامن گیر رہتی، ایسا بھی نہیں کہ آپ اپنے ماتحت افراد کے لیے تند خو اور سخت گیر سر پرست کی حیثیت رکھتے ہوں بلکہ بیویوں کے حق میں ایک محبت کرنے والے شوہر،  اولاد کے حق میں ایک شفیق و مہربان باپ اور خدام کے حق میں ایک فراخ چشم اور علیم و بردبار آقا کی صورت میں آپ کی تصویر ابھرتی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل (ازواج) کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سے زیادہ بہتر ہوں۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا: کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھے وہ حضرات ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہوں۔

پیغمبر اسلامنے جملہ گیارہ شادیاں کیں اور بیک وقت نو بیویاں آپ کے ساتھ تھیں۔ آپ کا معمول تھا کہ جب مدینہ میں ہوتے تو عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج کے پاس جاتے اور ہر ایک کی ضرورت معلوم کرتے اور اس کی تکمیل فرماتے، ازواج کے بین شب باشی کی باری متعین ہوتی، گو آپ پر اس کی پابندی شرعاََ لازم نہیں تھی، لیکن آپ خود پوری سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت حفصہؓ نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہؓ کو ہبہ کردیا ۔ حضور معمول اور باری کے مطابق حضرت حفصہؓ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت عائشہؓ موجود ہیں حضورنے فرمایا: تم کہاں؟ یہ حفصہؓ کی باری ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: یہ تو اللہ کا فضل ہے۔ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ ازواج کے مابین انصاف کا خیال اور اس سلسلے میں عنداللہ جواب دہی کا احساس اتنا شدید تھا کہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو ساتھ لے جاتے۔

آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی، راستے میں بچے کھیلتے ہوئے مل جاتے تو آپ ان کو سلام کرتے، ان کو کاندھے پر بٹھاتے، گود میں لیتے، پیار کرتے، چومتے۔ معلوم ہوا کہ مزاج میں اتنی سختی نہ ہونی چاہیے کہ بچے دیکھتے ہی سہم جائیں اور چھپنے لگیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کسی ضرورت سے حضور کے پاس آیا، آپ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے محسوس کیا آپ کچھ اٹھائے ہوئے ہیں میں نے پوچھا تو آپ نے تھیلی کھولی، اس میں حضرت حسنؓ اور حسینؓ تھے آپ نے فرمایا یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ! ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما اور اس شخص سے بھی جو ان دونوں سے محبت رکھے۔

آپ کی عائلی زندگی بھی اسلام کے اس مزاج و مذاق کی آئینہ دار ہے ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عید الفطر کے موقع سے چند حبشی نوجوان نیزوں سے کھیل رہے تھے، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے دیکھنے کی خواہش کی، آپ آگے کھڑے ہوگئے اور آپ کے مونڈھے اور گردن کے درمیان سے میں کھیل دیکھتی رہی۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ جب رخصت ہو کر مدینہ آئیں تو اس وقت بھی ان کی عمر زیادہ نہ تھیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیوں کا کھیل کھیلا کرتی تھیں، لیکن آپ نے کبھی اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ کبھی کبھی ازواج مطہرات کی موجودگی میں خوش طبعی کی باتیں بھی کرتے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے اور پانی لینے میں چھینا جھپٹی بھی ہوتی، کبھی دوڑ کا مقابلہ بھی ہوتا۔ ایک مرتبہ دوڑ کا مقابلہ ہوا، حضرت عائشہؓ دبلی پتلی تھیں آگے بڑھ گئیں اور حضور پیچھے رہ گئے۔ پھر کچھ زمانے کے بعد یہی مقابلہ ہوا تو حضور نے سبقت حاصل کی۔ حضور نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔

آپ نے آقاؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگو!جو خود کھاؤ، وہی ان (خادموں) کو بھی کھلاؤ، جیسا کپڑا خود استعمال کرو، وہی کپڑا ان کے لیے بھی تیار کرو، وہ تمھارے بھائی ہیں غلام کو بھائی قرار دے کر آپ نے اس دیوار کو منہدم فرمایا جو حاکم اور محکوم کے درمیان کھڑی کردی گئی تھی۔ خادموں کے ساتھ شب و روز اور ہر وقت کا ساتھ ہوتا ہے کوتاہی، لغزش، بھول چوک انسانی فطرت ہے لیکن آپ کے خادم خاص حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ میں نے حضور کی دس سال خدمت کی، لیکن کبھی آپ نے اف تک نہیں کہا۔ اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور جس کام کو میں نہیں کرتا آپ یہ نہیں فرماتے کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ دس سال کی رفاقت کے باوجود آپ نے کبھی ’’اف ‘‘ تک نہیں کہا، یہ تحمل و بردباری اور شفقت کی ایک مثال ہے۔

آپ کا معمول مبارک تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو آپ پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے۔ حضرت اسودؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا رسول اللہ گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلوں زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کا کام بھی کرتے تھے مثلاََ بکری کا دودھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا۔ (زادالمعاد) گھر میں جو کھانا تیارہوتا حاضر کردیا جاتا آپ کی مرغوب اور پسندیدہ شے ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ خاموشی اختیار کرتے، لیکن کھانے میں کوئی عیب نہیں لگاتے، دن کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے، رات میں عشاء کی نماز کے بعد غیر ضروری جاگنے کو بالکل نا پسند کرتے، آپ کا بستر بالکل معمولی ہوتا بسا اوقات چمڑے کا بستر ہوتا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی اور کبھی چمڑا ہوتا آپاسی پر آرام فرماتے۔

ایک کامل اور مکمل انسانی زندگی کی بنیادی شناخت یہ ہے کہ دنیا میں چھوٹے بڑے، حاکم و محکوم، دوست و دشمن، اپنے اور پرائے، امیر وغریب، ہر سطح اور ہر طبقے کے لوگوں سے جہاں اس کے تعلقات روشنی میں ہوں اور لوگوں کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتے ہوں، وہیں اپنی ازواج، خدام، اولاد، متعلقین اور اقربا و رشتے داروں میں وہ محبوب و مقبول ہوں اور ان کے ساتھ تعلق و سلوک کے باب میں بھی اس کی زندگی اسوہ اور مثال ہو۔ اس طور پر دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی زندگی اپنی مثال آپ ہے۔

رسول اللہ نے عائلی زندگی کا جو نقشہ بنایا اور خود اس پر عمل کر کے دکھایا، حقیقت یہ ہے کہ وہ عائلی اور ازدواجی زندگی کے لیے بہترین نمونہ اور ہر طرح کی بے سکونی کا علاج اور اکیسر ہے اور آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے آئینہ میں ہم اپنی گھریلوں زندگی کی صحیح صورت گری کرسکتے ہیں۔

پیغمبرِ اسلام کی عائلی زندگی

شیر محمد امینی

رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں ان نقوش کی تلاش و جستجو، جو شب و روزکے لمحات میں بکھرے ہوئے ہیں اور جن کے اتباع کے بغیر کوئی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔ پیغمبر اسلام کی سیرت طیبہ کا ایک اعجازی پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کی حیات مبارکہ کا کوئی کوشہ تشنہ تحقیق نہیں، اس اعتبار سے تمام انبیاء سابقین میں آپ ممتاز اور منفرد نظر آتے ہیں یہاں تک کہ آپ کی خانگی اور عائلی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات تک کتابوں میں درج ہیں۔

کسی بھی انسان کے اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش کی جگہ خود اس کا گھر ہے گھر کے لوگوں صبح و شام اور شب و روزکا سابقہ پڑتا ہے گھر کے ماحول میں انسان اپنا ’’حقیقی مزاج ‘‘چھپا نہیں سکتا، اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے سب سے بہتر اخلاق اس کے ہیں جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ بہتر اخلاق رکھتا ہو۔‘‘

پیغمبراسلام کی خارجی زندگی کی ذمہ داریاں اتنی متنوع اور وسیع تر تھیں کہ ان کے ساتھ اپنے اہل خانہ اور افراد خاندان کے لیے وقت نکالنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا، آج کے زمانے کو دیکھتے ہوئے۔ ایک مشکل ترین بات تھی لیکن حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ازواج مطہرات ہوں یا اولاد، خدام ہوں یا اقربامتعلقین ہوں یا احباب، آپ ہر ایک کے حقوق کی رعایت فرماتے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ اس سے غافل نظر نہیں آتے، ہر آن آپ کو ان کے حقوق کی فکر دامن گیر رہتی، ایسا بھی نہیں کہ آپ اپنے ماتحت افراد کے لیے تند خو اور سخت گیر سر پرست کی حیثیت رکھتے ہوں بلکہ بیویوں کے حق میں ایک محبت کرنے والے شوہر،  اولاد کے حق میں ایک شفیق و مہربان باپ اور خدام کے حق میں ایک فراخ چشم اور علیم و بردبار آقا کی صورت میں آپ کی تصویر ابھرتی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل (ازواج) کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سے زیادہ بہتر ہوں۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا: کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھے وہ حضرات ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہوں۔

پیغمبر اسلامنے جملہ گیارہ شادیاں کیں اور بیک وقت نو بیویاں آپ کے ساتھ تھیں۔ آپ کا معمول تھا کہ جب مدینہ میں ہوتے تو عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج کے پاس جاتے اور ہر ایک کی ضرورت معلوم کرتے اور اس کی تکمیل فرماتے، ازواج کے بین شب باشی کی باری متعین ہوتی، گو آپ پر اس کی پابندی شرعاََ لازم نہیں تھی، لیکن آپ خود پوری سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت حفصہؓ نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہؓ کو ہبہ کردیا ۔ حضور معمول اور باری کے مطابق حضرت حفصہؓ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت عائشہؓ موجود ہیں حضورنے فرمایا: تم کہاں؟ یہ حفصہؓ کی باری ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: یہ تو اللہ کا فضل ہے۔ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ ازواج کے مابین انصاف کا خیال اور اس سلسلے میں عنداللہ جواب دہی کا احساس اتنا شدید تھا کہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو ساتھ لے جاتے۔

آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی، راستے میں بچے کھیلتے ہوئے مل جاتے تو آپ ان کو سلام کرتے، ان کو کاندھے پر بٹھاتے، گود میں لیتے، پیار کرتے، چومتے۔ معلوم ہوا کہ مزاج میں اتنی سختی نہ ہونی چاہیے کہ بچے دیکھتے ہی سہم جائیں اور چھپنے لگیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کسی ضرورت سے حضور کے پاس آیا، آپ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے محسوس کیا آپ کچھ اٹھائے ہوئے ہیں میں نے پوچھا تو آپ نے تھیلی کھولی، اس میں حضرت حسنؓ اور حسینؓ تھے آپ نے فرمایا یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ! ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما اور اس شخص سے بھی جو ان دونوں سے محبت رکھے۔

آپ کی عائلی زندگی بھی اسلام کے اس مزاج و مذاق کی آئینہ دار ہے ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عید الفطر کے موقع سے چند حبشی نوجوان نیزوں سے کھیل رہے تھے، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے دیکھنے کی خواہش کی، آپ آگے کھڑے ہوگئے اور آپ کے مونڈھے اور گردن کے درمیان سے میں کھیل دیکھتی رہی۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ جب رخصت ہو کر مدینہ آئیں تو اس وقت بھی ان کی عمر زیادہ نہ تھیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیوں کا کھیل کھیلا کرتی تھیں، لیکن آپ نے کبھی اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ کبھی کبھی ازواج مطہرات کی موجودگی میں خوش طبعی کی باتیں بھی کرتے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے اور پانی لینے میں چھینا جھپٹی بھی ہوتی، کبھی دوڑ کا مقابلہ بھی ہوتا۔ ایک مرتبہ دوڑ کا مقابلہ ہوا، حضرت عائشہؓ دبلی پتلی تھیں آگے بڑھ گئیں اور حضور پیچھے رہ گئے۔ پھر کچھ زمانے کے بعد یہی مقابلہ ہوا تو حضور نے سبقت حاصل کی۔ حضور نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔

آپ نے آقاؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگو!جو خود کھاؤ، وہی ان (خادموں) کو بھی کھلاؤ، جیسا کپڑا خود استعمال کرو، وہی کپڑا ان کے لیے بھی تیار کرو، وہ تمھارے بھائی ہیں غلام کو بھائی قرار دے کر آپ نے اس دیوار کو منہدم فرمایا جو حاکم اور محکوم کے درمیان کھڑی کردی گئی تھی۔ خادموں کے ساتھ شب و روز اور ہر وقت کا ساتھ ہوتا ہے کوتاہی، لغزش، بھول چوک انسانی فطرت ہے لیکن آپ کے خادم خاص حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ میں نے حضور کی دس سال خدمت کی، لیکن کبھی آپ نے اف تک نہیں کہا۔ اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور جس کام کو میں نہیں کرتا آپ یہ نہیں فرماتے کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ دس سال کی رفاقت کے باوجود آپ نے کبھی ’’اف ‘‘ تک نہیں کہا، یہ تحمل و بردباری اور شفقت کی ایک مثال ہے۔

آپ کا معمول مبارک تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو آپ پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے۔ حضرت اسودؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا رسول اللہ گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلوں زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کا کام بھی کرتے تھے مثلاََ بکری کا دودھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا۔ (زادالمعاد) گھر میں جو کھانا تیارہوتا حاضر کردیا جاتا آپ کی مرغوب اور پسندیدہ شے ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ خاموشی اختیار کرتے، لیکن کھانے میں کوئی عیب نہیں لگاتے، دن کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے، رات میں عشاء کی نماز کے بعد غیر ضروری جاگنے کو بالکل نا پسند کرتے، آپ کا بستر بالکل معمولی ہوتا بسا اوقات چمڑے کا بستر ہوتا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی اور کبھی چمڑا ہوتا آپاسی پر آرام فرماتے۔

ایک کامل اور مکمل انسانی زندگی کی بنیادی شناخت یہ ہے کہ دنیا میں چھوٹے بڑے، حاکم و محکوم، دوست و دشمن، اپنے اور پرائے، امیر وغریب، ہر سطح اور ہر طبقے کے لوگوں سے جہاں اس کے تعلقات روشنی میں ہوں اور لوگوں کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتے ہوں، وہیں اپنی ازواج، خدام، اولاد، متعلقین اور اقربا و رشتے داروں میں وہ محبوب و مقبول ہوں اور ان کے ساتھ تعلق و سلوک کے باب میں بھی اس کی زندگی اسوہ اور مثال ہو۔ اس طور پر دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی زندگی اپنی مثال آپ ہے۔

رسول اللہ نے عائلی زندگی کا جو نقشہ بنایا اور خود اس پر عمل کر کے دکھایا، حقیقت یہ ہے کہ وہ عائلی اور ازدواجی زندگی کے لیے بہترین نمونہ اور ہر طرح کی بے سکونی کا علاج اور اکیسر ہے اور آپ کی حیات طیبہ کے آئینہ میں ہم اپنی گھریلوں زندگی کی صحیح صورت گری کرسکتے ہیں۔