اُسوۂ صحابیاتِ رسولؐ ہر دور کے لئے قابلِ تقلید | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 15th, 2018 (1439ذو الحجة3)

اُسوۂ صحابیاتِ رسولؐ ہر دور کے لئے قابلِ تقلید

 

افشاں نوید


اسے بدقسمتی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اصحابِِ رسولؐ ہوں یا صحابیاتِ رسولؐ… ان سے ہمارا رشتہ عقیدت اور اکرام تک محدود ہوگیا ہے۔ ہم میں سے کتنوں نے ان عظیم روشن زندگیوں کا مطالعہ اس لیے کیا ہوگا کہ ہم جان سکیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی اصل بنیادیں کیا ہیں؟ راہِ حق میں کون کون سی آزمائشیں پیش آتی ہیں اور اہلِ ایمان کیسے استقامت کا ثبوت پیش کرتے ہیں؟ ایمان کی گواہی کب معتبر ہوتی ہے اور اس کے لیے اخلاق وکردار کا کتنا اعلیٰ نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے؟
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپؐ پر لاکھوں درود و سلام، اور ہم جیسے ہزاروں بار آپؐ پر قربان۔ آپؐ کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ آپؐ خود تو صاحبِ خلقِ عظیم تھے ہی، لیکن جو آپؐ سے قریب ہوا اُس کی زندگی بھی اخلاقی انقلاب سے دوچار ہوگئی۔ آپؐ نے دنیا کو عظیم انسان تیار کرکے دیے جنہوں نے تاریخِ انسانی میں وہ عظیم انقلاب پیدا کیا جس کی مثال قیامت تک پیش نہیں کی جاسکتی۔
ان شخصیات کی قدروقیمت کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں اُس سماج کا لازمی تجزیہ کرنا ہوگا جہاں ان کی سیرت سازی کی گئی۔ عرب کا وہ جہالت میں ڈوبا ہوا معاشرہ جہاں اخلاقی برائیاں اور بے حیائی اتنی عروج پر تھی جس کے لیے اتنی ہی مثالیں کافی ہیں کہ کعبۃ اللہ کا طواف برہنہ کیا جاتا، بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا، بات بات پر تلواریں نیام سے باہر آجاتیں۔ اس پراگندہ تہذیب وتمدن میں ایسی شخصیات جو ایمان لاتے ہی اس ماحول میں اپنی بلند کرداری کے باعث بالکل الگ پہچانی جائیں، یقینا یہ تاریخِ انسانی کا بہت بڑا معجزہ ہے۔
اصحاب ِرسولؐ، صحابیات ِرسولؐ، تابعین اور تبع تابعین تاریخ کی کتابوں میں اپنے روشن اسوے کے ساتھ آج بھی زندہ ہیں۔ اس گھٹن زدہ فضا میں آج بھی ان کی زندگیاں ہوا کا تازہ جھونکا ہیں۔ لیکن شومئی قسمت کہ ہم نے تو یادِ رسولؐ کے لیے بھی استقبالِ رمضان، یوم الحج، عید کی طرح سال میں ایک ربیع الاول کا مہینہ مختص کر رکھا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر سیرت کے جلسے، میلاد کی محفلیں، بڑے بڑے پروگرام کرکے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے حبّ رسولؐ کے تقاضے پورے کردیے…!!
صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کے لیے تو ہم نے ملکی سطح پر سال میں کوئی دن بھی مختص نہیں کیا، حالانکہ دن منعقد کرکے بھی کب ان کا حق ادا کرسکتے ہیں! نہ یہ طریقہ ان عظیم ہستیوں کے شایانِ شان ہے۔ یہ مطالعہ تو ہماری زندگی کا دائمی نصاب ہونا چاہیے۔ ایک مستقل موضوع، جس پر بار بار مختلف حوالوں سے بات کی جائے، ان کی سیرتوں کی روشنی میں اپنے سماج کا تجزیہ کیا جائے۔
آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے ہر خاندان میں خدیجہ، فاطمہ، عائشہ، حفصہ، زینب، سمیہ وغیرہ نام بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ناموں کی یہ بازگشت بھی ہمیں مجبور نہیں کرتی کہ پلٹ کر دیکھیں تو سہی کہ ان کے کردار کی عظمت کس چیز میں پوشیدہ تھی؟ ہم اپنی اولادوں کو اسم بامسمیٰ بنانے کی کس درجے میں کوشش کرتے ہیں؟ کیا محض نام رکھ لینے سے وہ صفات منعکس ہوسکتی ہیں جن صفات کی وجہ سے ان ناموں کی عظمت ہمارے دلوں میں پنہاں ہے؟
صحابیات ِرسولؐ کی زندگیوں کے اوراق پلٹیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ عفت واخلاق کا بہترین نمونہ ہیں تو دوسری طرف جرأت واستقامت کی لازوال مثال۔ ایک طرف وہ بہترین خاتونِ خانہ ہیں جس نے صبر وشکر کی ردا اوڑھی ہوئی ہے، تو دوسری طرف میدانِ جہاد میں مردوں کے شانہ بشانہ حقِ جہاد ادا کررہی ہیں۔ ایک طرف خود دین کی خاطر ہجرت کی صعوبتیں برداشت کررہی ہیں تو دوسری طرف اپنے جگر گوشوں کو میدانِ جہاد کی طرف روانہ کرکے ان کی شہادت کی خبر پاکر سجدۂ شکر ادا کررہی ہیں۔ ایک طرف راتوں کو اٹھ اٹھ کر عبادت میں مصروف ہیں تو دوسری طرف سارا مال یتیموں اور بیوائوں پر خرچ کررہی ہیں اور ’’اُم المساکین‘‘ کا لقب پارہی ہیں۔
آج اکیسویں صدی میں ہماری نسلیں ’’رول ماڈل‘‘ کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں۔ ماہرینِ سماجیات و نفسیات بے بس ہیں کہ بڑھتے ہوئے اخلاقی انحطاط کو کیسے روکا جائے! اس کے آگے بند باندھنے کی سب تدبیریں ناکام ہورہی ہیں۔ ایسے میں نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اپنی اصل بنیادوں کی طرف پلٹیں۔ اسلامی انقلاب جس نے سیاسی انقلاب کی راہ ہموار کی تھی اور ایک صدی سے بھی کم عرصے میں اسلام دنیا کی سپر پاور بن گیا تھا، وہ عظیم شخصیات جو اس انقلاب کی روحِ رواں تھیں آج بھی اجالوں کی پیامبر ہیں۔ ہمارے غم کے اندھیروں کا علاج اسی روشنی کی طرف رجوع میں مضمر ہے۔
آئیے ازواجِ مطہراتؓ کی صحبت اختیار کرتے ہیں۔ جس ہستی کی تعریف خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں اس کو پھر کس تعریف کی ضرورت باقی رہتی ہے! حضرت خدیجہؓ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے بہتر کوئی بیوی نہیں ملی، وہ اُس وقت ایمان لائیں جب ساری قوم کفر میں مبتلا تھی، انھوں نے اُس وقت میری تصدیق کی جب سب مجھے جھٹلا رہے تھے، انھوں نے اُس وقت اپنا مال مجھ پر قربان کیا جب دوسروں نے مجھ سے ہاتھ کھینچ لیا، اور اللہ نے ان سے مجھے اولاد عطا فرمائی۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے پچیس برس حضرت خدیجہؓ کے ساتھ گزارے، انؓ کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہ کیا۔ حضرت خدیجہؓ جن کی تجارت کی سرحدیں دوسرے ملکوں تک پھیلی ہوئی تھیں، انھوں نے کون کون سے روح فرسا مصائب حق کی راہ میں برداشت نہیں کیے! یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور جانثاری کا حق ادا کرتے ہوئے تین برس تک شعب ابی طالب کی سختیاں اور فاقے برداشت کیے۔ انھوں نے اپنی ساری دولت اسلام کے لیے وقف کردی۔ انتہائی صاحبِ ثروت خاندان سے تعلق رکھنے والی بی بی خدیجہؓ جو خود بھی قریش کی مالدار خاتون تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام خادموں سے کرانے کے بجائے اپنے ہاتھ سے کرنا عبادت سمجھتیں، امورِ خانہ داری کو انتہائی سلیقے اور مہارت سے نبھاتی تھیں۔
ایک طرف حضرت خدیجہؓ وفادار تھیں، تو دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قدر شناس تھے۔ حضرت خدیجہؓ کی رحلت کے بعد بھی ان کی خوبیوں کا تذکرہ فرماتے، ان کی سہیلیوں کا اکرام کرتے اور ان کے گھر تحائف بھیجتے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی اولادوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ امت کا سرمایہ قرار پائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کے بارے میں بہت کم روایات ہم تک پہنچتی ہیں، اس لیے کہ صحابہ کرامؓ کی ساری توجہ کا مرکز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ وہ اپنے مقام و منصب کو پہچانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اب قیامت تک آپؐ ہی کی تعلیمات کو باقی رہنا ہے، لہٰذا آپؐ کا کوئی قول، فعل اور سنت امت سے مخفی نہ رہ جائے۔ اس لیے آپؐ کی کہی ہوئی اور عمل کی ہوئی ہر ہر بات کو وہ انتہائی ذمے داری سے دوسروں تک پہنچاتے اور اس کی حفاظت کا اہتمام کرتے۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کی جو چند ایک روایات محفوظ رہ سکیں، وہ ان کی پوری پاکیزہ زندگی کی غمازی کرتی ہیں، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری زوجہ محترمہ حضرت سودہؓ بنتِ زمعہ جن کو ہجرتِ مدینہ کا شرف حاصل ہوا، کے بارے میں روایات ہیں کہ قیام اللیل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھنٹوں کھڑی رہتیں۔ ایک مرتبہ ایسے ہی طویل قیام کے بعد ازراہِ تفنن فرمایا: ’’مجھے تو رکوع میں محسوس ہوا کہ میری نکسیر ہی پھوٹ جائے گی تو میں نے ناک پر اپنا ہاتھ رکھ لیا‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس بات سے خوب محظوظ ہوئے۔ حضرت عائشہؓ حضرت سودہؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ’’عورتوں میں سوکن ہونے کی وجہ سے جو جذبۂ رقابت ہوتا ہے اس سے ایک ہی عورت میں نے خالی دیکھی تھی اور وہ حضرت سودہؓ بنتِ زمعہ تھیں۔‘‘
ان کی فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جب خلافتِ راشدہ کے دور میں انہیں بھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ وظائف ملنے لگے تو اس میں سے بیشتر رقم حاجت مندوں میں بانٹ دیتی تھیں۔ خود دستکاری کرتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی اس کو راہِ خدا میں خرچ کردیتیں۔ ان کی زندگی تسلیم و رضا کا مظہر تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس معاشرے میں مبعوث فرمایا گیا وہ امییّن (ناخواندہ) لوگوں کا معاشرہ تھا۔ لیکن وہاں علم وعرفان کا سورج طلوع ہوا تو مرد تو مرد، عورتیں بھی زیورِ تعلیم سے ایسے آراستہ ہوئیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا علمی مقام اسلامی تاریخ کا درخشاں باب ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ میں بڑے بڑے عالم انؓ کے سامنے زانوئے تلمذ بچھائے نظر آتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی اعلیٰ ظرفی دیکھیے کہ انہوں نے واقعہ افک کے سلسلے میں اپنے اوپر الزام لگانے والوں کو معاف کردیا۔ یہ آپؓ کے عظمتِ کردار کی گواہی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’’عائشہ کو خواتین پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے کھانوں پر ثرید کو‘‘۔ صرف واقعہ افک کو ہی لے لیں، ایک عورت کے لیے اس سے بڑی آزمائش نہیں ہوسکتی کہ اس کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے۔ جب حضرت عائشہؓ کو علم ہوتا ہے کہ ان کے اوپر یہ گھٹیا الزام گردش میں ہے تو وہ اعلیٰ درجے کے صبر و برداشت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ حالانکہ اس کم سنی میں اگر ان پر جذبات غالب آجاتے تب بھی یہ فطری ردعمل ہوتا، لیکن آپؓ انتہائی ضبط کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ شوہر کو مجبور کرتی ہیں، نہ والدین کو کہ ان کے کردار کی گواہی دیں، بلکہ منتظر رہتی ہیں کہ اللہ خود اپنے نبیؐ پر سچ اور جھوٹ کا فرق ظاہر کردے گا۔ اور جب الزام سے ان کی برأت کی آیات نازل ہوتی ہیں تو ان کے والدین کہتے ہیں کہ اٹھو اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔ وہ برملا کہتی ہیں کہ آپ سب میں سے کسی نے میرے کردار کی گواہی نہ دی، میں تو اُس خدا کا شکر ادا کروں گی جس نے میری پاکیزگی کی گواہی دی۔