مہذب حیوانیت | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 19th, 2018 (1439ذو الحجة7)

مہذب حیوانیت

 

بینا حسین خالدی ایڈووکیٹ


عورت کے حوالے سے جدید تہذیب کے دو ستون ہیں، ایک مکمل جنسی مساوات اور دوسری مکمل جنسی آزادی۔ مکمل جنسی مساوات تو دیوانے کا ایک ایسا خواب ہے جو آج تک نہ کبھی شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور نہ کبھی آئندہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ فطرت کے خلاف احمقانہ بغاوت ہے، کوئی بھی عورت سر کے بال کٹوانے، مردوں کا سا لباس زیب تن کرنے اور مردوں کے سے اعمال اختیار کرلینے یا مردانہ پیشوں میں اپنا وقت اور قوت کھپانے سے کبھی مرد نہیں بن سکتی۔ کیوں کہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ نہ وہ اپنی رضا اور مرضی سے عورت پیدا ہوئی ہے اور نہ اپنی مرضی سے ان تمام نسوانی اور حیاتیاتی امور سے متصف ہوئی ہے بلکہ کسی اور پیدا کرنے اور پرورش کرنے والی قوت نے اسے عورت پیدا کیا ہے، وہ عورت ہی رہے گی اور بطور عورت ہی مرے گی۔ دنیا کی کوئی سائنس اسے بدل نہیں سکتی، اگر وہ مصنوعی طور پر مرد بننے کی کوشش بھی کرے تو اس مصنوعی مرد کو سوائے اس کے کچھ نہیں ملتا کہ وہ اپنی نسوانیت اور اس کے جوہر سے محروم ہوجاتی ہے۔ مکمل جنسی مساوات (یعنی مردوں کے برابر حقوق) کا مطالبہ اور دعویٰ کرکے وہ فطرت کے ساتھ گھٹیا مذاق کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں اپنے وجود کو مضحکہ خیز اور مسخرے پن کا نمونہ بنالیتی ہے۔ جہاں تک مکمل جنسی آزادی کا تعلق ہے اس کا تجربہ اہل یورپ خصوصاً فرانس اور امریکا کے لوگ کرچکے ہیں اور اس فلسفے کا نتیجہ نہ صرف عورت کی تباہی بلکہ انسانیت کی بربادی کی صورت میں بارہا تاریخ عالم میں بھی ظاہر ہوتا رہا ہے اور موجودہ دور میں بھی سائنسی ترقی کی اوج پر پہنچنے والے معاشرے اپنی تہذیب و معاشرت میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔
آج پاکستانی معاشرے میں بھی خواتین جنسی مساوات اور جنسی آزادی کا مطالبہ دہرا رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں کچھ الٹرا ماڈرن خواتین نے انہی نظریات کے حق میں مظاہرہ کیا۔ اگرچہ پاکستان میں حقوق نسواں، عورتوں پر تشدد کے خاتمے اور عورتوں کی معاشی خودمختاری کے حق میں بہت سی تنظیمیں کام کررہی ہیں جس کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے ہیں لیکن جنسی مساوات یا جنسی آزادی کا مطالبہ یا نظریہ افراط و تفریط اور انتہا پسندی پر مبنی رویہ ہے جس کے منفی اثرات گھر، خاندان اور تہذیب و تمدن کی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتے۔ پاکستان میں تعلیم اور معیشت کے میدان میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ برسر روزگار بنانے کے لیے نئے نئے تجارتی ادارے اور شعبے قائم کیے جارہے ہیں، سرکاری ملازمتوں میں بھی ان کے لیے مخصوص کوٹے مقرر کیے جاتے ہیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ آسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن، انجینئرنگ، ادویات سازی، یہاں تک کہ آرمی اور ہوا بازی جیسے شعبوں میں بھی خواتین کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو آزمائیں۔ جن قبائلی معاشروں میں خواتین جبر و استیصال کا شکار ہیں اس کے تدارک کے لیے بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ ان تمام مثبت تبدیلیوں کے باوجود اسلام آباد کی سڑکوں پر خواتین کا مذکورہ مظاہرے کا مقصد جنسی مساوات اور جنسی آزادی کے حصول کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ ان کے ہاتھوں میں اُٹھائے ہوئے پلے کارڈز پر لکھی تحریریں بھی اسی نظریے کی عکاسی کررہی تھیں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا سلوگن دکھا کر یہ خواتین کیا کہنا چاہتی تھیں؟ اس مظاہرے کا مقصد کسی ظلم کا ازالہ یا کسی مظلوم کی حمایت نہیں تھا، حلیے بشرے سے خوش باش، بولڈ اور ماڈرن نظر آنے والی یہ خواتین کسی طور بھی مظلوم، مقہور، مقید یا مردوں کے ظلم کا شکار نظر نہیں آتی تھیں۔ ایک سلوگن تھا کہ ’’اپنا کھانا خود گرم کرو میں سخت جان ہوں‘‘۔ بھلا کھانا گرم کرنا بھی کیا اتنا مشکل کام ہے کہ اس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کی ضرورت پیش آئی جب کہ آج کل تو مائیکرو ویو اوون نے مردوں اور عورتوں دونوں ہی کے لیے یہ کام بے حد آسان بنادیا ہے اور اب تو روٹی پکانے کی مشین بھی باآسانی دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ گھروں میں کھانا پکانے کا رواج بھی اب تو ختم ہوتا جارہا ہے، فاسٹ فوڈ کی بے شمار ورائٹیزہر جگہ پر دستیاب ہیں اور ان جدید کھانوں کو تیار کرنے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں۔
’’چادر چاردیواری۔۔۔ گلی سڑی لاش کو مبارک‘‘ اس سلوگن کا مطلب بھی گھر اور پردے سے آزادی کا مطالبہ ہے۔ اسلام آباد میں خال خال خواتین ہی پردے اور حجاب میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ فیصل مسجد میں سیر کے لیے آئی ہوئی خواتین کو جسم کی نمائش کی مکمل آزادی ہوتی ہے مسجد کا تقدس بھی ان کی اس آزادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ تنگ اور باریک لباس کے ساتھ ننگا سر لیے مسجد میں سیلفیاں اور تصویریں بنانے پر کسی طرف سے کوئی قدغن نہیں لگایا جاتا۔ اسلام آباد جیسے لبرل علاقے میں خواتین تو پہلے ہی ہر طرح کی آزادی سے مستفید ہورہی ہیں پھر کون سی آزادی باقی رہ جاتی ہے جس کے حصول کے لیے سڑکوں پر آکر مطالبے کرنے کا ’’تکلف‘‘ کیا گیا؟۔ پلے کارڈز پر لکھے گئے سولگنز کسی اشتہاری کمپنی سے مستعار لیے ہوئے لگ رہے تھے۔
جہانگیر کی روح تو خواتین کا یہ متذکرہ مظاہرہ دیکھ کر خوشی سے جھوم رہی ہوگی۔ ان کے جانے کے بعد شاید خواتین اپنی آزادی کے معاملے میں عدم تحفظ کا شکار ہوگئی ہیں کیوں کہ ان کی ایسی بے جا آزادی کو تحفظ دینے والی موم بتی مافیا کی لیڈر اب اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو للکارنے کے لیے اس دنیا میں نہیں رہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگا کر خواتین کے جنسی مساوات اور جنسی آزادی کے حق پر بہت بڑی ضرب لگائی تھی۔ ’’چاہے جانا‘‘ جس طرح عورتیں اپنا سب سے بڑا حق سمجھتی ہیں اُسی طرح وہ یہ بھی ضروری سمجھتی ہیں کہ اپنی چاہتوں کی تشہیر کا بھی انہیں خوب خوب موقع ملے ورنہ ان کی ساتھی خواتین طعنہ ماریں گی کہ ’’تمہیں تو کوئی چاہتا ہی نہیں‘‘ اپنی ہمجولیوں (ان کے نزدیک) میں یہ اُن کی عزت کا سوال ہے، لہٰذا وہ احتجاجاً یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ جج کون ہوتے ہیں، ہمارے اس حق پر قدغن لگانے والے۔ عاصمہ جہانگیر نے تو پہلے ہی فرما دیا تھا کہ ایسے ججوں کو تو مسجد کا پیش امام ہونا چاہیے‘‘۔ لہٰذا ان کی جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے خواتین نے مذکورہ مظاہرے میں اپنے لبرل اور بولڈ ہونے کا کھل کر اظہار کیا۔ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا سلوگن تو اپنے اندر جنسی آزادی کا مطالبہ لیے ہوئے تھا ہی لیکن ’’چادر چاردیواری، گلی سڑی لاش کو مبارک‘‘ کا نعرہ لگا کر اُن بہت سی باپردہ اور گھریلو خواتین کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے جو پردے کو اپنی حیا کے تحفظ کا ضامن اور گھر گھرہستی کو اپنی زندگی کا عظیم مقصد قرار دیتی ہیں اور اپنا حسن، جوانی اور اپنی خواہشات کو اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت میں قربان کردیتی ہیں۔ مذکورہ مظاہرے میں شامل خواتین کو بھی ایسے نعرے لگانے کے قابل بنانے والی ضرور ان کی وہ ماں ہے جس نے اپنا دن رات کا سُکھ قربان کرکے اپنی بیٹی کو پالا پوسا اور اسے اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے بڑھاپے اور بیماری کے باوجود آج تک گھر کے کاموں میں اپنی بچی کچھی توانائیاں کھپا رہی ہوگی۔ یہ سلوگن بلند کرکے یقیناًان لبرل خواتین نے ایسی عظیم ماؤں کو گالی دی ہے۔ لبرل ازم کے نظریات تو یہ سکھاتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے عقیدے اور اپنے نظریات کے تحت زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے، اگر ایک عورت چادر چار دیواری کے نظریات کے تحت حیا اور گھر گھرہستی کو اپنا مقصد حیات ٹھیراتی ہے تو کسی دوسرے یا مخالف نظریات کے حامل افراد کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر حیا کی چادر میں لپٹی عورت کو ’’گلی سڑی‘‘ لاش کہہ کر اُس کی تذلیل کرے۔ چادر چاردیواری کے نظریے کو فرسودہ اور جنسی آزادی کے نظریے کو جدید ثابت کرنے کی یہ بھونڈی صورت اختیار کرکے لبرل ازم کی حامی ان خواتین نے اپنے آپ کو پورے پاکستانی معاشرے اور مردوں کی نظر میں اپنے آپ ہی گرالیا ہے۔

بولڈنیس اور بہادری تو یہ ہے کہ عورت اپنے دور کے فتنوں بشمول بے پردگی، عریانی، فحاشی اور رائج الوقت منفی نظریات کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائے، جس بے حیائی اور بے پردگی کو اس وقت ساری دنیا مل کر جدیدیت اور کانفیڈنس ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے ایسی برائی کو اچھائی ماننے کے بجائے برائی کو برائی ثابت کرنے کے لیے ڈٹ جائے۔ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا سلوگن اُٹھا کر جو بہن بیٹی سڑک پر کھڑی ہے وہ اپنے گھر کے مردوں کی غیرت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ جنسی مساوات اور جنسی آزادی کے لیے عورتوں کی پکار اور بلند بانگ دعوے صرف مردوں کے مردانہ پن کے زوال کی علامت ہیں۔ یہ تو صرف پاکستانی مردوں کے زوال اور انحطاط کے ضمنی نتائج ہیں، تاریخ عالم میں ہمیشہ مہذب قوموں کے زوال کی یہی علامت رہی ہے۔ یہ فطرت کا الارم ہوتا ہے۔ یونان میں ایسا ہوا، روم میں بھی یہی ہوا اور انقلاب سے پہلے فرانس میں بھی یہی ہوا۔ اور آج بھی یورپ، امریکا اور دوسرے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے جنسی و تہذیبی حالات جس منزل تک پہنچ گئے ہیں اس سے یہ قوی شبہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ عالم پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اور جدید انسان ایسی منزل کی طرف جارہا ہے جہاں قبل از تاریخ کا وحشی انسان رہتا تھا۔ یورپ اور دوسرے ممالک میں ’’جنسی آزادی‘‘ کی تحریک نے جو عملی صورتیں اختیار کر رکھی ہیں وہ عالمگیر تباہی اور بربادی کی طرف لے جارہی ہیں۔ اب شادی کے ذریعے مرد اور عورت کا مضبوط تعلق قصہ پارینہ بنتا جارہا ہے اور رسمی شادی کے باوجود ’’جنسی آزادی‘‘ کے پردے میں جو گل کھلائے جارہے ہیں وہ مغربی اور مشرقی دانشوروں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب شادی اور مناکحت کا صرف تصور ہی رہ گیا ہے، عملی زندگی پر اس کی گرفت اس قدر ڈھیلی پڑچکی ہے کہ مرد اور عورت دونوں ’’مہذب حیوانیت‘‘ کے زندہ پیکر بن چکے ہیں۔ آج بھی سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ مرد و عورت کا مضبوط تعلق ایک اجتماعی زندگی کی بقا کے لیے کس طرح قائم کیا جائے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل نہ سائنس اور فلسفے کے پاس ہے اور نہ ہی خودساختہ آئین و قوانین میں ہے بلکہ اقوام عالم کے لیے ایک موقع موجود ہے کہ جہاں انہوں نے انسان کے وضع کردہ بہت سے نظام آزمائے ہیں۔ اب ایک دفعہ افراط و تفریط سے پاک اور اعتدال پسند اسلام کو بھی آزما کر دیکھیں۔ اسلام سے مراد اس دورے کے وہ مسلمان نہیں ہیں جو اخلاقی اور عملی طور پر زوال پزیری اور انحطاط کے مارے ہوئے وہ لوگ ہیں جو کہلوانے کی حد تک مسلمان ہیں بلکہ اسلام سے مراد وہ نظام حیات ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے وہ کسی کی مثال کو سامنے رکھے بغیر خود اس نسخہ کیمیا کو آزمائیں۔ اسی حوالے سے پاکستان کی مسلمان عورت کے لیے بھی قدرت کی طرف سے یہ آخری موقع ہے کہ وہ غیروں سے بھیک میں مانگی ہوئی تہذیب جدید کے طلسم سے نکل جائے، اسی میں ان کی، ان کے خاندانوں کی اور پورے ملک کی بھلائی ہے۔