June 20th, 2018 (1439شوال6)

گوشہ عافیت: ایک منفرد ادارہ ایک محفوظ پناہ گاہ

 

جہاں آراء مظفر

بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی چادر، چار دیواری، حیا حجاب، حرم احترام، تقدس و پاکیزگی جیسے جذبات دل میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ مسلمان عورت کے لیے جس کو مستور کہا گیا ستر یعنی مکمل لباس اور ایسا گھر جہاں سب سے پہلے اسے تحفظ ملے وہ ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہ سکے۔ اپنے بچوں کی صحیح پرورش کرسکے ایک اچھی نسل تیار کرسکے۔ لیکن عورت جب گھر سے باہر نکلے یا نکالی جائے تو نہ صرف قدرت کا قانون ٹوٹتا ہے بلکہ سکون ختم ہوجاتا ہے۔ خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عورت کا ہوتا ہے۔ بے شک بچیاں تعلیم کے لیے، خواتین اگر ضرورت ہو تو ملازمت کے لیے نکل سکتی ہیں۔ لیکن عورت کے لیے سب سے محفوظ جگہ جہاں اس کو سکون اور عزت ملتی ہے اس کا اپنا گھر ہوتا ہے۔
اب میں اپنے موضوع پر آتی ہوں کہ گوشہ عافیت بنانے کی ضرورت اور اس کی افادیت مادہ پرستی اور مغربی تہذیب نے ہمیں اور کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو۔ پچھلے پچیس تیس سال میں خاندانی یک جہتی، آپس کی محبت، شرم و حیا، لحاظ، خونی رشتوں کی پاسداری، بزرگوں کا احترام اور خواتین کا لحاظ سب ختم کردیا۔ جب مرد بے لحاظ ہوا تو عورت بے باک ہوگئی۔ وہی بیوی جو ساس نندوں کی سنتی تھی میاں کی فرمانبردار تھی ایک گھر میں صبر و شکر سے رہتی تھی اس کو الگ گھر اور نیا سیٹ اپ چاہیے۔ مردوں کو دفتر میں زیادہ خوب صورت لڑکیاں آنکھیں سینکنے کے لیے ملنے لگیں تو بیوی میں بہت سی کمی اور خامی نظر آنے لگی۔ صبر کی کمی، سادگی، قناعت پسندی اور اللہ پر یقین نہ ہونے کی وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں۔ اب عورت گھر سے نکلتی ہے یا نکالی جاتی ہے تو کہاں جائے۔ وہ چھت جس کے سائے تلے وہ خاندان کے ساتھ تھی وہ نہ رہی تو کچھ نہ رہا۔ باہر کی دنیا اپنی ہولناکیوں کے ساتھ جہاں بھوکے بھیڑیے چار سو موجود ہیں بھروسا کریں تو کس پر؟۔ اماں ابا کا انتقال ہوگیا بھابی رکھنے کو تیار نہیں، بڑی عمر کی نند کہاں جانے عمریں گزر گئی ہیں۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بچیوں کے سر میں چاندی چمکنے لگی، مزاج میں سختی آگئی، یتیم بنیں بیوہ بنیں، یہ سب کہاں جائیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے نہ اسلامی نظام دیا نہ بے سہاروں کے لیے شیلٹر ہوم جہاں تحفظ مل سکے، عافیت مل سکے۔ لہٰذا گوشہ عافیت کا قیام 2000ء عمل میں آیا۔ خواتین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے اس کی ذمے داری قبول کی، مخیر اور خدا ترس بھائیوں نے مدد کی اور الحمدللہ گوشہ عافیت اپنی منزل طے کررہا ہے۔ نہ حکومت کی گرانٹ ہے نہ بیرونی امداد، اللہ ہی پناہ دیتا ہے، اور وہی پورا کرتا ہے۔ گوشہ عافیت کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں، ہر عمر کی خواتین بچیاں جب اپنے خاندان سے چھوٹ کے یا اپنوں سے روٹھ کے آتی ہیں تو بہت جذباتی ہوتی ہیں، ان کو کونسلنگ کے ذریعے cooldown کیا جاتا ہے۔ دل بہلانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ گھر کی اہمیت اور افادیت کو اُجاگر کیا جاتا ہے، کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اسی دن چلی جائیں۔ دوسری پارٹی کو بھی بلایا جاتا ہے، کوشش کی جاتی ہے کہ گھر نا ٹوٹے، بیش تر خواتین پہلے دن چلی جاتی ہیں اور جن کا گھر ٹوٹ چکا ہو ان کا مسکن یہ گوشہ عافیت ہے جیسا نام سے ظاہر ہے۔ خیروعافیت کی ضمانت، عزت و عفت کا محفوظ آنچل جس کے سایہ تلے ہزاروں خواتین اور بچیاں اب تک پناہ لے چکی ہیں۔ یہ گوشہ عافیت ہے کہ؟ آئیے جھانک کے دیکھیں اس گوشہ عافیت میں کیا ہورہا ہے۔
دینی و دنیاوی تعلیم بچیوں اور خواتین کے لیے دینی و دنیاوی تعلیم لازمی ہے۔ بچے صبح اسکول جاتے ہیں، ہماری بچیاں پرائمری، میٹرک اور بی اے تک تعلیم حاصل کرچکی ہیں، اچھا رشتہ آتا ہے، دیکھ بھال کے ضروریات زندگی کے اسباب کے اور دعاؤں کے ساتھ بچی رخصت کردی جاتی ہے، اب یہ اس کا میکہ ہے گاہے گاہے آتی ہے۔ رخصتی سے پہلے اپنے ہی انڈسٹریل ہوم سے خوب صورت کپڑے سینے سیکھتی ہے، اس حد تک ماہر ہوجاتی ہے کہ کپڑے سی کر اپنی روزی کماسکیں۔ کھانا پکانا سیکھتی ہے چوں کہ گوشہ عافیت میں کیٹرنگ بھی ہوتی ہے لہٰذا ہماری بچیاں بڑی کیٹرنگ بھی کرلیتی ہیں، ضرورت پڑنے پر میاں کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں، یہاں سے گئی ہوئی کئی لڑکیاں اپنے میاں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔ اس طرح یہ جو خواتین مل کر بیٹھی ہیں یہ تربیتی کلاس ہے، گفتگو کا طریقہ، اُٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ، پہننے اوڑھنے کے ڈھنگ پر کافی دھیان دیا جاتا ہے۔ ہماری بچیاں دیدہ زیب لباس میں ملبوس رہتی ہیں، پاکیزہ اور خوش ذائقہ بناتی اور کھاتی ہیں۔ صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، بڑی عمر کی خواتین کی ضروریات کا نہ صرف خیال رکھتے ہیں بلکہ ان کی دلداری اور خدمت پوری تندہی سے کی جاتی ہے، اس گھر میں نانیاں اور دادی بھی موجود ہیں جو اپنی محبت، چاہت اور تجربہ فیاضی سے بانٹتی ہیں۔ یہ ایک محفوظ، مضبوط، محبت اور چاہتوں کا گہوارہ۔ کبھی آئیے خود دیکھیے۔