October 24th, 2017 (1439صفر3)

اقوامِ متحدہ خواتین کمیشن اور پاکستانی خواتین

 

ڈاکٹر کوثر فردوس

اقوامِ متحدہ کی مرکزی عمارات نیویارک میں کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن (CSW) کا ۶۰واں اجلاس ۱۴ تا ۲۴ مارچ ۲۰۱۶ء منعقد ہوا۔ جس کے بیش تر پروگرام ’عورتوں پر تشدد‘ (Violance against Women) سے متعلق تھے، جن میں عورتوں کی خریدوفروخت، زنا بالجبر، دھمکی، دباؤ، مارپیٹ، جنگوں کے دوران عورتوں سے جنسی بدسلوکی وغیرہ شامل تھے۔

پاکستان مشن کے ایک پروگرام میں تقریباً ساڑھے چار سو افراد، ایک سیشن میں موجود تھے، جہاں ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس کا عنوان تھا: ’لڑکی دریا میں‘ جسے پاکستانی نژاد شرمین عبید نے تیارکیا ہے۔ اسی پیش کش پر وہ آسکر ایوارڈ کی مستحق قرار دی گئی ہیں۔یہ فلم ایک لڑکی صبا کی کہانی پر مشتمل ہے، جو ایک لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوکر گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ اس کا باپ اور چچا اس کو پکڑ لاتے ہیں، مارتے ہیں اور نہر میں پھینک دیتے ہیں مگر یہ نہر سے نکل آتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال گوجرانوالہ سے صحت یاب ہوکر غریب اور بڑے خاندان پر مشتمل سسرال میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ملزم باپ اور چچا جیل چلے جاتے ہیں۔ مقدمے میں وکیل قانون کا حوالہ دیتا ہے کہ ایسے مجرموں کے لیے سزا ہے۔ لمبی داڑھی والا ایک انکوائری افسر راے دیتا ہے کہ: ’’اسلام میں بیٹی کو یوں مارنے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔ فلم ساز اور لڑکی کے باپ کا مکالمہ بھی ہے کہ: ’’قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ بیٹی پر یوں ظلم کیا جائے‘‘، جواب میں باپ کہتا ہے: ’’قرآن ، لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کی اجازت نہیں دیتا اور میں غیرت والا ہوں، بے غیرت نہیں ہوں‘‘۔ ہمسایوں اور رشتہ داروں کے دباؤ پر نہ چاہتے ہوئے بھی لڑکی اپنے باپ اور چچا کو معاف کردیتی ہے، وہ جیل سے باہر آجاتے ہیں۔ کچھ عرصہ لڑکی کا اپنے خاندان سے رابطہ نہیں رہتا، مگر بعد میں رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب پینل میں شامل تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ:’’فلم کا ابتدائی حصہ وزیراعظم پاکستان [نوازشریف] کے گھر فلمایا گیا ہے، جو ان کی خصوصی سرپرستی کی گواہی ہے۔ یہ اسلام نہیں، بلکہ روایات ہیں، جو لڑکیوں کو پسند کی شادی کرنے پر ظلم و تشدد کا نشانہ بننے کا سبب ہیں‘‘۔ تیسرا اہم عمل، پنجاب اسمبلی سے منظور کردہ عورتوں پر تشدد کے خاتمے کا قانون ہے، جو پاکستانی حکومت کی طرف سے عورت پر تشدد کے خاتمے کے لیے عزم اور اس ذیل میں پیش رفت کی دلیل ہے‘‘۔ پاکستان کے قانون میں سقم کی موجودگی کا بھی ذکر آیا کہ یہ قابل راضی نامہ ہے۔ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے، تاکہ یہ والدین اور رشتہ داروں کو لڑکیوں پر دست درازی سے روکے۔

اجلاس کے مرکزی موضوعات (themes) میں سے ایک ’عورت پر تشدد‘ تھا۔ اس لیے زیادہ تر پروگرام اسی عنوان سے متعلق تھے جنھیں بیان اور پیش کرنے کا پیرایہ مختلف تھا۔ یہ پروگرام یواین باڈیز اور این جی اوز گروپس کی طرف سے ترتیب دیے گئے تھے۔ عنوان کبھی بظاہر اس سے متعلق نہ ہوتا مگر تفصیلات میں تشدد کی کسی نہ کسی جہت کو بیان کیا جاتا، مثلاً: ’ہماری بچیوں کو بچاؤ‘، ’عورت کی اسمگلنگ بند کرو‘ ، ’عورتوں کی زندگی بچاؤ‘ یا براہِ راست عنوان اسی سے متعلق تھا، مثلاً عورت کی ترقی، جنگیں اور عورتوں پر تشدد، جنسی تشدد کے مقابلے کے لیے قانون سازی وغیرہ وغیرہ۔

عورت کے متعلق ہرقسم کے امتیاز کے خاتمے کا معاہدہ (CEDAW) ۱۸دسمبر ۱۹۷۹ء کو ہوا، جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اپنائے ۳۷سال بیت گئے۔ اقوامِ متحدہ میں رجسٹرڈ ۱۹۳ ممالک میں سے ۱۸۸ ممالک نے اس پر دستخط کیے اور اس پر عمل درآمد کا آغاز کیا۔ پاکستان بھی اس معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں ہے، مگر ان تحفظات کے ساتھ کہ: ’’کسی بھی ایسی شق پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہوگا، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے‘‘۔ یہ معاہدہ پانچ اہم معاملات کے متعلق ہے جو عورت کے انسانی، معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی حقوق ہیں۔

کمیشن آن اسٹسیٹس آف ویمن کے ۶۰ویں سیشن میں دو اہم موضوعات بعنوان ’عورت کی ترقی اور دنیا میں تسلسل سے ہونے والی ترقی کے اہداف‘ ، ’عورت اور لڑکیوں پر ہرقسم کے جنسی تشدد کا خاتمہ اور بچاؤ‘ تھے۔ یاد رہے یہ ایک تسلسل ہے، جس سے قبل عورتوں کی عالمی کانفرنسیں ۱۹۸۵ء نیروبی، ۱۹۹۵ء بیجنگ، ۲۰۰۰،بیجنگ پلس فائیو ۲۰۰۵ء بیجنگ پلس ٹین، ۲۰۱۰ء بیجنگ پلس ففٹین، ۲۰۱۵ء میں بیجنگ پلس ٹونٹی شامل ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں ۵۹واں کمیشن آف اسٹیٹس آف ویمن (CSW) اجلاس ہوا۔ بیجنگ پلس۲۰ کے موقعے پر عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کا معاہدہ ’سیڈا‘ اور بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن (BPFA) کی تائید کی گئی۔ BPFA کے ۱۳نِکات میں سے آٹھ کو اہم تر قرار دے کر ملینیم ڈویلپمنٹ گولز (MDGs) کا نام دیا گیا۔ ۲۰۳۰ء کے لیے تشکیل دیا گیا ۱۷نکاتی ایجنڈا، ترقی کے تسلسل کے اہداف ہیں، جس کا نکتہ نمبر۵ عورتوں اور لڑکیوں کے لیے برابری اور ترقی کے حصول کو مرکز توجہ قرار دیتا ہے۔

۶۰ویں سیشن میں مجموعی طور پر ۵۵۰ پروگرام ہوئے ، جب کہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی اجلاس اس کے علاوہ تھے۔ خواتین کے حوالے سے مغرب یا اقوامِ متحدہ کی دل چسپی کے حوالے سے ایک مثال ہی خاصی سبق آموز ہے۔

اسقاطِ حمل گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی پروگرام کا عنوان تھا، مگر اس کو ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھا گیا۔ وہ یہ کہ اسقاطِ حمل قانوناً جائز قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ ان پروگراموں کا عنوان تھا: ’اسقاطِ حمل، چھاتی کا کینسر اور عورت پر تشدد کا باہم تعلق‘، ’تولیدی صحت کے لیے تعلیم اور تحقیق‘، ’امریکا میں ماں کی صحت کی حفاظت کے لیے اچھے تجربات‘۔ وہاں پر ایک چار ورقہ بھی تقسیم ہورہا تھا، جو ڈاکٹروں اور نفسیاتی ماہرین کے تحقیقاتی مقالات سے مرتب کیا گیا تھا کہ: ’’اسقاطِ حمل عورت کی صحت کے لیے مضر ہے، خواہ وہ قانونی ہو یا غیرقانونی۔ جہاں اس کی قانونی یا رواجی اجازت ہے، وہاں عورت کی صحت کا معیار بڑھا، نہیں، بلکہ کم ہوا ہے‘‘۔ دوسرا پہلو اس میں یہ دیکھا گیا کہ اسقاطِ حمل کا عورت کی نفسیات پر اثر اور تیسرا پہلو آنے والے بچے کے ساتھ ناانصافی تھا۔ یہ مقالہ ایک عیسائی مرد نے لکھا ہے۔ جس نے ’سوسائٹی براے حفاظت بچگان قبل از پیدایش‘ (Society for the Protection of Unborn Children) تشکیل دی ہے۔ ۱؂

اس سال اجلاس میں چہرے کا پردہ کرنے والی چند پاکستانی خواتین کے علاوہ ، دوسرا وفد سعودی عرب سے، تین خواتین پر مشتمل تھا۔ اس سعودی وفد نے ایک تحریر از مسلم علما بھی تیار کی ہوئی تھی، جو بڑے سائز کے ۱۰ صفحات کے کتابچے کی شکل میں عربی اور انگریزی میں تھی۔ یہ پُرعزم خواتین کافی لوگوں سے ملاقاتیں کرکے، اپنا موقف پہنچا رہی تھیں کہ: ’’یو این ویمن کی دستاویزات میں شامل کئی چیزیں، اسلام کے خلاف ہیں اور ہم ان کو تسلیم نہیں کرتے‘‘۔ اس وفد سے ہماری تفصیلی ملاقات ہوئی۔ یہ بہت جذبے سے معمور تھیں۔ ان کو ہماری راے اور طریقۂ کار مصلحت پر مبنی محسوس ہو رہا تھا۔

ترکی سے وفد میں چھے خواتین نے بتایا کہ ان کا تعلق ’ڈائیلاگ انسٹی ٹیوٹ‘ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جنگوں کی متاثرہ، مثلاً شام کی عورتوں کی مدد کے لیے کام شروع کیا ہے، جس کو انھوں نے ’کمیشن براے انسانیت‘ کا نام دیا ہے۔ ایرانی عورتوں کا وفد سر پر حجاب لیے ہوئے تھا۔ انڈونیشیا، ملایشیا، سوڈان سے مسلم خواتین کے گروپ بھی حجاب اور اپنے مقامی ساتر لباس میں تھے۔ مراکش سے ایک بڑے گروپ میں انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی خواتین بھی شامل تھیں۔ پاکستانی وفد میں بلوچستان سے خاتون اسپیکر، پارلیمنٹرینز اور این جی اوز کی معروف خواتین تھیں۔ ملیحہ لودھی صاحبہ نے ملاقات میں ہمیں بتایا کہ: میں نے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ سے ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی تھی۔ انھوں نے بہت تحمل کے ساتھ تفصیلی جوابات دیے تھے۔ اسی طرح قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔

اس بار انٹرنیشنل مسلم ویمن آرگنائزیشن براے عورت و خاندان کا تعارفی بروشر بھی موجود تھا۔ اس کے سرورق پر ’رابطہ عالم اسلامی‘ تحریر تھا اور اس میں مسلمان خاندان کی حفاظت اور عورت کے حقوق کا تحفظ کے ساتھ دیگر تفصیلات درج تھیں۔ ایک تعارفی بروشر میں تحریر تھا: ’’ہربچے کو امن کے ساتھ پرورش پانے کا حق ہے‘‘ اور یہ ’امام علیؓ پاپولر سٹوڈنٹس ریلیف سوسائٹی‘ کا تیار کردہ تھا، جو سوڈان کی عورتوں کے لیے ایک فلاحی تنظیم ہے۔ اسی طرح ایرانی عورتوں کی ایک این جی او کے تعارف و کام کی تفصیلات تھیں، جو غریب عورتوں کو ہنر سکھاتی ہے۔

گلوبل ویلج یا عالمی گاؤں‘ کی اصطلاح بظاہر بہت سادہ ہے، مگر شاید اس کا پوری طرح ادراک نہیں کیا گیا۔ جن لوگوں کا تعلق گاؤں سے ہوتا ہے وہ اس کی تائید کریں گے کہ گاؤں والوں کے باہمی تعلقات گہرے ہوتے ہیں، اتنے گہرے کہ رشتہ داری بھی پیچھے چلی جاتی ہے۔ گاؤں سب کا مشترک ہوتا ہے۔ اس لیے گاؤں کے ہر گھر کی خبر رہن سہن، ملازمت، ترقی، موت، حتیٰ کہ شوہربیوی کی ناچاقی بھی اس کے گھر کے مکینوں کا نجی معاملہ نہیں ہوتا۔ فیصلوں کے لیے ان کی پنچایت ہوتی ہے اور اس کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور نفرت کی حد تک ان سے اختلاف رکھنے والے بھی اس کے فیصلوں کے آگے پَر نہیں مار سکتے، وغیرہ وغیرہ۔

یہ دنیا آج عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ اس گلوبل ویلج کی پنچایت اقوامِ متحدہ ہے۔ عورتوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کو ’یواین ویمن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی جنرل اسمبلی میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی کانفرنسوں کے انعقاد کا فیصلہ ہوا۔ ۱۹۷۹ء میں ایسی ہی ایک کانفرنس کے موقعے پر عورت کے خلاف ہرطرح کے امتیاز کے خاتمے کی دستاویز ’سیڈا‘ منظور ہوئی۔ پھر اس پر عمل درآمد کے لیے ۱۳نکات کا اعلان بیجنگ پلیٹ فارم آف ایکشن کے نام سے ہوا۔ بعد میں اسے مخصوص کرنے کے لیے آٹھ نکات منتخب کیے گئے اور ان کو میلنیم ڈویلپمنٹ گولز کہہ دیا گیا۔ اب ۲۰۳۰ء کے لیے ان کے علاوہ قدرے زیادہ تفصیل کے ساتھ ۱۷نکات کا اعلان ہوا ہے، جو کہ ’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز‘(SDGs) کہلاتے ہیں۔ان سب کے لیے ’مقدس حوالہ‘ انسانی حقوق کا منشور ہے۔ گذشتہ ۳۱برسوں سے اس کی پالیسی مرد اور عورت کی مساوات ہی ہے۔ اسی کو دہرایا جاتا ہے۔ عزم و تجدیدِ عہد کی جاتی ہے۔ یہاں سوچنے کا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نشستند، گفتند، برخاستندہی ہے یا اس کے کچھ اثرات بھی ہیں۔

عورتوں کی سیاسی نمایندگی، بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کا ایک اہم نکتہ ہے۔ اس کے تحت ۲۰۰۰ء میں پاکستان میں بھی اس کے نفاذ کا آغاز ہوا، اور عورتوں کی اسمبلیوں میں ۵۰ فی صد نمایندگی کا فارمولا دیا گیا، جس کو کچھ رکاوٹوں کی بنا پر ۵۰ فی صد سے ۳۳ فی صد تک لے آیا گیا۔ جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم کی زیرصدارت طویل بحث و مباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ:’’ہم اپنی عورتوں کو بھی پارلیمنٹ اور لوکل گورنمنٹ میں نمایندگی دلوائیں گے‘‘۔ یہ بات اگرچہ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب اسلامی ریاست میں درج موقف کے برعکس تھی، مگر عالمی و مقامی دباؤ کے نتیجے میں فیصلہ ہوگیا اور پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما کی ’متحدہ مجلس عمل‘ (MMA)کے انتخابی نتائج کی بنیاد پر جماعت اسلامی کی خواتین کی جانب سے ایک ممبر سینیٹ اور چھے قومی اسمبلی کی ممبر بنیں۔ اسی طرح صوبائی و مقامی گورنمنٹ میں نمایندگی ملی۔

مستقبل میں پولیٹیکل پارٹی کی مرکزی کمیٹی، مشاورتی ادارے یا فیصلہ ساز فورم میں بھی عورتوں کو موجود ہونا ہے۔ یہ سب عورتوں کی سیاسی نمایندگی کے نکتے کی تدریج و تفصیل ہے۔ جماعت اسلامی میں بھی مرکزی شوریٰ میں ۱۰خواتین کی شمولیت کا فیصلہ ہوا ،اور اس سال انتخاب بھی ہوگیا۔ ہرپارٹی کو اپنی عددی قوت میں عورتوں کی مخصوص تعداد کو شامل کرنا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے بھی پارٹیز مصروفِ عمل ہیں کہ یہ سیاسی پارٹی کی تعریف میں شامل ہوگا اور انتخابات میں سیاسی پارٹی کو حصہ لینے کے لیے ان شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

تمام ممالک سے CSW 59 میں جن نکات پر رپورٹ لی گئی، وہ یہ نکتہ تھا کہ ’’مقامِ ملازمت پر خواتین کو تشدد سے بچانے‘‘ کے لیے کیا قانون سازی کی گئی ہے؟ کیا اس ضمن میں قومی سطح پر بل منظور ہوچکا ہے؟ اس پر عمل درآمد کی کیا صورتِ حال ہے؟ اسی تسلسل میں گذشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں متعلقہ بل کا پاس ہونا اور پاکستان کے وفد کا اس کو اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کرنا ، ملک میں ہونے والے اثرات ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کی تعلیم، مخلوط تعلیم، اعلیٰ تعلیم، ملازمت کے لیے کوٹہ ۱۰ فی صد سے شروع ہوکر بڑھتے جانا ہے، وغیرہ۔ یہ ہیں وہ تمام حوالے ،جو اس عالمی سطح کی حکومت کی قانون سازی اور فیصلوں کے اثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس عالمی فورم کی ان کاوشوں سے آگاہی حاصل کی جائے اور وہاں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی بھی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کے لیے ان دستاویزات اور طریق کار کا عرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔